Connect with us

تازہ ترین

عمران خان پر اعتراضات —- حسن غزالی

Published

on

عمران خان پر بہت سے اعتراضات کیے جاتے ہیں جن میں سے چند شدید اعتراضات یہ ہیں:

● بہت زیادہ مہنگائی کردی ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے گوشت تو کیا دال روٹی کا خرچ برداشت کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مہنگائی سے اگر کمر ٹوٹی نہیں ہے تو وقفے وقفے سے کمر پر زوردار گھونسے ضرور لگ رہے ہیں۔

● خود پیسہ نہیں بنا رہا ہے تو کیا ہوا! اس کے حکومتی ارکان تو بےحساب کرپشن کر رہے ہیں۔ کافی لوگ ہیں جن کا دیانت داری کا لفظ سن کر خون کھولنے لگتا ہے کیونکہ عمران خان کی دیانت داری کا سن سن کر ان کا جگر چھلنی ہوگیا ہے:
پہلے والوں کی کرپشن کے ستم اپنی جگہ
میرا تو تیری دیانت نے جِگر چیر دیا

● عمران خان نے قوم کو سبز باغ ہی نہیں دکھائے بلکہ سنہرے محل بھی دکھائے تھے، مگر میٹھے تو کیا کھٹّے انگور بھی نہیں مل رہے ہیں، اور غریب عوام کو محل تو دُور گھر بلکہ جھونپڑیاں بھی نہیں ملی ہیں۔

● تبدیلی کے بلند بانگ دعوے محض گیس کے غبارے نکلے جن میں سے بہت سے پھٹ گئے ہیں، مگر یہ پھر بھی تبدیلی کے غبارے اڑاتا رہتا ہے، اور سینہ تان کر کہتا ہے کہ میں تبدیلی لاؤں گا۔

● بار بار یوٹرن لیتا ہے اور شرم بھی نہیں آتی____بڑا ہی ڈھیٹ آدمی ہے!

ایک چٹخارے دار بات ہے کہ کچھ ایسے مسائل جو کسی بھی حکومت میں پیش آ سکتے ہیں اور جس کی ذمےدار حکومت سے زیادہ ٹیڑھی اور اُجڈ انتظامیہ ہے اس کا ذمےدار بھی عمران خان کو ٹھہرایا جاتا ہے____سادہ الفاظ میں نہیں بلکہ چیخ چیخ کر پتھر برسائے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا میلے میں کمبل چوری ہوگیا ہے، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میلہ لگایا ہی اس لیے گیا تھا کہ ان کا کمبل چوری کیا جائے۔ ان کے نزدیک عمران خان نے حکومت بنائی ہی اس لیے ہے کہ ان کا جینا دشوار کر دے (ہاں، کرپشن کرنے والوں کا یہ کہنا درست ہے)۔

سیاسی مخالفین کے لیے عمران خان کی مخالفت غذا ہے، بلکہ کچھ کے لیے تو دوا بن گئی ہے، اور ایسے بھی لوگ ہیں جن کی دعا عمران خان کو بددعا دیے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ایک دل چسپ حقیقت یہ ہے کہ کچھ دین دار، علمی، اور بہت سے شریف لوگ قرآن اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے کبھی بھی، کسی صورت میں، عمران خان کے کسی ایک کام کی بھی تعریف نہیں کی۔ ان کی نظر میں عمران خان نے ایک بھی اچھا کام نہیں کیا ہے۔

عمران خان پر درجِ بالا مشہور اعتراضات کے یہاں جواب دیے جارہے ہیں۔ یہ آسان مگر نوکیلے اعتراضات عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں، اور ان کی نوکِ زبان پر رہتے ہیں:

مہنگائی
بہت سے لوگوں کے پاس عمران خان کے لیے ایک دو دھاری تلوار ہے: مہنگائی۔
ان کے سامنے عمران خان کے کسی بھی اچھے کام کا ذکر کیا جائے تو وہ بھڑک جاتے ہیں، اور پھر مہنگائی کی تلوار کوندتی ہے، اور عمران خان کی اچھائی کا سر اڑا دیتی ہے۔ یہ مہنگائی پر کسی بھی طرح کی کوئی وضاحت سننے کے لیے نہ تو تیار ہیں اور نہ ہی حکومت کی کوئی مجبوری انھیں نظر آتی ہے۔ ان کی ذہنی کیفیت درجِ ذیل مکالمے سے سمجھی جاسکتی ہے:
کوئی اگر عمران خان کے حق میں دلیل دیتا ہے، "پچھلی حکومتوں نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا تھا اور بےتحاشا قرضے لیے تھے، اس کی وجہ سے۔ ۔ ۔
دوسرا بات کاٹ کر کہتا ہے، "اور یہ جو عوام کو تباہ کر رہا ہے اور یہ بتاؤ کہ اس نے خود قرضے نہیں لیے؟”
"ملک چلانے اور قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے قرضے لیے، پھر آئی ایم ایف کا دباؤ تھا جس کی وجہ سے مہنگائی کرنی پڑی۔ اس نے اپنی خوشی سے تو۔ ۔ ۔
دوسرا بات کاٹ کر تیز لہجے میں بولتا ہے، "آئی ایم ایف کے بچے! تیرا عمران جھوٹا ہے، ظالم ہے۔ اس نے غریب عوام کے ہاتھ سے روٹی بھی چھین لی ہے۔ ”
"بات اصل میں یہ ہے۔ ۔ ۔ پہلا کچھ کہنا چاہتا ہے کہ دوسرا چیختے ہوئے کہتا ہے، "بس! بہت ہوگئی۔ دماغ خراب نہیں کر میرا؛ اب چل دے یہاں سے!”

یہاں ایک بات یاد کیجیے:

کرونا کے اعزاز میں، دنیا بھر میں لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ انڈیا کی عوام تو پاکستانی عوام سے زیادہ غریب ہے وہاں لاک ڈاؤن یکایک چند گھنٹوں میں لگا دیا گیا۔ بےشمار لوگوں کو لاک ڈاؤن کے لیے کچھ کمانے کی تو کیا کھانے پینے کی چیزوں کی ٹھیک سے خریداری کی بھی مہلت نہیں ملی۔ مگر پاکستان میں عمران خان نے ایسا قحط خیز لاک ڈاؤن نہیں لگایا۔ اس نے کہا، "اس طرح تو عوام بھوکی مرجائے گی۔ ”
دانشور، صحافی، اور اسی قِسم کی مخلوقات لاک ڈاؤن کے لیے تڑپ رہی تھیں اور ہر طرف سے ایک ہی آواز آ رہی تھی:
لاک ڈاؤن لگا دو!
لاک ڈاؤن لگا دو!
لاک ڈاؤن لگا دو!
مگر عمران خان یہی کہتا رہا کہ اس طرح تو عوام بھوکی مر جائے گی!
عمران خان، قوم کے لیے پیٹ میں مروڑ رکھنے والوں کے پتھر کھاتا رہا، مگر ان کے من پسند لاک ڈاؤن کے لیے انھیں ترسا دیا، محض اس لیے کہ عوام کو دو وقت کی نہیں تو ایک وقت کی روٹی تو ملتی رہے۔

مہنگائی پر عمران خان کو گالیاں دینے والی غریب عوام کبھی، چند منٹ کے لیے ہی سہی، ذرا حساب تو کرے کہ لاک ڈاؤن پر عمران خان نے اس کی خاطر کتنی گالیاں کھائی ہیں۔

دیانت داری
عمران خان کی اس قابلِ احترام صفت کو کچھ لوگوں نے گالی بنا دیا ہے۔ عمران خان کی دیانت داری کو سراہا جانا چاہیے مگر یہ کچھ لوگوں کی چِڑ بن گئی ہے۔ اس کی اصل وجہ تو ضمیر پر لگی ہوئی کالک کی موٹی تہہ ہے یا دماغ پر دانش وری اور تعصبات کی دُھند چھائی ہوئی ہے۔ ذرا زحمت ہوگی، ایک کہانی سن لیجیے۔ یہ کہانی اس الجھن کو سلجھا دے گی۔

میرا داغستان "عالمی ادب کی ایک محترم و معتبر کتاب ہے جو قاری کو عزت کا شعور دیتی ہے اور سلیقے سے جینا سکھاتی ہے۔ اس میں سے ایک کہانی اپنے الفاظ میں مختصراً پیش کر رہا ہوں:
ایک ریاست میں بہت سے شاعر تھے۔ ریاست کا نواب (حاکم) کبھی کبھی ان کے گیت سنتا تھا۔ ایک دن نواب کو ایک ایسی نظم کا پتا چلا جس میں اس کے ظلم و ستم کی داستان بیان کی گئی تھی۔ نواب آگ بہ گولا ہوگیا اور شاعر کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ حق گو شاعر نہیں ملا تو ریاست کے سارے شاعروں کو پکڑ لیا گیا۔ نواب نے ان سے کہا کہ مجھے اپنی نظم سناؤ۔ شاعر جان بچانے کے لیے باری باری نواب پر قصیدہ سناتے رہے اور انھیں رہائی ملتی رہی۔ تین شاعروں نے نواب کا قصیدہ پڑھنے سے انکار کردیا تو انھیں قید کردیا گیا۔ تین مہینے کے بعد نواب نے ان تینوں شاعروں کو بلوایا اور قصیدہ سنانے کا کہا۔ ان میں سے ایک شاعر نے قصیدہ سنا دیا مگر دو نے انکار کردیا۔ نواب نے انھیں زندہ جلا دینے کا حکم دیا۔ اس پر دوسرے شاعر نے بھی قصیدہ سنا دیا۔ آخری شاعر کو کھمبے سے باندھ دیا گیا اور آگ لگائی جانے والی تھی کہ شاعر نے وہی نظم سنانا شروع کی جس میں نواب کے ظلم و ستم کی داستان بیان کی گئی تھی۔

نواب نے چیخ کر اسے رہا کر دینے کا حکم دیا اور کہا، "میں اپنی سلطنت کے ایک اکیلے سچے شاعر سے محروم ہونا نہیں چاہتا۔ "

پاکستان میں دیانت دار سیاست دان کئی مل جائیں گے، مگر کرپشن کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہو جانے والا ایک عمران خان ہی ہے۔ کرپشن کے خلاف ایسی ہمّت و جرات، اور استقامت کسی سیاست دان نے نہیں دکھائی۔ اپنے کرپٹ ساتھیوں کے خلاف ایسی سخت کارروائی کسی نے نہیں کی، یہاں تک کہ اپنی حکومت بھی داؤ پر لگادی۔

پاکستان میں کم از کم ایک سیاست دان تو ایسا ہونا چاہیے جو حلوہ خوروں کو ترسا دے اور کرپشن کے خلاف جنگ میں درندوں اور تیروں کے سامنے جم کر کھڑا ہوجائے۔
عمران خان ایک باہمت اور حوصلہ مند کپتان تھا جو آخری گیند تک لڑتا تھا اور اب کرپشن کے خلاف آخری سانس تک لڑے گا۔

سبز باغ
عمران خان نے قوم کو بڑے سبز باغ دکھائے تھے، یعنی بہت سے دل کش وعدے کیے تھے:
● نوجوانوں کو لاکھوں ملازمتیں دینے کے
● غریب عوام کو سستے گھر دینے کے
● کرپشن ختم کرکے پیسہ عوام پر خرچ کرنے کے
● نظام کو تبدیل کرکے پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے کے
اور کئی لہلہلاتے ہوئے وعدے

یہاں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ عمران خان نے خود بھی کچھ سبز باغ دیکھے تھے:
● قوم اس کی کرپشن سے پاک زندگی دیکھے گی
● قوم اس کی ملک و قوم کے لیے خدمات دیکھے گی
● قوم اس کی حق گوئی، عزم و حوصلہ، اور سرفروشانہ جدّوجہد دیکھے گی
اور
● قوم اس پر بھروسا کرے گی اور اس کا ساتھ دے گی۔

ساری قوم نے تو نہیں البتہ قوم کے کچھ حصے نے عمران خان کی ان خوبیوں کو اہمیت دی اور اس میں بائیس سال لگ گئے۔
پاکستانی قوم، پاکستان کے ٹکڑے کرنے والوں کو حکومت میں فوراً لے آئی، قومی ادارے بیچ کر محل بنانے والوں کو حکومت میں بار بار لائی، مگر دنیا میں پاکستان کا جھنڈا بلند کرنے والے اور ملک کی تعمیر کے لیے اپنی ازدواجی زندگی (جمائما خان کی علیحدگی) برباد کر دینے والے کے لیے قوم کو بائیس لگ گئے۔

عمران خان نے سنہرے خواب بھی دیکھے تھے:
● انتظامیہ پاکستان کی تعمیر کے لیے اس کا ساتھ دے گی مگر ایسا نہیں ہوا، کیونکہ انتظامیہ کو وراثت میں کرپشن ملتی ہے،
انتظامیہ کو کرپشن کی گُھٹّی دی جاتی ہے،
اس لیے انتظامیہ کی رگ رگ میں کرپشن ہے۔

پاکستان میں آپ کو بہت سارے ایسے سیدھے اور بھولے لوگ ملیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو ایک دو سال میں ہی منہ زور اور بےلگام انتظامیہ کو ٹھیک کردینا چاہیے تھا۔ وہ یہ دیکھنے اور سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ وزیراعظم ہونے کے باوجود، عمران خان کئی اعتبار سے بےبس اور مجبور ہے۔ انتظامیہ سے کی گئی آٹے میں نمک جتنی توقعات بھی مٹی میں مل گئی ہیں، مگر عمران خان پھر بھی پاکستان کی تعمیر کے سنہرے خواب کو کسی نہ کسی طرح سنبھالے ہوئے ہے اور اس کی تعبیر کے لیے کوہ کنی کر رہا ہے۔

●دانشور اس کے وژن (vision) کو سمجھیں گے اور اس کے ساتھ تعاون کریں گے، مگر دانشوروں نے عمران خان کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں بلکہ بڑے سطحی پن کا مظاہرہ کیا۔
اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں

عمران خان نے عوام اور انتظامیہ کے حوالے سے سبز باغ اور سنہرے خواب کیوں دیکھے؟

اس کی وجہ بڑی واضح ہے: عمران خان ذہین تو ہے مگر سیدھا آدمی ہے۔ اس کے سیدھے پن کی ویڈیوز یوٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

حکومت میں آنے کے بعد، عمران خان کے سبزباغ اجڑنے لگے مگر یہ قوم سے کیے گئے وعدوں سے پِھرا نہیں اور تن دہی سے جدّوجہد کر رہا ہے کہ اپنے خون پسینے سے قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے سرسبز باغات اُگائے۔

تبدیلی
عمران خان نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ نہیں آئی ہے مگر اس کی بنیاد پڑ گئی ہے:
● یکساں تعلیمی نصاب
● قرضوں کی ادائیگی میں کسی حد تک کامیابی
● دنیا میں پاکستان کے امیج (image) کی بہتری
اور
● کرپشن کے خلاف فولادی مؤقف، خواہ حکومت ہی چلی جائے

اور بھی کئی اہم اقدامات کا ذکر کیا جاسکتا ہے مگر دیکھا جائے تو یکساں تعلیمی نصاب اور کرپشن کے خلاف جہاد ہی کی اہمیت قوم سمجھ لے تو قوم کا خود پر احسان ہوگا۔

یوٹرن

1987 کے ورلڈ کپ میں، عمران خان پر منصور اختر کو کھلانے پر بڑے اعتراضات ہوئے، مگر اس کے باوجود عمران خان نے اسے کئی میچوں میں کھلایا، یہاں تک کہ سیمی فائنل میں بھی کھلایا۔
سیمی فائنل میں کھلانے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا کیونکہ منصور اختر 19 گیندوں پر 9 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

اپنی من مانی کرنے والا عمران خان جب وزیرِاعظم بنا تو اس نے اپنی انا کُچل دی۔ لوگوں کے اعتراضات کو اس نے ڈسٹ بِن میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں سنا اور جس بات میں وزن دیکھا اس کے مطابق اپنا فیصلہ تبدیل کردیا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ حکومتی اہل کاروں اور افسروں میں کتنی فرعونیت ہوتی ہے۔ وہ قومی مفاد کی پروا نہیں کرتے بلکہ ٹھوکروں میں رکھتے ہیں، اور ہر صورت میں اپنی گھناؤنی انا کی حفاظت کرتے ہیں، مگر یہ عمران خان کا ہی جِگر ہے کہ اس نے قومی مفادات کے لیے خود اپنی انا پر ہتھوڑے چلائے ہیں۔

اب ایک حقیقت پر توجہ دیجیے:
سیاست نے نوازشریف اور زرداری کو شاہ بنادیا۔ ایک غریب ملک کے حکمراں ہونے کے باوجود انھوں نے شاہانہ زندگی گزاری۔ نوازشریف نے مغل شہزادے کی سی آن بان و شان رکھی اور مصاحبین کو بڑا نوازا، اور زرداری نے شاہوں کے سے جاہ و جلال کے ساتھ حکومت کی اور اپنے چہیتوں کو پرانے کے ساتھ کچھ نئے ڈھنگ سے بھی نوازا____ ان دونوں کے دورِ اقتدار میں پٹواریوں اور جیالوں کے گھروں تک مال و زر کی پائپ لائن بچھا دی گئی۔

نوازشریف اور زرداری نے مخملی اور باحشمت زندگی گزاری جو حکومت میں آئے بِنا ممکن نہیں تھی۔ جبکہ اس کے برعکس سیاست میں آنے کے بعد، عمران خان کی شہزادوں کی سی زندگی سے آرام و سکون کم ہونے لگا اور زندگی سخت سے سخت تر ہوتی گئی، اور وزیراعظم بننے کے بعد، عمران خان کی حیثیت ایک سخت جاں مزدور کی سی ہے۔ حکومت میں آنے کے بعد، وہ اپنے ذاتی گھر سے چھوٹے اور کم آرام دہ گھر میں رہ رہا ہے۔ نواز شریف اور زرداری کی بادشاہی اور عمران خان کی مزدوری ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے مگر افسوس، صدافسوس! یہ حقیقت بڑی بڑی دانا وبینا شخصیات کو نظر نہیں آتی۔ کچھ علمی شخصیات کی مخالفت کی وجہ یقیناً ان کے مفادات ہوں گے لیکن زیادہ تر غالباً انا یا دھندلائی ہوئی عقل کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں۔

اہلِ علم و دانش، اور نوازشریف اور زرداری کے نمک خوار ان کی شاہانہ زندگی سے آنکھیں بند کرسکتے ہیں اور عمران خان کی قربانیوں کا انکار کرسکتے ہیں مگر اسے تاریخ کا حصّہ بننے سے نہیں روک سکتے۔  نوازشریف اور زرداری صاحبان کے برعکس عمران خان نے کرکٹ کے میدانوں میں پسینہ بہا کر اور سیاست کی اندھیر نگری میں خون جلا کر عزت کمائی ہے۔

عمران خان پر عوام کی طرف سے ہونے والی بےپناہ تنقید کچھ سمجھ میں آتی ہے کہ عوام کو صرف سامنے کی چیز نظر آتی ہے، مگر دانشوروں اور علمی لوگوں کی طرف سے گولہ باری ایک اذیت ناک حقیقت کو کھول دیتی ہے: پاکستان کے زوال کی ایک اہم ترین وجہ۔

کسی بھی ملک کی تعمیر میں دانشوروں کی حیثیت رہنما کی ہوتی ہے، مگر پاکستان کے دانشوروں کی اکثریت سطحی ذہن کی ہے۔ یہ پہلے کمیونزم کی مے سے مدہوش رہے (اب بھی کافی حد تک ہیں) اور اسی وجہ سے بھٹو کی سوشلزم کے گیت گاتے رہے۔ آپ پاکستانی دانشوروں کے افکار پڑھیں اور ان کی زندگی دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ زیادہ تر دانشور پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف ہیں اور پاکستانی تہذیب کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے انھوں نے عمران خان کے وژن (vision) کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ دانشوروں کے احساسِ برتری نے (جو اصل میں احساسِ کمتری ہے) انھیں اپنی ناک سے آگے دیکھنے ہی نہیں دیا۔ اُجلے لباس پہننے والے اور شستہ زبان بولنے والے دانشوروں کے دل اسٹیل کے بنے ہوئے ہیں جو سخت اور چمک دار ہیں، مگر ان میں گُداز اور نورانیت نہیں ہے:
داغ جو سینوں میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

دانشوروں کی تنقید دیکھیے تو ان کے سطحی پن کا ثبوت ملتا ہے۔ دانشوروں سے بجا طور پر یہ توقع کی جانی چاہیے کہ یہ تنقید سلیقے سے کریں گے اور اپنے مؤقف کے حق میں ٹھوس دلائل دیں گے____مگر ایسا نہیں ہے۔ زیادہ تر دانشوروں کی تنقید دیکھیے، تنقید کیا ہے ان کی سطحی ذہنیت کا ثبوت ہے۔ ان کی تنقید چھینٹےبازی ہے، دلیل کا تو بس کہیں کہیں چھینٹا ہوتا ہے۔ اچھے اچھے علمی لوگ عمران خان کے خلاف گری ہوئی تنقید کرتے ہیں، اور کبھی کبھی تو مٹی میں بھی لوٹ لگا لیتے ہیں تاکہ عمران خان پر دُھول پڑے۔ کچھ سکہ بند علمی لوگ تو اپنی انا کی بُھوک مٹانے کے لیے بازاری لفظیات، محاوروں، اور کہاوتوں کی خیرات بھی خوشی سے قبول کرلیتے ہیں:
شکوہ بےجا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

عام آدمی کی تو دوچار گالیاں دینے سے تسلّی ہوجاتی ہے، مگر دانشوروں کے پاس بڑی ورائٹی ہے۔ یہ نجی محفلوں میں، جی چاہتا ہے تو دوچار گھونٹ گالیوں کے بھی چکھ لیتے ہیں۔ عوامی محفلوں اور مقامات پر یہ مخمل میں لپیٹ کر دیتے ہیں۔ اس سے تسلی نہیں ہوتی تو ٹاٹ میں لپیٹ کر بھی دیتے ہیں، اہلِ علم و دانش کی بڑی شخصیات کے سامنے عمران خان کا نام لیجیے، پھر دیکھیے کہ وہ کتنے مہذب اور شائستہ ہیں؟ کچھ اہلِ علم و دانش کی گفتگو سن کر آپ محسوس کریں گے کہ ان سے زیادہ اخلاقیات کا پاس تو ان پڑھ لوگ کرتے ہیں۔

عمران خان فرشتہ نہیں ہے؛ وہ غلطیاں بھی کرتا ہے۔ اس کی اصلاح و رہنمائی کے لیے اس پر تعمیری تنقید کرتے رہنا ضروری ہے، مگر دانشوروں کی اس سطحی ذہنیت اور گری ہوئی تنقید سے یہ راز کھلتا ہے کہ پاکستان کیوں ناکام رہا۔ اگر پاکستانی دانشور فکری رہنمائی کا کام ذمےداری سے کرتے تو پاکستان یقیناً ایک فلاحی ریاست ہوتا، مگر ہمارے دانشوروں نے تو ہمیں فکری طور پر گمراہ کیا ہے۔ انھوں نے ہماری تہذیب و اقدار کے مخالف نظریات کی پرستش کی ہے، مادّی شخصیات کے گیت گائے ہیں، اپنی تہذیب کو حقیر سمجھا ہے، اور قوم میں احساسِ کمتری کے بیج بوئے ہیں۔

دانشوروں کی ریتیلی مخالفت اور کچھ اپنوں کا ساتھ چھوڑ دینے کے باوجود عمران خان اپنے خوابوں کو سینے سے چمٹائے ہوئے ہے: اس کا پاکستان کی تعمیر کا جذبہ اب بھی دہک رہا ہے۔ مخالفین کی گرمیء گفتار ہو یا اپنوں کا سرد کردار، عمران خان کسی کی پروا کیے بغیر شجرِ پاکستان کی جڑوں سے لپٹے ہوئے طفیلیوں کو کھینچنے اور خودرو پودوں کو اکھاڑنے کے لیے جان مار رہا ہے اور ایک باعزت اور خودمختار پاکستان کی بنیادیں بھر رہا ہے:

ایک بلبل ہے کہ ہے محوِ ترنم اب تک

ایک بلبل ہے کہ ہے محوِ ترنّم اب تک
اس کےسینےمیں ہےنغموں کا تلاطم اب تک

Advertisement

Trending