Connect with us

تازہ ترین

غامدی مکتب کی مغرب پسندی : خدا فریبی یا خودفریبی؟ —– ڈاکٹر غلام شبیر

Published

on

تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھی جب سیلانی طبیعت کے حامل محمد اسد کو اقبال نے سینٹرل ایشیا کی طرف عازم سفر ہونے سے روکا کہ آپ یہیں بھارت میں رہ کر اس اسلامی ریاست کے آئینی خد و خال پر کام کریں گے جو ابھی پردہ تقدیر میں ہے جس کا نام پاکستان تجویز کیا چکا ہے۔ سو محمد اسد پاوں توڑ کے یہیں بوریا نشیں ہوگئے۔ اسلامیان ہند کی رہنمائی کیلئے اپنی آرا پر مشتمل انگریزی میگزین "العرفات” نکالا۔ لیکن ہمارے موضوع کے اعتبار سے ان کا اہم ترین کتابچہ Islam at the crossroads“ “ قابل ذکر ہے جس میں انہوں نے کھل کر بتایا کہ اہل اسلام کیلئے دو ہی راستے ہیں ایک راستہ تو یہ ہے کہ عہد وسطیٰ کی بانجھ روایات کو چھوڑ کر قرآن وسنت کی حقیقی روح کی طرف لوٹا جائے۔ یہ کام بہت کٹھن سہی مگرہماری باعزت بقا کا راستہ یہی ہے۔ اگراس ذمہ داری کو درخوراعتنا نہ سمجھا گیا تو دوسرا آپشن مغرب کی اندھی تقلید کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ دونوں تہذیبوں کے شناور اسد نے واضح کیا کہ مغرب پرستی کا انتخاب اہل اسلام کیلئے بہت بھیانک نتائج کا حامل ہوگا۔ مغربی تہذیب میں سماجی، معاشی اور سیاسی احوال سے متعلق ویسے بھی عیسائیت کا عمل دخل زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہیں تھا مگر پروٹسٹنٹ ریفارمیشن تحریک نے اس سے یہ رول بھی چھین لیا ہے اور مغرب مادہ پرستانہ الحاد کے سوا کچھ نہیں ہے جبکہ اسلام کا عرو ج و زوال پنہاں ہی اسی نکتے میں ہے کہ یہ معاشرے کی سماجی تشکیل میں کس قدرموثر کرداراداکرسکتا ہے؟ اقبال کے شعر اورنثرمیں بھی اسی بیانئے کی گونج ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کے ہاں غرب زدگی یعنی Westoxication کی اصطلاح کا حوالہ ملتا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ نوآزاد اسلامی ممالک میں حکومتی باگ ڈور سیکولرنظام تعلیم کی پروردہ کلاس کے ہاتھ آنے کی وجہ سے فکراسلامی کی تشکیل جدید کا کام نہ ہوسکا اوراہل اسلام میں سیکولر دانش رکھنے والوں کیلئے فکر مغرب ہی آئینہ ہے اور وہ اسی عطار کے لونڈے سے دوا کے متمنی ہیں جس کے سبب بیمارہوئے تھے۔ کچھ تو زمانہ وسطیٰ کا ترتیب دیا گیا اسلامی لٹریچر بھی سیکولرازم سے ملتے جلتے نتائج کا حامل ہے کیونکہ ڈکٹیٹرشپ کے زیرسایہ حقیقی اسلام کی تعبیر بہرحال تیشہ و سنگ گراں سے بھی زیادہ جاں گسل کام تھا۔ مگر جس سیکولرازم کی نمود پروٹیسٹینٹ انقلاب سے مغرب میں ہوئی وہ تاریخ انسانیت کا فقیدالمثال اندوہناک باب ہے۔ لیکن اہل اسلام میں بھی سیکولرزم ایک مذہب کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے اور ہمارے دانشور اسلام کی قیمت پر اہل مغرب کو داد دیتے نظر آرہے ہیں۔ یہ جملے بتکرار سننے کو مل رہے ہیں۔ ”اسلام میں جمہوریت ہوتی تو فلاں فلاں مسائل نہ ہوتے، سپریم کورٹ ہوتا تو یہ مسئلہ یوں حل ہوجانا تھا، اب جو نیشن اسٹیٹ کا تصور ہے اس نے انسانیت کے کتنے مسائل حل کردیئے ہیں اسلام ایسا کچھ پیش نہیں کرسکا تھا، اور آخری اعتراض وہی جون ایلیا جیسا کہ "حاصل کن ہے یہ جہان خراب۔ ۔ یہی ممکن تھا اتنی جلدی میں”۔ صاحبو! یہ سائنس کا زمانہ ہے مذہب کا دورگزرچکا” وغیر وغیرہ۔

تاہم ہم نے آج جاوید احمد غامدی صاحب سے متعلق کچھ گزارشات کا قصد کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر فضل الرحمن پر ایک پروگرام میں بجا طور پر کہا ہے کہ ڈاکٹر فضل الرحمن کی فکری اساس فکراقبال ہے یعنی اقبال نے” Reconstruction of Religious Thought in Islam “میں جو فکراسلامی کے براڈر کٹورز Broader contours واضح کیے ہیں ڈاکٹر فضل الرحمن نے انہیں کی نبیاد پر اسلام کا ایک منظم فکری ڈھانچہ پیش کیا ہے۔

پروگرام کے آخر میں جاوید احمد غامدی صاحب نے یہ کہا ہے کہ جب سے مسلم ورلڈ Decolonized ہوئی ہے تو تمام مسلم ممالک میں جو بات سب سے زیادہ شدّ و مدّ سے کہی گئی یا کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کس طرح اپنےنظمِ اجتماعی کو فکرِ اسلامی پر استوار کر سکتے ہیں تو اس حوالے سے ایک تو Traditionalist school of thought ہے وہ تو یہ کہتا ہے ایک ہزار سالہ جو سرمایہ فکر ہے اسی کو منِ و عن apply کر دیجئے اسلام نافذ ہو جائے گا جب کہ اقبال اور فضل الرحمن کے ہاں یہ بات ملتی ہے کہ اتنی بڑی سوشل change کے بعد شاید وہ جو زمانہ وسطیٰ کا فقہی سرمایہ ہے وہ من و عن تو apply نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ جو مقاصدِ شرعیہ ہیں ان کو اجتہادی بصیرت سے مسلم ممالک اپنے نظم اجتماعی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ وہ مقاصد شرعیہ کیا ہیں وہ پانچ چیزیں ہیں جن کا سیف گارڈ شر عیہ اسلامیہ کا مطلوب ومقصود ہے وہ پانچ چیزیں کیا ہیں؟ وہ posterity faith, life, intellect, اور wealth ہے۔ یعنی شریعہ اسلامی کا جو مقصود ومنتہا ہے وہ بنیادی طور پر ان پانچ چیزوںکا سیف گارڈ ہے اور غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ یہ جو چیزیں ہیں یہ توشریعہ کا مقصد سرِ ےسے ہیں ہی نہیں۔ آپ کسی کے مال کی طرف منہ اٹھا کے دیکھئے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ کس طرح مال کی حفاظت ہوتی ہے۔ اور کوئی جو اپنے مال کو لاک میں رکھتا ہے تو یہ اسے شریعہ کی ہدایت تو نہیں ہے یہ تو وہ خود سمجھتا ہے ۔ یعنی ان نام نہاد مقاصد شریعہ کے تحفظ کیلئے تو انسان کے اندرنیچرل ارج موجود ہے کہ وہ ان کا سیف گارڈ جانتا ہے گویا غامدی صاحب کے نزدیک پوری روایت اسلامی کے برعکس دین وشریعہ چیزے دیگراست! جو موصوف کے ادراک پرطلوع ہوئی ہے باقی تاریخ وروایت اسلامی تو ٹامک ٹوئیوں سے عبارت ہے تو چاہے وہ traditionalist ہوں یا اقبال اور ڈاکٹر فضل الرحمن ان سب کی طرف سے ایک جو بیکار سی کوشش ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح ریلجن کی عہد حاضر کے ساتھ relevance تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ غامدی صاحب کہتے ہیں کہ یہ جو نام نہاد پانچ مقاصد شریعہ ہیں جدید دنیا نے ان کا سیف گارڈ باہمی صلاح ومشورے سے یقینی بنالیا ہے یعنی ترقی یافتہ ممالک کو تو کسی الہامی شریعت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی انہوں نے صلاح ومشورے یعنی پارلیمانی جمہوریت کے ذریعے ان چیزوں کا تحفظ یقینی بنالیا ہے یعنی ڈیویپلڈ ممالک کا ماڈل سامنے رکھا جائے تو ان نام نہاد مقاصد شریعہ کی کوئی Relevance باقی نہیں رہتی۔

تاہم ایک عجیب اتفاق ہے کہ مغرب کا اجتماعی ضمیر رد مذہب کے ذریعے جن نتائج پر پہنچا ہے غامدی مکتبہ فکر جو ہے وہ مطالعہ قرآن سے انہیں نتائج پر پہنچا ہے یعنی فرائڈ یہی کہتا ہے کہ انسان کی جو جبلتیں ہیں وہ مذہب پر حاوی ہیں۔ مذہب ان سرکش جبلتوں کی تہذیب پر زور دیتا ہے ان کو سدھانے(tame) کی بات کرتا ہے تو فرائڈ یہ کہتا ہے کہ ان کی تہذیب کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ ایک اپنی جگہ Facts ہیں ان کو Restrain کرنا یا ان کو molarity دینا کارِ فضول ہے تو خواہے نا خواہے ان جبلتوں کو بنیادی طور پر Satisfy کرنے کی ضرورت ہے۔

تو فرائڈ کا یہ جو نظریہ فکر ہے اس کا غامدی مکتبہ فکر میں اثبات ملتا ہے دوسری طرف آدم سمتھ جو جدید معیشت کا بابا آدم کہلاتا ہے اس نے laissez faire economy کا جو تصور دیا جو غربت کے سمندر میں کہیں خال خال تمول کے جزیرے پیدا کرتا ہے۔ جس کے حوالے سے نوم چومسکی کہتے ہیں کہ یہ کیا المیہ ہے کہ کارپوریشنز کا خسارہ پبلک ہوتا ہے وہ پبلک پہ divide ہوتا ہے۔ مگران کا جو profit ہے وہ پرائیویٹ ہے۔ یعنی اس پر حق صرف کارپوریشن کا ہے۔

آپ ملاحظہ کیجئے laissez faire economy کا آدم سمتھ کا جو تصور ہے اس کا بھی غامدی مکتب فکر میں اثبات ملتا ہے۔ تیسری طرف آئیں کہ مغرب ردِ مذہب سے جو ایک بہت بڑا نتیجہ اس نے draw کیا یہ تھا کہ state کی کوئی molarity نہیں ہوتی مذہب کا State Legislation میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے تو آج ہم دیکھتے ہیں کہ جب state نے مذیب یا molarity کو خیر باد کہا تو آج آپ دیکھئے یہ جو ایٹمی اسلحے کی دوڑ ہے یا موسمی اورماحولیاتی تبدیلیاں ہیں جواس سیارہ زمین پرسے زندگی کے وجود کے خاتمے کیلئے صف بستہ ہیں تو اس کا سبب بنیادی طورپر کارریاست سے مذہب واخلاق کی بے دخلی ہی تو ہے نوم چومسکی نے بہت خوبصورتی سے اس المیے کو قلم بندکیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ Nuclear arsenals& Climatic Hazards اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ انسان ایک ارتقائی غلطی ثابت ہوا ہے۔ یعنی جہاں دیگر اسپیشیز ارتقائی طور پراپنی بقا کویقینی بنارہی ہیں وہاں انسان نے ارتقائی لحاظ سے اپنی بقا کو طوفانی ہواوں کے دوش پردیا بناکررکھ دیا ہے۔ لگتا ہے چومسکی انسان پر یوم ازل کہہ گئے الفاظ خداوندی یعنی انہ کان ظلوماجھولا کا اعادہ کررہا ہو۔ سیارہ زمین سے زندگی چھٹی دفعہ معدوم ہونے کو ہے۔ پانچویں دفعہ 60 ملین سال پہلے زمین سے زندگی ختم ہوئی تھی۔

تو یہ جوزندگی آج اس سیارہ زمین سے چھٹی بارمعدوم ہونے کو ہے اس کا ہیولیٰ اسی تصورریاست سے اٹھا ہے جس میں مذہب اوراخلاق کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ نام نہاد سائنسی زمانہ ہے انسانی عقل کوہدایت وجہت نمائی کیلئےوحی الٰہیہ کی ضرورت نہیں ہے عقل انسانی اپنے پائوں پرکھڑی ہوسکتی ہے۔ یہ پازیٹولا Positive law کا زمانہ ہے یعنی قانون کیلئے مشعل راہ انسانی عقل ہے قانون سازی میں مذہب واخلاق کے کردار کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہئے۔ غامدی مکتب فکرمیں اس بات کا اثبات ملتا ہے کہ صلاح ومشورے سے پارلیمانی نظام جمہوریت میں انسانی مسائل کا حل موجود ہے مذہب کو سیاست اورریاست کے امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ ترقی یافتہ ممالک کا ماڈل ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ مغرب نے کہا ہے کہ سٹیٹ کا کوئی Religion نہیں ہوتا کہ قومیں مذہب سے نہیں اپنے وطن زبان کلچر اور دیگر چیزوں سے بنتی ہیں تو غامدی مکتب فکر کے ہاں اس کا بھی اثبات ملتا ہے غامدی صاحب کا یہ statement بالکل موجود ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک قومی ریاست کے طور پہ وجود میں آیا تھا جب کہ مذہبی طبقے نے اسے hijack کر لیا ہے۔

یوں غامدی صاحب جس مغربی تصور قومیت Western Political ideology of Nationalism کے دیوانے نظرآتے ہیں اقبال اورفضل الرحمان اسے قرآنی بنیادوں پررد کرتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اقبال کو جب اخبار سے معلوم ہوا کہ مولانا حسین احمد مدنی وطن کو قومیت کی بنیاد قراردے رہے ہیں تو پہلی بار انہوں نے اپنے فارسی بند میں حسین احمد مدنی کے اس نکتہ نظر کوان کا نام لے کر بولہبی قراردیا اوردانستہ طورپربولہبی کہا، بوجہلی نہیں کہا کیونکہ بوجہل سیاسی ایلیٹ تھا اور بولہب مذہب کا نمائندہ تھا۔ اقبال اورفضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ مذہب جب کمیونٹی کے سماجی سیاسی اورمعاشی معاملات سے رخصت لیتاہے تو تین اجارہ دارگرو ہ جنم لیتے ہیں۔ سیاسی اجارہ دار، معاشی اجارہ داراور مذہبی اجارہ دار یہ تینوں گروہ ایک سمبندھ کے ذریعے ایک دوسرے کے وابستہ مفادات کے محافظ ہوتے ہیں۔ مکی معاشرے میں بولہب مذہبی اجارداری کا پیکرتھا۔ مکہ کا امیرترین شخص۔ کیونکہ ڈاکو بھی کعبے کا حصہ نکالتے تھے، تاجرحضرات اورلٹنے والے بھی۔ بولہب مذہب کو سماجی، سیاسی اورمعاشی احوال سے دوررکھے ہوئے تھا تاکہ مافیاز اورگروہی جتھوں کے مفادات کو زک نہ پہنچے۔ یوں تحریک پاکستان کے ہنگام جب ایک کانگریسی عالم دین نے کانگریس کے مفادات کے تحفظ کیلئے قومیت کی بنیاد مذہب کے برعکس وطن کو قراردیا تو اقبال نے بجا طورپراس رویے کو بولہبی قراردیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان کے ہاں یہی تصورملتا ہے کہ قومیت کی بنیاد نسلی یا جغرافیائی نہیں ہے۔ نوح ؑ نے جب طوفان اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے ہنگام اپنے بیٹے کی عافیت چاہی توکہا گیا یہ تیری اولاد ہے ہی نہیں۔ فرزندنوح ؑ ہلاک کردیا گیا۔ مگرآگے چل کرقرآن کہتا ہے کہ ہم نے نوح کی ذریت کو سیلابی آفت سے محفوظ رکھا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ جس ذریت کی قرآن بات کر رہا ہے وہ نوح کی طبعی یا سلبی اولاد نہیں بلکہ نوح ؑ کےنظریاتی پیروکار مراد ہیں۔ تو آپ دیکھئے قرآن کا تصور قومیت کیا ہے اور مغربی نظریہ قومیت کیا ہے اور غامدی صاحب کس طرف کھڑے ہیں؟

اقبال اور فضل الرحمن کے ہاں جو ہمیں تصور ملتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن بنیادی طور پر یہ تین جو اجارہ دارگروہ ہیں پولیٹیکل ایلیٹ، مرکن ٹائل ایلیٹ، اور religion ایلیٹ ان کی اجاراہ داری کو توڑنے کے لیے زمین پر ایک ایسے نظام ِ اخلاق کی تجسیم چاہتا ہے جس میں غلام ابن غلام اسامہ بن زید کی قیادت میں ابوبکراور عمر کو لڑنا پڑ جائے۔ دین ایک ایسا نظامِ اخلاق چاہتا ہے زمین پر جس میں گورنر مصرکو بلا کر کہا جائے کہ تیرے بیٹے نے کسی کو ناگوار طور پر کیوں بند کیا اس کو لیٹا کے جو مظلوم ہے اس کو کہے اس کو کوڑے مارو کیوں کہ اس کی وجہ سے اس کے بیٹے کو یہ جرات ہوئی کہ اس نے تجھے نامناسب طور پر کوڑے مارے یا تمہیں بند کیا عمر رضی اللہ نے اس موقعے پر شہرہ آفاق جملہ کہا کہ تم ان کو قید میں ڈالتے ہو جن کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔

یوں غامدی صاحب کا یہ موقف کہ اقبال اور فضل الرحمان جن مقاصد شریعہ کے احیا کیلئے ٹامک ٹوئیاں ماررہے تھے وہ تو سرے سے دین وشریعہ کا Concern ہی نہیں ہیں۔ گویا وہ شیخ سعدی کے الفاظ میں اقبال اورفضل الرحمان سے کہہ رہے ہیں کہ ترسم نہ رسی بہ کعبہ ایں اعرابی۔ کیں رہ کہ تومی روی بہ ترکستاں است۔ یعنی اے اعرابی، اجڈ، دیہاتی توکبھی کعبہ نہیں پہنچ سکتا کیونکہ جس راہ پرتو چل نکلا ہے یہ تو ترکستاں کو جاتا ہے۔ سوچنے کا مقام ہے اور قارئین بتائیں کہ اقبال اور ڈاکٹڑ فضل الرحمان کا تصور ٹھیک ہے کہ قرآن کرہ آب وخاک پرایک سماجی معاشی، سیاسی اورثقافتی نظام اخلاق کی تجسیم چاہتا ہے یا غامدی صاحب کا موقف درست ہے کہ یہ قومی ریاست کے تصورکاعہد ہے اور مذہب کا سیاسی اورریاستی بندوبست سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔ اور مسلمانوں کو اپنی تہذیبی ثقافتی اورسیاسی ومعاشی بنیادوں کو ترک کرکے مغربی ماڈل کو قبول کرلینا چاہئے۔

معروف فرانسیسی مستشرق جیکوئس برک لکھتا ہے

Today too many militants and intellectuals of Islam are either proponents of authenticity with no future or of western modernity with no roots.

یعنی سوئے اتفاق اہل اسلام دودھڑوں میں بٹ گئے ہیں ایک دھڑا وہ ہے جو سند یا روایت کیساتھ کچے چمڑے سے بندھ چکا ہے اس دھڑے کا مقصود و منتہا بانجھ روایات کا تحفظ ہے یہ کوئی فیوچر اور مستقبل نہیں رکھتا۔ یعنی اس کا اشارہ قدامت پرستوں کیطرف ہے۔ دوسرا دھڑا وہ ہے جس نے مغربی طرزفکر اور آئیڈیالوجیز یعنی سیکولرازم، نیشنلزم، لبرل ازم یعنی مغربی تصورحیات کو من وعن Lock, Stock and barrel اپنا لیا ہے ان کی جڑیں اپنی تہذیب سے یکسرکٹ چکی ہیں۔ ان کی مثال اس خچر ایسی ہے جس سے حسب نسب کا پوچھا گیا تو بولا زیادہ نہیں جانتا تاہم گھوڑا میرا ماموں ہے۔

مغربی تصورحیات کو سمجھنے کیلئے اس کے تہذیبی ثقافتی اور تاریخی پس منظرکا جاننا ضروری ہے۔ مغربی نشاۃ ثانیہ میں پروٹیسٹینٹ ریفارمیشن تحریک کا کلیدی کردارہے۔ چرچ نے ایک ہزار سال تک عقل اورسائنس کوحرف غلط سمجھتے ہوئے مغرب کو پسماندگی کے پاتال میں اتارے رکھا۔ ردعمل میں یہ تحریک چلی جس نے Peace of Westphalia (1648) میں یونیورسل عیسائی اقدارکی جگہ نیشنل اقدارکو نئے مذہب کے طورپرقبول کروالیا۔ گویا پروٹیسٹینٹ ریفارمیشن تحریک نے مذہب کی یورپی افق سے چھٹی کرادی۔ اقبال ہمیشہ اس خوف کا شکار رہے کہ کہیں اسلامی ریفارمیشن کا مستقبل بھی پروٹیسٹنٹ ریفارمیشن جیسا نہ ہو جس نے یورپ کو لامذہبیت، مادہ پرستی، بے لگام حرص وہوس کا شاہکار بنا دیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان بھی یہی کہتے ہیں کہ مغربی تہذیب اپنی آبائی زمانہ وسطیٰ کی عیسائیت Parent medieval Intellectualism of Christianity سے ایک پرتشدد بریک اپ کا نتیجہ ہے اس لیے کسی بھی طرح کے روحانی تصورحیات سے اس کا سمبندھ ممکن نہیں ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ سیکولر نظام تعلیم کی پروردہ مسلمان اشرافیہ نے مغرب کے ہر تصور کو عصائے خضر صحرائے سخن اور اپنی متاع گم گشتہ سمجھ لیا ہے۔ وہاں مذہب کو انسانیت کا Barbaric Past قراردیا جاتا ہے۔ مذہبی عہد کو Dark Ages , Age of Mythology کہا جاتا ہے۔ اور جب وہ اپنے عہد کو Age of Science کہتے ہیں تو اس کا مطلب محض سائنسی ترقی نہیں ہوتا بلکہ مذہبی گلو خلاصی مراد لیا جاتا ہے۔ جس تہذیب کی بنیاد ردمذہب اوررد اخلاق ہو اس کے خمیر سے جنم لینے والی آئیڈیالوجیز کیا ہوسکتی ہیں؟

قارئین کو ہم نے ایک تصویر واضح کرنے کی کوشش کی ہے تاہم وہ خودفیصلہ کرسکتے ہیں کہ اقبال، اسد اورفضل الرحمان جس اسلامی تشخص کی بات کرتے ہیں وہی درست ہے یا وہ جو سراسر مغرب سے مستعار ہے؟

عشق ہے دل کی شہنشاہی، شکم سامان موت ، ، ، فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم؟

اس موضوع پہ مصنف کی مفصل گفتگو:

Advertisement

Trending