تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سائنسسماجیکالم

مصنوعی ذہانت اور نیا سماج  — قاسم یعقوب

(یول نوح ہراری کے تصورات پر ایک نوٹ)

by قاسم یعقوب 02/08/2023
written by قاسم یعقوب 02/08/2023
457

ڈیجیٹل آمریت کے حوالے سے بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن نے زندگی کو جتنا آسان کر دیا ہے، اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ ڈیجیٹل کائنات کی بقا ہی اس میں ہے کہ وہ انسان کو زیادہ آسانی فراہم کرتی رہے۔ اگر وہ چند ہاتھوں میں سکڑ کے آمرانہ سماج کی طرف جائے گی تو اس کی موت یقینی ہے۔ آمریت کیا ہے اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن جس طرح زندگی کی خودکارانہ تشکیل کر رہی ہے، اس سے بہت جلد ممکن ہے کہ سماج خودکارانہ عمل میں ڈھل جائے اور انسان کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق اشیا کی ڈیجیٹلائزیشن سماج کو اس نہج پر لاسکتی ہے جہاں آج سے یک سر مختلف سماج پیدا ہوگا ۔ یہ ڈیجیٹل آمریت ناگزیر اَمر ہوگا، انتخابی نہیں، یعنی ڈیجیٹلائز کرنے کے بعد آپ یہ نہیں کر سکتے کہ آپ پہلے والے سماج کو دوبارہ عمل میں لا سکیں۔ چوں کہ اس ڈیجیٹلائزیشن کو چند ہاتھ ہی انتظام کر رہے ہوں گے، لہٰذا اس میں کوئی بعید نہیں کہ ایک طرح کی استعماریت پیدا ہو جائے۔ سرمایے سے پیدا سماج میں تھیسس کا ایک اینٹی تھیسس پیدا ہونا لازمی امر تھا، مگر نئے سماج میں سین اینٹی تھیسس پیدا ہی نہیں ہوسکتا، سینتھیسس کہاں سے آئے گا۔ ڈیجیٹلائزیشن سماج کو اس طرح گرفت میں لے لے گی کہ اس میں تبدیلی ممکن ہی نہیں رہے گی۔

اکیسویں صدی کے نئے سماج کے حوالے سے یول نوح ہراری نے بہت چونکا دینے والی باتیں کی ہیں۔ وہ نئے سماج پر اثرانداز ہونے والی ڈیجیٹل ایجادات کونئے انسانی رویوں کی شکل میں دیکھتا ہے، جو سماج کی نئی تشکیل کریں گی؛ ایک ’انفو ٹیک‘ اور دوسری ’بائیو ٹیک‘۔ وہ انفوٹیک مصنوعی ذہانت کو کمپیوٹر یات (Computerization) کے بطن سے ظہور کرتا ہوا دیکھ رہا ہے، جب کہ اسی بطن سے بائیو ٹیک کا ظہور انسان کی حیاتیاتی زندگی کو گرفت میں لینے کو تیار ہے۔ اگلا سماج انفو ٹیک اور بائیو ٹیک کی حکمرانی کا ہوگا۔ ہراری نے خبردار کیا کہ انفوٹیک اور بائیوٹیک کا انضمام جلد ہی اربوں انسانوں کو ملازمت کے بازار سے باہر دھکیل سکتا ہے اور آزادی اور مساوات جیسے انسانی حقوق کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ڈیٹا الگورتھم ڈیجیٹل آمریتیں تشکیل دے سکتاہے، جس میں تمام طاقت ایک چھوٹی سی اشرافیہ کے ہاتھ میں سمٹ آئے گی۔ وہ استحصال جیسے الفاظ کو معمولی سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک اب زیادہ تر لوگ استحصال سے نہیں بلکہ اس سے بھی بدتر چیز سے متاثر ہونے لگیں گے۔

کوئی بھی سماج تبدیل ہی اس وقت ہوتا ہے جب نئی فکر یات یا ایجادات سماج میں داخل ہوتی ہیں۔ لوگوں کے سوچنے کا انداز، ثقافتی اقدار اور پیداواری ذرائع بدلنے لگتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں سے Computerization نے اشیا کو بدلنے کی بجائے انسانی ذہن کا متبادل تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔انسان ہمیشہ اپنے مدمقابل اشیا کو بدلتا آیا ہے مگر یہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ یہ فکریا اشیا کی تبدیلی نہیں بلکہ انسان کی تبدیلی کا اعلامیہ ہے۔ ایسا پہلے نہیں ہوا کہ انسان کو چیلنج درپیش ہو کہ وہ سماج میں کردار ادا کرے یا نہیں۔وہ سماج کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ سماج میں ہونے والی ایسی ڈیجیٹل تبدیلیاں اتنی جلدی دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکتیں، اس کے لیے کم از کم ایک صدی درکار ہے (اس ضمن میں ہراری تو بہت کم وقت دیکھ دے رہا ہے)۔ ہم تاریخ کے اوراق میں دیکھ سکتے ہیں کہ زرعی دور کے بعد مشینی عہد میں انسان نے مشین کوسب کچھ نہیں دیا تھا۔ سماج کا بنیادی کنٹرول انسان ہی کے ہاتھ میں تھا۔ چند ہاتھوں نے مشین کی طاقت کو استعمال کیا اور استعماری رویوں کو پیدا کیا مگر مشین انسان کا بدل نہیں بن سکی۔ انسان سب کچھ اپنے دماغ ہی سے کرتا تھا۔ مشین کو بھی انسان کا دماغ چلاتا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیجیٹل مشین نے انسانی دماغ ہی کو بے دخل کر دیا ہے۔ انسان کو کہا جا رہا ہے کہ وہ انفو اور بائیو سماجیات پر سوچنے کی بجائے بس ان کے سامنے خود کو پیش یا سرنڈر کر دے۔ مشین کی AI اس کی تمام مشکلیں حل کر دے گی۔ ہراری لکھتا ہے:

’’امکان ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی مصنوعی ذہانت کی حاکمیت قائم کر دے گی اور انسان سرے ہی سے غائب ہو جائیں گے۔ہم ابھی بندروں جیسے ہی ہیں۔ہم ابھی تک چمپینزی اور نئیڈرتھل کی نسل ہی سے ہیں۔ایک دو صدیوں (بعد) مصنوعی ذہانت (AI) اور بائیو ٹیکنالوجی کا اشتراک نئی قسم کی نوع سامنے لا سکتا ہے۔ ایٹمی جنگ، موسمی تغیرات اور ٹیکنالوجی کے چیلنجز مشترکہ انسانی ثقافتوں کے لیے بہت بڑے خطرے کی صورت سامنے آ سکتے ہیں۔ ان سب سے انفرادی طور پر نمٹنا ہوگا۔‘‘ (ہراری، اکیس سبق اکیسویں صدی)

پہلا مرحلہ تو انفو اور بائیو ٹیکنالوجیوں کا ظہور ہوگا، جسے انسان آہستہ آہستہ قبول کرے گا، مگر ایک دو صدیوں بعد ان کا ادغام ہو جائے گا اور بہت خطرناک نتائج سامنے لائے گا۔ ظاہری بات ہے کہ یہ خطرہ انسان کی جگہ پر مشینی دماغ کی آمریت کا ہے۔ یہ اہم سوال ہے کہ انسان ڈیجیٹل دماغ کی آمریت سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہے؟ کیا اسے خبر ہوچکی ہے کہ اس کی بے دخلی اب یقینی ہے؟ انسانی دماغ کو خطرہ کیوں ہے کہ اگر اس سے طاقت ور دماغ اس کے سامنے آ کھڑا ہوگا تو اس کا تخیلی ڈھانچہ بے عمل یا بے کار ہو جائے گا؟ اس کی ایک بڑی تو یہ ہے کہ ماضی میں جوں جوں انسانی دماغ کائنات کے اسرار ورموز سمجھتا گیا اس نے انسانی سماج کو اپنے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور ہر اُس طاقت کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی جس نے اسے چیلنج پیش کیا۔ کائناتی فریم خاص طور پر زمین کی اس سطح پرانسان کو کسی اور نے چیلنج کیوں نہیں دیا؟ شاید اس لیے کہ انسانی دماغ سے بڑا دماغ پیدا ہی نہیں ہوا جو اسے چیلنج دے سکے۔ ورنہ انسان اس سے دوچار ہوتا۔ اس کو زیر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہوتا؛
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

فطرت انسان کی ثقافت کے خلاف ہے یا ثقافت فطرت کو تراش خراش کے اپنے مطابق بناتی رہتی ہے۔انسان تو ثقافت کے نام پر نیچر کی خود مختاری کو بھی تج دینے میں کامیاب ہوتا جا رہا ہے۔ ہراری کے نقطۂ نظر کے مطابق اب بہت معاملہ مختلف ہے۔ Computerization نے انسان کے ہاتھوں جنم لیا ہے اور انسان کا متبادل بننے کو تیار ہے۔گویا خونِ گرمِ دہقاں سے برقِ خرمن بن رہی ہے۔ظاہری بات ہے یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ انسان ہی نہیں پورا سماج صرف اشیا کی تبدیلی کے عمل ہی نہیں گزرا بلکہ فکری سطح پر بھی ایک ڈسکورس بنایا گیا ہے کہ انسان کو اپنا متبادل بنا لینا چاہیے۔ ہزاری کہتا ہے کہ بائیوٹیک اور انفوٹیک کا انقلاب ہمیں اپنے اندر کی دنیا پر کنٹرول دے گا اور ہمیں زندگی کو انجینئر کرنے کے قابل بنائے گا۔ ہم خود دماغوں کو ڈیزائن کرنے، زندگی کی عمر بڑھانے اور خیالات کا متبادل تخلیق کر سکیں گے۔اس کے نتائج، ظاہری بات ہے، مختلف ہوں گے۔کم از کم انسان جس طرح صدیوں سے زندگی گزارتا آیا ہے اس طرح کے نہیں ہوں گے۔ ہراری کہتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔شاید بہت خطرناک، شاید بہت حیات آموز۔ہتھیاروں اور اوزاورں میں تو انسان نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس سے صرف مشین کو نقصان پہنچا تا رہا ہے، جس سے اُس کا فائدہ ہوتا تھا، مگر یاد رہے ہتھیار یا اورزا سوچتے نہیں تھے۔یہ Computerization اپنا دماغ رکھتی ہے۔ اسے یہی سوچ کے بنایا گیا ہے کہ یہ دماغ کا متبادل بنے۔ لہٰذا اس ہتھیار سے جتنا دوسری انواع یا فطرت کو نقصان پہنچایایا کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اس سے کہیں زیادہ خود کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آخر انسان کے پاس دماغ ہی تو ہے ورنہ وہ تو کائنات کا کمزور ترین جانور ہے۔

انسان خواہشات اور ان احساسات کا پتلا ہے، جو اسے مخلوقات (Species) سے ممتاز کرتی ہیں۔ سماج میں رہنے کی مجبوری بھی انسانی احتیاجات سے جنم لیتی ہے۔ ایک زمانے تک انسان اپنے اندر(Inner)کی دنیا کے مخفی عزائم اور احساسات کو خود سے بھی ماورا خیال کرتا آیا ہے۔ جذبات کی اندھی طاقت کے ہاتھوں وہ خود بے بس اور لاچار دکھائی دیتا رہا ہے۔انسان سوچتا رہا ہے کہ آخر وہ کیا شے ہے جو انسان کی موضوعی اور معروضی تقسیم کرتی ہے۔ اسے دو دنیائوں میں رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ نیا سماج اس تقسیم کو نہیں مان رہا۔ وہ انسان کو اُن حیاتیاتی انواع میں تقسیم کردینے پر بضد ہے جن کا اندر اور باہر ایک جیسا ہوتا ہے۔انسان کو اس تقسیم سے نجات مل جائے گی، کیوں کہ وہ بائیو ٹیکنالوجی کے ہاتھوں میں اپنے وجود کو بھی تھمانے والا ہے۔ AIنئی حیاتیاتی اقدار کو جنم دے گی۔ بائیو میٹرک سینسر

(Biometric Sensor)سب کچھ بدل دے گا، جسے لوگ اپنے جسم پر یا اس کے اندر پہن سکتے ہیں۔ یہ سنسر حیاتیاتی عمل کو الیکٹرانک معلومات میں تبدیل کردے گا، جسے کمپیوٹر محفوظ بنائیں گے۔ اس سے جسموں کا تجزیہ اور تجربہ کیا جا سکے گا۔ بایومیٹرک ڈیٹاکو دیکھ کر ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم آپ کی تمام خواہشات، فیصلوں اور آرا کو ہیک کر سکتا ہے۔ وہ بالکل جان سکتا ہے کہ آپ کون ہیں؟ آپ کی خواہشات کیا ہیں؟ آپ کس طرح کے جذبات رکھتے ہیں؟ کس طرح کے رجحانات رکھتے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ ہراری بتانا چاہتا ہے کہ نئے سماج میں تصورِ حیات کوبھی ازسرِنَو بدلنا ہوگا۔

نیا سماج نئے رویوں سے جنم لیتا ہے۔ نئے رویے نئی خواہشات کو پیدا کرتے ہیں۔جدید اور کچھ نیا کرنے کے علاوہ انسان کو Computerization کے سحر نے بھی بدل کے رکھ دیا ہے۔ سمارٹ فون سے لے کر پوری زندگی ڈیجیٹل سہولیات کے زیرِ نگیں ہوتی جا رہی ہے۔اگر بائیو ٹیک انسان کی حیاتیاتی اقدار کو بھی کنٹرول کر لیتا ہے تو اس سے ایک نیا سماج ہی نہیں بلکہ بہت مختلف سماج پیدا ہوگا۔ ہراری کہتا ہے کہ گوگل الگورتھم کے ذریعے کیے گئے تمام اہم فیصلوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ شیکسپیئر کے ڈرامے کا تصور کریں۔ ہیملیٹ اور میکبتھ کی زندگی بہت زیادہ آرام دہ ہوگی، لیکن یہ کس قسم کی زندگی ہوگی؟ کیا ہمارے پاس ایسی زندگی کا تصور کرنے کے لیے ماڈل ہیں؟ یوں لگتا ہے کہ انسان اپنا سب کچھ بائیو کیمیکل الگورتھم اور ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم کے حوالے کرکے آرام کی نیند سو جائے گا۔

نئے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ کیا انسان جس طرح از خود جذبات کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے، کیا اس طرح AIکر سکے گی؟ انسانوں کی طرح سوچ لینا اور انسان بن جانا، دو مختلف حالتوں کا نام ہے۔ انسان اپنے ارادوں، خواہشوں کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اسے رد کرنے پر بھی قادر ہے، اسے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ انفوٹیک حیاتیاتی معلومات سے انسان کے اندر کو جان تو سکتا ہے کیا اپنے اندر بھی اسے تشکیل دے سکتا ہے؟ انسان مشین کو کچھ ایسے فنگشنز دینے پر تو قادر ہے جس سے اُس کی AIمتبادل بن کے سامنے آ سکے مگر اُس میں شعور جیسے قدر پیدا کرنے کی اہلیت کیسے آئے گی؟ یہ اہم سوال نئے سماج کا بنیادی سوال ہو گا۔
ہراری اس حوالے سے پوری طرح آگاہ ہے۔وہ اس ضمن میں ذہانت اور شعور میں فرق کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ذہانت اور شعور بہت مختلف چیزیں ہیں۔ ذہانت مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ہے۔ شعور درد، خوشی، محبت اور غصہ جیسی چیزوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہے۔ گویا کسی چیز کے احساساتی شعور اور الگورتھم شعور میں فرق ہے۔ ڈیٹاکی بنیاد پر کسی چیز کو جان لینا اور اس جانے ہوئی چیز کا شعور حاصل کر لینا، دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔ ہراری نے جب نئے سماج کا اعلان کیا تو اسے ادراک تھا کہ ممالیہ میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت چیزوں کو محسوس کر کے پیدا ہوتی ہے۔ تاہم کمپیوٹر شعورمسائل کو بہت مختلف طریقے سے حل کرتا ہے، وہ صرف اُس ڈیٹا پر انحصار کرتا ہے جو اس کے پاس موجود ہوتا ہے۔
ہراری اس ضمن میں لکھتا ہے:

’’شعور (Consciousness)کسی نہ کسی طرح نامیاتی حیاتیاتی کیمیا (organic biochemistry) سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ غیر نامیاتی نظاموں میں شعور پیدا کرنا کبھی ممکن نہیں ہوگا۔ شعور کا تعلق نامیاتی حیاتیاتی کیمیا سے نہیں ہے، بلکہ یہ ذہانت سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ کمپیوٹر (ازخود)شعور کو ترقی دے سکے، اور کمپیوٹر کو اگر ذہانت کی ایک خاص حد سے گزرنا ہے تو اسے شعور پیدا کرنا ہوگا۔‘‘ (اکیسویں صدی، اکیس اسباق)

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انسان اور غیر انسانی شعور کے درمیان بنیادی فرق خود ہراری نے واضح کر دیا۔ یہی وہ بنیادی تھیسس ہے جو نشاۃِ ثانیہ کے بعد مشینی عہد میں داخلے کے وقت بھی انسان کو ایک چیلنج کے طور پر درپیش تھا۔ انسان نے اپنی بے دخلی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ بیسویں صدی میں وجودیت کا سارا رونا مشین کے آگے اپنے وجود کا اثبات تھا، جس نے جنگیں دیں، بھوک دی اور زندگی میں لایعنیت کو جنم دیا۔ شعور مشین کے پاس ہوتا تو وہ اس انکار کے بھی بخیے ادھیڑ دیتی، مگر کیا کیا جائے Cupmuterzationاشیا کو جان سکتی ہے، محسوس نہیں کرسکتی۔

انفو ٹیک اور بائیو ٹیک کے متاثر کن اثرات کے نتائج کے طور پر ہراری کے یہ خدشات کیا واقعی دنیا میں ایسا منظر نامہ تخلیق کرنے والے ہیں؟ ہراری کی معروف زمانہ کتاب 21 lessons اب پرانی بحث ہو چکی مگر اکیسویں صدی کا سیاسی و ثقافتی منظر نامہ کچھ اور ہی کہہ رہا ہے۔ ہراری AIکے اثرات کو ’’غالب امکان‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ بات یہ ہے کہ انسان کا آج بھی پہلا مسئلہ ’’انسان‘‘اور ’’وجودی بقا‘‘ ہے۔ جب بھی انسان کو ان دونوں کی قیمت پر کوئی چیز قبول کرنی پڑی تو شاید وہ سب سے پہلے اس’’ٹیک دنیا‘‘ کو رد کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ ہراری نے AI کے بہائو میں پوری انسانی تاریخ کی قیمت پر نئی تاریخ رقم ہوتے تو دیکھ لی مگر بھوک اور بقا کے مسائل اس سے بھی حل ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ہراری خود اسے ڈیجیٹل آمریت (استعماریت) کا نام دیتا ہے۔ گویا یہ ایک اور طرح کا طبقاتی نظام لائے گی، جس میں امیر غریب کی تقسیم اس طرح نہیں ہوگی جس طرح مارکسی پیش کرتے ہیں، جس میں ایک طبقہ جدوجہد کے بعد دوسرے طبقے کو شکست دے سکتا ہے۔ اس تفریقی نظام میں طبقاتی تقسیم کی تبدیلی دونوں طبقات کے بس میں نہیں ہوگی۔ جو جہاں ہے، وہیں رہے گا۔ نظام کو قبول کرنا لازمی ہوگا، عدم قبولیت کی بنا پر خود قائم نہیں رہ سکے گا۔ AIچیزوں ہی کو نہیں، فکروں، رویوں اور جذبات سے جنم لینے والی اقدار کی بھی نئی تشکیل کرے گا۔ نیا سماج بنائے گا، جس سے نیا تصورِ زندگی پیدا ہوگا۔ کیا انسان ایسا چاہے گا، جس میں اسے اپنا آپ بے بس ہوتا دکھائی دے؟ کیا انسان اپنا متبادل بنا کے خود بے کار ہوکے بیٹھ جانا چاہے گا؟ کیا انسان اتنا بیوقوف ہو چکا ہے کہ وہ اپنی دنیا کو ریبوٹک دنیا (Rebotics) کے حوالے کرکے خود کشی کرلے؟

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جدید انسان (Modern) نے جب اپنی بقا پر سائنس کو قبول کرنے کی قیمت ادا کی تو اس نے سب کچھ رَد کر کے پھر انھی سوالوں کو ازسرنو زندہ کیا، جو ازل سے انسان کے ساتھ ہیں۔یعنی زندہ کیسے رہنا ہے؟خوشیاں کیا ہوتی ہیں؟ محبت کسے کہتے ہیں؟ میں کائنات سے بے دخل کیوں ہوں؟ میرا وجود کیوں بنایا گیا تھا؟ میرا اختیار اشیا سے زیادہ میرے اوپر کیوں نہیں؟ بھوک اور افلاس کیوں ہے؟ برابری کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ مجھے موت سے کون بچائے گا؟ میرے خواب کیا ہیں؟ ماورائیت کیا ہے؟

نیاسماج نئے سوالوں کو پیدا تو کرے گا مگر اب یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہراری کی AI کو دنیا پر مسلط ہوئے تین دہائیاں ہو چکی ہیں۔ ابھی تک دنیا ویسی کی ویسی کیوں ہے؟ ازلی اور پرانے سوالوں کو جواب کیوں نہیں مل رہے؟ نیا سماج نئے سوالوں کو پیدا کیوں نہیں کر رہا؟ انسان کائناتی نظام سے بے دخل کیوں نہیں ہو رہا؟


یہ بھی پڑھیں: سماج میں خیال کی آزادی اور نئی استعماریت

Facebook Comments Box
AIArtificial IntelligenceComputerizationDigital ColonialismYuval Harariٹیکنالوجیڈیجیٹل آمریتڈیجیٹلائزیشنمصنوعی ذہانتنیا سماجیول نوح ہراری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
اقبال: ایک شاعر جس نے اپنا سکہ زمانے پہ بٹھا دیا — ڈاکٹر طہ حسین، مصر
next post
مفتوح شوہر — محمد شہزاد کا افسانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.