Connect with us

آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ

مکتوباتِ اقبال سے اقبال کا منکشف ہونے والا پہلو —— ملک شاہد عزیز انجم

Published

on

شاعر مشرق، مصور ِپاکستان اور عظیم فلسفی ہونے کے ناطے ڈاکٹر علامہ اقبال کو عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہیں قومی شاعر کا درجہ دینے کے باعث ان کے لئے عقیدت میں اور بھی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اسی عقیدت کی وجہ سے ہی علامہ محمد اقبال کی زندگی کے کئی پہلو دب کر رہ گئے ہیں۔ لوگ احترام کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگیوں کی تلخیوں اور مسائل پر سے پردہ اٹھانا گناہ ِ کبیرہ تصور کرتے ہیں۔ یہی بے پناہ عقیدت ہی ہے جس کے باعث علامہ محمد اقبال کو ایک عام انسان کی حیثیت سے دیکھنے کی بجائے ایک ولی اللہ اور ایسے شخص کے روپ میں دیکھا جاتا ہے جو ہرقسم کے عیوب سے پاک ہے۔ جس کا دل صرف قوم کے لیے دھڑکتا ہے۔ اور اس کے جذبات بھی قوم کے لئے ہی مچلتے ہیں۔ حالانکہ اقبال بھی دیگر کئی عظیم لوگوں اور مفکرین کی طرح ایک عام انسان تھے۔ ان کا دل صرف قوم کے لئے ہی نہیں بلکہ کسی خوبصورت شخصیت کے لئے بھی دھڑکتا ہے۔ یہی بات ان کے خطوط سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ایک عام انسان تھے۔ خاص کر میں مس ایما ویگے ناسٹ، عطیہ فیضی اور مہاراجہ کشن پرشاد کے نام ان کے خطوط، ان کی شخصیت اور ذاتی زندگی کے بہت ہی منفرد پہلو کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ پہلو ان کا انسان ہونا ہے جو اپنے اردگرد بسنے والے دیگر بہت سے لوگوں کے مشابہہ ہے۔ جس کے بشری تقاضے ہیں اور عام انسانوں کی طرح مختلف قسم کے جذبات بھی۔

مس ایما ویگے ناسٹ کے نام اقبال کے خطو ط ان کی قلبی اور جذباتی زندگی کوہمارے سامنے منکشف کرتے ہیں۔ ایما کے نام اقبال کے خطوط نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مس ایما کے لئے شدید جذباتی لگائو رکھتے تھے۔ یہاں پر اقبال ایک ایسے بشر کے روپ میں سامنے آتے ہیں جو صنف ِمخالف کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر اس کے لئے اپنے جذبات کا برملا اظہار کرتا ہے۔ ۲ دسمبر ۱۹۰۷ء؁ کو لکھے گئے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال ایماسے ملنے کے لئے بے چین ہیں اور اپنے جذبات کا بھی برملا اظہار کرتے ہیں۔

’’ میری بہت بڑی خواہش یہ ہے کہ میں دوبارہ آپ سے بات کر سکوں اورآپ کو دیکھ سکوں۔۔۔۔۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ کیا کروں۔ جو شخص آپ سے دوستی کر چکا ہواس کے لئے ممکن نہیں کہ آپ کے بغیر وہ جی سکے‘‘(۱)

اس طرح ۲۰ جنوری ۱۹۰۸ء کو لکھے گئے خط میں اپنے دل میں مس ایما کی اہمیت کا اعتراف اس طرح کرتے ہیں۔

’’شاید یہ میرے لئے ممکن نہ ہوگا کہ میں دوبارہ آپ کو دیکھ پاؤں لیکن میں یہ ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ آپ میری زندگی میں ایک حقیقی قوت بن چکی ہیں۔ میں آپ کو کبھی فراموش نہیں کروں گا۔ ‘‘(۲)

اسی طرح اور بھی خطوط جن میں سے بعض میں اقبال ایک قومی شاعر کی سیڑھی سے اتر کر ایک ایسے فرد کی جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو اپنے محبوب کی بے رخی اور غفلت شعاری کا شکوہ بھی کر رہا ہے اور اسے اپنے قلبی جذبات سے بھی آگاہ کر رہا ہے۔ ۲۱ جنوری ۱۹۰۸ء کو لکھاگیا خط دیکھیئے۔

’’میں ہمیشہ آپ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں اور میرا دل ہمیشہ بڑے خوبصورت خیالوں سے معمور رہتا ہے۔ ایک شرارے سےایک شعلہ اٹھتا ہے اور ایک شعلے سے ایک الائو روشن ہوتا ہے لیکن آپ سردمہر ہیں۔ غفلت شعار ہیں۔ آپ جو جی میں آئے کیجیے‘‘(۳)

اسی طرح ت۳جون۱۹۰۸ء کو لکھا گیا خط دیکھئے:

’’میرا جسم یہاں ہے۔ میرے خیالات جرمنی میں ہیں۔ آج کل بہار کا موسم ہے۔ سورج مسکرا رہا ہے۔ لیکن میرا دل غمگین ہے۔ مجھ کو کچھ سطریں لکھیئے۔ آپ کا خط میری بہار ہوگا۔ ‘‘(۴)

جب کوئے یار سے کوئی سندیسہ موصول نہ ہو تو دل ہمیشہ اداس رہتا ہے۔ یہی اقبال کے ساتھ بھی ہوا۔ یہ رویہ کسی صوفی، قلندر یا درویش کا نہیں بلکہ ایک عام انسان کا ہے۔ مس ایما ویگے ناسٹ کے ساتھ لمبی دوریاں تھیں۔ درمیان میں سات سمندر حائل تھے۔ مگر قلبی جذبات کی شدت نے ایک الائو روشن کئے رکھا۔ ۳ ستمبر ۱۹۰۸ء کے ایک خط میں لکھتے ہیں۔

’’میں اپنی ساری جرمن زبان بھول گیا ہوں لیکن مجھے صرف ایک

لفظ یاد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایما۔ ‘‘(۵)

اوپر خطوط کے دیے گئے اقتباسات اقبال کو قومی شاعر، فلسفی اور مصلح کی بجائے ایک عام انسان کے روپ میں ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح عطیہ فیضی کے نام اپنے خطوط میں اقبال اپنی ذاتی زندگی کے کئی پہلوئوں کو منکشف کرتے ہیں۔ اگرچہ عطیہ فیضی کے ساتھ علم و فلسفے اور سیاست پر باتیں بھی ملتی ہیں لیکن اقبال کی ذاستی زندگی بھی انہیں خطوط سے منکشف ہوتی ہے۔ خاص کر ان کے قلبی جذبات اور ان کے اپنی پہلی بیوی یعنی والدہ آفتاب اقبال کے ساتھ کشیدگی پر بھی اقبال بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ۱۹اپریل ۱۹۰۹ء کو لکھتے ہیں:

’’وہ مجھ پر میری بیوی مسلط کررہے ہیں۔ میں نے اپنےوالد صاحب کو لکھ دیا ہے کہ انہیں میری شادی ٹھہرانے کاکوئی حق نہیں تھا بالخصوص جب میں نے اسے کسی حبالہ عقد میں داخل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں اس کا نان نفقہ برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن اسے اپنے ساتھ دیکھ کر اپنی زندگی کو اجیرن بنانے کے لئے قطعی تیارنہیں ہوں۔ ‘‘(۶)

عطیہ فیضی کے ساتھ اقبال کے قریبی دوستانہ تعلقات تھے۔ اقبال ان کے ساتھ علم و ادب، فلسفہ، سیاست اورہر موضوع پر گفتگو کرتے رہتے تھے۔ علم و ادب سے دلچسپی نے دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا۔ اسی خط میں آگے چل کر لکھتے ہیں۔

’’ آپ مجھے بخوبی جانتی ہیں میں نے اپنے جذبات کے اظہار کی جرأت کی ہے۔ ‘‘(۷)

ایما ویگے ناسٹ اور عطیہ فیضی کے علاوہ مہاراجہ کشن پرشاد ایسے شخص ہیں جن کے نام خطوط نے اقبال کا مفکر پاکستان اور خودداری کا بھرم ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنی ذاتی ضروریات اور تعلقات کے سلسلے میں اقبال بھی ایسے عام لوگوں کی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو کسی راجہ مہاراجہ سے ذاتی مسائل کے حل کے لئے امداد طلب کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ کشن پرشاد کے نام خطوط میں اقبال کا رویہ انتہائی عاجزانہ ہے اور اقبال ’’ جی حضوری ‘‘ کے خول میں بند دکھائی دیتے ہیں۔ ۲۶ اکتوبر ۱۹۱۳ء کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں اقبال مہاراجہ کشن پرشاد کی عنایات اور فیاضیوں کے احسان تلے دبے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔

’’جو عنائت آپ اقبال کے حال پر فرماتے ہیں اس کا شکریہ کس زبان سے ادا ہو۔ دوست پروری اور غریب نوازی آپکے گھرانے کا خاصہ ہے۔ کیوں نہ ہو جس درخت کی شاخ ہواس کے سائے سے ہندوستان بھر مستفیض ہو چکا ہے۔ ‘‘(۸)

اسی طرح خط میں آگے چل کر لکھتے ہیں:

’’ آپ کی فیاضی کہ زماں و مکاں کی قیود سے آشنانہیں ہے۔ مجھ کو ہر شے سے مستغنی کر سکتی ہے۔ مگر یہ بات مروت اور دیانت سے دور ہے کہ اقبال آپ سے بیش قرار تنخواہ ہائے اور اس کےعوض کوئی ایسی خدمت نہ کرے جس کی اہمیت بقدر اس شاہرےکے ہو۔ ‘‘(۹)

اوپر کے اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہاراجہ کشن پرشاد اقبال کی مالی معاونت فرماتے رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاراجہ سے اقبال کا انداز تخاطب اور رویہ عاجزانہ ہی رہا۔ اس کے علاوہ علامہ اقبال، مہاراجہ سے اپنے ذاتی کاموں کی تکمیل کے لئے سفارش بھی کراتے تھے لیکن عاجزانہ التجا کے ساتھ۔ اپنے بڑے بھائی شیخ اعجاز احمد کی بعد از ریٹا ئر منٹ حیدرآباد میں ملازمت ہائے کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

’’ انہوں نے چیف انجینئر صاحب حیدرآباد اور میر کرامت اللہ خان سپرنٹنڈنٹ انجینئر کی خدمت میں درخواست ِ ملازمت بھیجی ہے۔ میں نے ان کی فرمائش پر ہر قسم کی سعی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر اس بارےمیں آپ اپنا اثر ان کے لئے استعمال کریں تو میں نہایت ممنون و مشکوررہوں گا۔ ‘‘

کشن پرشاد، مس ایما ویگے ناسٹ اور عطیہ فیضی کے نام اقبال کے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال بھی بشری تقاضوں کے حامل انسان تھے۔ ان کی ذات میں جہاں اچھائیاں تھیں وہیں کچھ برائیاں بھی تھیں۔ وہ جتنا قوم کے لئے دردمند تھے اتنا ہی انکے ہاں اپنی ذات کے لئے درد تھا۔ عام انسانوں کی طرح صنف نازک کا خوب صورت پیکر انہیں بھی متاثر کرتا تھا۔ اور وہ اس سے دوستی کی خواہش کرتے تھے۔ اپنے ذاتی کاموں اور مفادات کی طرح بعض و اقات وہ اپنی اناء کو بھی درمیان میں حائل نہ ہونے دیتے تھے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن سے اقبال کی برائی بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ یہ تمام باتیں اقبال کو بطور انسان قاری پر مکشف ہوتی ہیں۔ انہیں جاننے کے بعد ان کے چاہنے والے ان سے نفرت نہیں کرنے لگتے بلکہ انہیں اپنی طرح کا عام انسان سمجھتے ہوئے ان کے لئے محبت اور الفت میں اضافہ کر لیتے ہیں۔ ان خطوط کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اقبال کو بطور انسان کے پڑھا جائے۔ بشری تقاضے، انسانی نفسیا ت اور جبلتوں کو سامنے رکھ کر اگر ہم ا ن کی ذات کا کھوج لگانے کی کوشش کریں تو یہ خطوط ہماری بہت مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ضرورت اس مر کی ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتاریں بھی تو سہی۔ اگر ہم یہ پٹی اتار دیں تو اقبال ہمیں زیادہ واضح اور صاف نظر آئے گا۔

حوالہ جات

۱۔ ’’اقبال بنا م ایماویگے ناسٹ، از کلیات ِ مکاتیبِ اقبال ‘‘مرتبہ مظفر حسین برنی، سید، جلد اول، ترتیب پبلشر ز لاہور ص۱۲۶

۲۔ ایضاً، ص۱۲۹

۳۔ ایضاً، ص ۱۳۱

۴۔ ایضاً، ص ۱۳۵

۵۔ ایضاً، ص ۱۴۵

۶۔ ایضاً، ص ۱۴۴

۷۔ ایضاً، ص ۱۶۸

۸۔ ایضاً، ص۱۵۳

۹۔ ایضاً، ص ۱۸۳

 

Advertisement

Trending