Connect with us

تازہ ترین

دینی مدارس میں جدید علوم کی تدریس کی ضرورت: چند بنیادی تجاویز —– ابرار حسین

Published

on

 

دینی مدارس کی تعلیمی روایت (درس نظامی) اور جدید علوم کا آپسی تعلق ممکنہ طور پر کیا ھو سکتا ھے یا کیا ھونا چاہیے؟ مجھے یہ سوال اٹھانے کی ضرورت اس لئے محسوس ھوتی ھے کہ بلا تفریق مسلک تمام دینی مدارس میں جدید علوم جن مروجہ خطوط پر پڑھائے جا رہے ھیں وہ دینی اور علمی دونوں حوالوں سے محل نظر ہیں۔ اس سوال کی جوابی تفصیلات میں جانے سے پہلے ھمارے لئے ضروری ھے کہ ھم اس سوال کی اہمیت کو سمجھ لیں۔

گذارش ھے کہ گذشتہ دو اڑھائی صدیوں سے مسلم تہذیب کو غیر معمولی صورت حال درپیش ھے۔ غیر معمولی صورت حال غیر معمولی سوالات کو جنم دیتی ھے۔ یہ سوال بھی کئی زاویوں سے بہت ہی اہم اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ھے۔ میں سمجھتا ھوں کہ اگر مسلم دینی معاشرت اور تہذیب کو اس کے اصول و مظاہر کی سطح پر زندہ رہنا ھے تو اس سوال کا فوری، قطعی اور واضح جواب تلاش کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مزید جتنا عرصہ ھم اس سوال کو معطل رکھیں گے یا ٹالتے رہیں گے اسی حساب سے ھماری ملی و تہذیبی بقاء مخدوش سے مخدوش تر ھوتی چلی جائے گی۔ دینی علم کے حاملین ہی ھدایت کی شرائط پر ھماری ملی اور تہذیبی بقاونمو کے لئے آخری امید ھیں۔ ھمارے جدید تعلیم یافتہ افراد سے اس نوع کی توقع کرنا تہذیبی خودکشی کے مترادف ھے۔ علماء کو فوری طور پر یہ ادراک کرنا چاہیئے کہ نظری سطح پر جدید علوم کی ھدایت کے ساتھ نسبتوں کی معیاری تفہیم پیدا کریں۔ علم کی معروف شرائط پر ھدایت کےمقتضآت کو بیان میں لائیں۔ یہ تبھی ممکن ھوگا جب علماء جدید علوم میں ضروری حد تک نظری سطح پر رسوخ پیدا کریں گے جس کے لیئے مدارس میں ان علوم کی تدریس موثر طریقے سے کی جانی چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سوال ھمارے لئے نہ تو نیا ھے اور نہ ہی غیر مانوس۔ جدیدیت کے زائیدہ علوم سے ھمیں اسی وقت سے واسطہ ھے جب سے یورپی استعمار نے مسلم دنیا میں پنجے گاڑے ہیں۔ ھم جدید یورپ کی سیاسی، معاشی اور عسکری طاقت کا نشانہ پہلے بنے اور جدید علوم سے اس کے بعد واقف ھوئے۔ جدید علوم کے مقابل مسلم رد عمل کو سمجھنے کے لیئے یہ ترتیب ملحوظ رہنی چاہیئے۔ برصغیر میں جدید علوم کی طرف مسلم رد عمل اب تک دو صورتوں میں ظاہر ھوا ھے؛ مرعوبیت اور انکار۔ سرسیداحمد خان اور ان کی معنوی اولاد مطلقا مرعوبیت کا شکار رہی ھے جبکہ دینی علماءان کا انکار کرتے چلے آئے ھیں۔ اسے دینی ذہن کی خوبی کہیئے یا عذر کہ یہ ہر نئی چیز کو لازما شک کی نظر سے دیکھتا ھے۔ جب تک کسی چیز کی ھدایت کے ساتھ نسبت واضح نہ ھو، دینی شعور اس کے ردوقبول میں متردد رہتا ھے۔ میں اسے دینی شعور کی خوبی سمجھتاہوں۔ دینداری کے تحفظ و بقاء کی ضمانت اسی رویے میں مضمر ھے۔ یہ ھدایت کے ساتھ وابستگی کا بنیادی اصول اور لازمی پیرایہ ھے۔ لیکن دین کی علمی روایت کے حاملین کا کام صرف یہ نہیں ھے کہ وہ اس اصول کی بنیاد پرواقعیت کا انکار کرنے لگیں یا محض تحکم کا مظاہرہ کریں۔ علماء کے رد عمل کے برعکس سرسید اور ان کے متبعین کا کام تو بس اتنا ھے کہ دین کو جدیدیت کی کارگاہ میں خام مال کی طرح صرف کردیں اور پھر دین کی ‘پیداواری صلاحیت’ پر بغلیں بجائیں۔ علماء جب تک جدید علوم کے چیلنج کا سامنا نہیں کرتے تجدد پرست اسی طرح بغلیں بجانا جاری رکھیں گے۔ ھمیں پہلے ہی قدم پر یہ بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ اس سوال کی نوعیت اختیاری نہیں جبری ھے۔ خواہی نخواہی ھمیں اس سوال کا سامنا کرنا ھے۔ جدید دنیا اپنے اجمال و تفصیل میں جدید علوم ہی کی رہین منت ھے۔ اس کے افکار و احوال، حالات و واقعات اور ترک واختیار جدید علوم کے پیدا کردہ ھیں۔ جدید دنیا اب کسی مخصوص جغرافیہ کا نام نہیں رہی بلکہ یہ ایک عالمگیر صورت حال بن چکی ھے۔ یہ جدید علوم ہی کی نتیجہ خیزی ھے۔ ھم چاہیں یا نہ چاہیں ھمیں جدید علوم کی ھدایت کے ساتھ نسبتوں کا تعین کرنا ھے جس کے لیئے معروف شرائط پر تفصیلی علمی بیان تاحال درکار ھے۔

ھمارے جدید تعلیمی اداروں کا نصاب، طریق تعلیم اور امتحانی نظام اپنے اجمال اور تفصیل میں مکمل طور پر نوآبادیاتی ھے۔ ان اداروں نے علم اور تعلیم کی پچھلی سات دہائیوں میں جو ‘خدمت’ سرانجام دی ھے میں یہاں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ مختصرا عرض ھے کہ یہ ادارے مکھی پہ مکھی مارتے چلے جارہے ھیں۔ تعلیم و تعلم کی سطح اتنی پست ھے کہ سوچ کر ہی کراہت ھوتی ھے۔ علم کی تشکیل ان کا مقصد ہی نہیں ھے۔ میں خود ان اداروں میں پڑھا ھوں اور تیرہ سال سے ہائر کلاسز کو پڑھاتا بھی ھوں۔ مجھے اچھی طرح معلوم ھے کہ ان اداروں کے اساتذہ کا علمی قد کاٹھ کیا ھوتا ھے اور طالب علم طلب علم میں کتنے سنجیدہ ھوتے ھیں۔ حقیقت یہ کہ انہیں تعلیمی ادارے کہنا علم اور تعلیم دونوں کی توہین ھے۔ یہ دانش گاہیں نہیں آتش کدے ھیں۔ ان کے لیئے پیروی مغربی میں تعلیم معاشی سرگرمی ھے۔ یہاں تعلیم پانے والے اکثر طلباء وطالبات کو نہ تو ڈھنگ سے کوئی زبان آتی ھے نہ ہی کوئی علم۔ ویسے بھی تعلیم عامہ کا تصور ظاہر ھے کہ اصلا سرمایہ داروں کو ہی سازگار ھے۔ تعلیم عامہ سرمایہ داری کے کارندے پیدا کرنے کا بندوبست ھے۔ یہ نام نہاد جدید تعلیم ادارے صرف ھمارے بچوں کاوقت ہی ضائع نہیں کر رہے بلکہ ان کی معیشت بھی برباد کر رہے ھیں۔ جدید تعلیم پانے والے جدید علوم کے مالہ و ماعلیہ کو معمولی درجے میں بھی نہیں جانتے۔ ایسی صورت حال میں کیا ان سے یہ توقع کی جا سکتی ھے کہ یہ جدید علوم کو تنقیدی نظر سے دیکھ سکیں گے اور مسلم تہذیب کو دور جدید میں مطلوب فکری وسائل فراہم کرپائیں گے۔ آپ اس پر غور کیجیئے کہ ریاست پاکستان سات دہائیوں میں کئی سو کھرب روپے جدید تعلیم پر صرف کر چکی ھے۔ لیکن حاصل کیا ھے؟ لارڈ مکالے کے الفاظ میں کلرکوں کی فوج ظفر موج! انہوں نے کون سی ایجادات کیں ھیں؟ کون سے نئے علمی تناظرات قائم کیئے ھیں؟کون سی بڑی علمی پیش رفت کی ھے؟ یہاں بیشتر سوشل سائنسز پڑھنے والے کلرک (بھلے وہ dignified کلرک ہی ھوں) جب کہ ہارڈ سائنسز پڑھنے والے ٹیکنیشن بنتے ھیں۔ جدید تعلیمی اداروں کے کارپردازان ان اداروں کی عملی ناکامی و نامرادی کی وجہ وسائل کی کمی وغیرہ بتاتے ھیں۔ ھو سکتا ھے ان کی بات ٹھیک ھو لیکن اصل وجہ یہ نہیں ھے۔ اصل وجہ اس نظام کی تعمیر میں مضمر خرابی ھے۔ ان کے نصاب اورطریق تدریس اس لائق ہی نہیں ھیں کہ یہ کوئی بڑے علمی نتائج پیدا کر سکیں۔ نہ علم، نہ ہنر، نہ نظر، نہ بصیرت، نہ اخلاق، نہ کردار۔ مغربی طرز کی اس تعلیم نے آداب غلامی سکھانے اور انسان کے اندر بہیمیت کو ابھارنے کے سوا ھمارے کون سے علمی و اخلاقی مقاصد کی آبیاری کی ھے۔ اس سب پر مستزاد امتحانی نظام ھے۔ میری رائے میں یہ امتحانی نظام انسانی شخصیت کا قتل اور ذہانت کی بربادی ھے۔ یہ صرف یاداشت کا امتحان ھے۔ اس نے طالب علم کے ارادہ تعلم کو ھمیشہ کے لیئے معطل کردیا ھے۔ اسی کی بدولت نصاب بے ربط معلومات کا پلندہ بن کر رہ گیا ھے۔ علم کچھ ملکات کا نام ھے نہ کہ الل ٹپ معلومات کو رٹ لینے کا۔ میں نے جدید تعلیمی اداروں سے متعلق جو باتیں عرض کی ہیں یہ اب بدیہیات کا درجہ رکھتی ھیں۔ ان اداروں کے کارندے خوب جانتے ھیں کہ میری باتیں حرف بحرف مبنی بر حقیقت ھے۔ اللہ جانتا ھے کہ میں نے یہ باتیں ان کو نیچا دکھانے کے لیئے نہیں کیں بلکہ احساس ذمہ داری سے مسئلے کی نشاندھی کرنے کی غرض سے کی ھیں۔ میں چاہتا ھوں کہ جو غلطی جدید تعلیمی اداروں میں کی جا رہی ھے وہ جدید علوم کے حوالے سے مدارس میں نہ دہرائی جائے۔

کبھی ایسا بھی ھوتا ھے کہ ایک طالب علم مدرسے میں دوسرے یا تیسرے سال میں زیر تعلیم ھوتا ھے جبکہ امتحان چوتھے یا پانچویں سال کے دے رہا ھوتا ھے۔ اس کا مطلب ھے کہ درس نظامی کی سند لینے کیلیئے باقاعدہ طور پر درس نظامی پڑھنا ضروری نہیں رہا

بد قسمتی سے دینی مدارس کے نصاب میں جدید علوم کا دخل اسی پیٹرن پر ھوا ھے جس پیٹرن پر یہ علوم جدید اداروں میں پڑھائے جا رہے ھیں۔ چند ایک مدارس نے تو تین چار دہائیوں سے اپنے ہاں جدید سوشل سائنسز کے کچھ مضامین کی تعلیم کا اجراء کرلیا تھا۔ تاہم مجموعی طور مدارس میں جدید علوم کا دخل غالبا 2005 کے بعد ھوا ھے۔ تمام مدارس میں طریقہ کا یہ اختیار کیا گیا ھے کہ درس نظامی کے طلباء کو میٹرک اور انٹر وغیرہ کے مروجہ کورسز پڑھا دیئے جائیں۔ بعض طلباء پرائیویٹ بی۔ اے اور ایم۔ اے کے امتحانات بھی پاس کرلیتے ھیں۔ کچھ فاضلین بی۔ اے اور عالمیہ کی سند کی بنیاد پر ایم۔ فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی تک چلے جاتے ھیں۔ سوال یہ ھے کہ جدید علوم کا مروجہ نصاب اور امتحانی نظام کیا نتائج پیدا کررہا ھے؟ میرا جواب یہ ھے کہ ابھی تک اس کا حاصل وصول موہوم معاشی سیکورٹی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ میں جدید تعلیمی اداروں پر بات کرتے ھوئے عرض کرچکا ھوں کہ ان کا نصاب، طریق تعلیم اور امتحانی نظام بالکل بوگس ھے۔ اہل مدارس نے درس نظامی کے استناد کے لیئےجدید امتحانی نظام کو بالکلیہ اختیار کرکے دین کی علمی روایت کو شدید نقصان پہنچایا ھے۔ یہ اعتماد کا فقدان ھے یا جانے کیا کہ جو نظام خود قابل اصلاح بلکہ قابل تنسیخ ھے اس کی نقالی کی جائے۔ درس نظامی کی تعلیمی روایت طلباء میں علوم و فنون میں واقعی مہارت پیدا کرنے سے دلچسپی رکھتی ھے۔ اب اگر سند وغیرہ ضروری ھے تو اس کے لیئےایسے امتحانی طریقے متعارف کروائے جائیں جو دینی تعلیم کے مقاصد سے مطابقت رکھتے ھوں۔ اصول تعلیم، نصاب، طریق تعلیم، اسلوب تعلم، مقاصد تعلیم اور امتحانی نظام آپس میں اصولی طور پر متعلق ھیں۔ پھر تصورتعلیم اور تصور انسان میں تطابق ھوتا ھے۔ درس نصامی کے لیئے جدید امتحانی نظام کو اختیار کرنا دینی مدارس کی قیادتوں کی بصارت اور بصیرت دونوں پر سوالیہ نشان ھے۔ تعلیمی عمل خلا میں وقوع پذیر نہیں ھوتا۔ اس کے مبادی و مقاصد کا ایک تہذیبی تناظر ھوتا ھے۔ جدید اسالیب و شرائط کے ساتھ روایتی دینی تعلیم کے التزام نے شتر گربگی کی کیفیت پیدا کردی ھے۔ مروجہ طریقے پر جدید علوم پڑھانے اور جدید امتحانی نظام اختیار کرنے کے دینی مدارس پر مرتب ھونے اثرات کا جائزہ ھم آئندہ سطور میں لیں گے۔

میں سابقہ سطور میں عرض کر چکا ھوں کہ امتحانی نظام کے ساتھ ساتھ بالعموم دینی مدارس میں پچھلے کچھ عرصے سے جدید علوم کا دخل اسی طرز پر ھوا ھے جس طرز پر یہ علوم جدید اداروں میں پڑھائے جارہے ھیں۔ اب مجھے ان کے اثرات پر بات کرنی ھے۔ دینی حلقوں میں یہ عام مشاہدہ ھے کہ جدید نظام امتحان کی وجہ سے درسی نظامی کاتعلیمی معیار بری طرح مجروح ھوا ھے۔ طلباء میں علوم و فنون کی تحصیل کی بجائے محض ڈگری لینے کے رجحانات پروان چڑھے ھیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ھے کہ بعض طلباء کسی مدرسے میں پڑھے بغیر صرف خلاصوں کی مدد سے درس نظامی کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرجاتے ھیں۔ کبھی ایسا بھی ھوتا ھے کہ ایک طالب علم مدرسے میں دوسرے یا تیسرے سال میں زیر تعلیم ھوتا ھے جبکہ امتحان چوتھے یا پانچویں سال کے دے رہا ھوتا ھے۔ اس کا مطلب ھے کہ درس نظامی کی سند لینے کیلیئے باقاعدہ طور پر درس نظامی پڑھنا ضروری نہیں رہا۔ سوال یہ ھے کہ کیا دینی مدارس کے وفاق و تنظیمات اس صورت حال سے لا علم ھیں؟ ہر گز ایسا نہیں ہے۔ انہیں اس صورت حال کا علم ھے۔ اسے کیا کہا جائے کہ سب جانتے بوجھتے ھوئے وہ اس کا مداوا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ یہ دین کی علمی روایت کا خاتمہ کرنے کے مترادف ھے جسے ظلم عظیم کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ دین کی تعلیم اپنی نوعیت میں ہر تعلیم سے مختلف ھے۔ یہاں حکم کا درست فہم عمل کی بنیاد ھے۔ حکم کے درست فہم کے لیئے علمی استعداد درکار ھے۔ جدید امتحانی نظام علمی استعداد کی راہ میں رکاوٹ ھے۔ دینی مدارس کی قیادتوں پر لازم ھے کہ مسئلے کی سنگینی کا ادراک کریں اور امتحان کے متبادل طریقے وضع کریں جو دینی مقاصد تعلیم سے مطابقت رکھتے ھوں۔

مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں ھے کہ دینی مدارس میں جدید علوم کی تعلیم ھمارے لیئے زندگی اور موت کا مسئلہ ھے۔ ھمارے کلاسیکی معقولی علوم یعنی طبیعات، عنصریات، فلکیات اور العلم العالی یعنی فلسفہ وغیرہ بیشترمتروک ھو چکے ھیں۔ ریاضیات، ہندسہ اور منطق میں بھی بہت کچھ پیش رفت ھوچکی ھے۔ ھم طلباء کو متروک علمیت وذہانت کی تحصیل کرواکے معاصر دنیا سے ان کی لاتعلقی کا سبب بن رہے ھیں۔ گویا ھم انہیں ایک ایسی زبان سکھارہے ھیں جسے طاق نسیاں کی زینت بنے زمانے گزر چکے ھیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ھے کہ ھمارا علم الکلام جن عقلی و علمی تصورات کے رد عمل میں پیدا ھوا تھا اب وہ تصورات ماضی کی یادگار ھیں۔ میری بات کا ہر گز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ میں روایتی معقول پڑھانے کی نفی کر رہا ھوں۔ میں دینی علم کے حامل کسی بھی شخص سے زیادہ اس بات کا قائل ھوں کہ ان علوم کو درس نظامی کے نصاب میں باقی رکھنا چاہیئے۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ھوں کہ وفاق وتنظیمات نے جن کتابوں کونصاب سے بے دخل کیا ھے انہیں دوبارہ داخل نصاب کرنا چاہیئے۔ اس کی ایک وجہ یہ ھے کہ علم کی تاریخ پڑھے بغیر علم پر خلاقانہ دسترس کا ادنی امکان بھی باقی نہیں رہتا۔ اس کی دوسری وجہ یہ ھے کہ معقولات کے متون و حواشی اورشروحات میں ضمنا ایسا بہت کچھ وقیع مواد ھے جسے نظرانداز کرنا علم سے دست بردار ھونے کے مترادف ھے۔

جہاں تک مدارس میں جدید علوم کی تدریس کا تعلق ھے تو گزارش ھے کہ میٹرک، انٹر اور گریجوایشن، ماسٹر وغیرہ کے امتحانات پاس کرنے کی غرض سے طلباء متعلقہ مضامین کا مروجہ نصاب پڑھیں۔ لیکن اس سے یہ خیال پیدا نہیں ھونا چاہیئے کہ مروجہ نصاب پڑھنے سے طلباء کو جدید علوم میں ضروری دسترس حاصل ھوجائے گی۔ یہاں دو باتیں سمجھنے کی ضرورت ھے۔ پہلی بات کا تعلق اس امر سے ھے کہ وہ کون سے جدید علوم ھیں جن کی تعلیم درس نظامی کے طلباء کو دی جانی چاہیئے؟ دوسری بات یہ ھے کہ ان علوم کی تعلیم کے لیئے کیاطریقہ تدریس اختیار کیا جائے۔ پہلی بات پر میری رائے یہ ھے کہ سائنسز اور سوشل سائنسز میں سے بنیادی نوعیت کے مضامین مثلافزکس، ریاضیات، جیومیٹری، کمپیوٹر سائنس، جدید منطق و فلسفہ، سیاسیات، سماجیات، نفسیات، لسانیات، فلسفئہ تاریخ، جدید اصول قانون اور مابعد نوآبادیاتی مطالعات کے معیاری متون داخل نصاب کیئے جانے چاہییں۔ میبذی کی ابتدائی ابحاث میں علوم کی اقسام کی وجہ حصر بیان ھوئی ھے۔ وہاں یہ کہا گیا ھے کہ حقائق اپنے وجود کے تحقق میں ارادے کے تابع ھوتے ھیں یا نہیں ھوتے۔ جو حقائق ارادے کی طرف محتاج نہیں ھیں وہ وجود ذہنی اور خارجی میں مطلقا ملحق بالمادہ نہ ھوں تو العلم العالی کا موضوع ھیں۔ اگر دونوں میں مادے کے محتاج ھوں تو طبیعیات کا موضوع اور صرف وجود خارجی میں مادے سے ملحق ھوں تو ریاضیات کا موضوع بنتے ھیں۔ لیکن وہ حقائق جو وجود پذیری میں ارادے کے تابع ھوتے ھیں مثلا علم اخلاق، تدبیر منزل اور سیاست مدن کا موضوع بننے والے حقائق ھمیں ان کی تعلیم کی ضرورت نہیں ھے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ شارع نے ھمیں ان سے بے نیاز کردیا ھے۔ گزارش ھے کہ مسلمان جب یونان کے عقلی علوم سے واقف ھوئے تھے تو اس تعارف کی نوعیت دو طرح سے مختلف تھی۔ اولا، یونانی علوم کی نوعیت نظری تھی یعنی ان علوم کا مقصد اولین علم وجود تھا نہ کہ ایجاد وجود۔ جدید علوم اپنے میتھڈ میں استقرائی اور مقاصد میں Pragmatic ھیں۔ ثانیا، یونانی علوم اس وقت کسی زندہ تہذیب سے متعلق نہیں تھے بلکہ تقریبا متروک ھو چکے تھے۔ مسلمانوں نے سکندریہ سے ان علوم کو لیا اور ان کا احیاء کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ احیاء کے اس عمل میں مسلمانوں کو تاریخ ساز کامیابی حاصل ھوئی۔ آج تاریخ علوم کا ہر بڑا آدمی یہ تسلیم کرتا ھے کہ قرون وسطی میں یورپ نے یونانی علوم کو عرب مسلمانوں سے اخذ کیا۔ جدید علوم کا معاملہ قطعی طور پر مختلف ھے۔ ایک تو ان علوم کی نوعیت محض نظری نہیں بلکہ عملی ھے۔ دوسرے یہ کہ جدید دنیا اپنے اصول و فروع میں انہی علوم کی بنیاد پر وجود میں آئی ھے۔ جدید دنیا فطرت کے مقابل عالمگیر سطح پر ایسا مصنوعی بندوبست ھے جس نے انسان کے انفس و آفاق کو تلپٹ کرکے رکھ دیاھے۔ لہذا اب ھمارے لیئے نہ کوئی جائے نہ فرار ھے نہ مقام قرار۔ ھمیں مثل خلیل جدید علوم کی آگ میں کود کر اس نار کو گلزار کرنا ھے۔ سائنسز ھوں یا سوشل سائنسز ھمیں ہر اہم نوع علم میں مہارت درکار ھے۔ ان علوم میں یہ مہارت انہیں ھدایت کی مرادات پر ڈھالنے کے لیئے ناگزیر ھے۔ دوسری بات کہ طریق تدریس کیا ھونا چاہیئے۔ میں سمجھتا ھوں جو طریق تدریس روایتی طور پر درس نظامی کا چلا آتا ھے جدید علوم کی تعلیم بھی اسی طریقے پر ھونی چاہیئے۔ ھمارا روایتی طریق تدریس جدید پیڈا گوجی کی نسبت غیر معمولی حد تک موثر اور نتیجہ خیز ھے۔ اس طریق تدریس میں اگر ثانوی نوعیت کی کچھ ناگزیر تبدیلیاں کرنی پڑیں تو اس میں حرج نہیں ہے۔

Advertisement

Trending