Connect with us

تازہ ترین

شمسی، قمری، ہجری کیلنڈر اور نیا سال ——- احمد الیاس

Published

on

اسلامی کیلنڈر کے آغاز لیے کوئی تاریخ منتخب کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا تو سیدّنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجلسِ شوریٰ منعقد کی۔ کسی نے پہلی وحی کی تاریخ تجویز کی تو کسی نے جنگِ بدر کو یادگار قرار دیا، کوئی معراجِ نبیؐ سے کیلنڈر کا آغاز کرنے کے حق میں تھا تو کہیں سے فتحِ مکہ کے حق میں آواز اٹھی۔ لیکن سیدّنا عمر رض کو مولا علی ع کی تجویز سب سے زیادہ پسند آئی اور سب صحابہ کا اسی پر اجماع ہوا۔ وہ تجویز تھی ہجرتِ مدینہ سے کیلنڈر کا آغاز کرنے کی۔ دراصل کیلنڈر کا تعلق مدنیت اور تہذیب سے ہے اور اسلام کی مدنیت اور تہذیب کا نکتہ آغاز ہجرت مدینہ ہے۔ اس لیے ہجرت ہی تقویم کی شروعات کے لیے سب سے موزوں تاریخ تھی۔

قمری کیلنڈر تو موسموں میں گردش کرتا رہتا ہے لیکن شمسی کیلنڈر میں موسم فکس ہوتے ہیں۔ مروجہ عیسوی کیلنڈر سردیوں کی انتہاء سے شروع کیا جاتا ہے (حالانکہ آثار کی رو سے سیدّنا عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی ولادت بھی خاتم النبیین (ص) کی طرح بہار میں ہوئی تھی)۔ ہجری شمسی کیلنڈر جو ایران، افغانستان میں رائج ہے اور سرکاری کیلنڈر ہے، نیز وسط ایشیاء اور کردستان میں بھی غیر سرکاری طور پر استعمال ہوتا ہے اور اسلامی عجم میں صدیوں سے رائج ہے، بہار سے شروع ہوتا ہے ۔۔۔ بہار میں بھی بہار کے جوبن سے۔ سوال یہ ہے کہ کون سا موسم نیا سال شروع کرنے کے لیے بہترین ہے؟ اس کا سیدھا سادا اور معقول جواب یہ ہے کہ چونکہ بہار ہی نئی شروعات، نئی افزائش اور نئی زندگی پیدا ہونے کا موسم ہے اس لیے نیا سال بھی اصولاً بہار سے شروع ہونا چاہئیے جیسا کہ ہجری شمسی کیلنڈر اور ہمارا دیسی بکرمی کیلنڈر، دونوں بہار سے شروع ہوتے ہیں۔ چیزوں کی حرفت میں ہم سے لاکھوں نوری سال آگے نکل جانے کے باوجود روایتوں کی معنویت میں مغرب بے شک مشرق سے خاصا پیچھے ہے۔

اب یہ ہی دیکھئیے کہ خوشی اور غم ۔۔۔ دونوں بڑے پیارے اور ضروری جذبے ہیں۔ ایک متوازن زندگی کے لیے دونوں کا تجربہ لازم ہے۔ اللہ نے مسلمانوں کو دو کیلنڈر عطاء فرمائے ہیں : ہجری قمری اور ہجری شمسی۔ ہجری قمری کا آغاز غم سے ہوتا ہے اور ہجری شمسی کا شادمانی سے۔ دونوں کی معنوی جڑیں اسلامی تمدن میں گہری ہیں۔

Can Muslims have a unified Islamic Calendar? Scholars debate at Hijri Calendar Congress | ummid.comہجری شمسی کیلنڈر کا آغاز جشنِ نوروز سے ہوتا ہے۔ نوروز "نیو ائیر” کی طرح صرف کیلنڈر پر نئے نمبر کا جشن نہیں ہے بلکہ بہار کا جشن بھی ہے ۔۔۔ گویا یہ نئی امیدوں، نئے امکانات اور نئی زندگی کا جشن ہے۔ یہ جشن گو مدنیتِ محمدی کے ظہور سے قدیم تر ہے لیکن چونکہ اب اس تقویم کی آغاز ہجرت سے ہوتی ہے اور ہجرت بھی بہار میں ہی ہوئی تھی لہذا یہ ظہورِ مدنیتِ اسلام کا جشن بھی ہے، تمدنِ اسلامی کی ولادت کا جشن بھی ہے۔ شیعہ سنّی مولائیوں نے تو اس سے اپنے مولا کی تاجپوشی بھی وابستہ کردی ہے، وہ مولا جس کی حیثیت اس مدنیت، اس تہذیب میں وہی ہے جو آسمان پر مہتاب کی ہوتی ہے ۔۔۔ وہ مہتاب کہ جس کا آفتاب آفتابِ رسالت ہے۔ شبِ ہجرت بسترِ رسالت پر سوئے رہنے سے بدر و خندق و خیبر سے ہوتے ہوئے آغازِ تقویم کے لیے ہجرت کی تاریخ تجویز کرنے تک اور پھر مدنیتِ اسلامی کے اصولوں کے تحفظ کے لیے اپنی اور اپنی اولاد کی قربانی دینے تک ۔۔۔ کئی دلائل علی اور امت کے لازم و ملزوم ہونے پر دلیل ہیں۔ یہی تو وجہ ہے کہ ہجری قمری کیلنڈر کا آغاز بھی جس غم سے ہورہا ہے وہ علی کے بچوں کا ہی غم ہے۔

جو لوگ ہجری شمسی کیلنڈر کو ایرانی یا شیعہ کیلنڈر اور نوروز کو ایرانی یا شیعہ تہوار سمجھنے کے مغالطے کا شکار ہیں ان کو خبر ہو کہ تسنن کے غیر متنازعہ چیمپئین، ہمارے اور آپ کے پیارے ترک عثمانی خلفاء بھی ہجری شمسی کا استعمال کرتے تھے اور نوروز اِنتہائی جوش و خروش سے مناتے تھے۔ یہی معاملہ کٹر سنّی شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر رح اور کٹر ہندوستانی حکمران جلال الدین اکبر سمیت سب مغلوں اور ان سے قبل سلاطینِ دلّی کا تھا۔ دیوبندی ملک افغانستان میں بھی یہی ہجری شمسی سرکاری سطح پر رائج ہے اور نوروز کو شیعہ سنیّ سب مناتے ہیں۔ وسط ایشیاء و کردستان بھی ٹھیٹھ سنّی خطے ہیں اور نوروز جوش و خروش سے مناتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ نوروز اور ہجری شمسی کو مسترد کرنے والوں کے اپنے فکری و روحانی قبلے یعنی مملکتِ نجد میں کچھ سال پہلے ہجری قمری کو چھوڑ کر عیسوی کیلنڈر اختیار کیا گیا ہے اور جس نہج پر مملکتِ سامراج داد نجد و مقبوضہ حجاز چل رہی ہے، اب وہاں یقیناً نیو ائیر نائٹ بھی منائی جائے گی۔ دبئی میں ہونے والا فائر ورک تو مشہور ہے ہی۔ نوروز اور ہجری شمسی اگر ایرانیوں کا ہے تو نیو ائیر اور عیسوی کیا جدّہ یا دمام میں پیدا ہونے والی روایتیں ہیں؟

calendar, lunar calendar, lunar globe, displaying the moonshine duration, from the top in clockwise: new moon, increasing moon, full moon, decrescent moon, of outside to interior: visible moon, lunar globe, day toنام نہاد عیسوی کیلنڈر جو آج استعمال کرتے ہیں (جو سیدّنا عیسیٰ ع کی ولادت کے چار سال بعد سے شروع ہوتا ہے)، سامراج کی یادگار ہے اور ہم پر اور پوری غیر مغربی دنیا پر جبراً مسلط کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پوری اسلامی دنیا کو اس سامراجی بندش سے آزاد ہوکر دنیاوی معاملات کے لیے ہجری شمسی اختیار کرنا چاہئیے اور دینی معاملات کے لیے ہجری قمری۔

ہجری شمسی کی مذکورہ بالا خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس میں یہ خوبی بھی ہے کہ پہلے پانچ ماہ اکتیس دنوں کے اور باقی سات ماہ تیس دنوں کے ہوتے ہیں۔ (لیپ کے سال میں چھ ماہ اکتیس کے اور چھ تیس کے ہوتے ہیں)۔ اس کے برعکس عیسوی کیلنڈر میں کوئی ترتیب نہیں ہے اور مہینوں میں دنوں کی تعداد بے تُکے انداز میں ہے۔

نیو ائیر نائٹ بھی ایک بے تُکا، بے مقصد اور اجنبی تہوار ہے جس کا بائکاٹ ہونا چاہئیے۔ اس کی بجائے نوروز کی روایت کو اسلامی تعبیرات بخش کر از سر نو زندہ کیا جائے تاکہ محرم کے شروع میں "نیا سال مبارک” کہنے والوں کو بھی چین پڑے۔ نیز ہم بسنت اور بیساکھی جیسی اپنی مقامی روایتیں بھی نوروز سے وابستہ کرسکتے ہیں۔ کرسمس چونکہ سیدّنا عیسیٰ سے منسوب ہے (اگرچہ ان کی ولادت کا دن نہیں)، اس لیے اس سے ہمارا کوئی تعلق بن جاتا ہے۔ نیز یہ ہمارے ایک اہل الکتاب اقلیتی برادری کا مذہبی تہوار ہے لہذا اس کا احترام ہم پر واجب ہے۔ لیکن نیو ائیر کی تو کوئی منطق ہی نہیں ہے۔ یہ ہیلووین اور ویلنٹائنز ڈے کی طرح بالکل بے کار بے معنی چیز ہے اور فقط ایک جبری طور پر مسلط کیے گئے سامراجی کیلنڈر پر ہندسے بدلنے کا نام ہے جس کو منانا یا اس کے بارے میں پرجوش ہونا سراسر بے ہودگی اور بے عقلی ہے۔ وما علینا الالبلاغ

Advertisement

Trending