کشمیر منشیات کے زہرنا ک پنجوں میں پھنس گیا—- غازی سہیل خان

0

جموں کشمیر میں منشیات وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ منشیات کے سبب ہزاروں کشمیری گھر اور خاندان برباد ہو گئے ہیں۔ نوجوان نشہ ٓاور ادویات، شراب اور دیگر چیزوںکو خریدنے کے لئے اپنے گھروں سے قیمتی سامان کوڑوں کے دام بیچ کے اپنی زندگی برباد کرنے سے ہچکچاتے نہیں۔ جن کو گھروں میں بیچنے کے لئے کچھ ملتا نہیں وہ دوسرں کے گھروں سے قیمتی سامان چُرا کے نشہ آو رچیزیں خرید رہے ہیں۔ کشمیر میں نشہ آور چیزوں کی خرید وفروخت آ ج کی تاریخ میں اپنے عروج پہ ہے یعنی کشمیر اللہ نہ کرے اب ’’ اُڑتا پنجاب‘‘ بننے جا رہا ہے۔ اس کاروبار سے وابستہ انسانیت کے قاتلوں نے نوجوانوں کی زندگیاں برباد کرکے اپنے لئے دولت کے انبار جمع اورمحلات تعمیر کیے ہیں۔ بلکہ آج جو بھی زیادہ پیسہ کم وقت میں کمانا چاہتا ہے وہ اس انسانیت سوز دھندے میں شامل ہو جاتا ہے۔ کشمیر میں نشہ آور ادویات اور دیگر نشیلی چیزوں کا استعمال نوجوان بہت ساری وجوہات سے کر رہے ہیں۔ چند اپنی گھریلوں پریشانیوں کے سبب، چند لڑکو ں اور لڑکیوں سے عشق و عاشقی کے سلسلے میں،چند شوقیا اور ماہرین کے مطابق چند نوجوان کشمیر میں چل رہی شورش یعنی مسئلہ کشمیرکے سبب نشہ آور چیزوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی اربوں کی دولت کو اُڑا کے جموں کشمیر کے نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا ہو کے ایک قومی گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ شراب اور دیگر نشہ آور ادویات کہاں سے اور کیسے کشمیر میں سپلائی کی جا رہی ہیں یہ کشمیر کی عوام جاننے سے قاصر نظر آ رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں میں 1500فیصد مریضوں نے سرکاری اسپتال جا کے ان نشوں سے چھٹکارے کے لئے داخلہ لیا۔ نیوز 18کی ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ ’’حال ہی میں گورنمٹ میڈیکل کالج سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز نے سرینگر اور اننت ناگ میں ایک پائلٹ سروے یہ جاننے کے لئے کی کہ یہاں منشیات کا استعمال کس حد تک ہو رہا ہے۔ سروے کے نتائج بہت ہی حیران و پریشان کُن تھے۔ سروے کے انچارج ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ سروے میں نشے کی لت میں پڑے 300؍افرادپر تحقیق کی گئی اور یہ پتہ چلاان دو شہروں میں ہیروئن اور افیم کی دیگر نشہ آور ادویات آسانی سے میسر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا کہ ان شہروں میں دو فیصد آبادی منشیات میں ملوث ہے روزانہ ساڑھے تین کڑوڑ روپئے صرف اننت ناگ اور سرینگر میں ہی منشیات کی خرید پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ کشمیر پولیس کے مطابق ایک گرام ہیرائن کی قیمت تین سے چار ہزار تک کی ہے۔

اس طرح سے یہ واضح ہو گیا کہ وادی کے محض دو اضلاع میں ان نشہ آور چیزوں پہ کتنا سرمایہ صرف کیا جا رہا ہے۔ بلکہ اس کے سبب یہاں نوجووانوں میں مختلف قسم کی بیماریاں بھی پھلنے کا خطرہ ہے بلکہ سماجی سطح پہ بھی اس کے نقصانات ہیں، سماج میں لڑائی جھگڑے عام ہونا فتنے اور فساداایک ٹرینڈ اور گلی کوچوں میں نوجوانوں کے درمیان لڑائی اور جھگڑے ایک فیشن بن گیا ہے۔ اس سے بھی نوجوان کو نشہ آوردوائی نہ ملنے کی صورت میں وہ اپنی زندگی کا ہی خاتمہ کر دیتا ہے۔ صحت تو برباد ہوتی ہی ہے، مثلاً کشمیر میں نشہ میں مبتلا 50فیصد تک افراد اپنی رگوں میں ہیروین انجیکشن کے ذریعے پہنچاتے ہیں اور کئی لوگ ایک ہی سوئی کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ہیپاٹائٹس سی اور کئی دیگر خطرناک بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ ان نشوں میں کشمیر میں بچوں کے ساتھ ساتھ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی ملوث ہو گئے ہیں بلکہ اچھے گھروں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ان منشیات کا شکار ہو رہے ہیں۔ کشمیر پولیس کے مطابق زیادہ تر نوجوان جو اس نشہ میں مبتلا ہو جا تے ہیں اُن کی عمر 18سے 35سال کے درمیان ہوتی ہے۔ مزید انکا کہنا تھا کہ ڈرگ ڈی ایڈیکشن سنٹرس پہ نوجوانوں کی خاصی تعداد آ رہی ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ 2019ء میں 633افراد نے اپنے نام پولیس کنٹرول روم سرینگر میں درج کروائے تھے جن کی تعداد آج بڑھ کے 1978ہو گئی جن میں 81فیصد مرد اور 19فیصد خواتین تھیں ابھی تک پولیس کنٹرول روم سرینگر کے ڈرگ ڈی ایڈیکشن سنٹر میں دس ہزار افراد کا علاج کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کشمیر میں نوجوانون کو اس وبا سے پاک رکھنے کے لئے سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں،پولیس اور علماء اپنی کوششوں کے باوجود بھی منشیات کو کشمیر کے ختم کرنا تو دور کی بات کم کرنے میں بھی ناکام دیکھائی دے رہے ہیں۔ بلکہ آئے روز کے اعداد و شمار کے مطابق اس میں اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوام انتظامیہ سے یہ سوال کرتی ہے کہ یہ افیم اور ہیروئن اور دیگر نشیلی انجیکشن اورٹیبلٹس کہاں اور کیسے کشمیر میں پہنچ رہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ سارا کچھ ایک منظم طریقے سے ہی انجام دیا جا رہا ہے۔ کشمیر پولیس کے مطابق کشمیر میں لگ بھگ 1672افرد اس کاروبار کے ساتھ وابستہ ہیں جن میں سے 35؍ افراد کو پی ایس اے کے تحت گرفتا رکیا جا چُکا ہے اب یہاں یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا محض 35؍ لوگ ہی ان میں گناہگار ہیں؟ کیا انتظایہ بس یہ کہہ کے اپنے آپ کو بری سمجھتی ہے کہ سرحد پار سے یہ سار ی منشیات آ رہی ہیں اس لئے ہم اس کو روک نہیں سکتے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب تک نہ اس دھندے سے وابستہ بڑے بڑے مگر مچھوں کو پکڑا نہیں جاتا تب تک اس وبا پہ قابو پانا ممکن نہیں ہے ا۔ یہاں سوال یہ بھی بنتا ہے کہ جموں کشمیر میں ڈرگ پالیسی کے اطلاق اور اینٹی نارکوٹکس فورس کی کارروائیوں کے باوجود ڈرگ اسمگلروں پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکتا؟ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دھندہ ایک منظم پروگرام اور سیاسی لوگوں کے آشرواد سے چل رہا ہے عام لوگوں کے بس کی بات یہ نہیں ہے۔ اگر سرحدوں پہ اتنی فوج اور تاربندی کی گئی ہے تو وہاں سے اتنی بڑی مقدار میں ڈرگس کیسے کشمیر لائے جا رہے ہیں اسی طرح سے وادی میں اگر فورسز کی نظر ہر ایک شحص پہ ہے تو یہ ہزاروں میں جو درندے کشمیر کے نوجوانوں کی زندگیاں اُجاڑنے میں مصروف ہیں یہ کسی کو نظر کیوں نہیں آ رہے ہیں ؟

اس ساری مایوس کُن صورتحال کے بیچ ہمیں چاہے ہم اجتماعی طور سماجی سطح پہ اس ناسور کو کشمیر سے اُکھاڑ پھنکیں۔ اپنے بچوں کو پہلے سے ہی اچھے اور بُرے ی تمیز کروانا سیکھائیں اُن پہ نظر رکھیں اُنہیں دینی تعلیم سے آراستہ کروائیں۔ ہمارے علماء کا یہاں ایک خاص رول بنتا ہے اپنی اپنی مساجد اور درسگاہوں میں بچوں کو تلقین کریں اس ناسور سے دور رہنے کی۔ انتظامیہ کو بھی چاہے اس منظم دھندے میں ملوث افراد کے خلاف کڑی سے کڑی کارروائی عمل میں لا کے دیگر لوگوں کے لئے نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ ہماری کشمیر کی نوجوان نسل اس بربادی سے بچ جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply