تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

بے جگہ ——- عزیز ابن الحسن

by دانش ڈیسک 02/01/2022
written by دانش ڈیسک 02/01/2022
123

سلیم احمد کے ہاں کبھی ایک جملہ پڑھا تھا کہ
“شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں لفظ اپنا لغوی معنی چھوڑ دیتے ہیں”
یہ ایک ایسا جملہ ہے جسے کہنے والے تو اب کہاں رہے، سمجھنے والے بھی کمیاب ہوتے جا رہے ہیں۔

شاعری کیا ہے اس کے بیسیوں جواب ہو سکتے ہیں مگر بنیادی بات یہ ہے کہ شاعری جب بھی اور جہاں بھی ہوگی اس میں یک گونہ استعاراتی پن ضرو ہوگا۔ کسی بیان کے اندر جب واقعاتی پن کے بجائے یا اسکے ساتھ ساتھ ورائے واقعتی عنصر بھی آجائے تو اس میں اسی تناسب کا “شاعری پن” بھی آجاتا ہے اور ایسا ہمیشہ استعارے کے طریق پر ہوتا ہے۔

استعارے کا سادہ ترین مطلب یہ ہے کہ کسی شئ مدرکہ یعنی آواز رنگ یا لفظ کو اس کے وضعی محل یا لغوی معنی کے بجائے کسی اور شے، معنی محل، یا صورتحال کیلئے اس قرینے یا سلیقے سے استعمال کرنا کہ اسکے پڑھنے، سننے، مشاہدہ کرنے یا اس واردات، صورتحال سے گزرنے والا ایک جمالیاتی اہتزاز محسوس کرے۔

استعارے کا یہی وہ فطری وظیفہ ہے جس سے ہر ذی احساس و ذی شعور واقف ہوتا ہے۔ البتہ جو اسکے جتنے بہترین استعمال کی مہارت رکھتا ہے وہ اسی درجے کا فنکار ہوتا ہے۔ جمالیاتی فنون میں اظہار کی کم و بیش تمام صورتوں میں یہ استعاراتی منہج کسی نہ کسی درجے میں ضرور اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اسی سے شے میں ورائے شیئت پن، واقعہ میں واقعیت پن سے ترفع اور وقتیت سے ورائے زمان لے جانے والی وہ کیفیت پیدا ہوتی جو قاری یا سامع میں از خود رفتگی پیدا کرتی ہے۔ فنی جمالیات کی یہی وہ جادوئی واردات ہے جس سے گزرنے والا بے ساختہ پکار اٹھتا ہے
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
شاعری تو شعار ہے اپنا
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا

شاعر لوگ شاعری میں استعارہ سے جو کام بڑے پیمانے پر لیتے ہیں یہی کام روزمرہ زندگی کی فطری نقاشی کی ماہر جنتا عام زبان میں استعمال ہونے والے الفاظ سے ان کے محلِ استعمال میں یک گونہ توسیع پیدا کرکے اپنے مدعا کی تاثیر میں اضافہ کر کے لیتی ہے۔
گلی میں گزرتا ایک خوانچہ فروش جب اپنے آموں کو رسگلے کہہ کر بیچ رہا ہوتا ہے تو وہ نجم الغنی رامپوری کی “بحرالفصاحت” پڑھے بغیر ہی رسگلہ کے لفظ میں ایک “استعارگی” پیدا کرنے کی فن کی مہارت دکھا رہا ہوتا ہے۔
غور کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ان پڑھ دیہاتی لوگ عام قصباتی گھریلو و چوپالی زندگی میں جو بے ساختہ محاورے اور روزمرے بولتے ہیں وہ سوشیئور کی لسانیات کے میکینزم سے واقف ہوئے بغیر ہی زبان اور اسلوب میں نئی نئی تہہ داریاں ایجاد کر کے درحقیقت اظہار کے اسالیب کو نئ نئ وسعتیں عطا کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم عام قصباتیوں کی زبان اور ان کے اسالیب اظہار کی رنگا رنگی پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے جملہ وسائلِ زبان پر لفظ کو اس کے لغوی معنی سے آگے لے جانے کی مہارت اور “استعارہ سازی” کے جوہر کا بڑا گہرا مگر غیرشعوری اثر ہے۔

اب دیکھئے “لفظ کو لغوی معنی سے آگے لے جانے” کا عمل بظاہر بڑی بے عقلی کا رویہ ہے۔ شاعر جب محبوب کے ہونٹ کو پنکھڑی اور ماں جب اپنے بچے کو چاند کہتی ہے تو دونوں خلاف واقعہ کام کرتے ہیں، مبالغے یعنی “جھوٹ” سے کام رہے ہوتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ سرسید، محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کی عقلی شریعت اور اخلاقی شعریات دونوں میں مبالغہ ایک درجے کا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ [کبھی غور کیجئے گا “سادگی اصلیت اور جوش” کی شعریات کے اصول تخیل اور مبالغے کے عقلی گناہ کے ڈر ہی سے نکلے تھے] لیکن حقیقت یہ ہے زبان سراسر استعارہ ہے اور استعارہ ہوتا ہی خلافِ عقل (irrational) شے ہے۔
اس سلسلے کی جملہ پیچیدگیوں کو چھوڑ کر ہم اپنے اصل مدعا پر لوٹتے ہیں۔

بلقیس جہاں کا ترجمہ “دلی کی شام” جو اپنی تاثیر اور اردو زبان کے روز مرہ اور محاورے پر فنکارانہ قدرت کے اعتبار سے، بجا طور پر پروفیسر احمد علی کے انگریزی ناول Twilight in Delhi کے محض ترجمے سے کچھ زائد ہے، میں آج ایک لفظ “بے جگہ” پڑھ کر وہ لطف آیا کہ جس میں دوسروں کو شریک نہ کرنا گناہ معلوم ہوتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس ناول کو احمد علی کے ناول کی کہانی سے آگاہی کے طور پر پڑھنا شروع کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پڑھتے پڑھتے میں اس کی کہانی پن کو بھول کر اس کی زبان کی چاشنی، بیگماتی روز مرہ و محاورے، دہلی گلی بازاروں محلوں ڈیوڑھیوں دالانوں اور چوباروں میں بسران کرتی بنتی بگڑتی تہذیب وہاں کے موسموں تیہاروں کبوتر بازیوں اور کوٹھے پر طوائفوں کے رکھ رکھاؤ کے ثقافتی بیانیے میں کھو کر رہ گیا ہوں۔

ناول تو عرصہ ہوا پہلے بھی پڑھا تھا لیکن اب یوں لگتا ہے کہ سب کچھ تازہ تازہ آنکھوں پر بیت رہا ہے۔ ناول کے بارے میں زیادہ تو اسے مکمل پڑھ کے کچھ عرض کرسکوں گا سر دست اس میں استعمال ہونے والے ایک لفظ نے جس طرح چشم و تخیل کو جکڑ کر لفظوں کے خلا میں نئی توسیعی دنیا آباد کرنے کا احساس زندہ کیا اس بارے میں کچھ عرض کرنا مطلوب ہے۔

منظر یہ ہے کہ ناول کا ایک کردار اصغر من پسند لڑکی سے شادی نہ ہونے کے احساس سے رنجور، پہر گزری رات کو چاند کی نقرئی روشنی میں درختوں کے لمبے ہوتے سایوں میں اپنی سابقہ معشوقہ طوائف مشتری بائی کی طرف سے دل جوئی کی تمام تر کوششوں کی بے اثری کے بعد بھاری قدموں سے گھر کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اگلا جملہ بلقیس جہاں کی زبانی:
“جب اصغر حوض قاضی پر پہنچا تو ایک سن رسیدہ شخص اجمیری دروازے کی طرف سے نکلا اور اس کے آگے آگے چلنے لگا۔۔۔
بڑے میاں اچانک اصغر کا راستہ کاٹتے ہوئے ایک گلی میں مڑے۔ اتفاق سے اصغر کی چھڑی ان کی بے جگہ لگ گئی۔ بڑے میاں فوراً پلٹے اور بولے:
‘میں نے کہا، چاند دولہا ہمیں سے؟’

ایک ہیجڑا جو ابھی تک ایک گوکھ میں کسی بھولے بھٹکے پنچھی کی آس لگائے بیٹھا تھا یہ تماشہ دیکھ کر زور زور سے تالیاں بجانے اور بے اختیار قہقہے لگانے لگا”
بڑے میاں کے جوابی جملے کی کاٹ سے قطع نظر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصغر کی چھڑی جہاں لگی اس کے لئے “بے جگہ” کا لفظ کیوں استعمال گیا ہے بڑے میاں کے فوری جوابی ردعمل
“میں نے کہا، چاند دولہا ہمیں(ہم ہی) سے؟”
اور اس پر ہیجڑے کے قہقہوں سے کچھ اندازہ تو ہوتا ہے کہ اصغر کی چھڑی بڑے میاں کے کس جگہ پر لگی تھی۔ فصاحت کا تقاضا تو یہ تھا کہ جائے مضروبہ کے لئے صحیح ترین لفظ استعمال کیا جاتا جیسا کہ اصل ناول میں میں احمد علی نے استعمال کیا ہے:

As he crossed Asghar, his stick unwittingly touched the old man’s behind. At once he turned round and remarked:
‘I say, moon-bridegroom, even with an old man? .. A eunuch who still sat on the balcony just above in the hope of some
stray customer, clapped loudly in a vulgar way and gave a loud guffaw.

انگریزی جملہ پڑھ کر باکل واضح ہو جاتا ہے اصغر کی چھڑی بڑے میاں کی پچھواڑے(دبر) سے جا ٹکرائی تھی۔ لیکن آپ ہی کہئے اگر واضح طور پر اس مقام کے لئے کوئی مخصوص لفظ، جو اردو میں کم نہیں ہیں، لکھ دیا جاتا تو کیا فصاحت کے تقاضے پورے نہ ہوتے؟ یا کم سے کم “غلط جگہ” ہی لکھ دیا تب بھی اسمیں چوتڑ کا قرینہ موجود ہی تھا۔

لغوی طور پر “بے جگہ” کا مطلب کسی طرح بھی دبر نہ ہونے کے باوجود جو استعمال کیا گیا تو اس کی کیا معنویت ہے؟۔ مختلف شعرا کے ہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے مگر اس معنی میں ہرگز نہیں جس میں بلقیس جہاں نے استعمال کیا ہے۔ چند اشعار دیکھئے
پوچھ اس سے درد ہجر کو جس کا بہ نازکی
جاگہ سے اپنے عضو کوئی بے جگہ ہوا
اس کج روش سے ملنا خرابات میں نہ تھا
بے طور ہم بھی جاکے ملے بے جگہ گئے
(میر)
آج جو صبح سے تم چیں بہ چیں بیٹھے ہو
بے جگہ رات مگر جاکے کہیں بیٹھے ہو
(مصحفی)
سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا
سوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیا
جرات

یہ بات نہیں کہ “بے جگہ” کا لفظ ان اشعار میں جن معنی میں استعمال ہوا وہ اس کے معنی نہیں یا یہ کہ بلقیس جہاں نے جس معنی میں یہ لفظ استعمال کیا صرف وہی اس کے معنی ہیں، نہیں بلکہ درست بات یہ ہے کہ میر کے پہلے شعر کے علاوہ ہر جگہ “بےجگہ” کا لفظ اپنے لغوی/ حقیقی معنی کے ساتھ ساتھ یا اسکے علاوہ ایک توسیعی مفہوم بھی رکھتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی معنی “بےجگہ” کے حقیقی/ لغوی معنی نہیں ہیں۔ بس یہ اہل زبان کا تخلیقی ہنر ہوتا ہے کہ وہ کسی لفظ کو اس کے لغوی مفہوم سے ہٹا کر یا بڑھا کر کسی اور محل (سچویشن) کے لئے بھی استعمال کرلیں۔

مذکورہ اقتباس میں “بے جگہ” کے لفظ میں توسیعِ معنی کا یہی ہنر ہے کہ اسکا لغوی معنیٰ دبر نہ ہونے کے باوجود یہ دبر کا معنی بھی دے رہا ہے!
لفظ ایک ایسا مدور اور لچکیلا غبارہ سا ظرف ہوتا ہے جس میں شاعر یا تخلیقی فنکار نئے نئے مظروف (معنی) بھرتا چلا جاتا ہے اور شاعر سے کہیں پہلے یہ کام عام عوام، قصباتی دیہاتی لوگ یا کرخندار اور گھریلو عورتیں کرتی ہیں۔ اسی لئے بحرالفصاحت کے لقب کا حقیقی سزاوار میں متمدن شہری زندگی سے دُور کے کرخنداری، دیہی و قصباتی عوام کو سمجھتا ہوں۔

مدتیں ہوئیں راقم کا جانا پنجاب کے ایک “جانگلی” زبان گاؤں میں ہوا تھا۔ ہم میزبان کے ساتھ اس کے کھیتوں کی طرف نکل گئے۔ دور سے اس کا بیٹا سر پر ایک گٹھر رکھے آہستہ آہستہ آرہا تھا۔ باپ کو اس سے شاید کوئی چیز لینی تھی اسے جلدی آنے کی تاکید کرتے ہوئے آئے وہ زور سے اپنے جانگلی زبان میں چلایا:
” جھٹ کر بنو بنی وگی آ وگی آ”۔
اردو میں جملے کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا: “جلدی کر مینڈھ کے ساتھ ساتھ بہے آ بہے آ”۔ “بہنا” کا فعل عام طور پر پانی کے لئے استعمال ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ استعاراتی طور پر ہوا کے لئے۔ مگر آدمی کے چلے آنے کے لیے “بہے آ” کا فعل اپنے اندر لطف کا جو سامان رکھتا ہے وہ بیان سے باہر ہے! وجہ وہی، لفظ کے معنی میں استعاراتی توسیع ہے۔ اسی طرح سندھی زبان میں تھوڑے سے فاصلے کے لئے لیے جو ٹھیٹھ لفظ استعمال ہوتا ہے اسے “سڈ پندھ” کہتے ہیں یعنی “پکار بھر فاصلہ”! زبان میں ایسے معجزے استعارے کے بغیر وجود میں نہیں آتے۔ اس کے لیے کسی زبان میں ایم اے ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اپنی زبان کلچر اور رہتل کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے رشتہ رکھنا اہم ہے! لیکن جب زبان دانی کے زعمِ باطل میں مبتلا اور اپنے تئیں لغت شناس کہانے کے شوقین دانشور اپنی زبان کے ہر لفظ کو مشکل عربی فارسی قرار دیکر آجکی “اقتدار دار زبان” انگریزی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہوں تو اپنی زبان کی اہمیت سے نا واقف جدید تعلیم یافتگان کا گلہ کیا کرنا۔

“دلی کی شام” میں بلقیس جہاں کی اردو نثر کو اس عبرت کے لیے بھی پڑھنا چاہیے کہ گھر گرہستی اور چولھے چوکے سے لیکر گلی کوچے و بازار تک ہر قسم کا ماجرا اس نے کیسی خوبصورت بیگماتی زبان میں لکھ کر دکھا دیا ہے۔ کیا ہماری آجکی خواتین لکھنے والیاں اپنے گھر کے باورچی خانے میں کھانے ریندھنے کے صرف ایک دن کا ماجرا اور ہانڈی ڈوئی و برتن باسن کی کوئی تفصیل انگریزی کے الفاظ استعمال کئے بغیر ایسی شستہ اردو میں لکھنے کے قابل رہ گئی ہیں ؟ یا ہمارے مرد ادیب ہی اپنی گلی محلے کی ایک دن کی زندگی کا کا ویسا نقشہ کھینچ سکتے ہیں جو پروفیسر احمد علی نے اپنے افسانے “ہماری گلی” میں نقش کر دکھایا تھا؟

ایسے اسالیب پر قدرت صرف اس وقت ممکن ہے جب لفظوں کو ان کے لغوی مفہوم سے بڑھا کر انہیں نئی چیزوں کا استعارہ بنا دینے اور اس استعارے کو پھر سے لغوی معنی میں استعمال کرکے انہیں نئے استعاروں کے خام مواد کے طور پر برتنے کا تخلیقی شعور زندہ ہو!

سلیم احمد کے جس جملے سے بات کا آغاز ہوا تھا وہ محض تخلیقِ شاعری کا نسخہ نہیں بلکہ ایجادِ استعارہ اور لطف و تزئین کا پرچہ ترکیب استعمال بھی ہے اور یہ ہنر شاعری اور نثر دونوں کے لیے کارآمد ہے۔ اس مقام پر شاعری اور نثر کا فرق مٹ جاتا ہے!

یہ بھی پڑھیں: شیطان۔۔۔۔ رُوحِ انکار ------------- سلیم احمد
Facebook Comments Box
سلیم احمد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مقدمۂ غزل ——- وحید الرحمٰن خان
next post
شمسی، قمری، ہجری کیلنڈر اور نیا سال ——- احمد الیاس

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.