Connect with us

تازہ ترین

بس سر، بہت ہوگیا —- ارسلان احمد

Published

on

جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا ہے، عمران خان مسلسل اپنا پریشر بڑھا رہا ہے۔ وہ اب سرگوشیوں میں کی جانیوالی باتیں عام آدمی کے سامنے کررہا ہے۔ اس سے پہلے اس نے بڑی مہارت سے عدم اعتماد کو آخری وقت تک لے جاکر سب کے اعصاب چٹخا دیئے تھے اور پھر جو ہوا اس پر عمران کو بولنے کی ضرورت نہیں پڑی، عوام خود بول رہی ہے۔ بڑوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران کے خلاف ابھی تک کچھ ٹھوس چیز سامنے نہیں لاسکے۔ نواز شریف، زرداری، بے نظیر، بھٹو؛ کسی پر کرپشن کا الزام ایسا تھا کہ اسکے ساتھی بھی حلفا نہیں کہہ سکتے تھے کہ جھوٹ ہے تو کسی پر ملک توڑنے کا الزام ایسی مہارت سے لگایا کہ اصل ذمہ داران کی بجائے اسی پر جاکر بات رک جاتی تھی۔ لیکن یہاں کیا کریں؟

فرح والا کیس آیا تو جو کچھ نکالا وہ سب انہیں کے ٹیکس ریٹرنز سے نکالا تھا، گویا کچھ بھی چھپایا ہوا تھا ہی نہیں۔ اس کے خاوند کے چند منٹ کے ٹی وی انٹرویو نے سب کچھ اڑا دیا اور اینکر جو ایک گرما کرم شو کی امید سے تھا، بچارا منہ دیکھتا رہ گیا۔ مدینہ پاک والا لائے تو کچھ دن بعد خبر آئی (اللہ جانے کتنی صداقت ہے) کہ یہ تو انہی کے لوگ تھے۔ حیرت ہے جو مفروضوں کی بنیاد پر پی ٹی آئی کی لیڈر شپ پر چڑھ دوڑے تھے وہ اب خاموش ہیں۔

دوسرا بڑا مسئلہ سوشل میڈیا کے دور میں بڑی ہوتی ہوئی نوجوان نسل ہے، جو انکے پرانے بیانات بھی سن رہی ہے کہ کیسے نواز شریف و شہباز شریف کو کرپشن کے تمام الزامات سے نکلوا کر انہیں سروں پر بٹھایا گیا، جن لوگوں کو کچھ پہلے تک غیر ملکی ایجنڈے پر ملک کو تباہ کرنے والا بتا کر جیلوں میں ڈلوایا گیا مگر اب انکی حفاظت کی جارہی ہے، گالیاں دینے والوں کی حمایت میں سب کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ سیاست سے لاتعلقی کا اظہار کرتے کرتے کبھی ڈالر ریٹ بتایا جاتا ہے تو کبھی سٹاک ایکسچیج کا خبرنامہ نشر کیا جاتا ہے مگر جب دونوں الٹ جاتے ہیں تو پھر نیوز بلیٹن بھی دی اینڈ۔ راتوں کو عدالتیں کھلتیں ہیں اور کیسے ہر ہر چیز کی ٹائم لائن خود طے کی جاتی ہے۔ اس نسل کو پتا لگ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ کیسا کھیل کھیلا جاتا ہے، کیسے مفادات سب کو اکٹھا کردیتے ہیں اور کیسے آپس کے حصے کی لڑائی کو جمہوری جدوجہد، ملکی سلامتی یا آئین کی پاسداری کا خوبصورت لباس پہنایا جاتا ہے۔ یہ نسل ملکی سیاسی معاملات سے کٹی ہوئی تھی، اسے کسی نے ساتھ جوڑا ہے تو یہ اب اسکی نہیں، اپنے مستقبل کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ نسل کنٹرول نہیں ہوسکتی۔ آپ راستے بند کریں تو انکے پاس فون ہے، لیپ ٹاپ ہے، انٹرنیٹ ہے، یہ ڈیجیٹل دنیا کے گلوبل شہری ہیں، یہ آپ کو وہاں سے تگنی کا ناچ نچاتے ہیں جہاں سے آپ کو پتا بھی نہیں ہوتا۔

بڑوں سے تیسری غلطی یہ ہوئی کہ یہ بریڈ فورڈ کے سابق چانسلر، دنیا کے بڑے بڑے فورمز پر پورے اعتماد سے اپنی بات کہنے والے، ستر سال کی عمر میں بھی اپنی کشش و گفتگو سے سحر طاری کردینے والے ایک دلیر اور ضدی آدمی جو کسی سے مرعوب نہیں ہے، کے مقابلے میں ایسوں کو لے آئے جو کبھی خود کو بھکاری کہتے ہیں تو کبھی کپڑے بیچ کر آٹا سستا کرنے کی بات۔ ابھی کسی نے ان سے کوئی مطالبہ کیا نہیں ہوتا وہ ایبسلوٹلی یس کی گردان شروع کردیتے ہیں۔ ساتھ ساتھ عام آدمی، مزدور، کسان، ریڑھی بان، دیہاڑی دار، دستکاری کرتی، کھیتوں کھلیانوں میں کام کرتی خواتین سوچتی ہیں ایک طرف تو دن رات محنت کرکے اپنا گزر بسر کرنے والے ہم ہیں دوسری طرف وہ جن کے چپڑاسی بھی اربوں پتی تو پھر وہی لوگ ملک کو، قوم کو، بھکاری کیوں کہہ رہے ہیں؟ اگر قوم وینٹیلیٹر پر ہے تو انکے محلات کیسے پھل پھول رہے ہیں؟ ہمارے کیسوں کی پیشیاں مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی جبکہ انکے لیے اتوار کو بھی عدالتیں کھلتی ہیں، میرے بچوں پر جھوٹا کیس ہوجائے تو پکی نوکری ملنا مشکل ہوجاتا ہے جبکہ یہ سیدھے بڑی کرسیوں پر جا بیٹھتے ہیں۔ میرا تھانیدار میری بات نہیں سنتا جبکہ یہ اپنے کیس کے افسر خود لگاتے ہیں۔۔۔۔ یہ کیسا ملک الموت ہے جو انہی کے گھر چکر لگاتا ہے جو ایان علی، حمزہ یا شہباز کے کیسز کی تحقیقات کرتے ہیں؟ غریبوں کی جھگیوں میں آگ لگ جائے تو بچے کوئلہ بن جاتے ہیں، مائیں بین کرتی رہ جاتی ہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ فائر برگیڈ کا کیا حال ہے لیکن بڑوں کے لیے جیل میں پورا ہسپتال یونٹ بنا دیا جاتا ہے، قاضی اسکی زندگی کی ضمانت لینے کے لیے تگ و دو کرتا ہے، علاج کی غرض سے باہر بھجوانے کے واسطے دن رات ایک کردیا جاتا ہے اور پھر اسکے ضامن سے بھی نہیں پوچھتے کہ کیا ہوا اس مریض کا جو جاں بلب تھا؟ ادارے کیا کررہے ہیں؟ نظام کیسے چل رہا ہے؟ اوپر سے جو لائے گئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ پہلے کہا خط ہے ہی نہیں پھر رفتہ رفتہ ہے تو لیکن روزمرہ کے معمول کا حصہ ہے، زبان بھی ٹھیک نہیں ہے، خطرناک بات کی گئی ہے سے، عدم اعتماد کا ذکر بھی ہے تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب اقرار ہوجاتا ہے تو لوگ پوچھتے ہیں پھر وہ کیا ہوئے جو سلامتی کا دفاع کرتے تھے؟؟ ایسے ہیں کہ جن کے خیال میں چیزیں سستی کرنا غیر قانونی ہے۔ ایک سانس میں کہتے ہیں کہ پٹرول سستا کرکے نقصان کیا گیا تو دوسرے میں کہتے ہیں ہم بھی مہنگا نہیں کریں گے، کتنی مارکیٹنگ کرائی گئی تھی کہ بڑے تجربہ کار ہیں، ایڈمنسٹریٹر تو ایسا کوئی ہے ہی نہیں لیکن یہ تو اچھے جوکر بھی نہیں، پھر انہیں کون لایا ہے، کیسے لایا ہے، کس نے سب کو اکٹھا کیا ہے اور کیوں؟ عام آدمی کے یہ سوال نئے نہیں لیکن اس بار ان میں جو گونج ہے وہ پہلے نہیں تھی۔ اس بار جیسے انگلیاں سیدھی ہورہی ہیں ایسے پہلے نہیں تھیں۔

اسد عمر نے کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ میر جعفر و صادقوں کے نام ملک سے باہر اور ایک سے زائد جگہوں پر محفوظ کئے گئے ہیں۔ تب یہ بات اتنی خطرناک نہیں لگی تھی، لیکن اب جب ایک دن پہلے عمران نے کہا کہ کرپشن کسی کے لیے مسئلہ ہی نہیں تھی، کرپٹ لوگوں کے پیچھے جانے سے روکا جاتا تھااور اب کہا کہ وہ ویڈیو محفوظ ہے جو میری زندگی چھیننے کی کوشش کی صورت میں ریلیز کردی جائے گی تو بات انتہائی خطرناک معلوم ہورہی ہے۔ ملکی معیشت مسلسل بلیڈ کررہی ہے۔ ایسے میں کچھ لوگوں کی ضد ادروں پر رہا سہا اعتماد بھی ختم کررہی ہیں۔ بہتر ہے کہ انہٰیں مجبور کرکے الیکشنز کی طرف لایا جائے اور الیکشنز میں کسی بھی قسم کی انجینرنگ کرنے سے حتیٰ الامکان پرہیز کیا جائے کہ اب بہت ہوگیا۔ عوام میں بد اعتمادی اور غصہ پہلے ہی بہت ہے، کوئی ایک ایڈونچر اس جلتی پر تیل ڈال کر اسے مزید بھڑکا سکتا ہے۔ کسی کو اب آگے بڑھ کر کہنا چاہییے کہ بس سر، بہت ہوگیا۔

 

Advertisement

Trending