Connect with us

تازہ ترین

قرآنی انسا ئیکلوپیڈیا: فہمِ قرآن کی سمت میں ایک مؤثر قدم —- میر امتیاز آفریں

Published

on

قرآن کریم عالم انسانیت کے نام پروردگارِ عالم کا آخری پیغام ہے جو رہتی دنیا کے لئے ایک عظیم دستور حیات اور باعث ہدایت و نجات ہے۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے عقیدے کی اساس ہے اور اسی سے ہم ہدایت اخذ کرتے ہیں۔ قرآن مجید حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی اور زندگی کے ہر مرحلے پر رہنمائی کرنے والی کتاب ہے اور اس میں انسان کی رشد وہدایت اور دائمی فلاح وکامرانی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔

قرآن حکیم بلا شبہ وہ زندہ و جاوید معجزہ ہے جو قیامت تک کے لئے انسانیت کی راہنمائی اور اسے صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے کافی و شافی ہے۔ قرآن کریم پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی دولت اس کی ہمسر نہیں کر سکتی۔ یہ وہ کتاب ہےجس کی تلاوت، جس کا دیکھنا: جس کا سننا اور سنانا، جس کا سیکھنا اور سکھانا، جس پر عمل کرنا اور جس کی کسی بھی حیثیت سے خدمت کرنا دونوں جہانوں کی عظیم سعادت ہے۔

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے : ایک اللہ کی کتاب ہے، دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں۔ ” ( رقم حدیث 3786)

معلوم ہوا کہ امت کی رہبری و رہنمائی کے لئے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سب سے بھاری چیز اپنے پیچھے چھوڑی وہ قرآن مجید ہے۔ جسے کبھی صراط مستقیم کے نام سے احادیث میں یاد کیا گیا تو کہیں حبل اللہ المتین کے نام سے۔ یہ امر نہایت قابلِ افسوس ہے کہ وہ کتابِ ہدایت جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر خشک و تر کا علم رکھ دیا ہے، ہم صرف گھروں، مجلسوں اور قبرستانوں میں خوش الحانی کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے پر قانع ہوگئے ہیں یا حصول برکت و تقدس کے لیے قرآن مجید کو گھروں میں زینتِ طاقِ نسیاں بنا کر رکھا ہواہے۔ ہمیں اِس اَمر کا اِحساس ہی نہیں کہ قرآن مجید کی حقیقی منفعت اس میں فہم و تدبر اور اس کے بیان کردہ اوامر و نواہی اور آداب و اطوار سے کسب فیض کرنے میں مضمر ہے۔ جب کہ ہم نے اس میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کو یکسر ترک کر دیا ہے۔

حالانکہ قرآن حکیم درجنوں مقامات پر اَفَـلَا تَتَفَکَّرُوْنَ (سو کیا تم غور نہیں کرتے؟)، اَوَلَمْ یَتَفَکَّرُوْا (کیا انہوں نے غور نہیں کیا) اور ان جیسے دیگر الفاظ کے ساتھ خود میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ لہٰذا قرآن میں غور و فکر محض تلاوت سے ممکن نہیں، اور یہ تلاوت اگر کوئی ایسا شخص کرے جو عربی زبان و ادب کا سرے سے علم نہ رکھتا ہو تو تدبر کا پہلو بالکل ہی معدوم ہوجاتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آیاتِ قرآنیہ کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے معانی و مفاہیم اور مطالب و مضامین کو بھی سمجھا جائے کیونکہ ہدایت و رہنمائی اور دین و دنیا کی فلاح اس لا ریب کتاب کی آیات میں غور و فکر اور تفکر و تدبر کرنے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے ہی میں مضمر ہے۔ قرآن مجید کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے ہر دور میں کئی کتابیں لکھی گئیں۔ قرآن کی تفہیم و تشریح میں امت مسلمہ کے عظیم ترین علماء و دانشوروں نے اپنی زندگی لگا دی اور بحر علم و عرفان میں غوطہ زنی کرکے قرآن کے آفاقی پیغام کو تمام عالم تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ان میں امام طبری، علامہ زمخشری، علامہ راغب اصفہانی، علامہ ابن منظور افریقی، علامہ ابن کثیر، علامہ آلوسی، امام رازی، امام سیوطی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ نورانی سلسلہ جاری و ساری ہے اور اسی سلسلے کی کڑی علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی مایہ ناز تصنیف’قرآنی انسائکلوپیڈیا’ ہے۔ قرآنی علوم و معارف پر علامہ طاھر القادری صاحب نے اس سے پہلے بھی کافی کام کیا ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریک کا نام ہی ‘منہاج القرآن’ رکھا جو اپنے آپ میں قرآن مجید کے ساتھ ان کی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے ترجمہ قرآن (عرفان القرآن)کے ساتھ ساتھ اس موضوع پر ان کی کچھ اور کتابیں بھی پہلے سے موجود ہیں جیسے تفسیر منہاج القرآن (سورہ فاتحہ اور البقرہ)، قرآنی فلسفہ انقلاب (2جلد)، مگر ‘قرآنی انسائکلوپیڈیا’ ان کا وہ کارنامہ ہے جسے صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ قرآنی انسائکلوپیڈیا ان کی 50 سالہ علمی و فکری تحقیق کا نچوڑ اور خلاصہ ہے جسمیں انہوں نے آٹھ ضخیم جلدوں میں قرآن مجید کے 5000 بڑے موضوعات اور تقریباً 20000 ذیلی موضوعات کو علمی، فکری اور عصری انداز میں پیش کیاہے۔ 6600 صفحات پر مشتمل یہ کتاب دراصل مضامینِ قرآن کا ایک مجموعہ ہے جسے فہم قرآن کے لئے ایک کلید کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر آپ قرآن مجید کی تلاوت روایتی انداز میں کرتے ہیں تو عموماً قرآن مجید کے موضوعات تک رسائی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ قرآنی انسائکلوپیڈیا میں ایک خاص ترتیب میں Headings قائم کی گئی ہیں اور پھر ان کے نیچے وہ تمام آیات مع ترجمہ درج کی گئیں ہیں جن کا تعلق ان Headingsکے ساتھ ہے۔ مثلاً اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نماز کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے تو آپ نماز کی headingپر جائیے اور آپ ایک ہی جگہ ان تمام آیات کو پائیں گے جو نماز کے بارے میں قرآن میں آئی ہیں۔ اسی طرح اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں قرآن میں کیا کہا گیا ہے۔ اس کے لئے آپ حضرت آدم علیہ السلام کی heading پر جایئے آپ کو ایک ہی جگہ ترتیب کے ساتھ ان کے بارے میں وارد تمام آیات ملیں گی۔ قرآنی انسائکلوپیڈیا دراصل دو کتابوں کا مجموعہ ہے۔ جلد 1 سے جلد 5 تک مجموعہ مضامینِ قرآن ہے۔ جلد 6، 7 اور 8 قرآن مجید کا ایک بہترین ابجدی اشاریہ ہے جسمیں آپ قرآن کے کسی بھی لفظ کا معنی جان سکتے ہیں اور یہ بھی کہ قرآن میں یہ لفظ کتنی بار اور کہاں کہاں استعمال ہوا ہے۔ چونکہ انسائکلوپیڈیا کئی جلدوں پر مشتمل کسی ایسی کتاب کو کہتے ہیں جس میں مختلف علوم سے متعلق مختلف موضوعات کو ایک خاص ترتیب سے بیان کیا جاتا ہے، اس لحاظ سے یہ کتاب اپنے نام کے ساتھ انصاف کرتی نظر آتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا شائد ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس کا احاطہ اس کتاب میں کرنے کی سعی نہ کی گئی ہو۔ اس انسائکلوپیڈیا کی صرف موضوعات کی فہرست ہی تقریباً 400 صفحات پر مشتمل ہے۔ ‘مجموعہ مضامین قرآن’ پر مشتمل ابتدائی پانچ جلدوں میں پہلی جلد میں ایمان با اللہ، وجود باری تعالیٰ اور عقیدہ توحید سے منسلک موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دوسری جلد میں شرک، ایمان بالرسالت، ایمان با الکتب و ملائک و قدر اور آخرت، تیسری جلد میں احوال قیامت، عبادات، معاملات، حقوق و فرائض کا تذکرہ ہے، جلد چہارم میں امن، محبت، غیر مسلموں کے ساتھ سلوک اور قصص الانبیاء سے منسلک موضوعات موجود ہیں اور پانچویں جلد میں حکومتی و سیاسی نظام، اقتصادیات، جہادیات، غزوات سے وابستہ موضوعات موجود ہیں۔ پانچوں جلد کے آخر میں پچھلی تمام جلدوں کا ایک جامع ابجدی اشاریہ موجود ہے جس سے ہم کسی بھی موضوع کے متعلق جان سکتے ہیں کہ اسے اس کتاب میں کہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کو ایک ریفرنس، جامع لغت اور معجم کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب علماء، اسکالرز، دانشوروں، مبلغین، واعظین، اساتذہ، صحافیوں اور دیگر طبقات کے لئے بہت فایدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ قرآن مجید کے مختلف موضوعات کئی مقامات پر الگ الگ وارد ہوئے ہیں مگر اس انسائکلوپیڈیا میں آپ انہیں ایک ہی جگہ پاسکتے ہیں۔ اس کتاب نے تفھیمِ قرآن کے نئے اور اچھوتے دریچے کھول دئے ہیں۔ چونکہ ڈاکٹر طاہر القادری کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ وہ بیک وقت قدیم و جدید علوم پر برابر دسترس رکھتے ہیں۔ آپ قدیم و روایتی علوم سے بھرپور استفادہ کر کے انہیں جدید اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق عوام و خواص تک پہنچانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ اس لئے اس کتاب میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی، سیاسی و اقتصادی علوم کے بارے میں قرآنی تصور کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق پیش کرنے کی قابل تحسین کوشش کی گئی ہے۔ اس میں موجود پانچ ہزار سے زائد موضوعات کا تعلق تقریباً علم کی ہر نوع سے ہے۔ اس کتاب کے پیچھے کار فرما روح کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر صاحب کے یہ الفاظ چشم کشا ہیں:

” میں نے cosmology کو قرآن کے سامنے سجدہ کرتے دیکھا، میں نے astronomy، botany، biology، micro-biology، physics، astro-physics، chemisty، bio-chemistry، علم جمادات، علم حیوانات، علم معادن، انسان کی تخلیق کا علم، کائنات کا علم، فضا، خلا، سیاروں اور ستاروں کا علم، الغرض! جس علم اور سائنس کو دیکھا، میں نے ہر علم کو قرآنی علم کے سامنے سجدہ ریز پایا۔ یہ سجدہ ریز کس طرح پایا؟ اس طرح کہ خود اس علم کو حقائق کی معرفت آج ہوئی جس سے وہ بنا مگر آج جو معرفتِ علم سائنس کو ہو رہی ہے، وہ چودہ سو سال قبل قرآن مجید اور سنتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں بیان ہو چکی ہے۔”

اِس عظیم علمی شاہکار قرآنی انسائیکلوپیڈیا میں ایمانیات و اعتقادیات اور حقوق و فرائض کے علاوہ جدید موضوعات جیسے: علم کی ضرورت و اہمیت اور سائنسی حقائق پر خصوصی مضامین قائم کیے گئے ہیں۔ انسانی جسم کا کیمیائی اِرتقائ، حیاتیاتی، رحمِ مادر میں بچے کی تخلیق اور پرورش، اس کے تخلیقی اور تدریجی مراحل، رحمِ مادر میں جنس کا تعین، حواسِ خمسہ، انگلیوں کے نشانات کی تخلیق کی حکمت، قوانین طبعیات، نظریہ اضافت، خلاء کی تسخیر، نوری سال یعنی لائٹ ایئر کا تصور، سیاہ شگاف یعنی بلیک ہول، تسخیر کائنات، علم جغرافیہ، کائنات کی تخلیق کے سائنسی پہلو، زمین و آسمان کی تخلیق کے سائنسی پہلو، علم الطبیعیات، علمِ فلکیات، موسمیات، نباتات، علم الحیوانات اور ماحولیات جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

انسانوں کے ایک دوسروں پر حقوق و فرائض اور مختلف طبقات کے ادب و احترام پر مشتمل موضوعات بھی اس عظیم کتاب کا حصہ ہیں۔ اخلاقِ حسنہ کی فضیلت کے ساتھ ساتھ اخلاقِ سیئہ کی مذمت کے حوالے سے بھی قرآنی ہدایت کو کھول کر بیان کیا گیا ہے ؛ مثلاً جھوٹ، بہتان، فتنہ انگیزی، بے حیائی، تہمت، غیبت، کینہ، حسد، ریاکاری، خیانت اور فحاشی جیسے اخلاقِ رذیلہ کی مذمت پر مشتمل موضوعات کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے، جن کا مطالعہ ایک اچھا مسلمان اور مفید شہری بننے میں ممدّ اور معاون ہوگا۔ اس باب میں سوسائٹی میں بگاڑ اور فساد کا سبب بننے والے عناصر مثلاً مفسدین، باغی اور فتنہ پرور دہشت گردوں کے بارے میں قرآن مجید میں جو احکامات اور وعیدیں آئی ہیں، انہیں تفصیل کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومتی و سیاسی نظام، نظامِ عدل، اقتصادیات، زندگی کے معاشرتی آداب کا ذکر بھی اس انسائیکلو پیڈیا کا خاصہ ہے۔ نیز اس میں حکومت اور سیاست کے ذیل میں اِسلامی اور دیگر طرز ہائے حکومت کا تقابل، ریاست کی ذمہ داریاں، نظامِ عدل اور اُس کے تقاضے جیسے مضامین شامل کئے گئے ہیں۔ اقتصادی و مالی معاملات میں اصولِ تجارت و صنعت، سُود کی حرمت و مذمت، اِسلامی معیشت میں محصولات (taxes) کا تصور، علم الاعداد و الحساب جیسے کئی مضامین ماہرینِ معاشیات کی توجہ کا مرکز ہیں۔

معروف ماہر اقبالیات ڈاکٹر طاہر حمید تنولی قرآنی انسائکلوپیڈیا کے بارے میں اپنے تاثرات کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں:

"شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی پوری زندگی کی جدوجہد کا طرۂ امتیاز اور پہچان ہے کہ قرآن حکیم اس ملت کا مزاج بنے اور اس ملت کے لہو میں اترے۔ اس ملت کے اٹھنے بیٹھنے کا عنوان قرآن حکیم کی تعلیم ہو۔ قرآنی انسائیکلوپیڈیا اس آرزو کی ایک عملی شکل ہے۔

قرآنی مضامین اور علوم و فنون کا احاطہ کرنا ناممکن ہے مگر اس قرآنی انسائیکلوپیڈیا میں جس انداز سے مضامین کا احاطہ کیا گیاہے، وہ اپنے اندر ایک شانِ ندرت اور شانِ امتیاز رکھتا ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا سے قرآن مجید کے مضامین سے آگہی ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پڑھنے والے کی ایک Approach اور ایک زاویہ نگاہ بنتا ہے، نیز پڑھنے والے کا تصورِ کائنات Develop ہوتا ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا بنیادی عقیدہ، تصورات، تصورِ زندگی، مقاصد، آرزوئیں کیاہونی چاہئیں اور ان کی تکمیل کس طرح ہونی چاہئے؟ الغرض عقائد، عبادات، معاملات، سائنسز، علوم سب کا تذکرہ ہمیں اس انسائیکلوپیڈیا میں ملے گا۔ "

معروف صحافی اوریا مقبول جان فرماتے ہیں:

"مجھے توحید، رسالت، قوانینِ اسلام یا الحاد پر کچھ پڑھنا ہے تو مجھے اس پر قرآنی آیات ایک ساتھ اکٹھی مل جائیں۔ اس حوالے سے اشارات بہت ملتے ہیں مگرجس نظم، ترتیب اور اظہارِ بیان کے ساتھ اس قرآنی انسائیکلوپیڈیا میں موضوعات کا انتخاب کیا گیا ہے اور پھر پورے قرآن مجید سے اس پر متفرق آیات کو یکجا کرکے شامل کیا گیا ہے، یہ امر حیرت کی انتہا ہے۔” (ماہنامہ منہاج القرآن جنوری 2019)

اس انسائیکلوپیڈیا کی اہمیت و افادیت کے پیشِ نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ فرقہ وارانہ تعصبات سے بلند و بالا ہوکر سنجیدگی کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا جائے، اسے جامعات میں طلبہ کے نصاب اور ان کے نظام تربیت کا حصہ بنایا جائے تاکہ سماج کو قرآنی معیارات پر استوار کرنے کی سمت میں پیش رفت کی جاسکے۔

Advertisement

Trending