تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

مفتوح شوہر — محمد شہزاد کا افسانہ

by دانش ڈیسک 02/08/2023
written by دانش ڈیسک 02/08/2023
552

یہ پانچوں قریب روز پارک آتے۔ ۔تین خوبصورت بچیاں۔ ۔دس، نو اور پانچ کے قریب۔ معصومانہ شرارتوں مسکراہٹوں سے بھر پور۔ ان کے ساتھ ایک خوبصورت دراز قد پتلی دبلی عورت اور ایک ہینڈ سم مرد۔ بچیاں جھولے لیتیں۔ دس سال والی بچی شاید پیدائشی ایتھلیٹ تھی۔ پارک کے ٹریک پر برق رفتاری سے بھاگتی اور اپنی عمر سے بڑے لڑکے لڑکیوں کو ہرا دیتی۔ انکے ماں باپ پارک میں بیڈمنٹن کھیلتے رہتے۔ عورت مرد کو اس کھیل میں تگنی کا ناچ نچاتی۔ کبھی دائیں بھگاتی، کبھی بائیں۔ کبھی پیچھے کبھی آگے۔ مرد بیچارہ شاذو نادر اس کے تابڑ توڑ حملوں کا جواب دے پاتا۔ میں بنچ پر بیٹھا انہیں دیکھتا رہتا۔ میری یہ ہی تفریح تھی۔ میری بیوی موبائل کان سے لگائے ٹریک پر واک کرتی۔ کچھ دیر بعد میرے ساتھ بیٹھ جاتی۔ عورت مرد کا بیڈ منٹن میچ دیکھتی۔ عورت کو فاتح دیکھ کر خوش ہوتی پھر مجھے ایسے گھورتی جیسے شکست خوردہ کھلاڑی میں ہوں۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے یہ جتلاتی کہ دیکھوں میں نہ کہتی تھی کہ عورتوں نے مرد کو ہر میدان میں پیچھے چھوڑ دیا ہے! یہ عورت بیڈمنٹن میں اپنے مرد کو مسلسل ہر روز ہراتی ہے اور اسکی دس سالہ بیٹی پارک میں پندرہ برس کے لونڈوں کو بھی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ میں بیگم کو کوئی بھاو نہ دیتا۔ یہ سلسلہ اسی طرح ایسے ہی روز چلتا۔ لیکن ایک دن اس میں نئی صورت حال پیدا ہو گئی۔

پارک میں بیڈ منٹن صرف یہ ہی جوڑا کھیلا کرتا تھا۔ ان کی دیکھا دیکھی چار لڑکے بھی اپنے اپنے چڑی چھکے لے کر کود پڑے۔ بہت زبردست کھیل رہے تھے۔ اب معمول بدل گیا تھا۔ اب پارک میں یہ جوڑا اور یہ چار لڑکے اور مزید چند فیملیز بھی بیڈمنٹن کھیلنے لگے۔ رونق بڑھ گئی۔

ایک دن نہ جانے کیوں ان چار میں سے دو لڑکے جو بہت ہی عمدہ کھلاڑی تھے اس جوڑے کے پاس گئے۔ وہ اس مرد کے ساتھ کھیلنا چاہ رہے تھے۔ مرد نے جو قریب 55 برس کا ہو گا یہ پیشکش قبول کر لی۔ اس کی بیوی قریب 46 برس کی ہو گی۔ لیکن عمر میں دونوں کم از کم دس سال جوان لگتے تھے۔ یہ بات میں یوں کہہ رہا ہوں کہ میرے پاس خداداد صلاحیت ہے لوگوں کی شکل دیکھ کر عمر جانچنے کی۔ میرا اندازہ کبھی غلط نہ ہوا۔ مرد ایک لڑکے کے ساتھ کھیلنا شروع ہی ہوا تھا کہ لڑکوں نے یہ تجویز دی کہ سنگل کے بجائے ڈبل کھیلا جائے۔ اس اثناء میں میری بیوی بھی میرے ساتھ بیٹھ چکی تھی۔ مرد کے ساتھ ایک لڑکا اور دوسری طرف دو لڑکے کھیلنا شروع ہوئے۔ ابھی تین چار شاٹ ہی کھیلے ہونگے کہ مرد اچانک رک گیا۔ کھیل کا رخ بدل گیا۔ مرد اور اسکی بیوی ایک طرف اور دوسری طرف دونوں لڑکے۔ یہ نیا ڈبل سیٹ اپ تشکیل پا گیا اور میچ شروع ہو گیا۔ لڑکوں نے زوردار شاٹ کھیلے اور مرد نے اس سے زیادہ زوردار جواب دیا۔ چڑی کئی بار اتنی برق رفتاری سےآئی کہ لڑکوں کے ناک سے ٹکرائی اور انہیں ہلنے کا موقع نہ ملا۔ ہم دونوں میاں بیوی حیران۔ اس ڈبل گیم میں مرد کورٹ کے ہر طرف چیتے کی برق رفتاری سے پہنچ کر شاٹ لگا رہا تھا۔ اور لڑکوں کے خلاف پوائنٹ سکور کر رہا تھا۔ اس کی عورت نے شاید ہی کوئی شاٹ کھیلا ہو۔ وہ ایک جست بھر کر اپنی عورت کی جگہ پہنچ جاتا اور شاٹ کا جواب دیتا۔ لڑکے ہوشیار تھے۔ وہ اس جگہ شاٹ کھیلتے جو مرد کی اصلی جگہ تھی۔ مرد ہوشیار تھا۔ اسے معلوم تھا کہ لڑکے اگلا شاٹ کہاں کھیلیں گے۔ وہ فٹ اپنی جگہ چھلاوے کہ طرح پہنچ جاتا اور ایسے زور سے شاٹ لگاتا کہ لڑکے بے بس ہو جاتے۔ چند منٹ میں اس اکیلے بوڑھے مرد نے ان جوانوں کو تھکا دیا اور پھر لڑکوں کو یہ کہا کہ وہ بہت اچھا کھیلے اور انہیں فتح کی مبارکباد دی۔ لڑکوں نے اسے کہا کہ انکل آپ کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ اصلی فاتح تو آپ ہیں۔ اس کی عورت نے بھی کہا کہ اصلی مقابلہ تو یہ ہی کر رہے تھے۔ لڑکے اپنی جگہ چلے گئے اور مرد اور عورت دوبارہ اپنا کھیل کھیلنا شروع ہو گئے۔۔۔ اسی طرح جس طرح وہ کھیلتے ہیں۔ اس پر میری بیوی نے کہا کہ دیکھو اس عورت نے پھر اسی فاتح کو ہرانا شروع کر دیا۔ میرے لئے اب چپ رہنا ناممکن تھا۔ مجھے اسے بتانا ہی پڑا کہ ڈارلنگ یہ بات تہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اس مرد کی فتح اپنی عورت سے ہارنے میں ہے۔ تم عقل کل ہو کر بھی اتنی سی بات نہ سمجھ سکیں کہ وہ مرد اپنی عورت سے جان بوجھ کر ہارتا تھا!

یہ بھی پڑھیں: فیمنزم اور لکھاری کی ترجیح : مقامی مسائل یا تنقید مغرب؟ 

Facebook Comments Box
Anti FeminismFeminaziFeminismفیمینازیفیمینزم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مصنوعی ذہانت اور نیا سماج  — قاسم یعقوب
next post
ایم- اے فیل —— محمد ذیشان اختر کاافسانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.