Connect with us

علم و ادب

چند ہم سفر، ٹی وی سے وابستہ افراد کے خاکے —– نعیم الرحمٰن

Published

on

’’چند ہم سفر‘‘ اختر وقارعظیم کی دوسری کتاب ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’’ہم بھی وہیں موجود تھے‘‘ کوٹی وی اانسائیکلوپیڈیا قرار دیاگیا تھا۔ ’’چند ہم سفر‘‘ ٹی وی سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق رکھنے والی شخصیات کے دلچسپ خاکوں پرمبنی کتاب ہے۔ اختروقارعظیم ممتاز ماہر تعلیم اورصف اول کے نقادسیدوقارعظیم کے چارصاحبزادوں میں سب سے بڑے ہیں۔ انہوںنے 1969ء میں بحیثیت پروڈیوسر پاکستان ٹیلیویژن جوائن کیا اورادارے کے اعلیٰ ترین عہدے مینجنگ ڈائریکٹرسے 2006ء میں قبل ازوقت ریٹائرہوئے۔ جس کے بعد ہم ٹی وی کے سینئروائس پریذیڈنٹ بھی رہے۔ اختروقارعظیم پی ٹی وی کے دسویں سربراہ تھے۔ لیکن سابق ایم ڈیزموسیٰ احمد، روئیداد خان، اسلم اظہر، مسعودنبی نور، ہارون بخاری، ضیانثاراحمد، انورزاہد، آغاناصراورفرہادزیدی کے برعکس وہ پاکستان ٹیلی وژن کے پہلے سربراہ تھے جنہوں نے پروڈیوسر سے لے کرایم ڈی تک کاسارا سفرپی ٹی وی میں ہی طے کیاتھا۔ ، جبکہ ان سے پہلے کے سارے ایم ڈیز نے پروفیشنل زندگی کاآغازدوسرے اداروں سے کیاتھا۔ 2002ء میں حکومتِ پاکستان نے اختروقارعظیم کوپی ٹی وی کے لیے شاندارخدمات انجام دینے پر’’تمغہ حسن کارکردگی ‘‘ سے نوازا۔

تصنیف وتالیف سے اختر وقارعظیم کاتعلق نیانہیں ہے۔ ان کے مطبوعہ کتب میں’’شبلی بحیثیت مورخ‘‘، ’’ مرزااوٹ پٹانگ‘‘، ’’سچے دوست بہادردشمن‘‘، ’’عالمی کپ کرکٹ کی تاریخ‘‘ اورپی ٹی وی میں گزرے برسوں کے بارے میں’’ہم بھی وہیں موجودتھے‘‘ شامل ہیں۔ ’مرزا اوٹ پٹانگ‘ مزاحیہ مضامین پرمبنی ہے جبکہ’ سچے دوست بہادر دشمن‘ رابرٹ کینڈی کا ترجمہ ہے۔ ’ہم بھی وہیں موجودتھے‘ ریٹائرمنٹ کے بعدپی ٹی وی میں گزرے برسوں کااحوال رقم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اختروقارعظیم نے اپنے عظیم والد سید وقار عظیم کے بارے میں ایک عمدہ کتاب’’پدرم سلطان بود، سیدوقارعظیم شخصیت وفن‘‘ بھی مرتب کی۔ جس میں وقارعظیم کی شخصیت اور فن پر مشاہیر ادب کے مضامین یکجاکئے گئے ہیں۔

پی ٹی وی میں گزرے برسوںکے بارے میں کچھ اور عمدہ کتب میں غفران امتیازی کی’’بیتی دن بیتی باتیں‘‘ برھان الدین حسن کی ’’پس پردہ‘‘عبدالخالق سرگانہ کی ’’پی ٹی وی میں ماہ وسال‘‘ شامل ہیں۔ آغاناصر نے پی ٹی وی کی تاریخ پر بہت عمدہ کتاب انگریزی میں تحریر کی ہے۔ جس کا ترجمہ اختروقارعظیم جیسے ان کے ساتھی کوکرنا چاہیے۔

پی ٹی وی پرایک عمدہ کتاب لکھنے کے بعددوسری کتاب کے لیے احباب اوراہل خانہ کا اصرار بڑھ گیا تو’’چندہم سفر‘‘ منظرعام پرآئی۔ ’’اپنی بات ‘‘ میں اختروقارعظیم لکھتے ہیں۔ ’’ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعدچرچل کے مخالفین ان کے بارے میں دوباتیںبہت زوروشور سے کہتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ ذہنی مریض ہیں اوردوسرے وہ نیم پاگل ہیں۔ چرچل نے ان نقادوں کوگرفتارکروادیا۔ کہاگیاچرچل میں برداشت کی کمی ہے۔ جواب مانگاگیاتوانہوں نے مختصرتقریر میںکہا، میں نے جوگرفتاریاں کروائی ہیں وہ اس لیے نہیں ہیں کہ ان لوگوں نے میری مخالفت کی ہے بلکہ اس لیے کہ ان لوگوں نے ایک قومی رازسب پرافشاء کردیا۔ مجھے یہ واقعہ پڑھ کرہمیشہ خیال آتاہے کہ کسی بھی بات کودیکھنے کااپنااپنا انداز ہوتاہے۔ اچھائی برائی کی تمیزخودآپ کی سوچ کرتی ہے۔ ’’چندہم سفر‘‘ میں شامل خاکے لکھتے وقت میرے ذہن میں دوباتیں تھیں، پہلی یہ کہ ان شخصیات کے حوالے سے پاکستان میں ٹیلی ویژن کی تاریخ کے بعض روشن پہلوؤںکویادکیاجائے اور دوسرے یہ کہ ان ہنستے مسکراتے لوگوں کی زندگی کے شگفتہ واقعات پڑھ کرآپ کے چہروں پرمسکراہٹ بکھرجائے۔ اگریہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ کوکچھ نئی باتیں معلوم ہوئی ہوں یاآپ مسکرادیئے ہوں تو میں سمجھوں گاکہ میں اپنے مقصدمیں کامیاب ہوا۔ ‘‘

سادہ اورپراثرنثر، دلکش اور اسلوب ایسادلچسپ کہ بات سیدھی دل میں اترجائے۔ انورمقصود نے ’’اخترکے ہم سفر‘‘ کے عنوان سے ’’چندہم سفر‘‘ کاتعارف کچھ یوں کرایاہے۔ ’’ اخترکاتعلق ایک ادبی خاندان سے ہے، وقارعظیم صاحب کے صاحبزادے ہیں، شرافت، ایمانداری اور محبت کی چادر اوڑھے رہتے ہیں، مسکراتے ہوئے کام کرتے ہیں اور ہنستے ہوئے ڈانتے ہیں۔ اخترخودبہ سادہ انسان ہیں اوریہی سادگی ان کی تحریرمیں بھی نظرآتی ہے۔ کتاب لکھنے سے پہلے ہی طے کرلیاتھا، میں ہرایک کی تعریف کروں گاسوائے تعریف کے انہوں نے کچھ نہیں چھوڑا۔ جن لوگوںکے بارے میں اختر نے لکھاہے یہ سب میرے بھی دوست تھے اور جو ابھی تک ہمارے درمیان موجودہیں وہ بھی میرے دوست ہیں، اگر میں ان لوگوں کے بارے میں لکھتاتوشائدتحریر کچھ مختلف ہوتی۔ ٹیلی وژن کے سفر میں اخترکے سارے ہمسفراچھے لوگ تھے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جواخترکے ساتھ کام کرتے تھے وہ اب نہیں رہے۔ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنا آسان ہے، تعریف کرناذرامشکل ہو تاہے، مگروہ لوگ اتنے اچھے اور محنتی تھھے کہ اخترتعریف کیے بغیر نہیں رہ سکے۔ وہ لوگ صرف اختر کی نظرسے دورہیں مگرآج تک اخترکے درمیان ہیں۔ زندگی کاکوئی پہلو ہو اختر کواس پردسترس حاصل ہے۔ مجھے اختر کی تیسری کتاب آنے کاانتظارہے۔ ‘‘

’’ہم بھی وہیں موجودتھے ‘‘ اور ’’چندہم سفر‘‘ کے قارئین بھی اختر وقارعظیم کی تیسری کتاب کے منتظرہیں۔ ’’چندہم سفر‘‘ میں حروف تہجی کے اعتبار سے اڑتیس شخصیات کے مختصر یاطویل خاکے شامل ہیں۔ جن میں سے بیشترکا تعلق پی ٹی وی سے ہی ہے۔ لیکن کئی شخصیات براہ راست ٹی وی سے منسلک نہیں، لیکن اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اختر وقارعظیم کاان سے سابقہ پڑا اور انہوں نے جومحسوس کیا، اپنے سادہ اسلوب میں بیان کردیا۔ تقریباً ہرخاکے میں قاری کوکوئی نہ کوئی نئی بات معلوم ہوتی ہے۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

پہلاخاکہ آغاناصر کاہے۔ جن سے اخترپہلے ہی سے واقف تھے۔ لاہورکے جس محلے میں اختررہتے تھے وہیں ٹی وی کمپیئر لئیق احمدبھی اپنے والدکے ساتھ رہتے تھے۔ آغاناصرکی بیگم صفیہ باجی ان کی خالہ زادہیں وہ بھی اپنی خالہ کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔ صفیہ باجی کی شادی ہوئی تو وہ آغاناصر کے پاس کراچی چلی گئیں اور پھر ٹی وی کی ابتداء ہوئی تودونوں لاہورچلے آئے۔ گھری بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث لئیق احمد صا حب نے اسی محلے میں ایک اورگھرکرائے پرلے لیا اورآغاصاحب ان کے ساتھ آبسے۔ لئیق بھائی بہن سے کرایہ کیالیتے لیکن آغاصاحب نے اپنی خودداری میں مفت رہنا پسند نہ کیا۔ اختروقارکی زبانی سنیں۔ ’’اسلم اظہرپی ٹی وی کے مینجنگ ڈائریکٹرمقررہوئے توانہوں نے آغاناصر کوڈائریکٹرپروگرام بنا دیا۔ اس سے بہترانتخاب نہیں ہوسکتاتھا۔ آغا صاحب بے حد زرخیز ذہن کے مالک تھے اوراس کے ساتھ انہیں لوگوں سے کام لینا آتا تھا۔ آپ کمزورسے کمزورآئیڈیا انہیں سنائیں توکھل کر اس کی تعریف کردیتے تھے۔ واہ بھئی واہ ہمارے خیال میں لوگوں کوپسندآئے گا۔ لیکن ایسا کرواس میں کھ تبدیلیاں اوراضافہ کرلو۔ پھر تبدیلیاں اوراضافے بتاکراس کمزورآئیڈیے کو ایک خوبصورت شکل دے دیتے تھے۔ آغاناصر کئی مرتبہ معطل ہوئے۔ صدر ضیاالحق کے زمانے میں بھی کچھ یوں ہوا۔ صدرکی خواہش پران کی ہرتقریرکے بعدکوئی نغمہ ضرورنشرکیاجاتاتھا۔ میں اسلام آباد سینٹر پر جنرل منیجرتھا۔ صدرنے اسلامائزیشن کے بارے میں تقریر کی۔ میں نے اور ناصرصاحب نے بہت کوشش کی کہ موضوع کی مناسبت سے کوئی نغمہ مل جائے۔ تیارشدہ نغموں میں سے کوئی بھی صحیح نہیں لگا۔ کسی کے بول مناسب نہیں لگتے تھے اورکسی میں گانے والے کالباس حسب موقع نہیں تھا۔ آخرکارطے ہواکہ تقریر کے بعدمشہورنغمے سوہنی دھرتی کی صرف دھن نشر کردی جائے۔ ایساہی ہوا اورخیریت گزرگئی۔ لیکن بدقسمتی ابھی باقی تھی۔ خبرنامہ نشرہواتواس کے بعدہمارے دوست قریش پور نے کراچی سینٹر سے بنجمن سسٹرزکایہ نغمہ چلوادیا۔ ’’خیال رکھنا‘‘ نغمے میں بنجمن سسٹرزہاتھوں میں چراغ لیے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ایک چبوترے پرجارہی تھیں۔ صدرخبرنامہ باقاعدگی سے دیکھتے تھے انہوں نے نغمہ دیکھاتوبہت خفاہوئے۔ ’میں اسلام اسلام کی بات کررہاہوں اور آپ ہندوانہ نغمہ چلارہے ہیں۔ ‘ قریش پور توبچ گئے۔ آغاصاحب فارغ ہوگئے۔ ‘‘

اس قسم کے دلچسپ اورمعلومات افزا واقعات کتاب کوقابل مطالعہ بناتے ہیں اور قاری کسی لمحہ بھی بوریت کاشکارنہیں ہوتا۔ اسلم اظہر بلاشبہ پی ٹی وی کے معماروں میں شامل ہیں۔ انہوںنے اخترکوپروفیشنل لائف کاپہلاسبق یہ دیا۔ ’’کوئی کام آسان نہیں ہوتا۔ اپنی محنت سے کام کو آسان بنایاجاتاہے۔ محنت کروگے تومشکل کام بھی آسان لگنے لگے گا۔ ‘‘ اسلم صاحب ذاتی طور پراس مقولے پرہمیشہ عمل پیرارہے۔ وہ خود بھی محنت کرتے تھے اوراپنے ساتھیوں سے بھی اس کی توقع رکھتے تھے۔ وہ دفتری ملاقات میں نہایت اصول پسند اورذاتی تعلق میں بیحد محبت کرنے والے شخص تھے لیکن ان دونوں معاملات کوآپس میں گڈمڈنہیں کرتے تھے۔ ذاتی حیثیت میں آپ ان سے کتنے ہی قریب ہوں، ٹیلی وژن اسکرین اوردفتری کاموں میں آپ کی ذراسی کوتاہی پرٹوکنے روکنے سے نہیں چوکتے تھے۔

اسلم اظہرکاایک چشم کشاواقعہ ان کے خاکے میں شامل ہے۔ ’’ جنرل یحییٰ خان نے اقتدارسنبھالاتوکراچی شہرمیں لگے کرفیوکی وجہ سے مارشل لاء انتظامیہ نے ٹی وی ملازمین کودفترآمدورفت کیلیے اجازتی پاس دینے سے انکارکردیا۔ اسلم اظہرصاحب کراچی ٹی وی کے جنرل منیجر تھے۔ انہوں نے خودبھی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ٹرانسمیشن شروع ہونے کاوقت آچکاتھا۔ سبھی پریشان تھے کہ کیاکیاجائے۔ مسئلے کوکوئی حل نظرنہیں آرہاتھا۔ اسلم صاحب سینٹر پرموجودتھے انہوں نے اناؤنسرراحت سعیدکوبلاکریہ اعلان کروادیا: ’’ناظرین مارشل لاء انتظامیہ کی طرف سے ٹیلی وژن ملازمین کوآمدورفت کے اجازتی پاس جاری نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے انجینئر اورمتعلقہ اسٹاف دفتر نہیں پہنچ سکے ہیں اس لیے ہم اپنی نشریات شروع نہیں کرسکتے۔ جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔ ‘‘کچھ دیرتک اسی مضمون کی اناؤنسمنٹ لکھ کراسکرین پر بھی دکھائی جاتی رہی۔ نتیجہ یہ ہواکہ فوری طور پراجازت نامے جاری ہوگئے اورٹیلی وژن نشریات بحال ہوگئیں۔ ‘‘

برھان الدین حسن کاتعلق پی ٹی وی نیوز سے تھا۔ انہوں نے پی ٹی وی نیوزکی یادوں پرمبنی دلچسپ کتاب ’’uncencerd‘‘ تحریر کی تھی، جس کاترجمہ بھی کیاگیا۔ انہیں فخرحاصل تھاکہ مولاناابوالکلام آزاد ان کے دادا مولاناارشادحسین کے شاگردتھے۔ قیام پاکستان کے بعدپاکستان آنے کے پرمٹ دہلی سے ملاکرتے تھے۔ اس لیے برھان صاحب نے اس سلسلے میں دہلی میں مولانا آزاد سے ملنے کاارادہ کیا۔ لکھتے ہیں۔ ’’ میں انہیں دیکھ کران کی کرشماتی شخصیت سے بہت متاثرہوا۔ مولاناآزاد بھی اپنے استادکے پوتے کودیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے مجھ سے دہلی آنے کامقصدپوچھاتومیں نے وضاحت کی کہ ایک مسلمان نوجوان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہاہے کہ اسے ہندوستان میں ہی رہناچاہیے یااس کے لیے پاکستان میں بہترامکانات ہیں۔ مولانانے جواب دیا۔ میرے بیٹے تم جانتے ہومیں نے زندگی بھرپاکستان کے قیام کی مخالفت کی ہے کیونکہ میں جناح کے دوقومی نظریے سے اختلاف رکھتاتھا۔ لیکن اب جب کہ پاکستان وجود میں آگیاہے تومیں سمجھتاہوںکہ اسے قائم رہناچاہیے اور خوب ترقی کرنا چاہیے اس لیے تمہارے جیسے مسلم نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان جائیں او ر وہاں جاکرملک کی مضبوطی اور خوشحالی کے لیے خوب محنت سے کام کریں۔ ‘‘

ایسے دلچسپ اورچشم کشاواقعات’’چندہم سفر‘‘ کے ہرخاکے میں موجود ہیں۔ کتاب میں بے نظیربھٹو، جاویدمیاںداد، آصف اقبال، قمرزمان اورجہانگیرخان جیسے کچھ ایسے افرادکے خاکے بھی ہیں۔ جن کابراہِ راست ٹی وی سے تعلق نہیں، لیکن وہ کسی نہ کسی طرح اس ادارے سے وابستہ رہے۔ بے نظیربھٹوکے خاکے میں شامل یہ بات قارئین کے لیے بڑا انکشاف ہوگی کہ پاکستان ٹیلی وژن پرجب مقبول سیریل ’’کرن کہانی‘‘شروع ہونے والی تھی تواس کی شوخ وچنچل ہیروئن کے لیے بے نظیرسے بھی پوچھاگیاھاکہ کیاوہ یہ رول کرناچاہیں گی۔ مشہور شاعرافتخار عارف نے بتایاکہ اس سلسلے میں بے نظیر کراچی ٹی وی کے متعلقہ پروڈیوسرزکی دعوت پردفتربھی آئی تھیں۔ بہرحال یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ لیکن انہوں نے پی ٹی وی کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام ’’Encounter‘‘ کی میزبانی کی تھی۔ اس پروگرام کی چھ قسطیں انگریزی میں نشرہوئی تھیں۔ جس میں دوسرے نوجوانوںاورطلباء کے ساتھ بے نظیرنے حال اور مستقبل کے پاکستان کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات کاجائزہ لیاتھااور حکومت کے لیے کچھ تجاویزبھی مرتب کی تھیں۔ یہ وہ زمانہ ہے، جب خود بے نظیرکے بقول وہ صحافت کا پیشہ اپنانے کاسوچ رہی تھیں۔ صحافی تووہ نہ بن سکیں کیونکہ زندگی میں ان کے لیے حالات ہی کچھ ایسے ہوگئے کہ انہیں سیاست کی طرف آنا پڑ گیا۔ لیکن صحافت سے ان کی دلچسپی برقرار رہی، اخباروں میں وہ مضامین لکھتی رہیں اورایک مرتبہ وانہوں نے باقاعدہ پی ٹی وی کاخبرنامہ بھی تیارکرایاتھا۔ جس کاذکراختروقارعظیم نے اپنی کتاب ’’ہم بھی وہیں موجودتھے‘‘ میں کیاہے۔

’’سخن ور‘‘ ٹیلی وژن کاایک مقبول ادبی پروگرام تھا۔ سترکی دہائی میں یوسف کامران کی میزبانی میں اور پھرملک میں رنگین ٹی وی آنے کے بعد پروین شاکر کے ساتھ اختر وقار نے پچاس ساتھ پروگرام کیے۔ جس میں جوش، فیض احمدفیض، حفیظ جالندھری سے لے کرامجداسلام امجد تک بہت سے معروف شعراء کے انٹرویو اوران کاکلام نشرکیاگیا۔ اس پروگرام میں سخت سے سخت سوال اور تنقیدی تبصرے بھی پروین کچھ اس انداز سے کیاکرتی تھیں کہ کبھی بدمزگی نہیں ہوئی۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، وہ چلتارہتاتھا لیکن مہمان اورمیزبان دونوں ایک دوسرے کی رائے کااحترام کرتے تھے، یہ نہیں ہوتاتھاکہ میزبان اپنی بات کہنے کے بعدمہمان کووضاحت کاموقع نہ دیں۔ روک ٹوک سے بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ پروین کاکمال یہ تھاکہ وہ اپنے چبھتے ہوئے سوالوں سے اپنے مہمان کوبولنے پرمجبورکردیتی تھیں چنانچہ کئی خاموش طبع شاعروں نے بھی اس پروگرام میں آزادی اظہارکافائدہ اٹھایا، یوں ان کی طبیعت، مزاج اورشاعری کے وہ پہلوبھی سامنے آئے جو عام سننے والے کی نظر میں نہیں تھے۔ اس سلسلے کاآخری پروگرام خودپروین شاکرپرتھا۔ 1994ء میں اگست یاستمبرکامہینہ تھا۔ ایک دن پروین اپنی کلیات ’ماہِ تمام‘‘ کی تین جلدیں لیے میرے دفتر میں آئیں۔ ایک انہوں نے مجھے، دوسری خواجہ نجم الحسن اور تیسری جلدفرہادزیدی کوپیش کردی۔ جوان دنوں پی ٹی وی کے ایم ڈی تھے۔ زیدی صاحب نے نام دیکھا توکہا:’آپ نے ابھی سے ماہِ تمام کے نام سے مجموعہ چھاپ دیاآپ توابھی بہت چھوٹی ہیں۔ ‘پروین نے ہنس کرجواب دیا:’یہ کام کسی اور کے حوالے کرنے سے بہترنہیں تھاکہ خودہی کرجاتی۔ ‘ کسے معلوم تھاکہ وہ بات جوپروین کے ذہن میں تھی کچھ دنوں بعد ہی سچ ہوجائے گی۔

اردوکے مشہورمزاح نگارشوکت تھانوی کے صاحبزادے رشیدعمر تھانوی نے اختروقارعظیم کے ساتھ ہی پی ٹی وی جوائن کیا۔ لیکن وہ بطور ادا کار اوراسکرپٹ رائٹر پہلے ہی سے ادارے سے وابستہ تھے۔ رشیدبے حدپرخلوص، محبت کرنے والے اورسچے آدمی تھے۔ خوش مزاج، خوش گفتار، ان کی موجودگی میں کوئی شخص افسردہ نہیں رہ سکتاتھا۔ رشیدعمر نے اپنے اخباری کالم میں ایک دلچسپ واقعہ لکھاہے۔ جس سے ان کی افتادِ طبع کا اندازہ کیاجاسکتاہے۔ ’’ پی ٹی وی کراچی مرکز سے موسیقی کانیاپروگرام شروع ہوا جومیوزیکل فیچریامنظوم ڈرامے کی طرح تھا۔ یہ پروگرام ایک ہفتہ ظہیرخان اور ایک ہفتہ اعجازمیاں کرتے تھے۔ ظہیرخان نے انارکلی اورلیلیٰ مجنوںجیسی کہانیوں پرپروگرام کیے۔ اعجاز میاں نے مجھ سے اوراختروقارعظیم سے رابطہ کیاکہ ہم لوگ کوئی ایسی نظم تجویزکریں۔ جس پرخوبصورت پروگرام ریکارڈکیاجاسکے۔ ہم نے نظیراکبر آبادی کی دونظمیں’آدمی نامہ ‘ اور’بنجارہ‘ اعجازمیاں کودیں۔ انہوں نے بہت محنت کی اورایک اچھا پروگرام ریکارڈکرلیا۔ سب نے پروگرام کوسراہا اوراعجاز میاں کی بہت تعریف ہوئی۔ ایک دودن بعداعجازبہت پریشان میرے پاس آئے اورکہاکہ یارمجھے نظیراکبرآبادی کا پتہ چاہیے۔ نظم توانہوں نے ریکارڈکرلی لیکن نظیرسے رائلٹی کنٹریکٹ پردستخط نہیں کرائے۔ میں نے اعجاز کوبتایاکہ نظیراکبرآبادی کاگھرتومیں نے دیکھاہے لیکن پتہ یادنہیں۔ اب اعجازنے کنٹریکٹ پردستخط کرانے کے لیے خوش آمدشروع کردی۔ میں پرتکلف چائے کی شرط پررضا مندہوگیا۔ دوسرے دن یہ کہہ کرپھرچائے پی کہ نظیراکبرآبادی گھرپرنہیں تھے آج پھرجاؤں گا۔ براہو اختروقارعظیم کاجنہوں نے تیسرے دن اعجازمیاں کوبتادیاکہ تھانوی تمہیں بے وقوف بنارہاہے، نظیراکبرآبادی توعرصہ ہوااس دنیاسے جاچکاہے۔ ورنہ میں نہ معلوم کتنے دن اعجاز میاں سے نظیرکے نام پرچائے پیتا۔ ‘‘

ایسے دلچسپ اورمعلومات سے بھرپور واقعات ’’چندہم سفر‘‘ کے ہرخاکے میں موجود ہیں۔ جن کی وجہ سے کتاب سے قاری کی دلچسپی کم نہیں ہوتی۔ فاطمہ ثریابجیاکے خاکے میں یہ واقعہ درج ہے۔ ’’بجیاکے ہرچھوٹے بڑے کوبیٹاکہنے سے بعض اوقات بہت مضحکہ خیزصورت پیداہو جا تی تھی۔ میں نے انورمقصود نے ایک قصہ سن رکھا ہے۔ ’ایک دن اردشیرکاؤس جی بجیاسے ملنے آئے توبجیانے ان کے سرپرہاتھ پھیرا اورپوچھا، بیٹاکیساہے؟ ‘اردشیراپنے مزاج کے آدمی تھے انہوں نے جواب دیا، ’ یہ سالا تم ایک دم پوپ کیوں بن جاتاہے۔ سرپرہاتھ پھیرتا ہے اوربیٹاکہناشروع کردیتاہے۔ ‘ بجیاکوبرالگاانہوں نے خفگی سے کہا، اردشیرتمیز سے بات کرو، یہ تم نے مجھے سالاکیوں کہاہے۔ اردشیرچپ رہے۔ انورمقصود نے بجیاکوسمجھایا، آپ برانہ مانیے۔ پارسی محبت میں لوگوں کوسالاکہتے ہیں۔ ہمارے اوران کے سالے میں بہت فرق ہے۔ ‘‘

یوں توجاویدمیانداد کاتعلق ٹی وی سے نہیں ہے لیکن وہ ان کھلاڑیوں میں تھے جن کی وجہ سے ٹیلی وژن اسکرین ہمیشہ سجی رہتی تھی اورپررونق بھی۔ ٹی وی سے ان کے رشتے کی دوسری وجہ ان کاوہ چھکاہے جوانہوں نے بھارت کے خلاف آسٹریلیشیاکپ فائنل کی آخری گیندپرلگایا تھا۔ یہ وہ شاٹ ہے جوسوشل میڈیا پرسب سے زیادہ دیکھاگیا۔ اس چھکے کے بارے میں میانداد نے بتایا۔ ’’صورتحال ایسی ہوگئی تھی کہ میچ کی آخری گیندپرچھکا نارت بغیرہم جیت نہیں سکتے تھے۔ سامنے چیتن شرماتھاجوورلڈکپ میں ہیٹ ٹرک کرچکاتھا۔ اکثربیٹنگ کرتے ہوئے میں سوچتاتھاکہ میں اگربولرہوتاتواس وقت کون سے گیند کراتا۔ اس روز میرے ذہن میں خیال آیاکہ شرمامجھے یارکرپھینکے گا۔ میں کریز سے تھوڑا آگے کھڑاہوگیاتاکہ اسے فل ٹاس بناکرسکوں اور پھر وہی ہواجومیرے ذہن میں تھا اور جوسب نے ٹی وی اسکرین پردیکھا۔ ‘‘

کتاب میں پی ٹی وی کے نائب قاصدچاچاانورکابھی خاکہ ہے۔ ٹی وی کمنٹیٹرچشتی، افتی، منیرکاایک ہی خاکے میں بیان ہے۔ ڈرامہ نگار حسینہ معین، موسیقارخلیل احمد، مزاحیہ شاعردلاورفگار، خالدعباس ڈار، ہاکی کمنٹیٹرذاکرسید، ایس ایم نقی، فاروق مظہرکاذکرایک خاکے میں ہے۔ کرکٹر آصف اقبال، گلوکارہ ریشماں، پی ٹی وی کولیگ زمان علی خان، کولیگ اورچھوٹے بھائی اطہروقارعظیم، حمایت علی شاعر، شاعر اور ماہرتعلیم صوفی غلام مصطفٰے تبسم، اداکاراورصداکار ضیامحی الدین، طارق عزیز، سابق وزیراعظم میرظفراللہ جمالی، عبیداللہ بیگ، غفران امتیازی، فرہادزیدی، اسکواش پلیئرز قمر زمان اورجہانگیرخان، تین کمال، کمال احمدرضوی، کمال الدین اورفضل کمال کاتذکرہ ایک ساتھ ہے۔ گاماپہلوان، اینکر لئیق احمدخان، منوبھائی، نعیم بخاری، قاری ونعت خوان وحیدظفرقاسمی، شعیب ہاشمی اورپی ٹی وی کے بے مثال پروڈیوسر یاورحیات خان آخری شخصیت ہیں، جن کا ’’چندہم سفر‘‘ میں خاکہ شامل ہے۔ ان سب کافرداًفرداً ذکرتبصرے میں دشوارہے۔ تاہم میں ان میں سے چندکے اقتباسات پیش کرناچاہوں گا۔

چاچاانورکے خاکے میں لکھتے ہیں۔ ’’ابھی میری ریٹائرمنٹ میں کچھ وقت باقی تھا۔ لیکن اپنے ایک سینئرسے اختلاف کی وجہ سے میں نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ میرے اکثردوستوں کومیرے فیصلے سے اختلاف تھا۔ تقریب کے آخر میں مہمانِ خصوصی چاچاانورتقریر کے لیے کھڑے ہوئے توانہوں نے مجھے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے صرف ایک جملہ کہا:’ اس عہدے پرلگنے کی دعاتوہم سب نے کی تھی جانے کافیصلہ اکیلے اکیلے کرلیا؟‘ مجھے پریشان کرنے کے لیے یہ ایک جملہ ہی کافی تھا۔ ‘‘ لیکن اس بات سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ اخترہر چھوٹے بڑے کی رائے کواہمیت دیتے تھے۔

پی ٹی وی کی مقبول ترین ڈرامہ نگارکے بارے میں کہتے ہیں۔ ’’حسینہ معین کی ٹیلی وژن میں آمدشہ زوری ڈرامے سے ہوئی۔ جب عظیم بیگ چغتائی کی کہانیوں کی ڈرامائی تشکیل کافیصلہ ہواتوافتخارعارف نے دوتین لکھنے والوں سے رابطہ کیالیکن کوئی اس کٹھن کام کوکرنے کے لیے تیارنہ ہوا۔ حسینہ معین نے اس چیلنج کوقبول کیااور شہزوزی کی ایسی خوبصور ت ڈرامائی تشکیل کی کہ اتنی دہائیاں گزرجانے کے باوجودآج بھی اس سیریل کودیکھنے والے اس کے تذکرے پرمسکرائے بغیر نہیں رہتے۔ شہزوری کی کامیابی کے بعد حسینہ کاقلم اوررواں ہوگیا۔ پھرکیاتھا۔ زیرزبرپیش، کرن کہانی، انکل عرفی، پرچھائیاں، دھوپ کنارے ان کہی اور تنہائیاںجیسے کامیاب سیریل حسینہ نے تحریرکیے اوران کانام ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت بن گیا۔ ‘‘

چشتی مجاہداورافتخاراحمدسے یادگارمیچزکا پوچھنے پرچشتی نے بتایا۔ ’’ کاردارکی قیادت میں جب کرکٹ کی پہلی ٹیم بھارت گئی توان دنوں ان کے والددہلی میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات تھے اورانہیں اس دورے کے دوٹیسٹ دیکھنے کاموقع ملا۔ پہلا میچ فیروزشاہ کوٹلہ گراؤ نڈ دہلی میں کھیلاگیاتھااور دوسرامیونسپل گراؤنڈلکھنؤ میں۔ دوسرامی خاص طور پرانہیں اس وجہ سے یادہے کہ اس شہرمیں کھیلاجانے والایہ اکلوتا ٹیسٹ میچ تھا۔ نہ اس سے پہلے وہاں کوئی ٹیسٹ کھیلاگیااور نہ ہی آئندہ ایساہوا۔ ‘‘

افتخاراحمدنے کہا۔ ’’ بیٹنگ میں مجھے نیوزی لینڈ کے خلاف ماجدخان کی لنچ سے پہلے بنائی گئی سنچری، آصف اقبال کی 1976ء میں آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ اورسڈنی کی سنچریز ہمیشہ یادرہیں گی۔ میری خوش قسمتی ہے کہ شارجہ میں اس وقت میں کمنٹری کررہاتھاجب جاویدمیانداد نے تاریخی چھکالگایا۔ ‘‘

موسیقارخلیل احمدایئرفورس میں ملازم تھے کہ شوق غالب آگیا۔ وردی اتاری اورفضاؤں میں اڑنے کے بجائے سازسنبھالے موسیقی کی دنیا میں آگئے۔ فلموں میں ایسی دھنیں ترتیب دیں کہ ان کانام فلم کی کامیابی کی ضمانت بن گیا۔ ان کے ابتدائی گانوں میں میں مالااوراحمدرشدی کادوگانہ ’’جب رات ڈھلی تم یادآئے‘‘سلیم رضااورناہیدنیازی کا’’تجھ کومعلوم نہیں، تجھ کوبھلاکیامعلوم‘‘ اوران کی لوری’’ چنداکے ہنڈولے میں، اڑن کھٹولے میں‘‘بہت مشہورہیں۔ ٹی وی پربھی انہوں نے یادگارگیت اورغزلوں کی موسیقی دی۔ فلم اورٹی وی کی موسیقی میں جوفرق ہے وہ خلیل احمدسے زیادہ شایدکوئی نہیں جانتا۔ فلم میں وہ سازوں کابھرپوراستعمال کرتے تھے جبکہ ٹی وی میں صرف حسبِ ضرورت ساز استعمال کرتے تھے۔ ایئرفورس چھوڑ چکے تھے۔ لیکن کاراب بھی ایسی رفتارسے اور کچھ اس طرح چلاتے تھے کہ دیکھ کرلگے کسی ہوابازکے ہاتھ میں کار کااسٹیرنگ دے دیاگیاہے۔

ریشماں کی آواز شیبازقلندرکے مزار پراتفاقاً دریافت ہوئی۔ وہ اپنے بھائی کی شادی کی منت مانگنے عرس پر حاضر ہوئیں تھیں اورعارفانہ کلام سنارہی تھیں۔ ایک ریڈیوافسر بھی وہاں موجودتھے۔ انہوں نے آوازسنی توریشماں سے پوچھا، کیاتم ریڈیو پرگاؤگی۔ انہوں نے نہ ریڈیو سباتھانہ ٹی وی دیکھاتھااس لیے بات سمجھ میں نہ آسکی، ان لوگوں سے کہا، اپناپتہ دے جاؤہوسکاتوتمہارے پاس آؤں گی۔ ایک دن ریشماں دیے ہوئے پتے پرپہنچ گئیں۔ پوچھنے پرکہاآپ کے لیے وہی کچھ گاؤں گی جوشہبازقلندرکے مزار پرسنارہی تھی۔ پھربقول ریشماں، انہیں گھر کے ایک بڑے سے کمرے میں لے جایاگیا، جہاں دوایک سازندے بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ تان لگاتیں، وہ اپنا اپناسازبجاتے یوں خاموشی سے اورریشماں کی لاعلمی میں ان کی ریکارڈنگ کرلی گئی۔ یہ ریکارڈنگ نشرکرنے سے سات روز تک ریڈیوپراس دریافت کا اعلان ہوتارہا۔ آواز نشرہوئی توفوری ریشماں کے لیے مقبولیت کے دروازے کھل گئے۔ وہ کہاکرتی تھیں، سرمیں گانابہت مشکل کام ہے۔ یہ اللہ کی دین ہے کہ میں گالیتی ہوں۔ نہ میں نے کبھی ریاض کیا، نہ بہت محنت۔ میرے ملک کے لوگوں نے مجھے سیکھنے کاہی نہیں دیا۔ کیونکہ میں جیسی تھی ویسی ہی قبول کرلیا۔

’’چندہم سفر‘‘ کاہرخاکہ قابل مطالعہ اور معلومات سے بھرپور ہے۔ ہرخاکے میں متعلقہ شخصیت کے بارے میں کوئی نئی بات ضرور موجودہے۔ زمان علی خان پاکستان ٹیلی وژن کے انتہائی اہم افسرتھے۔ انہوں نے پی ٹی وہ کے ہراہم عہدے پرکام کیا۔ مشرقی پاکستان سے تعلق کی وجہ سے انہیں معطل بھی کیاگیااورتحقیقات بھی کی گئیں۔ لیکن ان کاجینامرنا پاکستان کے ساتھ تھا۔ اپنے ماتحتوں میں بے حدمقبول تھے۔ غلط کام پرجہاں ان کی خبرلیتے اوررہنمائی کرتے، وہیں مشکل وقت میں شیشہ پلائی دیواربن کرساتھ کھڑے ہوجاتے تھے۔ لاہور ٹی وی کے جنرل منیجرتھے۔ ڈرائیوروں اور چپراسیوں کی وردی کے لیے جس کپڑے کاانتخاب ہواوہ یونین کے کہنے پرسب نے لینے سے انکارکردیا۔ زمان صاحب تک بات پہنچی توانہوں نے کہا، کپڑا مجھے لاکردکھایاجائے۔ دوتین سوٹوں کاکپڑالاکران کی میزپررکھ دیاگیا۔ شام کوگھرجاتے ہوئے کپڑا ساتھ لے گئے اورراتوں رات اس کپڑے سے اپنے لیے شلوار قمیض بنوالے۔ صبح دفتر آئے تووہی پہن رکھاتھا۔ یونین والوں نے دیکھاتوشرمندگی سے منہ چھپانے لگے۔ اس کے بعد بہت دنوں تک جنرل منیجر صاحب، ڈرائیور اور چپراسی ایک ہی لباس پہن کردفتر آتے رہے۔

ایسے افراد کاقصہ قاری کہاں جان سکے گا۔ حمایت علی شاعرکے بارے میں بہت کم لوگوں کوعلم ہوگا کہ وہ ٹی وی اناؤنسربھی رہے ہیں۔ ’’ ایک دن خاتون اناؤنسرکے بجائے ایک صاحب نے نشرہونے والے پروگراموں کاتعارف کرایا، جن کالب ولہجہ، بیانیہ اورخاص طور پرحلیہ بالکل مختلف تھا۔ شانوں تک لمبے بال، جسم پرشیروانی جس کے اوپر کے دونوں بٹن کھلے ہوئے تھے، چہرے پرمسکراہٹ، بیان میں شائستگی، ایسالگاکہ جیسے پروگراموں کاتعارف کرانے کے بجائے، کوئی افسانہ سنارہے ہوں یہ تھے ہمارے حمایت علی شاعر۔ یہی وہ زمانہ تھاجب حمایت بھائی نے فلمی شاعری کی طرف توجہ کی۔ ٹی وی میں ان کی ملاقات خلیل احمدسے ہوئی۔ انہوں نے حمایت بھائی کی نظم’ان کہی‘ کسی مشا عرے میں سن رکھی تھی۔ اس نظم کے کچھ اشعارخلیل احمدنے سلیم رضاکی آواز میں فلم ’آنچل‘ کے لیے ریکارڈکرلی۔ ’’تجھ کومعلوم نہیں، تجھ کوبھلا کیامعلوم‘‘ یہ نغمہ اتنامقبول ہواکہ آنچل کے فلمساز نے حمایت علی شاعرکوفلم کے سبھی نغمات لکھنے کی دعوت دی۔ فلم کے نغمہ’’کسی چمن میں رہو تم، بہار بن رہو‘‘ پرحمایت بھائی کونگارایوارڈ ملا۔ اس بعد طویل عرصہ تک حمایت بھائی شاعر اورکہانی نویس کی حیثیت سے فلمی دنیاسے وابستہ رہے۔ ‘‘

اپنی پسندیدہ شخصیات کے بارے میں جاننے کے لیے ہرقاری سے ’’چندہم سفر ‘‘پڑھنے کی بھرپور سفارش کی جاسکتی ہے۔ سنگ میل نے کتاب بھی بہت عمدہ شائع کی ہے۔ معروف کارٹونسٹ جاویداقبال نے کتاب میں شامل شخصیات کے کیری کیچرزپر مبنی بہت دلکش سرورق بنایاہے۔ اختروقارعظیم کوپی ٹی وی سے متعلق دوسری دلچسپ کتاب لکھنے پر مبارک باد پیش ہے۔ قارئین ان کی اگلی کتاب کے منتظرہیں۔

Advertisement

Trending