Connect with us

علمی

ایڈولف ہٹلر کی لاش کا نفسیاتی میک اپ —- فرحان کامرانی

Published

on

یہ غالبا آج سے کو ئی آٹھ سال پرانی بات ہے۔ ڈسکوری چینل پر دوسری جنگ عظیم سے متعلق ایک دستاویزی فلم آرہی تھی۔ میں چینل بدلتے ہوئے اس پر رُک گیا۔ فلم کافی دلچسپ تھی۔ ایڈولف ہٹلر کے آخری ایام دکھائے جارہے تھے۔ کیسے وہ بنکر میں بند اپنی شکست کو قریب آتے دیکھ رہا تھا اور کیسے اس نے اپنی موت کا فیصلہ کیا۔ مجھے اپنے بچپن سے ہی دوسری جنگ عظیم اور اسکے کرداروں سے بڑی دلچسپی رہی ہے۔ اِس دستاویزی فلم کو دیکھنے کے بعد میں نے اِِس موضوع پر درجنوں دستاویزی فلمیں دیکھیں۔ مجھے ایسی دستاویزی فلمیں کسی ہالی وڈ کی فلم سے بھی زیادہ دلچسپ معلوم ہونے لگیں۔ ایسی تمام ہی فلموں میں ہٹلر کی ذاتی زندگی کی تفصیلات ہوتیں کہ ہٹلر کا باپ ایک محکمہ محصولات کا ملازم تھا، وہ سخت گیر تھا، ماں سردمہر تھی، ہٹلر کے بھائی ایسے تھے، بہنیں ویسی تھیں۔ یہ کہانیاں اُسکی نوجوانی، فوج کی نوکری، پھر جنگ عظیم اول میں اسکے ساتھ پیش آئے واقعات سے ہوئی اُس کے طاقت کے مرکز تک پہنچنے تک جاتیں۔ بتایا جاتا کہ ہٹلر کے مزاج میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں اور وہ کیا سے کیا بنتا گیا۔

ایسی اکثر دستاویزی فلموں کے پیچھے ایک فارمولا تھا جو رفتہ رفتہ میری سمجھ میں آتا گیا۔ دکھایا جاتا کہ ہٹلر کیسے شیطان بنا اور شیطان جب طاقت کے مرکز تک پہنچ جائے تو وہ کیا کرتا ہے۔ ایسی تمام ہی دستاویزی فلموں میں ہٹلر کی ذاتی نفسیات ہی کو دوسری جنگ عظیم، ساٹھ لاکھ یہودیوں کے قتل اور جرمنی کی مکمل تباہی کا باعث بتایا جاتا۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہٹلر کا باپ سخت گیر نہ ہوتا، اگر ہٹلر کی ماں سرد مہر نہ ہوتی اور اسی نوع کی بہت سی باتیں اگر پیش آتیں تو جرمنی ’تھرڈ رائخ‘ نہ بنتا، جنگ نہ ہوتی، قتل عام نہ ہوتے اور یورپ تباہ نہ ہوتا۔ اور اس کہانی پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا اسلئے کہ اِس کے پیچھے’مضبوط‘ نفسیاتی دلائل موجود ہیں۔ یہ مضبوط دلائل کبھی ہٹلر کی ڈائری سے نکلتے کبھی اسکی بنائی کسی تصویر میں لگے کسی رنگوں سے۔ ہٹلر کی بنائی تصاویر میں رنگوں کے چناؤ سے اسکے اندر کے جانور کو تلاش کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا کہ ہٹلر ایک شیطان تھا اور اس نے سارے جرمنی کو بڑی چالاکی سے ایک شیطانی معاشرہ بنا دیا۔

یہ ہے مغرب کا وہ جادو جس کے آگے سامری کا جادو بھی مات ہے۔ مغرب کے سامری اس جادو میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ جب کسی مسئلہ کو فرد پر ڈالنا ہو تو مغرب علمِ نفسیات کو نکال لاتا ہے۔ علمِ نفسیات آج کی تاریخ میں سماجی چیزوں کو انفرادی معاملات بنا کر پیش کرنے کی ایک سائنس ہے۔ جن واقعات کے نتیجے میں ہٹلر کو نفسیاتی مریض ثابت کیا جاتا ہے ویسے معاملات تو لاکھوں کروڑوں لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں مگر وہ ہٹلر نہیں بنتے۔ دراصل کسی بھی علم میں جب پہلے سے نتائج ذہن میں رکھ کر تحقیق کی جائے تو اسے علم نہیں کہا جاسکتا۔ مغرب کے شعبدہ باز بھول جاتے ہیں کہ ہٹلر کو اقتدار میں جرمن عوام لائی تھی۔ ہٹلر کے پاس بھاری مینڈیٹ موجود تھا اور اُس کو یہ مینڈیٹ اُسکی نفسیاتی بیماریوں نے نہیں جرمن عوام کے احساسِ ذلت نے دیا تھا۔ ان دستاویزی شاہکاروں میں کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ جنگ ِعظیم اول کے بعد جرمنی پر بہت سخت ذلت مسلط کی گئی تھی۔ جرمنی کی بادشاہت کو ختم کیا گیا تھا اور اُسے ’ٹریٹی آف ورسائل‘ جیسی تحقیر سے گزارا گیا تھا۔ ہٹلر کا نفسیاتی تجزیہ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جرمنی پر کتنا بڑا تاوان جنگ مسلط کیا گیا تھا کہ اُسکی معیشت پر اِس سے کیا گزری تھی۔ جرمن مارک کی کی قدر اتنی گرگئی تھی کہ عوام ان نوٹوں کو سردی میں جلایا کرتے تھے۔ اِس پورے تناظر نے ایڈولف ہٹلر کو پیدا کیا۔ اِنہی حالات نے ہٹلر کو طاقت دی۔ اتنی بڑی عوامی تحریک کو سمجھنے کیلئے اہل مغرب کو نفسیات کو نہیں سماجیات کو استعمال کرنا چاہئے اور یہ بات اہل مغرب بہت اچھی طرح جانتے بھی ہیں مگر وہ یہ بات نہیں کرتے اسلئے کہ سماجی اور اخلاقی طور جرمنی بالکل ویسا ہی تھا جیسا کہ باقی یورپ۔ جرمنی اور برطانیہ، جرمنی اور فرانس، جرمنی اور پرتگال یا کسی بھی یورپی یا سفید فام طاقت میں کوئی سماجی یا اخلاقی فرق نہیں تھا۔ ہٹلر کی ذاتی نفسیات میں کوئی سیریل کلر تلاش کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ہٹلر بھی بالکل مغربی ’مہذب‘ لوگوں جیسا ہی تھا۔ وہ تو ظلم کو خاص مغربی انداز میں اتنا ناپسند کرتا تھا کہ گوشت بھی نہیں کھاتا تھا۔ اعلیٰ درجے کے شائستہ ’اوپرا‘ کے شوقین ہٹلر نے اپنے تئیں جرمن قوم کو اسکا کھویا ہوا مقام دلوایا تھا۔ وہ بھی اپنے تئیں جرمن قومیت اور آریا نسل کا فرض ویسے ہی پورا کررہا تھا جیسے کہ اس دو سو سال پہلے سارا یورپ سفید انسان کا فرض پورا کر رہا تھا۔ وہ بالکل ویسے ہی جرمن قوم کو اسکا کھویا ہوا مقام دلوا رہا تھا جیسا پوپ اُربن ؔ اہل یورپ کو دلانا چاہتا تھا۔ بالکل وہی مقام جو کہ سارے یورپی ملک انتہائی بہیمیت سے ساری دنیا کو کچل کر بڑے ’تہذیب یافتہ‘ طور پر حاصل کر ہی چکے تھے۔

پھر سوال یہ بھی ہے کہ اگر ظالموں کا نفسیاتی تجزیہ کرکے ہی ظلم کی حرکیات کو سمجھنا ہے تو یہ تجزیہ لارڈ کلائیوؔ اور لارڈ کارنیولزؔ کا کیوں نہیں؟ شہنشاہ لیوپولڈ ثانی کا کیوں نہیں کہ جس نے محض کانگو میں ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو مار ڈالا؟ یہ تجزیہ کولمبسؔ کا کیوں نہیں جس کے ساتھیوں نے اسکی دی ہوئی ہدائت کے مطابق محض ۳سال کے عرصے میں کریبین میں پچاس لاکھ انسانون کا قتل عام کیا۔ یہ تجزیہ چرچلؔ کا کیوں نہیں جس کی افواج کے غذا کی فراہمی کیلئے کی گئی زخیرہ اندوزی کی وجہ سے بنگال کے طول عرض میں تیس لاکھ انسان مصنوعی قحط سے مرگئے اور وہ کمال سفاکی سے کہتا ہوا پایا گیا کہ کوئی غم نہیں یہ ہندوستانی تو ویسے ہی خرگوشوں کی طرح بچے دیتے رہتے ہیں۔ ہٹلر جیسا ہی نفسیاتی تجزیہ ہیری ٹرومنؔ کا کیوں نہیں۔ کیا جاپان میں ایٹمی دھماکوں سے مرنے والے لاکھوں لوگ انسان نہیں تھے؟

ہٹلر اہل مغرب کو ظالم صرف ا سلئے لگتا ہے کہ اُسکا ظلم خود اہل مغرب پر ظاہر ہوا۔ اُس نے یورپ والوں کو ہی مارا۔ اُس نے وہیں بسنے والے کچھ گروہوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ٹھانی۔ اُس نے یورپ کو ہی فتح کیا۔ اگر اُس نے یہ کام ایشیا یا افریقہ میں کیا ہوتا، اسٹریلیا کے ’ایب اوریجنیز‘ کے ساتھ کیا ہوتا، یامشرق وسطیٰ میں عربوں کے ساتھ کیا ہوتا تو وہ مغرب میں کسی کو اتنا برا نہ لگتا۔ عین ممکن ہے کہ اسکو جنگ ہارنے کے بعد بھی سینٹ ہیلینا جیسی کوئی جیل ملتی اور اسکے حق میں لکھنے، بولنے اور دستاویزی فلمیں بنانے والے بھی کئی ہوتے۔ آج اہل مغرب کو وہ نفسیاتی مریض لگتا ہے اسلئے کہ مغرب کیلئے انسان صرف اہل مغرب ہی ہیں۔ باقی ہر قوم ماری جاسکتی ہے صفحہ ہستی سے مٹائی جاسکتی ہے۔ کوئی غم نہیں اگر عراق و افغانستان میں امریکی جنگوں اور قبضے ہی وجہ سے لاکھوں انسان مرجائیں۔ کوئی غم نہیں اگر یورپ سے آئے یہودیوں کے ہاتھوں تمام فلسطینی ہی کیوں نہ ہلاک ہوجائیں۔ اہل مغرب تو بس کسی بھی قوم یا چیز کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چاہے وہ اسٹریلیا کے اونٹ ہوں یا وہاں کے قدیمی باشندے فیصلہ ہوجائے تو اس نسل کو مٹادیا جاتا ہے۔ ہٹلر نے بھی یہودیوں کو انسان سے کم تر قرار دے کر ہی مارا تھا۔ اُس نے بھی بقایہ مغرب کی ہی طرح اپنے عمل کی نام نہاد اخلاقی جواز جوئی اور نظریہ سازی کی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے میڈلین آلبرائڈ نے عراق پر عائد امریکی پابندیوں کے باعث دواؤں کی قلت سے مرنے والے لاکھوں بچوں کی اموات پر کئے جانے والے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ عراقی بچے اسی قابل ہیں۔ اگر وہ یہ بات امریکا میں مرنے والے پانچ سفید فام بچوں کے بارے میں بھی کہہ دیتی تو غالبا ًوہ بھی ہٹلر کی ہی طرح نفسیاتی مریض قرار دے دی جاتی۔

جو کچھ ہٹلر نے یورپ کے ساتھ کیا وہی کچھ صدیوں تک سفید فام لوگ ساری دنیا کے ساتھ کرتے رہے اور آج بھی کررہے ہیں۔ ہٹلر نفسیاتی مریض تھا اِسلئے کہ اُسکے ہاتھوں مفتوح و مقتول سفید چمڑی والے ہی تھے۔ چرچل، لیوپولڈ، کولمبس اور ٹرومین سفید فام قوم کے مسیحا ہیں اِسلئے کہ اُنکے اِقدامات سے مرنے والے کروڑوں انسان سفید فام نہیں تھے۔ ہٹلر مغربی تہذیب کا ایسا خالص فرزند ہے کہ جس کی شخصیت میں ڈارون، نیتشے، پوپ اُربن، کولمبس اور سارے ہی مغرب کے باپ جلوہ گر ہیں۔ بسمارک اور نپولین بھی اس میں ظاہر ہیں۔ مگر وہ مغرب کی ایسی بندوق ہے جو کہ خود مغرب پر ہی چل گئی ہے۔ اسکو پاگل کہہ کر اگر اسکا میک اپ نہ کیا جائے تو اسکی لاش بھی سارے مغرب کو بے لباس کردینے کی قدرت رکھتی ہے۔ علم ِنفسیات پچھلے پچھتر سالوں سے ہٹلر کی لاش کا میک اپ کرکے اُسے چھپا رہا ہے۔ آئیے ہم بھی اہل مغرب کا وظیفہ دہراتے رہیں۔

”ہٹلر نے لاکھوں سفید انسان مارے اسلئے کہ وہ نفسیاتی مریض تھا۔ خرابی اسکی زندگی کے تجربات میں تھی۔ خرابی اُسکے باپ کی سخت گیری اور اسکی ماں کی سرد مہری میں تھی۔ وہ اپنے بچے کی صحیح تربیت نہ کرسکے۔ اگر آپ کو شک ہے تو ہٹلر کی ڈائری کے پّنے ثبوت ہیں، اُسکی بنائی ہوئی پینٹنگز کے رنگ بھی اُسکی فطرت کے جبر کی عکاسی کرتے ہیں۔ “

Advertisement

Trending