Connect with us

آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ

سیرت مصطفوی ص کی عصری معنویت — ڈاکٹر غلام شبیر

Published

on

سیرت مصطفوی کا بیش بہا خزانہ میسر ہے بجا! مگر رفعنا لک ذکرک کی رمز غریب سے یہی عیاں ہے کہ موضوع ہمیشہ تشنہ تقریروتحریر رہے گا۔ سیرت نگار اپنے اپنے زمان و مکاں اور محدودات کی اسیری کے باوصف سیرۃ النبی کے محاکمہ کلی سے ہمیشہ عاجز رہے ہیں اور رہیں گے۔ مورخ یا سیرت نگار اپنے عہدکے عناصر و اجزائے تاریخ کا پابند سلاسل ہوتا ہے وہ اپنے عہد کے عدسوں سے سیرت نگاری کا فریضہ سرانجام دیتا ہے زمانہ آگے بڑھتا ہے نئے زمان و مکاں اور مقتضیات کے تحت سیرت مصطفوی مثل قرآں نئے مفاہیم اختیار کرلیتی ہے۔ یوں مفسرین اور سیرت نگاروں کا سلسلہ دائم چلتارہے گا اور تشنگی بڑھتی رہے گی۔ تاہم جہاں ابتدائی عہد کی سیرت نگاری میں غلبہ و عظمت اسلام اللہ جل شانہ کیطرف سے طے شدہ تقدیر اور منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے وہاں مستثنیات بجا مگر زمانہ وسطیٰ میں عہد سلطانی کے متاخرین سیرت نگاروں کے رشحات قلم سے ابھرنے والا تصور سیرت اس قدربے مغز اور بے روح ہے کہ دلوں کو عشق مصطفےٰ کی جولاں گاہ کے برعکس مدفن بنا دیتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملوکیت زاویہ نگاہ اور عقل و ہوش ورسم ورہ میں کیونکر زہر گھولتی ہے۔ کہاں وہ ابتدائے اسلام کے کارواں کے مور ناتواں جنہوں نے سلطنت روم و پارس کے بدمست ہاتھیوں کو اپنے خواب کی طاقت سے قصہ پارینہ بنا دیا تھا اور کہاں آج امت مسلمہ کا ایک ارب سے زائد نفوس پر مشتمل راہ گم کردہ جم غفیر۔ فرق واضح ہے کہ مسافران ابتدا کا فہم قرآن و سیرت اور تھا جس نے انہیں اوج ثریا عطا کیا، اور آج اہل اسلام کی زبوں حالی کا سبب وہ بے مغز فہم قرآن و سیرت ہے جو ڈکٹیٹرشپ، ملائیت اور جعلی تصوف کے اتحاد ثلاثہ کے مفادات کیلئے صدیوں کی محنت اور ریاضت سے پروان چڑھایا گیا۔

یوں میسر آنیوالا سیرت کا لٹریچر خالی نیام و ترکش سے ماسوا کچھ نہ نکلا جس سے ایک طرف مذہب ملا و جمادات و نباتات کی نمود ہوئی تو دوسری طرف سیرت مصطفوی کا ایک غیرمربوط و غیرمنظم ایسا ڈھانچہ تیار ہوا جو تسلسل اور نامیاتی وحدت سے محروم ہونے کے باوصف تضادات کا آئینہ دار تھا۔ یوں تصانیف سیرت اسوہ رسول کی جامعیت اور داخلی وحدت کا مقدمہ پیش کرنے کے برعکس اغیار کو الزامات کے مواد اور وسائل کی لاجسٹکس اور کمک بہم پہنچانے کا سبب بن گئیں۔ واقعہ غرانیق ہو یا واقعہ افک، واقعہ ایلا ہویا رسول اللہ کی اپنے متبنیٰ زیدبن حارثہ کی مطلقہ سےشادی کا واقعہ۔ شق القمرکا واقعہ ہو یا شق الصدرکی داستان، مختون ولادت کے نان ایشو کا ایشو ہو یا ولادت باسعادت کے ہنگام قیصر و کسرٰی کے محلات کے کنگرے گرنا اور پارسی آتشکدہ ایران کا ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار بجھ جانا ہو وغیرہ وغیرہ ایسے واقعات ہیں جنہوں نے مستشرقین کے ہاتھ مضبوط کیے۔ رسول اللہ کی عائشہ اور زینب سے شادی کو کتب سیرت نے ایسے انداز میں پیش کیا ہے کہ اغیار نے طرح مصرحہ بنا کر طرح طرح کی نظمیں باندھی ہیں۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ سیرت نگاری کو آںحضور کے روزوشب کے واقعات کا کرونولوجیکل آرڈر بنا دیا گیا جن کے درمیان باہم ربط اور تسلسل کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قرآن و سیرت سمیت ہمارا کل سرمایہ علمی صدیوں سے مدرسہ و مکتب میں حالت قرنطینہ میں ہے باہرکی عملی دنیا اور رواں علمی دھاروں سے اس کا سابقہ اور تعامل و تطابق عنقا ہے۔ وہ سائنسی حقیقت صورت حال کی درست عکاس ہے کہ سرکے کا کیڑا یا جرثومہ جب کسی اور محلول میں ڈالا جائے تو مرجاتا ہے بعینہ کسی اور محلول کا جرثومہ سرکے میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ یوں تو ہم نے ہر ڈسپلن اور شاخ علم کو اسلامیا لیا ہے مگر اسلام کو دنیانے کا فریضہ اغیار کے سپرد کر رکھا ہے۔

سیرت کا روایتی لٹریچر اس قدر بے ترتیب بے ربط وبے ہنگم اور معمور ازخلا ہے کہ رسالت مآب کے وژن، حکمت عملی اور پالیسی و کارکردگی کے درمیان ربط و ضبط، تسلسل اور نامیاتی وحدت کو تلاش کرنا قاری کی ذمہ داری سمجھی گئی ہے۔ مکی اور مدنی عہدرسالت کے درمیان عدم تسلسل کا ایسا بعدالمشرقین ہے کہ اول الذکر جہاں مایوسیوں، ناکامیوں، نامرادیوں اور ناکامرانیوں سمیت مکمل استرداد اور مطلق عدم ظفرمندیوں کا زمانہ دکھایا گیا ہے وہاں مدنی عہد سراسر جہاد و قتال اور انتقامی کارروائیوں سمیت موقع پرستیوں سے معمور دکھایا گیا ہے۔ مکی اور مدنی عہدرسالت کے درمیان یہ بعدالقطبین مستشرقین کیلئے نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوا جو خود بھی حقائق کو ناروا طور پر برتنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ فرانسیسی اسکالر جارج برنینو نے سچ کہا ہے کہ The worst, the most corrupting of lies are problems poorly stated یوں مستشرقین کو مکی اور مدنی عہدرسالت کی دوئی پر افترا پردازی کا نادر موقع میسر آگیا۔ کبھی مکہ کے پیامبر کو مدنی عہدکا مطلق سیاستدان کہا گیا، اور کبھی مکی عہدکے آفاقی مبلغ کو مدنی عہد میں عرب نیشنلزم کا پرستار بتایا گیا۔ مکی عہدکے سراپا پرامن مصلح کو مدنی عہدکا جنگجو ثابت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔ یہ سب تیر انہیں ہماری ناپختہ اسکالرشپ کے ترکش سے میسر آئے جنہیں مستشرقین اپنے تعصب کے زہر میں ڈبو ڈبو کر رسالت مآب پر چلاتے ہیں۔ اسلامک کلاسیکل ماڈرنزم کی ساری توانائیاں دفاعی جبلتوں کیساتھ محض ان الزامات کا جواب دینے میں صرف ہوئیں تاہم حیات مصطفوی کو پیغمبر اسلام کے سائیکو انالسز اور داخلی و باطنی اتار چڑھاو اور نشیب و فراز کی تاریخ inner vicissitudinous history کے طور پر دیکھنے کارجحان حالیہ جدید مظہر ہے۔ تحقیق و تدقیق اور دریافت کے جدید اوزار اور میتھاڈولوجیز میسر آنے سے سیرت النبی کا جامع مبنی برنامیاتی وحدت ہمہ جہت تصور ڈیویلپ ہونا شروع ہوا ہے۔ اس ضمن میں دیگر کے علاوہ مصری اسکالر محمدحسین ہیکل کی تصنیف حیات محمد ایک وقیع کارنامہ ہے۔ سیرۃ النبی کی تفہیم جدید کیلئے طارق رمضان، کیرن آرمسٹرانگ اور لیزلے ہزلٹن نے بھی درست جہت نمائی کی نیو اٹھائی ہے۔

تاہم پوری تاریخ اسلامی میں سیرت النبی کے باب میں جوسب سے بڑا اغماض برتاگیا ہے وہ سیرت فہمی میں قرآن سے استفسار و رجوع کی روایت کاناپختہ عمل ہے۔ قرآن کا گہرا ادراک رکھنے والوں پر عیاں ہے کہ اگر دنیا بھرسے سیرت النبی کا لٹریچر ناپید ہوجائے تو بھی قرآن اسے یوں محفوظ و مامون رکھے ہوئے ہے کہ کماحقہ پیش کرنے کا پورا پورا اہتمام وسائل اور ملکہ رکھتا ہے۔ قرآن اور سیرت النبی کے درمیان یک زیستی کا تعلق symbiotic relationship ہے۔ قدجا کم من اللہ نوروکتٰب مبین میں نور سے مراد کتاب کا وصف نہیں بلکہ اس وجود کامل کی شش جہات سیرت اور اسوہ کامل و جامع ہے جس کی نسبت دوسری جگہ وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا کہا گیا ہے۔ اسلام کا دائمی معجزہ اور ہمیشگی کی حجت اللہ البالغہ قرآن کے بعد اگر کوئی چیز ہے تو وہ صاحب قرآن کی سیرت ہے۔ قرآن علم ہے اور سیرت اس کا عمل۔ عائشہ صدیقہ نے وکان خلقہ القرآن کہہ کررسول اللہ کو مجسم و ممثل قرآن قرار دیا۔ اس اعلم الخلائق و اعرف العباد اورافصح العرب والعجم ذات مصطفوی کو شیخ محی الدین ابن العربی اور جلیلی نے قرآن کی لوح محفوظ قرار دیا۔ قرآن جس کے باب میں وکتب مسطور فی رق منشور کہا گیا ہے تو مراد یہی ہے کہ قرآن جو ایک لکھی ہوئی کتاب ہے کھلے ورق پر تویہ کھلا ورق یا لوح محفوظ رسول اللہ کی ذات گرامی ہے۔ یوں شیخ الاکبر اور جلیلی کا اس وجود کامل کو حقیقت الاسمائیہ اور لوح محفوظ قرار دینا کس قدرترجمان حقیقت ہے۔ دنیا میں جس قدر بھی ہدایت تعلیم کی لوحیں تھیں تغیر کا شکار ہو کر محفوظ نہ رہ سکیں تاہم سیرت طیبہ اور حیات حیہ وقائمہ کی لوح محفوظ کا ایک نکتہ بھی آج تک محو نہیں ہوسکا۔ قرآن نے خود کو پیغمبرؑ کا وقائع و سوانح نگار قرار دیا ہے ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں حق کیساتھ بولتی ہے۔ یوں اگر قرآن اور سیرت النبی کی یک زیستی کوکسی ایک کی خاطر بریک کیا جائے گا تو جان رکھنا ہوگا ہم زیستی کے جملہ مظاہر میں ایک کا خاتمہ یا موت لازماً دوسرے کی موت ہوتی ہے۔ سرسید مکتبہ فکر جو سید چراغ علی اور غلام جیلانی برق اور پرویز صاحب تک آتے آتے اہل القرآن پرمنتج ہوا آج اپنی بقا کیلئے حالت سکر میں ہے۔ جو قرآن فراموشی کی قیمت پر سیرت النبی کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے گا اس کابھی یہی انجام ہوگا۔

رسول اللہ "کتاب مرقوم” کا "ظل مجسم” اور اس کے عملی نمونے کی لوح محفوظ ہیں۔ یوں ہمیں بہ یک وقت سیرت کو قرآن اور قرآن کو سیرت النبی میں دیکھنا ہوگا کیونکہ کہ دونوں لازم و ملزوم ناقابل جدا ہم زیستی سے عبارت ہیں۔ قرآن اور سیرت مصطفوی دو شمعیں ہیں جو باہم دگر جلا پانے سے روشن ہیں۔ ایں دو شمع اند کہ از یک دگر افروختہ اند۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی سیرت طیبہ الرحیق المختوم یعنی خالص شراب الٰہیہ ہے جس پر اللہ جل شانہ کی مہر تصدیق ثبت ہے۔ وفی ذالک فلیتنافس المتنافسون ڈاکٹر اسد کے مطابق pouring forth with a fragrance of musk.۔ مصطفوی شیشہ مئے سے شراب الٰہیہ عنبریں و مشکیں لمس کیساتھ ہرصاحب احتیاج کا ساغر لبالب کیے دیتی ہے۔ یہی وہ شراب طہور (Knowledge of God) ہے جو نفس انسانی کے غیر متوازن عناصرکو اعتدال بخش کربغض، حسد، کینہ، نفاق اور دیگر مضر عناصر سے پاک کرتی ہے، چہروں کو نضرۃ النعیم اور ذات و شخصیت انسانی کو نفس مطمئنہ کا مقام بخش کر امن اور سیکیورٹی کا اعلیٰ ترین مقام علیین عطا کرتی ہے۔

تاہم قرآن اورسیرت فہمی کی روایت میں ہمارا رویہ فہم کلی کے برعکس جزوی فہم (atomistic, piecemeal, truncated & unintegrated) کا شکار رہا ہے۔ یوں منتشر عناصر و اجزائے پریشاں کی شیرازہ بندی سے جو تصویر کلی کا خاکہ ابھرتا ہے لازماً اضداد کو جنم دیتا ہے۔ جب اجزا "کل” اور "کل” اجزا سے تطبیق اور "لگا” نہ رکھتے ہوں تو واضح ہے کہ یا تو اجزا و عناصر کے استخراج و انتاج میں غلطی برتی گئی ہے یا تصویر کلی کا خاکہ غلط کھینچا گیا ہے۔ بے شک اجزا و عناصر کا استخراج درست ہی کیوں نہ ہو اگر ان اجزا کے درمیان زندہ و توانا نامیاتی تعلق organic link نہ ہو اور اجزا کسی پزل کے باکسز کی طرح محض حسن ترتیب میں ساتھ ساتھ موزوں طور پر جڑے juxtaposed ہوں توبھی "تصویر کلی” ظاہراً درست اور خوبصورت دکھنے کے باوجود ادھ موئی اور بے جان ہوگی۔ اس ضمن میں امام شاطبی نے درست جہت نمائی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کی انفرادی آیت یا کسی انفرادی حدیث کی بنیاد پرقانون سازی کرنا قرآن و حدیث کیساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ آیات و احادیث کے مختلف گچھے اور مجموعے کس امر کی طرف بہ تکرار و تواتر رہنمائی کر رہے ہیں وہ امر مقصودبالذات ہے اس امر کی روح اور مقتضیات کی روشنی میں اوامرونواہی کو سمجھنا ہوگا۔ اسی نکتے کو ڈاکٹر فضل الرحمان مذید باالصراحت آگے بڑھاتے ہوئے رائے زن ہیں کہ انفرادی آیات سے استنباط کے برعکس پہلے قرآن کا "فہم کلی” پروان چڑھایا جائے اور انفرادی آیات کا مفہوم اس "فہم کلی” کی روشنی میں سمجھا جائے تو درست نتائج یقینی ہوں گے غلطی کا اگر کلی ازالہ نہ بھی ہو تو امکان محدود ترین ہوجائے گا۔ بعینہ سیرت و اسوہ رسول کو سمجھنا ہوگا۔ قرآن و سیرت رسول کے فہم کلی کیلئے جز رسی یا موزوں ترین اصطلاح میں جزگزیدگی سے نجات پانا ہوگی۔ جب کفارنے کہا قرآن یکبار آن واحد میں کیوں نہیں نازل ہوجاتا تو کہا گیا لنثبت بہ فوادک ورتلنٰہ ترتیلا اے رسول آپ کے قلب کے استحکام کیلئے ہم اسے درجہ بدرجہ نازل کرتے اور ایسی ترتیب مرحمت فرماتے ہیں کہ یہ ایک نامیاتی وحدت consistent whole کے طورپرآپ کے قلب و ذہن پر نقش ہو اور کفارکے آدھے سنہرے سچ half glittering truths دھوکہ نہ دے سکیں (25:32-33)۔ قرآن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر خدا کے سوا یہ کسی اور کیطرف سے جاری کردہ ہوتا تو تضادات کا حامل ہوتا۔ رتلنٰہ ترتیلا میں دوہری معنویت ہے یعنی مختلف اجزا کو باہم بہترین ترتیب میں جوڑنا اور اسے داخلی تضادات سے پاک رکھنا یعنی endowing it with inner consistency. ہے۔ یوں جس طرح اپنے کلی مفہوم میں قرآن تضادات سے پاک ہے بعینہ صاحب قرآن کی سیرت طیبہ بھی اپنی کلیت میں کسی بھی طرح کے داخلی یا خارجی تضاد سے مبرا ہے۔

جرمن نژاد برطانوی بپروفیسر اسلامی قانون پرسندکا درجہ رکھنے والےجوزف شانت J. Schacht نے اپنی معروف تصنیف Origins of Muhammadan Jurisprudence میں حیران کن جملہ لکھا ہے in the early decision making process in Islam “the Quran was invariably introduced at a secondary stage ”. قرن اول کے اسلام میں فیصلہ سازی میں قرآن سے رجوع ہمیشہ دوسرے مرحلے میں کیا جاتا تھا۔ اگر اس جملے کا مطلب یہ لیاجائے کہ پہلے مرحلے میں قرآن کو نظرانداز کیا جاتا تھا تو یہ ناقابل فہم یاوہ گوئی ہوگی۔ اگراس کا مطلب یہ لیاجائے کہ پہلے مرحلے میں قرآن کے جامع اور فہم کلی سے مسئلہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی تھی اور دوسرے مرحلے میں مخصوص آیات سے رجوع کیا جاتا تھا تو یہ بیانیہ فطری اور قابل فہم ہے۔ یقیناً اسلام کی پہلی نسل کے افراد فیصلہ سازی میں قرآن کو کلیت میں دیکھنے کے عادی تھے اور انفرادی آیات سے رجوع کی روایت نہیں تھی الا یہ کہ آیات کازیربحث مسئلے سے براہ راست تعلق ہوتا۔ ہاں وہ زیادہ موزوں طور پر حیات النبی سے کوئی کنکریٹ نظیر تلاش کرتے تھے یا پھر عمومی اور مجموعی مقاصد قرآن کے تحت رائے اختیار کرتے تھے۔ اسی اصول و روایت کے تحت عمر رضی اللہ عنہ نے فتح عراق کے بعدمفتوحہ اراضی کو فاتح سپاہ میں تقسیم کرنے سے انکار کردیا تھا باوجود اس کے کہ جزیرۃالعرب میں رسول اللہ کی مسلمہ روایت یہی تھی کہ مال غنیمت میں ملنے والی زمین اورمال و دولت کو اللہ اوررسول کا حصہ نکال کر سپاہیوں میں تقسیم کردیا جاتا تھا اور یہی حکم قرآں بھی تھا۔ عمر کا خیال تھا کہ رسول اللہ کی عرب علاقوں میں بروئے کارلائی جانے والی اس روایت کا اطلاق موجودہ صورت حال پر نہیں کیا جاسکتا جب ملک بہ ملک اسلام کی فوجی اور سیاسی اقلیم کا حصہ بن رہے ہوں۔ یہ رائے قرآن کی کسی مخصوص آیت کے برعکس سماجی انصاف اور میرٹ سے متعلق قرآن کے مفہوم کلی کوسامنے رکھتے ہوئے قائم کی گئی۔ جب اپوزیشن کی جانب سے بصد اصرار کنکریٹ دلیل مانگی گئی تو عمر نے دوسرے مرحلے میں قرآن سے رجوع کیا، الحشرکی آیت نمبر7 اور 10 کا حوالہ دیا تو آپ کی رائے کو تسلیم کرلیا گیا۔

سیرت فہمی کے باب میں ایک بڑاعقدہ معجزات کا بیان ہے۔ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ دیگر انبیا کو مختلف معجزات دیئے گئے، رسول اللہ کا معجزہ عظیم قرآن ہے۔ ابن خلدون کے مطابق دیگرانبیا عالم سکریعنی اتصال باللہ یا عالم وحی میں پیغام خداوندی کا صرف آئیڈیا یاتصور پایا کرتے اور عالم صحویعنی نارمل حالت میں آنے کے بعداس تصور وحی کو اپنے الفاظ کا پیراہن پہنا کر پیش کردیا کرتے تھے۔ چونکہ وہ عام بشری الفاظ تھے اس لیے ان میں دیگر انسانوں کے جملے راہ پاتے رہے اور وہ کتب سماویہ تحریف کا شکار ہوئیں۔ تاہم قرآن جہاں تصور خداوندی ہے وہاں اس کے الفاظ محاورات، ڈکشن اور اسلوب سب من اللہ ہے۔ اس لیے ممکن نہیں کہ انسانی اسلوب اس میں راہ پاسکے۔ یہی اس کی محافظت اور مصنونیت indelibility of Quran کا راز ہے۔ یہی وجہ ہے اہل کفر نے جب جب رسول اللہ سے معجزے کی فہمائش کی قرآن نے یہ مطالبہ رد کیا۔ قد تبین الرشد من الغی یعنی حق و باطل کودلیل کی بنیاد پر الگ الگ کردیا گیا ہے اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی! رسول اللہ کی معجزات کیلئے بے تابی جب حد سے بڑھی کہ ممکن ہے معجزوں کے سہارے پیغام الٰہیہ کا قبول عام ہوجائے۔ حکم باری تعالیٰ ہوا کہ کیا پہلے آنیوالوں کے معجزات کو رد نہیں کیاجاتا رہا اوراس مطالبے کی کوئی حدہے کہ بنی اسرائیل والوں نے یہاں تک مطالبہ کردیا تھا کہ خدا اگر کوئی وجود رکھتا ہے توہمیں نظرکیوں نہیں آتا اور ہم سے محوکلام کیوں نہیں ہوتا؟۔ قرآن نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا مکالمے اور مناظرے کیلئے صرف دلیل اوربرہان کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اور اے رسول اگرآپ پھربھی معجزے کے خواستگارہیں تو معجزے کی تلاش میںں کسی سیڑھئ کے ذریعے آسمان پرچڑھ جائو یا زمین میں کوئی سرنگ کھود لو(6:35) ۔

درحقیقت معجزات سے متعلق قرآن کا یہی موقف ہے کہ معجزات ناپختہ اور امیچور انسانیت کی ضرورت تھے اس لیے انبیائے سابق کو بطور علامت معجزات کی ضرورت رہی تھی۔ اور دیگر انبیا کا پیغام مقامی مخصوص کمیونٹیز کیلئے تھا اس لیے مقامی زماں ومکاں اور دیگر علل کے پیش نظران کا پیغام انہیں اقوام کے سماجی حالات اور دانش عام کیمطابق تھا تاہم آفاقی پیغام قرآن تاریخ کے اس موڑ پر نازل ہوا جب انسانی دانش عام اپنے ارتقائی سفرکی مابدولت معجزات کی مدد کے بغیر پیغام الہیہ کو سجھنے کا درک رکھتی تھی۔ یوں ذات خداوندی نے الاسریٰ کی آیت 59 میں باب معجزات بند کر دیا۔ ڈاکٹر اسد اور ڈاکٹر فضل الرحمان بالاتفاق اس آیت مبارکہ کو اسی سیاق وسباق میں دیکھتے ہیں۔ دوسری جانب (6:109) میں انمالآیات عنداللہ (حامل معجزات صرف خدا ہے) کہا گیا ہے۔ معجزہ جہاں مظاہرفطرت میں کسی امر کا خلاف مشاہدہ و معمول ہونا ہے وہاں اخلاقی سچائیوں کوبھی معجزہ کہاگیاہے کہ اگرخدااپنی رحمت جلیلہ سے ان روحانی اخلاقی حقائق کو بواسطہ انبیا انسانیت تک نہ پہنچاتا انسان انہیں نہیں پاسکتا تھا۔ تاہم زیادہ گہرائی سے دیکھا جائے تو ولن تجدلسنتۃ اللہ تبدیلا کے مصداق مظاہر فطرت (کتاب المشہود) اور روحانی اخلاقی پیغام خداوندی (کتاب المسطور) میں کچھ بھی ایسا نہیں جسے سپرنیچرل کہا جائے سب مقتضا و قوانین فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال مظہر وحی کوبھی کسی ماورالعقل معجزے کے برعکس عین سائنسی حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

Indeed the way in which the word Wahi is used in the Quran shows that the Quran regards it as a universal property of life; though its nature and character are different at the different stages of the evolution of life. The plant growing freely in space, the animal developing a new organ to suit a new environment, and a human being receiving light from the inner depths of life, are all cases of inspiration varying in character according to the needs of recipient, or the needs of the species to which the recipient belong.

اقبال کا موقف ہے کہ اسلام نے انسانیت کو استخراجی سے استقرائی عقل کیطرف جست عظیم عطا فرمائی۔ اور اس cognitive revolution نے irrational modes کو جن کے ذریعے خداتعالیٰ انسانیت سےمخاطب رہا تھا انہیں rational faculties کی پرداخت نمو اور ترقی کیلئے دائم بند کر دیا۔ قرآن کا ابدی پیغام موجودہے اب انسان کو اپنے وسائل فہم پر انحصار کرنا ہوگا اس کی رہنمائی کیلئے قرآن تاریخ، جغرافیہ، مظاہرفطرت اورنفس انسانی پر غوروخوض کی جابجا دعوت دیتا ہے۔ ختم نبوت کا یہی فلسفہ ہے کہ وحی کی بیساکھی کے بغیرانسان اب خودچلنا سیکھے گا۔ اسے محرومی کے بجائے خدا کا انسان پراعتماد سمجھا جائے۔

انسان اس اعتماد پرکس قدرپورااتررہا ہے اورکہاں ٹھوکر کھا رہا ہے یہ عہد حاضر کا سب سے بڑا سوال ہے۔ معلوم تاریخ کیمطابق زندگی جو پتھرکے زمانے سے شروع ہوئی، آئرن ایرا، زرعی معاشرت اورصنعتی عہد سے قلانچیں بھرتی ہوئی کارپوریٹ دور اور سائبر ایرا تک پہنچی اورنہ جانیں کہا ں کا قصدکیے ہوئے ہے؟۔ نوم چومسکی کے مطابق ایٹمی اسلحہ خانوں اور ماحولیاتی چیلنجز کے باوصف، سیارہ زمین پرحیات (اسپشیز کاوجود) چھٹی معدومیت 6th extinction کی ڈھلوان پر کھڑی ہے۔ پانچویں معدومیت 65 ملین سال قبل زمین پرایک سیارچہ asteroid گرنے سے ہوئی تھی اورآج اس سیارچے کی جگہ انسان خود لے چکا ہے.۔ سوال یہ ہے کہ تاریخ انسانی کے ان فقیدالمثال جدیدترین بحرانوں میں قرآن اور سیرۃ النبی سے کوئی رہنمائی مل سکتی ہے جس کا جواب برناڑڈ شا نے اثبات میں دیاتھا؟۔ جدیدسیاسی فلسفے کے معروف اسکالر ٹامس ہابز Thomas Hobbes نے رومن ضرب المثل کودوہراتے ہوئے کہا تھا کہ Man is a wolf to man. جوزف ڈی میسٹرے نے جواباًکہا تھا It is unfair to wolves, who do not kill for pleasure. شریعتی نے کہا تھا سائنسی ترقی کا یہ عالم ہے کہ انسان مریخ پرمیزائل داغ رہا ہے اوراخلاقی بحرانوں کا یہ حال کہ چندڈالرزکے عوض قومی راز ببکتے ہیں۔ سائنسی ترقی جس کا منہ چڑاتے ہوئے ول ڈیورانٹ نے کہا تھا کہ پرچون کے حساب سے زندگی بچاتی ہے اورتھوک کے حساب سے مارتی ہے۔ کیپٹلزم نے حتمی تجزیے میں انسان کو پیداواری پہیے کا ایک حقیر سا دندانہ بنادیا ہے۔ شیشہ آدم کمیونزم اورکیپٹلزم کے دوپاٹوں کے درمیان پس گیا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطابق یہ جدید عہد انسان کو خود انسان سے بچانے کا خواستگارہے۔ انسانی معاشرت ذرائع پیداوار میں فقیدالمثال تغیروتبدل سے آشنائی کے سبب جوہری تبدیلیوں سے گزررہی ہے۔ عالم اسلام پرفرض ہے کہ وہ اپنی اور دیگر اہل دنیا کی بھلائی کیلئے قرآن اورسیرۃ مصطفوی کو تازہ کاری کے ذریعے بقائے انسانی کیلئے بروئے کارلائے۔

اس تناظر میں قرآن اورسیرۃ کی تفہیم جدیدکیلئے ڈاکٹر فضل الرحمان منفردجینئس کی حامل شخصیت تھے کہ جہاں ایک طرف درس نظامی کی تعلیم سے وہ اسلام کے اصول و مبادی کا گہرا درک رکھتے تھے وہاں مغرب کی جدید جامعات سے تحصیل علم نے انہیں تحقیق و تدقیق اوردریافت کے جدید tools & techniques سے ایسا لیس کیا تھا کہ حقائق کی چھان بین اور فلسفہ تاریخ والٰہیات کی مددسے وہ اسلام کی تاریخیت unfoldment in history پر بھی عظیم سند کا درجہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر اقبال احمدکا یہ گلہ کہ مغرب میں روشن خیالی کی تحریک سے تاریخ اور الٰہیات کی تعبیرنو کے جوبڑے بڑے در وا ہوئے تھے عالم اسلام کیلئے سیکھنے کے نادر مواقع میسر آئے تھے مگر ملائیت سدراہ بنی، فضل الرحمان نے کٹھن اسکالرشپ کا راستہ اختیارکرکے اس گلے کا ازالہ کیا۔ علامہ اقبال نے خطبات میں لکھا تھا کہ عالم اسلام کو مغرب کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے اور یوں مغرب سے وہ چیز واپس لینے کے مترادف ہوگا جو ہم نے اپنے عہد عروج میں مغرب کوودیعت کی تھی۔ اقبال کے نزدیک تہذیب مغرب اسلام کی توسیع شدہ شکل extended form ہے.- اہل علم و فکر میں یہ ایک مضبوط تاثرپایاجاتاہے کہ فلسفہ تاریخ کی اقلیم پر اشپینگلر اور ٹوائن بی ابن خلدون کا تسلسل ہیں اور الٰہیات کی اقلیم پر تھامس ایکوئنس اور پاسکل وغیرہ امام غزالی کی توسیع شدہ شکل ہیں۔ مغرب تہذیب اسلامی کے ممنون احسان ہونے سے مفراختیارکرتے ہوئے اپنے تہذیبی ڈانڈے یونانی تہذیب سے ملاتاہے مگر یہ حقیقت کیونکر فراموش کرسکتا ہے کہ یونانی فلسفہ بھی مغرب میں مسلمانوں کے ذریعے پہنچا۔ ابن رشد سے کوئی بڑا فلسفی یا شارح ارسطو مغرب کو میسر نہیں ہوا۔

ڈاکٹر فضل الرحمان نے مشرقی و مغربی اور قدیم و جدید دستیاب سرمایہ علم سے فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا کام وہاں سے آگے بؑڑھایاجہاں اقبال نے خطبات یعنی Reconstruction of Religious thought in Islam میں چھوڑا تھا۔ اس گراں قدر کارنامے کو سرانجام دینے کیلئے فضل الرحمان نے غالباًتاریخ اسلامی میں پہلی بارکامیابی سے قرآن اورسیرت کی دوئی کووحدت میں سمویا۔ وہ عرفی کے مصرعے کی طرح شمع قرآن کوشمع رسالت سے اورشمع رسالت کو شمع قرآن سے روشن کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرفضل الرحمان کا تصور سیرت قرآن سے ماخوذہے۔ وہ قرآن کوسیرت اور سیرت کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ فضل الرحمان کے نزدیک قرآن اور سیرت النبی کا محور و مرکز اور فلکرم دو نکاتی ایجنڈا تھا۔ پہلا الٰہیاتی نکتہ ایک خدا ایک انسانیت کا تصور یعنی خدا ایک ہے تو انسانیت بھی بلاتفریق رنگ و نسل ایک ہے۔ دوسرا نکتہ اس تصور کو تاریخ کے گوشت پوست میں انجیکٹ کرنا تھا کہ پہلا الٰہیاتی نکتہ اپنی عملی تعبیر اختیار کرلے۔ کیونکہ آپﷺ انی رسول اللہ الیکم جمیعاً کا مصداق تھے اس لیے اس پہلے الٰہیاتی تصور کی عملی تعبیر عالمی توحیدی معاشرت کے قیام کی خواستگار تھی۔ عالمی توحیدی معاشرے کا عملی مظہرصرف اور صرف زمین پر عالمی مساویانہ سماجی معاشی اورسیاسی نظام اخلاق کی تشکیل وتجسیم Egalitarian socio-economic and political cultural moral world order تھی۔ ڈاکٹر فضل الرحمان امام غزالی اورشیخ احمد سرہندی سمیت دیگر چند متکلمین کی رائے سے کلیتاً متفق ہیں کہ قرآن قلب رسول پر مفہوم کلی کیساتھ یکبار نازل کیا گیا اور دوسرے مرحلے میں سیاق وسباق کے اعتبار سے آیات کی شکل میں تیئس سال تک نازل ہوتا رہا۔ یوں عالمی نظام اخلاق کی تشکیل و تجسیم کا تصور رسالت کوئی ایسا تصورنہیں تھا جس نے عہد مدینہ کے سازگا ماحول میں موقع پرستی سے آنکھ کھولی ہو، پیغام مصطفوی کا مکہ کے مذہبی سیاسی اور معاشی اجارہ داروں پربرق بن کر گرنا اور اوائل نبوت کی مکی سورتوں کے گاڑھے اور مرتکز پیغام سے عیاں ہے کہ اسلام نے اپنے کیرئر کا آغاز کار ہی سیاست اور جہاد سے کیا جس کا اول و آخر مقصود زمین پر مبنی برانصاف سماجی نظام اخلاق کا قیام تھا۔

العلق میں ارئیت الذی ینھیٰ عبداً اذا صلیٰ کے باب میں محمد اسد کا نکتہ نظریہی ہے کہ یہاں نمازسے روکنے کا مطلب سماجی معاشی اورسیاسی معاملات کی تشکیل وتجسیم کے باب میں مذہب کے بنیادی کردارسے انکار کرنا ہے۔ روکنے والے کا نکتہ نظریہ ہے کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے اوراسے اجتماعی سماجی معاملات کی تشکیل کا کوئی حق نہیں ہے۔ مذہب کے سماجی معاشی اورسیاسی معاملات میں کردارسے مذہبی سیاسی اور معاشی اجارہ داروں کے مفادات پر زد پڑتی ہے۔ بولھوسی اور اشتہا پرستی کا پہلا مطالبہ مذہب کونجی معاملہ بنانے پر اصرار ہوتا ہے۔ کعبۃ اللہ کا مجاور مکے کا امیر ترین شخص ابولہب تھا، سیاسی اجارہ داری ابوجہل اوردیگرسرداران قریش کے پاس تھی۔ معاشی استحصال سود خور تاجروں کے ہاتھوں برپاتھا۔ جملہ اجارہ داریوں کو چیلنج کرنے پردین مصطفوی نے مکہ کے status quo کے اسٹیک ہولڈرز کے اوسان خطا کر دیئے۔ اس نفسیاتی صورت حال کی قرآن نے یوں منظرکشی کی ہے کانھم حمرمستنفرہ فرت من قسورہ یوں لگا جیسے گدھوں میں شیرگھس آنے سے گدھے حواس باختگی کے عالم میں بدکنے لگتے ہیں(74:50-51)۔ کفارمکہ کی یہ حالت ان کے سماجی معاشی اور سیاسی مفادات پرزد پڑنے کی وجہ سے ہوئی۔

پیغمبر انقلابﷺ کا دو نکاتی ایجنڈا یعنی ایک خدا ایک انسانیت اور کرہ آب وخاک پرسماجی نظام اخلاق کا قیام اعلان نبوت سے لیکر دم واپسی تک (رحلت مبارکہ) اٹل منصوبہ اور لائحہ عمل رہا۔ اور کیونکہ سماجی معاشی اور سیاسی اخلاقی اقدار کو انسانوں کی اکثریت نے کبھی تبلیغ محض سے قبول نہیں کیا تھا اس لیے ان کے نفاذ کیلئے طاقت کا مجتمع کرنا ناگزیر تھا۔ چونکہ بارگاہ ایزدی سے قل انی رسول اللہ الیکم جمیعاً کا اذن ہوا تھا اس لیے آپﷺ یہودونصاریٰ کو بھی اس پروگرام کے تحت اپنے پیغام توحیدمیں سمودینا چاہتے تھے۔ مگرانسان کی ارتقائی مجبوریاں آڑے آگئیں اس صورحال نے آپﷺ کو انتہائی بھاری الٰہیاتی مسئلے سے دوچار کیا۔ جو لیٹ مکی عہد سے وسط مدنی عہد تک قرآن ایڈریس کرتا دکھائی دیتا ہے۔ قرآن نے اہل کتاب کو بطور الگ الگ کمیونٹیز تسلیم کرکے امت مسلمہ کوامت وسط اوربہترین امت قرار دیا اور کثیرالمذہبی دنیا مسابقت کیلئے مشیت الٰہیہ قرار دیا گیا اور فاستبقوالخیرات کا حکم دیا گیا۔ رسول اللہﷺ نے منتہائے بصیرت اور آہنی عزم سے اہل جہاں کوایک مبنی برانصاف مساویانہ سماجی معاشی اورسیاسی نظام اخلاق کے قیام کا عقدہ حل کرکے دکھایا۔ قرآن اور سیرت مصطفوی اپنی کلیت اورجامعیت میں اسی دونکاتی ایجنڈے کا اجمال اورتفصیل ہیں۔


درج بالا مضمون سیرت مجتبیٰﷺ کا اجمالی جائزہ پیش کرتا ہے۔ وہ کیا تاریخی عوامل ہے کہ جن کی وجہ سے اہل اسلام میں فہم سیرت گہنا سا گیا۔ آج مسلمانوں کے روحانی، سیاسی، سماجی اور معاشی احیا کے لئے سیرتﷺ سے کیا رہنمائی مل سکتی ہے، اس کے لئے ہمارا مفصل مضمون "سیرت مصطفیﷺ کی تفہیم جدید اور ڈاکٹر فضل الرحمٰناس لنک پہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ مضمون اپنے موضوع پہ بہت وقیع اور اہم ہے۔

Advertisement

Trending