Connect with us

آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ

سیرت مصطفویﷺ کی تفہیم جدید اور ڈاکٹر فضل الرحمان — ڈاکٹر غلام شبیر

Published

on

ڈاکٹر علی شریعتی لکھتے ہیں اسلام تاریخ عالم کا واحد مذہب ہے جس نے اپنے کیرئر کا آغاز سیاست اور جہاد سے کیا تھا(۱)۔ شریعتی تینوں مذاہب ابراہیمی (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کو پارسیت، ہندویت، بدھ ازم، تائو ازم اور کنفیوشس ازم سے ہیئت و ترکیب میں مختلف اور منفرد قرار دیتے ہیں کہ جہاں مشرق بعید کے ان مذاہب کے بانینان کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ طور پر شاہی عدالت سے رہا ہے اور یہ مذاہب بجا طور پر اشرافیہ کے مذاہب ہیں مذاہب ابراہیمی کا ہر نمائندہ (ابراہیم وموسیٰ اور عیسیٰ و محمد) عام آدمی کی حیثیت سے چرواہا تھا اور عام آدمی کیلئے دربار شاہی کیخلاف سینہ سپر ہوا۔ یوں اسلام اپنے بہترین اظہاریوں میں مظلوم طبقات کا مذہب ہے۔ ڈاکٹر کلیم صدیقی نے اپنے مقالے بعنوان سیرۃ النبی کی سیاسی جہات میں لکھا ہے کہ قرآن کا مدعا اگر ایک جملے میں بیان کرنا چاہوں تو وہ یہ ہے کہ اقتدار کیسے کرپٹ عناصر سے چھین کر صالح ہاتھوں کو سونپا جاسکتا ہے۔ یوں جہاں زرتشت، گوتم بدھ، تائو اور کنفیوشس دربار شاہی کے خوان نعمت کو چھوڑ کر دربارشاہی ہی کی معاونت سے اپنے مذاہب کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھاتے ہیں وہاں مشرق وسطیٰ کے دین ابراہیمی کے پیامبر دربار شاہی سے تصادم اختیار کرتے ہیں کہ بحر افلاس میں خال خال مال و تمول کے جزیرے فطری امر کے برعکس کسی بڑی بے قاعدگی اور ظلم وجبرکا شاخسانہ ہیں۔ مشرق بعید کے مذاہب جہاں تاریخی عمل اور جبر سے فرار سکھاتے ہیں وہاں مشرق وسطیٰ کے مذاہب ابراہیمی تاریخی جبر اور عمل سے رزم آرائی کا درس دیتے ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمان کے فہم قرآن و سیرۃ النبیﷺ کا مرکز ثقل بھی سیاست اور جہاد ہے بشرطیکہ سیاست سے مراد نہ تو میکیاولی کی ماورا الاخلاق عملیت پسند مغربی طرز سیاست ہو اور نہ ہی پنڈت چانکیہ کی بزدلانہ فریب خوردہ سیاست اور جہاد بھی قتال محض کے برعکس ایک نظام اخلاق کی تلاش، اعلان اور اطلاق کیلئے ہمہ جہت جہد مسلسل کا نام سمجھا جائے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطابق جہاں اسلام کی ترویج اور اشاعت کو تلوار کا مرہون منت قراردینا حقائق کا الٹ پھیر ہے وہاں اسلام کی اشاعت اور ترویج کو بدھ ازم یا عیسائی (باوجود یکہ بدھازم اور عیسائیت نے بھی وقتاً فوقتاً مسلح جدوجہد کی ہے) طرز تبلیغ پر مامول کرنا بھی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔“ تاہم جہاں اہل اسلام نے بزور تلوار اسلام نہیں پھیلایا وہاں اسلام نے سیاسی طاقت کے حصول کو اپنی بقا اور اشاعت کیلئے ناگزیر سمجھا اور وہ اس لیے کہ اسلام خود کو رضائے الٰہی کا منبع و سرچشمہ اور امین قرار دیتا ہے جس کی بجا آوری ایک مضبوط سیاسی نظام کے بغیر ایک اندھے کا خواب اور دیوانے کی بڑھ ہے۔ اس طرح اسلام کو کمیونسٹ اسٹرکچر سے متشابہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ اگرچہ یہ لوگوں کو کمیونزم کی طرح بالاکراہ و جبر اپنے عقیدے کا پابند نہیں بناتا تاہم اپنے پروگرام کی عملی تعبیر کیلئے سیاسی طاقت کے حصول اور سیاسی نظم و نسق کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ اس امریا حقیقت سے مکرنا تاریخ کو جھٹلانا اور اسلام سے ناانصافی برتنا ہوگا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان قرآن اور اسوہ رسول کو تاریخ کی اخلاقی تجسیم پر مامور قرار دیتے ہیں۔

“We must remember that Muhammad was not by temperament an aggressive or obtrusive man- indeed, a close study of his character reveals a naturally pensive, introverted, shy, and withdrawn personality who had been impelled by an inner urge born of an acute perception of the existential human situation to enter the arena of historic action (2).”

ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ محمدﷺ مزاجاً جارح یا خودپسند نہیں تھے۔ آپ کے طور اطوار کا قریبی جائزہ ایک خاموش طبع، رہن خود شناس، شرمیلے اور تنہائی پسند شخص کا خاکہ پیش کرتا ہے جو ایک واقعاتی انسانی صورت حال اور المیے کے باوصف باطنی مجبورکن جذبے کے تحت تاریخ کے اکھاڑے میں داخل ہوا تھا”۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وحی قرآنی بالخصوص ابتدائی عہد میں اسٹییکوٹو قسم کی تندی و جولانی کا متلاطم جوہرکیوں رکھتی ہے؟ اور ابتدائے وحی کی آیات کے مختصر جملوں کے اظہاریے میں ایک ابلتے لاوے یا چھوٹے دہان کی ندی سے وسیع الجثہ دریا کے گزرنے کا منظر کیوں دکھائی دیتا ہے۔

اسلام کے مغربی نقاد جنہیں ایڈورڈ سعید مغربی استعمارانہ مفادات کے محافظ ملازمین قرار دیتا ہے اور ڈاکٹر اقبال احمد جنہیں Western academic orthodoxy اور ان کے رشحات قلم کو Rigged scholarship قرار دیتا ہے استثنا اپنی جگہ ان کی اکثریت نے اسلام کو گاہے یہودی تصورات کا چربہ، گہے عیسائی افکار کی ملمع کاری اور صحرائے عرب کے یک رخے مظہر بدویت کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ اہل مکہ سے کچھ نیک طینت افراد ایسے تھے جنہوں نے غوروفکر کے جوہر ذاتی سے بت پرستی کو رد کردیا تھا اور وہ ایک خدا کے تصور پر پہنچ چکے تھے۔ اس مذہبی عمل تبخیر Religious fermentation سے ابھرنیوالے مواحدین کو قرآن حنفا قرار دیتا ہے۔ متعصب مستشرقین نے حنفا کے بیان کو بطور طرح مصرعہ لیا اور قافیہ و ردیف سے انحراف برتتے ہوئے بے آہنگ غزل بندی کی ہے۔ مستشرقین کا موقف ہے کہ انہیں حنفا کے تصور توحید کو پیغمبر اسلام نے یہودی اور عیسائی افکار میں ملفوف کرکے ایک نئے مذہب کے طور پر پیش کیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمان لکھتے ہیں۔

”It is true that some had arrived at a monotheistic conception of religion; but there is absolutely no reason to believe that their One God was exactly the One God of Muhammad. For Muhammad’s monotheism was, from the very beginning, linked up with humanism and a sense of social and economic justice whose intensity is no less than the intensity of the monotheistic idea, so that whoever carefully reads the early Revelations of the Prophet cannot escape the conclusion that the two must be regarded as expressions of the same experience(3)”.

یہ درست ہے کہ کچھ مذہب کے توحیدی تصور کو پہنچ چکے تھے تاہم یہ فرض کرلینا قطعاً ضروری نہیں کہ ان کا خدائے واحد بعینہ وہی تھا جس خدائے واحد کی تلقین حضور علیہ الصلوٰۃ و اتسلیم فرما رہے تھے۔ محمد کا تصور توحید ابتدائے آفرینش سے ہی انسان دوستی اور سماجی اور معاشی انصاف سے جڑا ہوا تھا جس کی شدت خود تصور خدائے واحد کی شدت سے کسی طور کم نہیں ہے۔ جوبھی ابتدائی عہد کی آیات قرآنی کا بغور جائزہ لیتا ہے بلامشروط اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ توحید الٰہیہ کا تصور اور انسان دوستی پرمبنی سماجی اور معاشی ابصاف کا بیانیہ ایک ہی مذہبی تجربے کا حاصل اور اظہار ہیں۔

کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ یہ وہ ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے اور یتیموں کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دلاتا۔ سو خرابی ہے ان نمازیوں کیلئے جو اگرچہ نماز پڑھتے ہیں مگر نمازوں کے جوہر سے غافل ہیں، یہ دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کو برتنے کی اشیا نہیں دیتے (الماعون)۔ عہد مکی کی آیات کا یہ ولولہ اور طنطنہ ہے جو بعد ازاں مدینہ میں اسلامی معاشرت کے قیام سے نتیجہ پذیر ہوتا ہے۔ مفسرین کا کہنا ہے کہ ماعون کی پہلی دو آیات مکی عہد کی ہیں اور باقی مدنی عہد سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ عہد مکہ میں آفاقی اسلام کا دائمی اخلاقی بیانیہ دیا جارہا ہے اور سیاسی طاقت سے محرومی کے باوصف سلسلہ احکام شروع نہیں ہوا جو پولیٹیکل آرڈر کے ہاتھ آنے سے مشروط ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ مکہ میں سیاسی طاقت کےحصول کی جدوجہد عنقا ہے، عہد مکہ کے مفلوک الحال اور کمزور مظلومین کا احوال، شعب ابی طالب کا تین سالہ قیام اور ہجرت حبشہ وغیرہ ایسے دلائل ہیں کہ مکہ کے سیاسی مذہبی اور سرمایہ داراجارہ داروں سے اسلام معرکہ آزما ضرور ہے اور ان کے مفادات کو زک پہنچی ہے جس نے مخالفت کو دوآتشہ کیا ہے۔ مکہ چونکہ پورے صحرائے عرب کی کمرشل اور مذہبی سرگرمیوں کا سنگم ہے اس لیے اس کی اہمیت مقدم ہے۔ اگرچہ مکہ نے مجموعی طور پر اسلام کو ردنہیں کیا تاہم اس کے سیاسی کنٹرول کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آرہا تھا جس نے دوسرے امکانات کی طرف جیسے سفر طائف یا ہجرت مدینہ پر پیغمبر اسلام کو مجبور کیا۔ اگرمکہ کی سیاسی قیادت کے واضح امکانات دکھائی دیتے تو سفر طائف یا ہجرت مدینہ کا خیال جنم ہی نہ لیتا۔ تاہم ہجرت مدینہ بھی مکہ کو دائم خدا حافظ کہنے سے عبارت ہرگز نہیں تھا بلکہ دوسری جگہ طاقت مجتمع کرکے واپس مکہ کا سیاسی کنٹرول سنبھالنا پھر اس کے ذریعے صحرائے عرب کو اسلام کا گہوارہ بناکر باقی دنیا کیطرف پیش قدمی کرنا تھا جو کہ قیصروکسریٰ اور مصرکے گورنر مقوقس کے نام پیغمبر انقلاب کے دعوت اسلام کیلئے لکھے گئے خطوط سے ظاہر ہے۔ سورۃ ماعون میں بیان کیے گئے تصور خدائے واحد اور سماجی و معاشی انصاف پر زور ایسا یکساں طور پر ملتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان ایسا نامیاتی تعلق برپا ہے کہ ایک کا انکار لازمی طور پر دوسرے کا انکار متصور ہوتا ہے۔ یوں اگرچہ قبل ازاسلام کوئی حنفا کا مبہم سا تصور توحید مکہ میں موجود تھا تاہم تاریخ ایسا بتانے سے عاجز ہے کہ یہ تصور توحید کسی ایسی تحریک سے منسلک ہو جس کا ایجنڈا سماجی اصلاحات ہو۔

مستشرقین کا رومانوی تصورکہ اسلام صحرائے عرب کے monotonous مظہر بدویت کی پیداوار ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان اسے اس بنیاد پر رد کرتے ہیں کہ ناصرف یہ کہ اسلام کا ظہور مکہ کے سرگرم کمرشل اور مذہبی ماحول میں ہوا بلکہ قرآن بدوی حیات اور غیرمہذب حسیات اور نامعقول رویوں کا شدید ناقد بھی ہے۔ محمدﷺ پیدائشی یتیم اور حساس ہونے کے باوصف مکہ میں رائج سماجی ناانصافیوں، سیاسی استحصال اور معاشی ناہمواریوں سے متعلق یوں اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہیں کہ سماجی معاشی اورسیاسی استحصالی صورت حال اور انسانی مقام ومنزل کے درست ادراک کیلئے آپ کا بیشتر وقت عظیم غارحرا کی تنہائیوں میں کٹنے لگا۔ اسفارواشغال تجارت کو بھی ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو آپﷺ زندگی کی مکانی اور روحانی جہات کی تلاش میں یکساں طور پر مصروف کار ہیں۔ قرآن کی شہادت یہی ہے کہ یہ کسی منصب نبوت کی امنگ کے برعکس ذہن مصطفویﷺ کے فطری رجحان کا نتیجہ ہے(28:85-89)۔ لیزلے ہزلٹن لکھتی ہیں کہ محمدﷺ اور خدیجہ کا رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا تجارتی منفعت اور دیانتداری سے بھی ماورا درد کا مشترک ہونا ہے۔ خدیجہ نے جب اپنے غلام میسرہ سے پوچھا کہ محمد مال تجارت سے ملنے والی رقم کا کیا کرتے ہیں؟ وہ بہت ضروری خرچ کی محدود رقم رکھ کر باقی سب بیوائوں بے آسروں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کردیتے ہیں میسرہ کا جواب تھا۔ مکہ کے استحصالی سماجی معاشی اور سیاسی نظام نے خدیجہ کو بھی یونہی زودپریشاں کر رکھا تھا چناچہ انسانی دردوالم کا یہی مشترکہ ورثہ عقد محمد و خدیجہ کا سبب بنا۔ ہزلٹن لکھتی ہیں کہ اہل مکہ دولت آنے پر حریر ریشم پہنتے اس پر سونے کے تاروں کی کشیدہ کاری ہوتی، شام اور روم میں محل تعمیر ہوتے اور موسم کی مناسبت سے وہاں قیام کیا کرتے مگر خدیجہ کیساتھ نکاح سے بے تحاشا دولت آنے کے باوجود محمدﷺ تو اپنے جوتوں کے وہ تسمے اور اپرز بھی تبدیل نہ کرسکے جن کا رنگ دھوپ میں چلنے پھرنے سے اڑگیا تھا۔

ڈاکٹر فضل الرحمان کے الفاظ میں مکہ کا استحصالی سماجی معاشی اورسیاسی نظام اور اس کے بوجھ تلے دبی انسانی کراہیں اور سسکیاں تھیں جنہوں نے ایک حساس طبع شخصیت کی کمر توڑ رکھی تھی اور اس عقدے کے وا کرنے کیلئے آپ غار حرا میں طویل مراقبوں پر مجبور ہوئے تھے۔ پھر ستائیس رمضان کی وہ مبارک رات تھی جب غار حرا پہلی وحی کے نزول سے بقعہ نورہوئی جس کی روشنی عالم کے اطراف واکناف تک پہنچی۔ قرآن نے اسی امر کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا الم نشرح لک صدرک ووضعنا عنک وزرک اللذی انقض ظہھرک۔ کیا ہم نے آپ کا دل کھول نہیں دیا اور وہ بوجھ اتار نہیں دیاجو آپ کی کمرتوڑے جارہا تھا۔ تاہم ایک بوجھ اتارنے کے بعدپیغمبرؑ کے کندھوں پر دوسرا بوجھ ڈال دیا گیا جسے انا سنلقی علیک قولاًثقیلاً کہا گیا یعنی ہم آپ پرایک بھاری بھرکم بوجھ ڈالنے والے ہیں (73:5)۔ یعنی وحی سے جو نظام اخلاق و اقدار آپ پر نازل ہوا ہے اسے کامیابی سے تاریخ کے گوشت پوست میں پیوست کرنے کی ذمہ داری مراد ہے۔ یاایھالمزمل اور یاایھالمدثر کے خطاب سے بھی یہی مترشح ہے کہ اے چادر اوڑھ کرسونے والے یا اے کمبل میں آرام فرما پیغمبریا اے نیند کی اوڑھنی میں آرام فرما رسولﷺ یا اے بحرخودی کے قلزم خاموش کے غواص عالی مرتبت، تلاش حق کا سفر اتمام کو پہنچا اب اعلان و نفاذحق کیلئے اٹھ کھڑے ہو! امام رازی لکھتے ہیں کہ محمدﷺ پر پپیغمبرانہ مشن کے آغاز کار سے پہلے خلوت نشینی کا شدید جمود طاری ہے، اور طبعی میلان اتصال باللہ کے پرکیف تجربے سے مخمور ہونے کے باوصف جلوت سے محترز ہے، ڈاکٹر محمد اسد اس لیے یا ایھالمزمل کا ترجمہ wrapped up in sleep or even wrapped up in oneself” “ بھی کرتے ہیں، امام رازی قم فانذر کے باب میں لکھتے ہیں کہ یہ طرز تخاطب بیان کرتا ہے کہ اے پیغمبرﷺ اٹھو اور خبردار کرو یعنی خلوتوں کے جام وسبو توڑ دیجئے اور عالم کے سامنے مخبراعظم اور مبلغ صادق کا فریضہ انجام دیجئے۔

عمومی تصوریہی ہے کہ غارحرا میں سورۃ علق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئیں تاہم امام غزالی اوشیخ احمد سرہندی سمیت دیگر کا متفق الیہ موقف یہی ہے کہ قرآن غار حرا میں بحیثیت مجموع لوح دل مصطفےٰﷺ پر نازل ہوا پھر اس کی آیات دوسرے مرحلے میں سیاق وسباق کی نسبت سے نازل ہوتی رہیں جن کا دورانیہ تیئیس سال ہے۔ یہ موقف یوں بھی صائب نظر آتا ہے کہ پہلی وحی کی پانچ آیات انسان کی فزیکل پیدائش اور پرداخت و نشوونما کا سائنسی نکتہ نظرپیش کرتی ہیں اور انسان کو منجانب اللہ فہم وادراک کی فیکلٹی زوربیان اور قلم برتنے کا فن ودیعت کرنیکا مقدمہ پیش کرتی ہیں۔ جبکہ رسول اللہﷺ وادی فاراں میں ایک پہاڑی چوٹی پر اپنے عزیزواقارب کے سامنےتوحید الٰہیہ کا ایک مکمل پروگرام پیش کررہے ہیں جو سماجی معاشی اورسیاسی انصاف کے بنیادی اصولوں سے مرصع ہے کہ اس نے پہلے ہی مرحلے میں مکہ کے مذہبی اجارہ داروں، سیاسی پنڈتوں اور سرمایہ دار ایلیٹ کو یکساں اور مشترک جارحیت پسند باغیانہ ردعمل پر مجبور کیا۔

جہاں غار حرا میں ایک طرف حقیقت مطلقہ سے مصافحہ ومعانقہ کی بدولت شرح صدر سے سرحیات کا عقدہ وا ہونے سے ایک بوجھ اتاردیا گیا وہاں انا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً کے حکم جلیلہ سے قرآن کے نظام اخلاق و اقدار کو کامیابی سے تاریخ کے گوشت پوست میں پیوست کرنیکا بھاری بوجھ ڈال دیا گیا۔ یوں

The whole subsequent inner history of the Prophet is thus set between two limits i.e. the frustration caused by the attitude of the Meccan, which was outside his control, and the endeavor to succeed, for it is a part of the Quranic doctrine that simply to deliver the Message, to suffer frustration and not to succeed , is immature spirituality(4)”.

پیغمبر اسلام کی بعد کی پوری تاریخ باطن دوحدوں کے مابین کارعمل ہے ایک طرف اہل مکہ کے رویوں سے ملنے والی مایوسی ہے جو آپ کے کنٹرول سے باہر ہے، دوسری جانب کامیابی کیلئے آپ کی جہدمسلسل ہے۔ کیونکہ یہ قرآنی عقیدے کا جزولاینفک ہے کہ ابلاغ محض اور تکلیفوں کی برداشت سے گزرنا مگر ناکام رہنا غیرترقی یافتہ نابالغ و ناپختہ روحانیت ہے۔۔۔ درحقیقت آپﷺ کے روحانی مذہبی تجربے اورقرآن سے ٹرانسپائر ہونے والے شعور حقیقی کا پرزور اصرار یہی ہے کہ ابلاغ محض کے برعکس تاریخ کی اقلیم پر کامیاب ہونا آپ پر فرض کردیا گیا ہے۔ اور جب آپﷺ اجزا و عناصر تاریخ کے مخالف پلڑے میں اپنے جوہر ادراک اورصلاحیتوں کو بھاری پاتے ہیں تو اخلاقی امیدوبیم Moral optimism کا ٹھاٹیں مارتا دریا موجزن ہے اس سے آپﷺ کی تاریخ میں پراثرہونے کی خو باطنی کشاکش اور کشمکش کو ایسا مہمیز دیتی ہے کہ خود خدائے محمد کو محمد کا وجود گھلتا اور پگھلتا دکھائی دینے لگتا ہے تو کیا آپ اپنی روح کو اس دردوالم میں پگھلا دینا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کی تعلیمات پر ایمان نہیں لارہے(18:6)۔ ہم نے قرآن آپ پر اس لیے نہیں اتارا کہ سدابہارغم آپ کا مقدر بنا رہے(20:2)۔

ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطالعہ قرآن و سیرت ﷺ کا محورومرکز، اور فلکرم fulcrum زمین پر ایک جامع نظام اخلاق Moral Order کا قیام ہے۔ یہ وہ سنگ میل یا ساحل ہے جس سے ہر آیت قرآن اپنی حتمیت میں ہمکنار ہو رہی ہے اور سیرۃ مصطفوی کا ہر پل واصل ہونا چاہتا ہے اورآیہ کائنات یامظاہر فطرت جس کیطرف اشارہ کررہے ہیں۔ فضل الرحمان کے نزدیک “الامانہ“ کا یہی مفہوم ہے جسے قبول کرنے سے زمین نے اپنی وسعتوں کے باوجود انکار کردیا تھا، پہاڑ اپنی مضبوطیوں کے باوجود ٹھٹر گئے تھے، آسمانوں کو اپنی بلندیوں کے باوجود جان کے لالے پڑگئے تھے، اس بارگراں کوحضرت انساں نے اٹھانے کی حامی بھری تودل یزداں کانپ اٹھا تھا انہ کان ظلوماً جھولا۔ بیشک یہ بڑا ہی ظالم اورجاہل واقع ہواہے۔ یہ بیان الٰہیہ باعتبار ٹاسک انسانی صلاحیت کارد نہیں ہے بلکہ ایک نرم گرم سرزنش ہے یا حوصلے اور سکت یعنی Temerity کی داد و تحسین ہے۔ و نفس وماسوٰھا کے ذریعے واضح کیا ہے کہ خالق ازل نے قلب انسانی پر ایسے قوانین ہدایت کندہ کر رکھے ہیں، اللذی خلقک فسوٰئک فعدلک۔ وہی ہے جس نے تمہیں حشووزوائد اور افراط و تفریط سے پاک پیداکیا تاکہ تم اس مقصد کی بجاآوری میں بروئے کارآسکو جس کیلئے پیداکیے گئے ہو۔ اوریہ وہی ٹاسک ہے جس کا روزازل انسان نے استعارتاً بحضور خدا تعالیٰ عہدوپیمان Primordial Covenant باندھا تھا۔ ” جب خدابنی آدم کی پٹھ اور سینے سے ان کی اولاد پیدا کرتا ہے تو کہتاہے اپنے اوپریا اپنی جانوں پرگواہ رہو کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ہاں اے رب تعالیٰ ہم اس امر پر گواہ ہیں (7:172)۔ تمثیلاً بیان کیا گیا ہے جیسے کوئی کمپنی پروڈکٹ بناتی ہے توسب سے پہلے اس کا پلان تیار ہوتا ہے جسمیں مطلوبہ فیچرز اور کارکردگی کا تعین پہلے سے کردیا جاتا ہے مثلاً ہونڈا کمپنی نے ایک گاڑی بنانے کا پلان بنایا کہ اس میں فلاں فلاں فیچرز ہوں گے اسپیڈ، ایوریج، کمفرٹس، لگژریز اور کارکردگی کمپنی انجینئرز کے پلان میں محل نظر ہوتی ہے۔ مقررہ منصوبے کے تحت تیار ہونیوالی گاڑی جب مطلوبہ فیچرز میں ناکام ہوجائے تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ کمپنی میثاق وفا پر پوری نہیں اترسکی یا تو انجینئرز ناکام ہوئے ہیں یا گاڑی کے پرزہ جات مطلوبہ فیچرز فراہم نہیں کرسکے۔ مذکورہ آیت قرآنی کاترجمہ مفسرین نے ماضی میں کیا ہے جو منظرکشی ہورہی ہے کہ جب تخلیق ارواح ہوئی تو اللہ عزوجل نے روحوں سے تخاطب فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ یعنی جو قوانین ہدایت تمہیں ودیعت کیے جارہے ہیں ان کا مثبت اظہار کروگے، اپنی مثبت اخلاقی قوتوں کو بروئے کار لائو گے؟ زور دے کرجواب دیا گیا کیوں نہیں اے رب تعالیٰ ضرور تعمیل ہوگی۔ قرآن کو اسی لیے تذکرہ کہا گیا ہے کہ یہ اس عہد کی یاد دہانی کراتا ہے اور جب قرآن کہتاہے خدا کو ہمیشہ یاد رکھو تو مطلب اسی عہد کی یاددہانی ہے جو روز آفرینش انسان نے خدا سے باندھا تھا۔ محمد اسد نے آیت مذکورہ کاترجمہ ماضی کے بجائے حال میں کیا ہے کہ یہ ایک مسلسل جاری وساری عمل تخلیق اور سوال وجواب کی زیادہ درست ترجمانی ہے۔ انسان کی جبلت میں اس امرکا عرف رکھ دیا گیا ہے جس بدیہی حقیقت کو انسان کاحرص و ہوس یا ناموزوں ماحول ہی دھندلا blur سکتا ہے۔ اسی میثاق وفا سے انسانی انحراف پر ماغرک برب الکریم کا نرم وگرم گلہ بھی ہے، انک کادح الیٰ ربک کدحاً فملٰقیہ میں باعتبار ٹاسک اقبال کے الفاظ میں Fragile his being and hard his lot کا اعتراف یزداں بھی ہے (84:6)۔ تاہم حضرت انسان سے شکوہ یزداں اپنے crescendo پر نوحہ باری تعالیٰ کاروپ دھارلیتا ہے پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا بس ذرا چھیڑئیے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ کلا لما یقض ما امرہ نہیں انسان نے آج تک رب باری تعالیٰ سے اپنا وہ پیمان وفا نہیں کیا جواس نے روزآفرینش باندھا تھا(80:23)۔ محمد اسد نے الامانہ کے باب میں لکھا ہے کہ یہ انسان کو درست اورغلط کے درمیان فرق کرنے کی تعقلی فیکلٹی Faculty of Reason ودیعت کیے جانے کا بیان ہے۔ انفرادی سطح پربالکل درست ہے مگراس کا اسکوپ انفرادی رہتا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے الامانہ کا مفہوم زمین پرسماجی، معاشی سیاسی اورثقافتی تجسیم اخلاق socio-economic political and cultural moral order قراردے کر الامانہ کا اسکوپ صرف انفرادی اورمقامی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی یا عالمی بنادیا ہے۔ قوی گمان ہے کہ فضل الرحمان کا یہ تصور شاہ ولی اللہ کے تصور ارتفاقات سے ماخوذ ہو، نہ بھی ہو تواسی تصورکا دھندلا سا خاکہ یا عکس شاہ صاحب کے نظریہ ارتفاقات میں موجود ضرور ہے۔ اسوہ رسولﷺ اور خلفائے راشدین میں بھی اس امر کی شہادت موجود ہے۔

یوں ڈاکٹر فضل الرحمان کا فہم سیرۃ النبیﷺ اس امر پردال ہے کہ فلعلک باخع نفسک کی تنبیہ الٰہیہ ہویا رسول اللہﷺ کے سلگتے زخموں پر ما انزلنا علیک القرآن لتشقیٰ کا آرام بخش بام رب تعالیٰ ہو بہرصورت یہ رسول اللہ کی تاریخ پراپنا نقش ثبت کرنے کی اٹل جہد مسلسل To be effective in history ہے اور راہ میں حائل منفی اجزا و عناصر تاریخ اور بوالھوسوں کے کوہ گراں ہیں جنہیں پارکرنے کی جستجو اور لگن میں پیغمبرؑ کا وجود گھلتا اور پگھلتا دکھائی دے رہا ہے۔ قبول حق مطلوب محض نہیں ہے جیسا کہ حنفا کا گروہ عاشقاں ذاتی غوروفکر کے نتیجے میں کرچکا تھا بلکہ جو توحید پسند ہیں وہ ایک عادلانہ سماجی، معاشی، سیاسی اور ثقافتی نظام اخلاق کے اعلان اور اطلاق و نفاذ کیلئے تحریک مصطفویﷺ کا حصہ بنیں اور عدو خواہ کتنی تہمتیں تراشیں اور سرپرخواہ کتنے آرے چلاکریں اس مشن کی صراط مستقیم سے سرمو انحراف نہ ہونے پائے۔ یہی وجہ ہے جب مکی اشرافیہ کی بت پرستی، مبنی بر فراڈ اور استحصال تجارت اور غریبوں کے اتحصال سمیت سیکولر مذہبی تصورات کیخلاف پیغمبرﷺ نے ایک عادلانہ سماجی نظام اخلاق کا تھیسس پیش کیا تو ردعمل دیدنی تھا گویا ابولہب جیسے مذہبی اجارہ داروں، ابوجہل جیسے سیاسی بروکرز اور دیگر سرمایہ دار اجارہ داروں کے سرپربم شیل گرا دیا گیا ہو۔ راقم کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مسلکی واعظین اسلام کے برعکس مکہ کے ابتدائی دشمنان اسلام کا ردعمل اسلام فہمی میں زیادہ مددگارثابت ہوسکتا ہے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ تحریک اسلام نے ان کے کن کن مفادات اور اسٹیکس کو دائو پرلگا دیا ہے اسی تناظر میں ردعمل دیا۔ قرآن اور پیغمبر اسلامﷺ کے مقدمے میں اس قدرجان ہے کہ مضبوط عقلی بنیادوں پر توڑ ممکن نہیں ہے۔ پیغمبرﷺ کے تھیسس کی صداقت اوراس کے حق میں مخالفین کو نفسیاتی ہی کیا طبعی طور پر بھی ناک کے بل گرا دینے والے دلائل کی معنوی شدت کا یہ عالم ہے جب ان کے کذب اور افترا کیخلاف حق کا مقدمہ پیش کیا جاتا ہے تو کانھم حمرمستنفرہ فرت من قسورۃ ان کا حال ایسا ہوجاتا ہے کہ جیسے گدھوں کے بیچ شیر آگیا ہو۔ اور گدھوں کا جم غفیر خواہ جتنی ہی عددی طاقت اور وسائل رکھتا ہو شیر کا مقابلہ محال ہے، وجہ اعصاب اور اوسان کی جمع پونجی کاعنقا ہونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل مکہ آںحضورﷺ کیخلاف کوئی ہمہ جہت، مرتکز دیرپا برقراررہنے والی مخالفانہ حکمت عملی وضع نہیں کرپاتے۔ ان کے اقدام ٹوٹے اعصاب کی چغلی کھاتے ہیں۔ کشمکش میں ایسا مقام کبھی نہیں آیا کہ تحریک مصطفویﷺ کے سرے سےمٹ جانے کے آثار ہویدا ہوئے ہوں۔ خود مصطفےٰﷺ کی ابوطالب کی محافظت میں سیکیورٹی اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل مکہ بمقابلہ رسول اللہﷺ وسائل سے زیادہ رعب صداقت کا شکارہیں اور یہ رعب مصطفویﷺ اور بھی دوچند ہوجاتا ہے جب اسلام مکہ کے معزز اور بااثر افراد کیلئے پرکشش اپیل کا سبب بنتا ہے۔

پیغمبرؑ کے انقلاب نفس اور باطنی اتار چڑھائو کی تاریخ کا عمیق مطالعہ پیچیدہ اور گنجلک ترین مگر سادہ عقدہ وا کرتا ہے کہ ضمیر مصطفوی ﷺ پر یہ امر روز اول سے عیاں تھا کہ وہ خداجوحتمی تجزیے میں اس بات سے دلچسپی یا سروکار نہیں رکھتا آیا کہ تاریخ میں اس کا کوئی پراثر کردار ہے یا نہیں وہ محمدﷺ اور قرآن کا خدا نہیں ہوسکتا۔ یہ پوری مذہبی قیادت کی تاریخ کا منفرد احساس ہے جسے سمجھنے میں اسلام کے مغربی نقادوں نے بڑی ٹھوکر کھائی ہے کیونکہ ان کے نزدیک مذہبی قیادت کا حتمی نصیب اورتخصص فرسٹریشن تصلیب اور ناکامیوں سے دوچار رہنا ہے۔ ان کیلئے مذہب کے باب میں دنیوی کامیابی کا تصورہی بڑا کراہت بھرا احساس رکھتا ہے یوں ان کے مطابق کسی مذہبی قیادت کا عناصر و اجزائے تاریخ کو اعلیٰ اخلاقی مقصد کیلئے بروئے کار لانا اور فاتح تاریخ ٹھہرنا نا ممکن الوجود مظہر ہے۔ پھر چانڈل کیوں نہ کہے کہ اسلام مذہبی تاریخ کا واحد اصول اور عقیدہ ہے جس نے مذہب کو دست آخرت سے چھین کر اہل جہاں کو واپس دیا۔ مستشرقین نے عمدہ تحقیق وتخلیق سے بلاشبہ کئی میدانوں میں اسلام کو ممنون احسان کیا ہے تاہم اس ایک امر کے ادراک میں کوتاہ بینی سے قرآن کو نہیں صاحب قرآن کو تضادستان بنایا ہے۔ ویژن اور فہم مصطفوی کے اس ایک موتی کو گم کرنے سے اسوہ و کردار رسول ﷺ کی پوری مالایوں بکھرتی ہے کہ اسے اپنی شرائط پر پرونے کی ہر کوشش مذید الجھائو اور بگاڑ کیطرف لے جاتی ہے۔ تکلے کا ٹیڑھ کاتنے کے سارے عمل کو رائیگاں بنادیتا ہے۔ یوں مستشرقین کو کبھی مکہ کا مبلغ مدنی حیات میں جنگجو نظر آتا ہے، حیات طیبہ کی مکی اصول پرستی مدنی عہد میں یکسر عملیت پسندی اختیار کرجاتی ہے۔ مکی عہد کا سراپا مبلغ مدنی عہد میں سراپا ریاستدان نظر آتا ہے۔ مکی عہد میں آفاقی مذہب کا پرچارک مدنی عہد میں عرب نیشنلزم کا حامل دکھتا ہے۔ مدینہ اورخیبرکے یہودیوں کو مائل بہ اسلام نہ کرسکنے کی فرسٹریشن تحویل قبلہ کا سبب دکھائی دینے لگتی ہے۔ جب مذہبی قیادت کی تاریخ کی یہ فقیدالمثال کامیابی جس سے مصطفیٰﷺ ہمکنار ہوئے، سرمو ہضم نہیں ہوتی تو وہ بجائے سیرۃ رسول کے حقیقی جوہر کو سمجھنے کے سارا زور اس پر وقف کردیتے ہیں کہ محمدﷺ کے اندر ایک حقیقی ریاستدان اور سیاستدان کا جینئس تھا جو بروئے کار آیا ورنہ دین مصطفوی کا ہیولیٰ حنفا کے تصور خدائے واحد سے اٹھا جسے یہودی اور عیسائی مذہبی عقائد و تصورات سے برگ و بار میسر آئے تو ایک مکمل مذہب بن گیا۔ اسلام سے متعلق یہ پدرسر ورثہ ہے جو مغربی اسکالرشپ کا جزولاینفک بن چکا ہے اسی کی مذید تراش خراش جاری ہے۔

ان جملہ اعتراضات کا جائزہ لیاجائے گا پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ کے گوشت پوست میں روحانی اقدار کا نظام پیوست کرنے کا مصطفوی تصور خود زینہ ایام یا تاریخ میں کس طرح تہہ درتہہ کھلتا اور آشکار Unfold ہوتاہے۔ قرآن جو غارحرامیں کلیت اور جامعیت میں قلب مصطفوی پر اتارا گیا اور بعد میں تیئیس سال تک حالات و واقعات کے مطابق سلسلہ آیات جاری رہا اس کے جامع مفہوم سے جنم لینے والا مصطفوی تصور تاریخ یہی تھا کہ زمین پرسماجی معاشی سیاسی اور ثقافتی نظام اخلاق کی تجسیم آپ کا بنیادی مینڈیٹ ہے اس جانکاہ تاریخی فریضے کی آبیاری کیلئے جب آپ کا وجود گھلتا اور پگھلتا دکھائی دیتا ہے قرآن کا بصد اصرار کے آپ پیغام پہنچا دینے سے سوا کے مکلف نہیں ہیں، رحم کراپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے مگر اسی پیغام و مشن کی کلیت میں پنہاں یہ رمز غریب بھی ہے کہ صرف پیغام پہنچادینا اور رنج و الم کی صعوبتیں جھیلنا مگر تاریخ پر اپنا نقش مرتسم نہ کرسکنا ناپختہ امیچیور اور غیرمستحکم و غیرحقیقی اور کمزور روحانیت ہے۔

شوق ہے مثل حباب ازخویش بیروں آمدن
ہے گریباں گیر فرصت ذوق عریانی مجھے

یہ اضطراب اور کشمکش سیماب صفتی اوردرون خانہ ہنگامہ ہائے جاں گسل صرف حیات مکی کا ہی اخص الخاص نہیں جیسا کہ کچھ متاخرین سیرت نگاروں نے Portray کیا ہے اور مستشرقین نے ان حقائق کو کاتا اورلے اڑی کے مصداق برتا ہے مدنی حیات بھی نامیاتی طور پرانہیں حالات و کیفیات چیلنجز اور جہدمسلسل کا تسلسل ہے۔ کیونکہ مدنی حیات میں دل مصطفویﷺ کا جو اضطراب اور طلسم پیچ وتاب یہودونصاریٰ کی ہدایت و نجات کیلئے ہے وہ اس سے کسی درجہ کم نہیں ہے جومکہ کے بت پرستوں کیلئے تھا۔ مدنی عہد کی آیت کریمہ ہےکہہ دیجئے اے اہل کتاب تمہارے پاس جوتورات و انجیل میں ہے اسے عملاً نافذ نہیں کرتے تو تمہارا مقدمہ سراسر افترا ہے تاہم اے پیغمبر جو آپ پرآپ کے رب نے پیغام اتارا ہے وہ ان کی بغاوت اور عدم ایمان کو مذید بڑھاوا دے گا لہٰذا ان بے ایمانوں کے باب میں رنج و الم کے برعکس جمع خاطر رکھئے! تاریخ کی اقلیم پر اثرانداز ہونے کا لطیف سودا ذہن وقلب مصطفےٰ میں اس قدر جاگزیں اور راسخ الوجودہے کہ قرآن کا بصد اصرار کہ معجزات کے برعکس بیانئے کی بنیاد دلیل اورتعقل ھوگی کہ معجزات ذہن انسانی کے ناپختہ عہد کی ضرورت تھے اب دلائل وبراہین سے بات ھوگی۔ تاہم مشن کی جلد کامیابی کیلئے اضطراب نبویﷺ معجزات کا بزورخواہاں ہوا تو مکی عہد میں ہی متنبہ کردیا گیا“ ہم جانتے ہیں کہ جویہ کہتے ہیں ان سے آپ کو رنج پہنچتا ہے مگریہ آپ نہیں ہیں جنہیں مسترد کیا جارہا ہے یہ بدبخت آیات الٰہیہ کو رد کر رہے ہیں۔ آپ سے قبل انبیا رد کیے گئے ہیں مگر انہوں نے یہ استرداد اور ظلم و ستم صبروتحمل سے برداشت کیا جب تک کہ خدا کی مدد نہیں آپہنچی۔ سنت و آئین الٰہیہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا اور کچھ انبیا کے حالات آپ کو بہم پہنچائے جاچکے ہیں۔ اگر ان کا استرداد آپ پراس قدر گراں گزرتا ہے تو زمین میں کوئی سرنگ کھود سکتے ہو یا آسمان کیلئے کسی سیڑھی کا بندوبست ناگزیر ٹھہرا ہے تو ایسے معجزات انہیں کر دکھائیے!(6:33-35)۔

دراصل ویژن اورفہم مصطفویﷺ کا محورومرکز یہ ہے کہ پیغام توحید باری تعالیٰ کا عملی نفاذواطلاق ناگزیر ہے ورنہ اس مشن کی صداقت پرتاریخ بٹہ لگادے گی اورمعروضی شہادت تشنہ تعبیررہےگی۔ اس لیے یہ امر بموجب ششدر و حیراں نہیں رہنا چاہئے کہ مشن کی کامیابی کیلئے پیغمبرؑ نے ایسا کوئی موقع نہیں گنوایا جو اجزاوعناصر تاریخ نے بہم فراہم کیا اور نہ ہی کوئی ایسا دقیقہ فروگزاشت کیا جس کا درآپ کے تجربے، مشاہدے اوربصیرت نے واکیا ہو۔ انسانی المیے کے حل کیلئے نفس مصطفویﷺ کے اضطراب اور کشمکش کی شدت کو سمجھنے کے باوصف عہد مکہ ومدینہ دونوں میں آپ کے مخالفین نے آپﷺ کولبھانے کیلئے کچھ رعایات کے بدلے رعایات مانگیں تاہم قرآن نے مستقل بنیادوں پر آپﷺ کو کسی بھی ممکنہ سمجھوتے سے بازرکھتے ہوئے حکمت عملی اور سمجھوتے کے درمیان حدفاصل قائم رکھی۔ ودولوتدھن فیدھنون (68:9) یہ چاہتے ہیں اصول میں آپ نرمی دکھائیں تویہ بھی دکھائیں گے۔ واقعہ غرانیق کے باب میں کہا گیا یہ آپ کو بہکانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ جوآپ پرنازل کیا گیا ہے اس کے برعکس آپ خدا کیساتھ کسی اور کو شریک کریں تویہ آپ کے دوست بن جائیں گے اگرہم نے آپ کومضبوط فہم نہ بنایا ہوتا توآپ ان کی خواہش کے تابع ہونے کو تھے۔ ایسا ہوتا تو آپ کو دنیا وآخرت دونوں میں دوہری دوہری سزا ملتی اور آپ ہمارے سامنے بے یارومددگار ہوتے (17:73-75)۔ مکہ میں سمجھوتے کا یہ جال بت پرستوں نے بچھایا مگر مدینہ میں ایسی سودابازی کی کوشش اہل کتاب کی طرف سے بھی کی گئی جس کاحوالہ قرآن دیتا ہے وہ لوگ (یہودی اورعیسائی) جنہیں کتاب کا علم آبائو اجداد سے ورثے میں ملا ہے وہ اس (قرآن) باب میں عظیم کنفیوژن کا شکار ہیں۔ انہیں دعوت بہم پہنچائو اوراس پرآپ اٹل رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیاگیا ہے اور ان کی خواہشات کی تعمیل میں مت پڑنا۔ کہیو میں ان تمام کتب سماویہ پرایمان رکھتا ہوں جونازل کی گئی ہیں مجھے حکم ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں خدا ہمارا آقا و مولیٰ ہے اورتمہارابھی (17:15-16)۔ دیگر سلاسل پیشکش کجاابن اسحاق نے لکھا ہے کہ جب کئی تیر خطا گئے تواہل مکہ نے ایک آفریہ کردی کہ اگر آپ خود کو سماجی طور پر پست افراد سے الگ کرلیں تو ہم آپ کے مشن کوقبول کرتے ہیں تاہم قرآن نے نہ صرف مفلوک الحال افراد کو تحریک اسلامی سے الگ کرنے سے منع کیا بلکہ کہا ایسی کوشش معاشرے کے سرکردہ افراد نے نوح ؑ کیساتھ بھی کی مگر کامیابی ندارد!

اسلام اپنے جوہرمیں انسانی مساوات کا علمبردار ہے۔ جب اسی اصول کی عملی تعبیرکیلئے آںحضورﷺ زمین پرسماجی معاشی سیاسی اور ثقافتی نظام اخلاق کی تجسیم یعنی سب کے یکساں سماجی معاشی سیاسی اور ثقافتی حقوق کیلئے ایک مبنی بر عدل نظام اخلاق کا قیام چاہتے ہوئے مکہ کے بااثر افراد سے محوکلام ہیں کہ ان کے قبول اسلام سے یہ نظام اخلاق جلد قائم ہوسکے گا اور اس سمے ایک عام آدمی ام مکتوم کے سوالات کو درخوراعتنا سمجھنے سے احتراز برتتے ہوئے تیوری چڑھاتے ہیں ماتھے پر بل آتاہے قرآن پیغمبر اسلامﷺ کے اس مصلحت آمیز رویے کوبھی کمپرومائز کے قریب ترین گردانتے ہوئے کرسٹل کلئر انداز میں مسترد کرتا ہے۔ کیونکہ انسانی مساوات کا اصول اگر دوران جدوجہد کمپرومائز ہو رہا ہے تو اس نظام اخلاق کے قیام کے بعد سمجھوتے کے امکانات اور بڑھ سکتے ہیں لہٰذا اس اپروچ کو سرے سے آغاز کار میں ہی رد کردیا جاتا ہے۔ سورۃ عبس اسی واقعے کا اصولی بیان ہے۔

یاد رہے کہ اگرچہ عہد مکہ میں بڑا چیلنج بت پرستی ہے اور تاریخ ایسا کچھ بتانے سے قاصرہے کہ وہاں عیسائیوں اور یہودیوں کی آبادی کتنی تھی تاہم قرآن اس بات پر گواہ ہے کہ اہل مکہ یہودی اور عیسائی عقائدوتصورات سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ ان کا منظم علم رکھتے تھے۔ یہ علم ان کے اسفار تجارت کا حاصل بھی ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کچھ عیسائی اور یہودی گھرانے مکہ میں ہوں جن سے ملنے کیلئے مدینہ اور دیگر مقامات سے رشتہ داروں کا آنا جانا ہو اور مذاکرے اور مبحث قائم ہوتے ہوں جس سے ان تصورات نے مکہ کے بت پرستوں میں جگہ بنالی ہو تاہم یہ بھی قرآن کی گواہی ہے کہ اہل مکہ اہل کتاب سے متاثر ہرگز نہ تھے البتہ ایک نئے رسول، نئے مذہب اورنئی کتاب الٰہیہ کی خواہش Religious fermentation ضرور تھی۔ وہ بڑے وثوق سے کہاکرتے کہ اگرکوئی خبرکرنیوالاان کے پاس آیا تو وہ ان دونوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے()۔ یہ الگ بات کہ جب مخبر آیا تو وہ ہٹ دھرمی اور مخالفت پر اتر آئے(35:42)۔ اس سے ایک بات واضح ہے کہ پیغمبرکا بھیجا جانا خدا کی نہیں بلکہ اس عہدکے افراد کی ضرورت ہوا کرتا ہے۔ یوں اگرچہ مکہ میں فوکس بت پرست ہیں تاہم اہل کتاب بھی ایڈریس ضرور ہو رہے ہیں۔ مشرکین اور اہل کتاب کے سمبندھ کا ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ جب مشرکین وحی کا جواب دینے سے قاصرہیں تو ان کا ایک وفد یہود مدینہ سے بھی ملا اور تین سوال لیکرآیا تاکہ محمدﷺ کے بیانئے کا ردممکن ہوسکے۔ اور ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ یہود مدینہ نے بت پرستی کو اسلام سے بہتر قرار دیا۔ تاہم قرآن کی شہادت یہی ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ نے اپنے مذہبی تجربے کی بدولت قبل کے انبیا کیساتھ کمیونٹی قائم کی اور اس کے براہ راست شاہد بن گئے اے پیغمبر اس وقت (وادی طویٰ) آپ مغربی کنارے نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ کو کتاب دی آپ اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔ اس کے بعد ہم نے کئی نسلوں کو جنم دیا جن پر کتنے ہی قرن ہاقرن گزرگئے کہ وہ اس پیغام کو زندہ رکھ سکتے (پیغام کا تاریخی عمل میں دھندلا جانا فطری تھا) اور کیا آپ مدائن کے رہنے والوں میں نہ تھے (28:45)۔ یوں آپﷺ کونہ صرف انبیائے سابق کے قصص کے اہم نکات اور نتائج بذریعہ وحی پہنچا اور دکھادیئے گئے تھے بلکہ انبیائے سابق کی کتابوں کے مشمولات بھی۔ نوح ؑ سے بااثر افراد کا مکالمہ بیان ہوتا ہے کہ بااثر افرادان سے کہہ رہے ہیں اگر آپ مفلوک الحال افراد سے رابطہ منقطع کرلیں تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے بعینہ بااثر افراد محمدﷺ سے مطالبہ کرتے ہیں۔ شعیب ؑ اپنی قوم کو ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی سے منع کرتے دکھائی دیتے ہیں یہی صورت حال مکہ کی مبنی بر فراڈ کامرس کی ہے وغیرہ وغیرہ۔

پیغمبرؑ کے روحانی مذہبی تجربے سے جب انبیائے سابق کیساتھ کمیونٹی قائم ہوگئی توآپﷺ نے نہ صرف تمام انبیا کی تصدیق کردی بلکہ یہ ادراک وحی کردیا گیا کہ آدم سے نوح و ابراہیم و موسیٰ اور عیسیٰ و محمد تک سب کا پیغام ایک ہی توحید باری تعالیٰ کا پیغام ہے۔ تمام کتب سماویہ کا چشمہ اور منبع و مرجعہ فیض ایک ہی ہے جسے قرآن ام الکتاب، لوح محفوظ اور کتاب المکنون کے مختلف ناموں سے پکارتا ہے۔ یوں آپﷺسے اعلان کروا دیا جاتا ہے کہہ دیجئے میں کسی بھی اور ہراس کتاب پریقین رکھتاہوں جوباری تعالیٰ نے نازل فرمائی ہو(42:15)۔ درحقیقت قرآن میں کتاب کی اصطلاح کسی مخصوص کتاب کے برعکس کئی مقامات پر نازل کردہ کتابوں کی جامع حیثیت کیطرف اشارے کیلئے بھی استعمال ہوئی ہے۔ اس پس منظرمیں آپﷺ کا اہل کتاب سے یہ مطالبہ فطری تھا کہ وہ بھی آپﷺ پر اور قرآن پر ایمان لائیں جیسے آپ اور آپ کے پیروکارانبیائے سابق اوران کی کتابوں پرایمان رکھتے ہیں۔

اس تناظرمیں فہم مصطفوی پرجس شاخ تصور نے تائید وحی سے جنم لیا وہ یہ تھی کہ اگرخدا ایک ہے، پیغام بھی آدم و نوح سے محمد تک ایک ہے اوربنیادی طور پر غیر منقسم ہے یوں انسانیت کوبھی امت واحدہ ہونا چاہئے اورجب انبیائے سابق کے پیروکاروں نے آپ ﷺ کے مشن کی تصدیق بھی کردی ہے تو فہم و تصور مصطفےٰﷺ پر یہ عقدہ وا ہوا کہ کیوں نہ کثیرالمذاہب دنیا کو ایک امت واحدہ کی لڑی میں قرآن کی تعلیمات اور شرائط کے مطابق پرودیا جائے۔ یوں پیغمبرؑ کا سارا زور ایک خدا ایک انسانیت One God- One Humanity پرہے۔ اس لیے قرآن ابتدائے نزول کے مکی عہد میں یہودو نصاریٰ کی تخصیص کیے بغیردونوں کو اہل کتاب کہہ کرپکارتا ہے۔ انجیل کا ذکر پورے مکی عہد میں ایک دفعہ ہوا ہے، تورات کا حوالہ بار بار آیا ہے اورکئی مقامات پرکتاب سے مراد بھی کتاب موسیٰ لیا گیا ہے۔ اہل کتاب کوبھی قرآن دو لڑیوں یا تاروں میں two strands میں تقسیم کرلیتا ہے۔ ایک تو وہ ہیں جوسلسلہ انبیا کی صراط مستقیم Straight line سے منسلک ہیں وہ قرآن پر بھی ایمان لائے ہیں اورجب ان کے سامنے آیات پیش کی جاتی ہیں تو وہ وفور شوق سے سجدوں میں گرجاتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں اے خدایا تو نے وہ وعدہ پوارا کر دکھایا جو کیا گیا تھا (17:107S)۔ اہل کتاب کی دوسری لڑی وہ ہے جواس صراط مستقیم سے منحرف ہوگئے یا ٹوٹ گئے۔ کسی بھی پیغمبر کا پیغام اس کے پیروکاروں کیلئے واٹرشیڈ ایونٹ ہوا کرتا ہے کہ اس کے جانے کے بعداس کی کمیونٹی میں تعبیری مسائل پراختلافات پیداہوتے ہیں اور کمیونٹی کے اندرمبنی برحق و باطل فرقے جنم لیتے ہیں۔ یوں قرآن اہل کتاب کی جو دو لڑیوں کا ذکر کرتا ہے ایک لڑی وہ ہے جو حق پراٹل ہے قرآن اور صاحب قرآن کو بھی پہچان چکی ہے دوسری لڑی وہ ہے جو ذاتی مفادات، بوالہوسی یافہم کی کجی کی مابدولت پیغام الٰہیہ سے انحراف کا شکار ہوگئی ہے قرآن انہیں گروہ، فرقہ جات، شیعان اور احزاب یعنی مختلف گروہوں کی اصطلاحوں سے پکارتا ہے۔ پیغمبرؑ کا ایک خدا اور ایک انسانیت یعنی کثیرالمذاہب دنیا کو یک مذہبی امت واحدہ بنانے کا تھیسس اسی پس منظر میں ہے کہ اہل کتاب میں سےجو صراط مسقیم پرہیں سوہیں جو اس سے منحرف ہونیوالے گروہ یا احزاب اور فرقے ہیں وہ واپس صراط مستقیم پرآئیں اور مشرکین بھی دعوت حق پر آجائیں تو ایک خدا ایک انسانیت کا تصور شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔ تاہم تحریک اسلامی کی عملی جدوجہد میں ایک خدا ایک انسانیت کا تصور جب ڈیڈلاک اور بحرانوں کا شکار ہوتا ہے توآپ ﷺ ایک انتہا درجے کے بلاخیز الٰہیاتی مسئلے کا شکارہوتے ہیں۔ ناکامی اور نامرادی کا یہ عالم ہے کہ وساوس جنم لیتے ہیں کہ اس تحریک کو جاری بھی رکھا جائے یا ٹھپ کردیا جائے۔ قرآن کہتا ہے فان کنت فی شک مما نزلنا الیک فسئل الذین یقرئون الکتاب من قبلک لقد جا ک الحق من ربک فلا تکونن من الممترین(10:94).۔ اگر آپ نازل کیے گئے پیغام الٰہیہ سے متعلق شک و شبے کا شکارہیں تو تسلی اورتشفی کیلئے ان سے رابطے میں آئیں جواس پیغام کی تلاوت کرتے ہیں جو پہلے انہیں دیا گیا تھا۔

تاہم دوران جدوجہد آپﷺ پر یہ عقدہ کھلتا ہے ہے کہ اہل کتاب کو صرف قرآن سے ہی اختلاف نہیں ہے ان کے اندربھی فرقے اور دھڑے ہیں اور قرآن بتارہاہے کہ ان احزاب اورگروہوں کے پاس جو کچھ ٹوٹا پھوٹا تصوروعقیدہ ہے یہ اسی کوحق سمجھے ہوئے ہیں۔ اور قرآن وجہ بھی بتارہاہے کہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ پیغام موسیٰ اور عیسیٰ کوایک طویل عرصہ گزر چکا ہے اور ان پیغامات پر تاریخ نے گرد ڈال دی ہے ساتھ یہ بھی بتایا جارہاہے کہ پیغام مصطفوی کی علت بھی یہی ہے کہ بروز قیامت یہ احزاب اور گروہ یہ گلہ نہ کریں کہ کوئی مخبربھیجاجاتاتوہم ضروراپنی اصلاح کرلیتے۔ ہم بتاچکے ہیں کہ مشرکین مکہ پیغام مصطفویﷺ کے استرداد کیلئے یہود مدینہ کی سرگرم معاونت لے رہے ہیں اور قرآن بھی ابتدائے آفرینش سے مشرکین اور اہل کتاب کے سوالات اور تحفظات کو یکساں طور پر ایڈریس کررہا ہے۔ تاہم پیغمبر اسلامﷺ جس قدر ایک خدا اور یک مذہبی امت واحدہ کی عملی تعبیر کیلئے اضطراب، کشاکش و ہنگامہ ہائے اندروں کا شکار ہیں مشرکین اور اہل کتاب کی مخالفت میں اسی قدر سرعت اور تندی و تیزی کا سماں ہے۔ ایک طرف مشرکین ہیں جو کبھی آپ کو مجنون اور شاعر قراردیتے ہیں تو کبھی جادوگر اور کاہن کہتے ہیں اور ہر چند کہ قرآن ان تمام الزامات کا مسکت جواب دے رہا ہے لیکن کیا کیجے کہ جب پروپیگنڈہ اسلوب عام بن جائے توسچ کا گمان ہونے لگتا ہے اور ایسے پروپیگنڈے کو فتنہ اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ سچ کو ایسے فتنے کی ظلمت اور تاریکی میں گہے خود اپنا ہاتھ سجھائی دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ کچھ سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ مخالفین کا فتنہ اور مشن کی ناکامی کا دھڑکا قلب و ذہن مصطفویﷺ میں ایسی شدت اختیار کرلیتا ہے کہ آپﷺ کو مخالفین کے کاہن اور مجنون جیسے الزامات پرسچ کا گمان ہونے لگتا ہے قرآن یٰس والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین کہہ کر ڈھارس بندھاتا ہے اور اہل مکہ سے بھی وماصاحبکم بمجنون کہہ کرمخاطب ہوتا ہے۔ یوں جب ایک طرف ایک خدا اور یک مذہبی امت واحدہOne God and single religious community کا مصطفوی ویژن اوراس کی عملی تعبیرکا لاینحل پروجیکٹ اور ٹاسک مصطفویﷺ ہے اور دوسری جانب مشرکین اور اہل کتاب کی ضداورانانیت کا کوہ گراں ہے جو اپنی پوزیشن سے رائی برابرسرکنے یا سرمو انحراف سے گریزپا ہے It sets forth to Prophet a theological problem of first order .اس گومگو، اضطرابی کیفیت اور کنفیوژن میں کچھ سیرت نگاروں کے مطابق آپﷺ نے بارہا کسی پہاڑکی بلندی سے چھلانگ لگا کر خود کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی کوشش کی۔ یہ ہے پیغمبر اسلامﷺ کا وہ بنیادی Spiritual Dilemma جسے قرآن کتھارسس کے ذریعے عہد مکہ سے ہی ایڈریس کرنا شروع کرتا ہے اور مدنی عہد کے تقریباًوسط تک سلجھاتا چلا جاتا ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لیٹ مکی عہد میں اہل کتاب کے باب میں احزاب، فرقہ جات، گروپس اور دھڑوں کی مجوزہ اصطلاحات ڈراپ ہونے لگتی ہیں اور اہل کتاب، کتاب موسیٰ اور کتاب عیسیٰ کا بیانیہ زور پکڑنے لگتا ہے۔ اگرچہ انجیل کا نام مکی عہد میں صرف ایک بارآیا ہے تاہم حالات و واقعات عیسیٰ و قوم عیسیٰ شدومد سے بیان ہورہے ہیں تاہم تورات کا ذکر زیادہ ہے اور عام مفہوم میں بھی کتاب کے ذکرسے مرادکتاب موسیٰ ہے اوریہ قرآن کیلئے بطور ماڈل اور پیشروکے طور پر بیان ہورہی ہے اور تورات بارباربطورحوالہ پیش کی جارہی ہے۔ بتدریج اہل کتاب کی شناخت ڈیویلپ ہو رہی ہے اوران کی اس شناخت کوتسلیم کرنے کی جانب پیش رفت جاری ہے یوں فہم مصطفےٰ پر قرآن کے مزاج و فہم کلی سے تصورکاجو ایک منفرد غنچہ کھل یا unfold ہورہاہے وہ یہ ہے کہ کثیرالمذاہب دنیا کا وجود عین مشیت و پلان الٰہیہ کا حصہ ہے۔ مذہبی تنوع قوموں کے مابین مسابقت کی فضا قائم کرکے انہیں بہترسے بہتر کیطرف مصروف کار اور دائم جہدمسلسل پر گامزن رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے جب مدنی عہد میں یہودیوں اور عیسائیوں کو بطور الگ الگ کمیونٹیز اور اہل اسلا م کو امت وسط یا بہترین امت کے طور پر تسلیما گیا تو ساتھ ہی فاستبقوالخیرات کا صور اسرافیل بھی پھونک دیا گیا گیا تھا۔ تاہم ہم لیٹ مکی عہد کی بات کررہے ہیں جہاں رب عزوجل پیغمبر اسلام کے یک مذہبی امت واحدہ کے تصور کو معروضی حقائق سے ہمرکاب کر رہا ہے کہ مذہبی تنوع امورخیرکی تراش خراش اوربہترسے بہتر جہان تازہ کی افزائش و نمو و پرداخت اور ترقی کیلئے کس قدر ضروری ہے یہی رمز غریب ان سعیکم لشتی میں پنہاں ہے ورنہ خداکیلئے امت واحدہ کا قیام وانصرام مشکل نہیں تھا۔ سو جہاں لیٹ مکی عہد میں اہل کتاب کے باب میں احزاب، فرقہ جات اور دھڑا بندیوں کی اصطلاحات کا برتائو بتدریج مفقود ہوتا جارہا ہے اور ان کی بطور الگ ا لگ کمیونٹیز پہچان ابھر رہی ہے وہاں امت مسلمہ کی الگ پرداخت اور پہچان کا ہیولیٰ اورجنین مبہم مگر یقینی طور پر ظہور پذیر ہو رہا ہے۔ قرآن نوح، ابراہیم اور دیگر بائبل کی شخصیات سمیت اٹھارہ انبیا و رسل کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتا ہے،، یہ ہے ہدایت الٰہیہ جس سے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے سرفراز کرتا ہے اور اگر وہ (انبیائے سابق) کسی کو خدا کا شریک ٹھراتے ان کے سارے اعمال غارت کردیئے جاتے۔ یہ وہ ہیں جنہیں خدا نے کتاب، فیصلہ سازی اور نبوت عطا کی۔ لہٰذا اگریہ لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے تو

we have already commissioned it to a people[ i.e. Muslim in general, particularly those who already had an earlier Revelation ] who do not disbelieve in it.

ہم نے یہ بارگراں ایسے افراد(قوم مسلم بالعموم اوربالخصوص جنہیں پہلے بھی وحی دی گئی تھی ) کو سونپ دیا ہے جنہوں نے اس پرعدم ایمان کا مظاہرہ ہرگزنہیں کیا ہے۔

وہ (انبیائے سابق) تووہ ہیں جنہیں خدانے ہدایت بخشی لہٰذا ان کا اتباع کرو۔۔۔ یہ خدا کوبقدرسچ سمجھنے سے محترزہیں جب کہتے ہیں کہ خدا کسی بشر پر وحی نازل نہیں کرتا۔ کہہ دیجئے موسیٰ پروہ کتاب کس نے نازل کی جس میں انسانیت کیلئے سامان نوروھدایت تھا جسے تم پارچہ جات پر لکھتے ہو کچھ ظاہر کرتے ہو اوراس کا بڑا حصہ چھپاتے ہو اور اس کے ذریعے تمہیں وہ علم دیا گیا جونہ تم جانتے تھے نہ تمہارے ابائو اجداد۔۔۔ کہہ دیجیو بعینہ یہ (قرآن) بھی خداکی نازل کردہ مبارک کتاب ہے جو انبیائے سابق کی تعلیمات اور پیغام کی تصدیق کرتی ہے تاکہ تم اس کے ذریعے ام القریٰ (مکہ) اور اس کے گردونواح کو پیغام الٰہیہ سے خبردار کرو (6: 89-93)۔ یہ اقتباس مشرکین اور یہودکو ایک ساتھ ایڈریس کررہا ہے کہ مشرکین کو بزریعہ یہودیہ خبرہے کہ تورات موسیٰ پرنازل ہوئی تھی اورمشرکین کویہودکے ذریعے ان باتوں کا علم ہوا جو نہ وہ خودجانتے تھے اور نہ ہی ان کے آباواجداد جانتے تھے یعنی حاضرین مکہ ہی کیا ان کے اباواجداد کو بھی اہل کتاب کے ذریعے یہ علم بہم پہنچ چکا تھا تو بھلا مشرکین کیونکرکہہ سکتے ہیں کہ خدا کسی بشر پر وحی نہیں اتارسکتا اوریہودی جواسلام کیخلاف الٰہیاتی ایشوز پر قریش مکہ کیساتھ گٹھ جوڑ کرچکے ہیں اورمذہب قریش کو اسلام سے سپر قرار دے رہے ہیں انہیں بتایا جا رہاہے کہ یہ قرآن بھی اسی ام الکتاب کا پارٹ اینڈ پارسل ہے جس سے تمہیں کتاب عطا ہوئی تھی اورجس کاتم ذاتی مفاد کیوجہ سے کچھ حصہ ظاہرکرتے ہو اور باقی چھپاتے ہوئے۔ یادرہے مکی عہد میں قرآن یہود کی بابت بڑے اسپیکٹرم پرالٰہیاتی ایشوز پربات کرتا ہے بنیادی ورلڈویو یعنی انسان کائنات اورخداکے مابین تعلق حقیقی کے خط وخال بیان کرتا ہے۔ سوشل معاملات مدنی عہد میں زیربحث آتے ہیں جب یہودیوں سے حقیقی انکاونٹر ہوتا ہے۔ رچرڈبیل سمیت کچھ مستشرقین مذکورہ آیات کو مدنی عہدکی آیات قرار دیتے ہیں کہ یہودیوں سے معاملات کا زمانہ مدنی عہد کا ہے اور آیات مذکورہ میں ام القریٰ جومتفق علیہ طور پر مکہ کو سمجھا جاتا ہے مگر کیا کیجئے کہ رچرڈبیل یہاں اپنے مخصوص نکات کے مقدمے کو درست ثابت کرنے کیلئے ام القریٰ مدینہ کو قرار دیتا ہے۔ تاہم ہمارا ان آیات کو بیان کرنیکا کلیدی مقصد اور تھیسس یہ ثابت کرنا تھا، کہ جہاں لیٹ مکی عہد میں اہل کتاب کی شناخت اور پہچان ابھرنا شروع ہوتی ہیں وہیں اہل اسلام کی بطور الگ کمیونٹی شناخت اور پہچان کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جسے زمین پرسماجی معاشی سیاسی اور ثقافتی تجسیم اخلاق کا فریضہ سونپا گیا ہے اور وہ اس ورلڈویو کے وکلنا بھا یعنی حقیقی وکیل اور ایڈووکیٹ ہیں۔

اس طرح اگرچہ ابتدائی مکی عہد میں انبیائے سابق کا تذکرہ بابار ہے، عرب انبیا عادوثمود وغیرہ کا ذکر ملتا ہے تاہم لیٹ مکی عہد میں دیگر انبیا کے قصص کا تذکرہ کم ہوتے ہوتے رک رہا ہے اورسیدنا ابراہیم ؑ کا ذکر بڑھتا اور زور پکڑتا جارہا ہے۔ ساتھ ہی جب عیسائی اور یہودی سلسلہ انبیا کی صراط مستقیم straight line پر واپس نہیں آرہے تو قرآن بتدریج موسیٰ وعیسیٰ کو ان کی کمینونٹیز سے الگ کرتا جارہاہے کیونکہ دونوں موسیٰ اورعیسیٰ کادم بھرنے کے باوجود Have nothing to stand on .ان کی تعلیمات اور پیغام کی جمع پونجی تاریخ کی بے رحم موجوں ذاتی مفادات اور بوالھوسی کے ہاتھوں ہتھیا چکے ہیں۔ سستے داموں آیات الٰہیہ کوبیچ رہے ہیں۔

یوں جہاں محمدﷺ انبیائے سابق کے جانشین اوروارث کے طور پر ابھر رہے ہیں قرآن سابقہ کتب سماویہ کے ورثے کو اپنا رہا ہے وہاں مسلم کمیونٹی سابقہ کمیونٹیز کی جگہ لے رہی ہے اور یہ پیش رفت مکی عہد میں ہورہی ہے۔ ایسے میں یہ احساس بذریعہ وحی دل مصطفےٰ میں پیوست کیا جارہا ہے کہ آپ انبیا ئے سابق ہی کا تسلسل ہیں اورجہاں اہل مکہ بت پرستی شعار کرنے میں گمراہی اختیار کر چکے ہیں اور سابقہ امم اپنے گروہی تضادات اورفرقہ پرستی کیوجہ سے راہ مستقیم سے ہٹ چکی ہیں قرآن کرسٹل کلئر انداز میں واضح کیے دیتاہے اے محمدﷺ آپ حقیقی اوراصلی توحیدپرست توحیدخالص کے پرچارک یعنی حنیف ہیں اورآپ کا مذہب ہی درست اورخالص روایت توحیدکا حامل یعنی الدین القیم ہے مشرکانہ روایت بت پرستی اور سابقہ امم کی دھڑے بندیاں اور فرقے اسی دین القیم یعنی صراط مستقیم سے انحراف کی شکلیں ہیں۔ فاقم وجھک للدین حنیفا فطرت اللہ التی فطرالناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذالک دین القیم ولکن اکثرالناس لا یعلمون۔ اپنا رخ مضبوطی اور صبرواستحکام کے ساتھ اس دائم سچے دین کی طرف کیجئے اور ہراس چیز سے کنارہ کیجئے جوباطل ہے عین اس فطرت کے مطابق جوخدائے لم یزل نے انسان کی جبلت میں ودیعت کر رکھی ہے اور اس فطرت کو کرپٹ نہ ہونے دیجئے جوخدانے حضرت انساں کوسونپی ہے یہی اس دین حنیف کا مقصودومنتہا ہے جسے لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی۔۔ نہ توان میں سے ہونا جوشرک کا ارتکاب کرتے ہیں اورنہ ان میں سے جنہوں نے اپنے مذہب کو تفرقوں میں توڑڈالا اور ہر فرقہ اسی پرخوشیاں منارہا ہے جواس کے پاس بچا ہے۔ (30:30-32) ۔

مکی عہدکے آخری ایام میں ہی ابراہیم ؑ کا تصور قرآن میں بطور پیغمبراعظم اور حنیف Super Prophet cum arch monotheist پیش کیا جارہا ہے۔ کیونکہ خدائے واحد کا تصورجس پر ابراہیم ؑ فطری سوالات کے ذریعے پہنچے اور منصب نبوت پر فائز ہوئے خدا لم یزل نے آئندہ اولاد ابراہیم کو اس منصب جلیلہ کیلئے منتخب فرمایا جو محمدﷺ تک پہنچا اور ختم نبوت پر منتج ہوا۔ تاہم حنیف ایسا تصور توحید ہے جو جملہ اظہاریوں میں صراط مسقیم سے سرموبھی انحراف کا متحمل نہ ہو سکے۔ ڈاکٹر اسد نے حنیف کا مطلب لکھا ہے وہ جوہراس چیزسے رخ پھیرلے جو غلط ہے۔ جیسے کمپاس کو کسی رخ بھی رکھیں اس کی دو سوئیاں اگر قطب شمالی اور قطب جنوبی کی سمت پھرجائیں تو کمپاس کا یہ عمل حینف کہلائے گا۔ اسلام کا دین فطرت کہلانا یہی ہے کہ انسان خدائے واحدکی پہچان سے اپنی فطرت سلیم کا ادراک کرلے سویہی اسوہ ابراہیم ہے۔ یعنی اپنی فطرت کے خوابیدہ قوانین ہدایت کو پالینا اور ان سے سرمو انحراف نہ کرنا حنیف ہونا ہے۔ یوں قرآن کے نزدیک مشرکین ہی نہیں بلکہ اہل کتاب بھی صراط مستقیم سے سرک چکے ہیں۔ وہ صراط مستقیم سے ٹوٹ کر گروہوں تفرقوں اور احزاب میں بٹ گئے ہیں۔ حینف ہونا to incline towards truth ہونا ہے to be true in a sense as magnetic needle is true to north.یہ ہے is true to north.s megnetic وں اوراحزاب میں بٹ گئے ہیں۔ حینف ہونا رنا حنیف ہونا ہے۔ یوں قرآن کے نزدیک مشرکین ہی نہیں بلکہ۔ بالفاظ دگرحنیف ہونا الست بربکم کے جواب میں روزالست کہے گئے قالوبلیٰ والے میثاق وفا کا فہم و ادراک اور عملی اثبات ہے۔ سلسلہ انبیا اور کتب سماویہ اسی عہدکی یادبینی، یادداشت اور تذکرہ ہے۔

پیغمبرؑ کوحکم ہوا ہے کہ ام القریٰ اور اس کے گردونواح کو حکم الٰہیہ سے متعلق خبردار کرو۔ چنانچہ مانا کہ ابوطالب اور خدیجہ کا وصال ایک بڑا سیٹ بیک تھامگر تحریک اسلامی کا مومینٹم بتدریج بڑھ رہا ہے۔ فتنہ وآزمائش جس قدر اضافہ پذیر ہے دعوت حق میں اسی قدرسرعت آتی جارہی ہے۔ ابوبکراورابوعبیدہ ابن الجراح کے قبول اسلام کے بعدپیغمبر اسلام نے کھلے عام تحریک لانچ کردی تھی۔ ابن اسحاق کے مطابق سرداران قریش نے دودفعہ ابوطالب کوقائل کرنے کی ناکام کوشش کی کہ یا تووہ آنحضورﷺ کو نئے پیغام کی اشاعت وتبلیغ سے منع کریں یا آپﷺ کی محافظت سے اظہار برات کردیں، مگراب انہوں نے ایک موثرحکمت عملی کا سوچا کہ بہ ہنگام حج مشن مصطفویﷺ کیخلاف بھرپور استرداد کی مہم چلائی جائے مگریہ طریق بھی راس نہ آیا کہ اس سے مدینہ سمیت صحرائے عرب کے ہر گوشے اور کارنر سے آنیوالوں کو پیغمبرؑ کے مشن سے متعلق آشنائی ہوئی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد قریش نے سنجیدگی سے اہلیان اسلام کیخلاف سب وشتم اورظلم وکرب کا بیڑا اٹھایا تھا اوراسی کے نتیجے میں ہجرت حبشہ ہوئی اوروہ ہنوز جاری تھی کہ عمربھی اسلام کوبہم میسرآگیا۔ ابن اسحاق کے مطابق حمزہ اورعمرکے قبول اسلام نے مسلمانوں کواس قدر مضبوط کردیا کہ عزوقریشاً یعنی وہ قریش کا مقابلہ کرنے یا ان کی طاقت کوبرداشت کرنے کے قابل ضرور ہوگئے تھے۔ اسی افراتفری اورکھلبلی میں بائیکاٹ کا فیصلہ ہواجواڑھائی تین سال سے زائد نہ چل سکا۔ تاہم اس پوری مہم جوئی میں قریش مکہ حتیٰ کہ یہودمدینہ کی سرگرم معاونت سے بھی نہ توکسی بحث وجدل میں پیغمبرؑ کو خاموش کراسکے اور نہ ہی کوئی ایسا موڑآیا کہ تحریک مصطفویﷺ کا زور اور وجود کرش ہوتا دکھائی دیا ہو۔

فتنہ اور ابتلا و آزمائش اپنی جگہ جاری ہیں مگر خیرالماکرین ہے کہ اہل ایمان کو قندیل تقویٰ و توازن اور اعتدال کی لو سے منزل کیطرف لیے چل رہا ہے اور طاغوتی قوتوں کو فی دائرۃ السو ٗ کی عبرت ناک بھول بھلیوں vicious circle میں کھپا رہا ہے۔ فتنے اورابتلا و آزمائش کے ہنگام کہا جارہا ہے کہ کیا لوگوں کا گمان ہے کہ وہ صرف اس بات پرچھوڑدیئے جائیں گے کہ انہوں نے زبان سے کہہ دیاکہ وہ ایمان لائے ہیں اوروہ آزمائے نہیں جائیں گے۔ ہم نے ان (مسلمانوں) سے قبل لوگوں کو آزمایا ہے اوربعینہ ان سب کو آزمایا جائے گا۔ کھوٹے اورکھرے الگ الگ کیے جائیں گے۔ اورکیا یہ سیاہ کار (مشرکین اور اہل کتاب بالخصوص یہود) سمجھتے ہیں کہ خدا پر سبقت حاصل کرلیں گے؟ ان کے اندازے بہت برے ہیں۔۔۔ جو جدوجہد مسلسل [جاھد] کوشعارکیے ہوئے ہے ایسااپنے لیے کر رہاہے اللہ غنی عن العالمین ہے۔۔۔ ہم نے انسان کو والدین کیساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے تاہم اگر وہ شرک پر مجبور کریں [جاھدٰک] توان کی اطاعت سے دستکش ہوجائو۔ میری طرف تمہاری واپسی ہے اورمیں تمہیں دکھا اور بتادوں گا کہ تم کیاکرتے رہے ہو۔۔۔ لوگوں میں وہ بھی ہے جسے جب راہ خدامیں مشق ستم بنایاجاتاہے تووہ اسے بمنزلہ عذاب الٰہی گردانتے ہیں (وہ اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح کہ خداکے عذاب سے ڈرنا چاہئے، یا فتنے کے ہنگام ان کا مائنڈ سیٹ کلیئر نہیں ہے وہ اس سزا کو شاید بتوں کے ترک کی سزا سمجھ بیٹھے ہیں)۔ اورجب بفضلہ تعالیٰ تمہیں کامیابی اور مدد پہنچتی ہے تویہ وفاداریاں بدلنے والا تھڑدلا یقیناًکہے گا کہ ہم توہمیشہ سے آپ کے ساتھ تھے۔ اورکیا تمہارا خدا عالمین کی مخلوقات کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ نہیں ہے؟ خدایقیناً اہل ایمان کو منافقین سے الگ کردکھائے گا(29:1-10)۔

درج بالا آیات کے گچھے میں تین اصطلاحیں فتنہ، جہاد اور منافقین بیان ہوئی ہیں۔ چونکہ یہ مدنی عہد کی اسٹینڈرڈ اصطلاحیں ہیں اس لیے A Sprenger اورHirschfeld کے علاوہ سب مستشرقین ان آیات کو مدنی دور کی آیات مانتے ہیں۔ فتنہ ایسی صورت حال کا نام ہے جس میں کوئی رشتہ دار اقارب اوردیگرکے دبائو میں اپنے نظریات سے دستکش ہونے پر مجبور کیا جارہا ہو۔ اس فتنے کا ہتھیار پروپیگنڈا یا ذہنی اذیت اورطبعی ٹارچرہوسکتے ہیں۔ فتنے کا شکار اگرچہ افراد فرداً فرداً ہوتے ہیں تاہم یہ بڑے کینوس پر بپا کیا جاتا ہے اوراس شدت سے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا، یعنی اس کاشکار فرد سمجھ نہیں پاتاکہ درست کیا ہے الا یہ کہ وہ مضبوط ایمان رکھتا ہو۔ جہاد کی اصطلاح اولاً فردکے باب میں آئی ہے کہ جو جہاد کر رہا ہے اپنے لیے کررہا ہے خدا غنی عن العالمین ہے۔ یہاں جہاد فتنے کیخلاف مضبوط مزاحمت strong willed resistance سے عبارت ہے اور دوسری بار جہاد والدین کی اس ہمہ جہت شدید جدوجہد کے متعلق استعمال ہوا ہےجو اولاد کو واپس بت پرستی پر لانے کی کوشش پیہم ہے۔ یہاں تیسری اصطلاح منافقون ہے جو قرآنی تقویم میں پہلی بار برتی گئی۔ اس کا مادہ نفق ہے نفق زیرزمین ایسے راہ کوکہتے ہیں جس کا خارجی راستہ داخلی سے مختلف ہو۔ چوہا، سانپ یا چھپکلی وغیرہ اپنے شکاری کو جل دینے کیلئے کثیر رخا زیرزمیں بل بناتے ہیں۔ محاورتاً منافق اس شخص کوکہتے ہیں جس نے ایک چہرے پرکئی چہرے سجا رکھے ہوں۔ فطرتاً آدمی اپنی سماجی یا روحانی کمٹمنٹس سے عہدہ برا ہونے کیلئے ہمیشہ ایسے سہل راستوں کا انتخاب کرتا ہے جو عملاً منفعت بخش ہوں۔ لفظ منافق اگرچہ مدنی دور میں کھلے دشمنان یعنی عبداللہ بن ابی جیسے ففتھ کالم یعنی داخلی غداروں کیلئے استعمال ہورہا ہے تاہم یہاں مکی دورمیں یہ اصطلاح اس کیلئے استعمال ہوئی ہے جو اپنے ایمان اور اخلاقی اعتقادات کے باب میں کمزورہے، یا شک وشبے کا شکار ہے قرآن کے مطابق وہ خودفریبی میں مبتلا ہے۔

ان حالات میں ام القریٰ یعنی مکہ کے گردونواح کے انزار کیلئے پیغمبرﷺ نے طائف کا رخ کیاہے۔ اگرچہ زمانہ وسطیٰ کے سیرت نگاروں نے مکی عہدکوپیہم آزمائش و ابتلا اور فتنہ و مایوسی اور ناکامیوں کا عہد گرداننے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا اور مستشرقین نے بھی انہیں کے طرح مصرع پر غزلیں اورنظمیں باندھی ہیں۔ ان کے مطابق سفر طائف مکہ سے مایوسی کا سبب تھا۔ ہم سمجھتے ہیں سفرطائف مکہ سے مایوسی کے برعکس لتنذرام القریٰ ومن حولھا یعنی معلم ازلی کے حکم کی تعمیل ہے۔ مکہ میں اتنی قبولیت ہے کہ اگرباہرسے بھی کچھ معاونت میسرآجائے تومکہ کا سیاسی کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مکہ کا حصول پیغمبرؑکی سیاسی حکمت عملی میں مرکزی اہمیت Pivot point رکھتا ہے۔ خواہ اس کیلئے طائف بروئے کارآئے یا مدینہ اگران کے بغیرمکہ کا حصول ممکن ہو تو ہجرت کی نوبت ہی نہ آئے۔ تاہم سفر طائف اگرچہ حوصلہ افزاثابت نہ ہوا تھا مگراسی سفرسے واپسی کے ہنگام سورۃ جن کے ذریعے معلم ازلی نے پیغمبرؑ کے قلب کے پردہ سمیں پرمستقبل قریب میں مدینہ سے ملنے والی معاونت اور ہنگاموں کے مناظرایسے القا و رواں کیے کہ تحریک مصطفویﷺ کو حق الیقیں کا حتی المقدور اور حتی الامکاں ہائی آکٹین ایندھن فراہم ہوگیا۔ دم واپسی آپﷺ نے میلہ عکاظ کا رخ کیا جہاں حج سیزن میں صحرائے عرب کے اطراف و اکناف سے زائرین کی آمد کا سلسلہ معمول عام تھا۔ دعوت و اشاعت حق کیلئے یہ موقع غنیمت تھا اور قریش کے پروپیگنڈے کو سلام کہ اس سے ان کی دلچسپی بھی دونی ہوگئی جو بصورت دیگر اس پیغام مصطفوی کو درخوراعتنا ہی نہ سمجھتے۔ یہیں مدینہ کے اوس و خزرج عرب قبیلوں کے افراد سے ملاقات ہوئی جو باہمی جنگوں کی آتشیں بھٹی سے پک کر امور خیر کی بارآوری کیلئے تیار ہوچکے تھے یعنی علیٰ قدرِ معلوم کے مقام پر تھے۔ باہمی لڑائیوں کے شیطانی چکر سے نکلنے کیلئے انہیں مذہبی سیاسی قیادت درکار تھی اور اہل مکہ و مدینہ کی باہمی شادیوں رشتہ داریوں اور مکہ کی مسلمہ مذہبی سیاسی اور معاشی اہمیت کے باوصف ہو نہیں سکتا کہ اہل مدینہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے قائدانہ مذہبی اورسیاسی جوہراور جینئس سے متعلق سن نہ رکھا ہو۔ اور پیغمبرؑ سے متعلق یہ فہم و ادراک یوں بھی ناگزیر اور اٹل ہے کہ مدینہ آپﷺ کا ننہیالی شہر ہے۔ لیٹ زمانہ وسطیٰ کی مسلم اسکالرشپ نے اس موقعے کی تصویرآرائی میں زیادہ توانائیاں مصائب و مشکلات اور ناکامیوں اور نامرادیوں پرصرف کی ہیں۔ ایک ایسے قائدوسربراہ کا نقشہ ابھرتا ہے جسے مکہ مسترد کرچکا ہے اور وہ مجبور محض محفوظ و مامون پناہ گاہ کا متلاشی ہے۔ کوئی کسی پررحم کھاکراسے اپنامذہبی اور سیاسی قائدنہیں چنتا۔ اگر آپﷺ کا مشن مکہ یکسر مسترد کرچکا ہوتا یاکوئی ایسا مقام آتا کہ تحریک مصطفوی کو دانش اور جنگ کی اقلیم پرکچلنے کے آثار ہویدا ہیں اہل مدینہ آپ کو کبھی قائدتسلیم نہ کرتے۔ اہل مدینہ کا آپﷺ کو بطور قائد تسلیم کرنا اس امرپردلالت ہے کہ مشن مصطفویﷺ کو مکہ میں نامساعدحالات کے باوجوددانش عام کی اقلیم پر گوناگوں پزیرائی مل رہی ہے۔ ابن اسحاق کے مطابق امیرحمزہ اورعمرکے قبول اسلام سے اہل اسلام کو مکہ میں اتنی طاقت مل گئی تھی عزوقریشاً کہ وہ قریش کی طاقت کا مقابلہ کرسکیں یا اسے برداشت کرلیں۔ اورلیٹ مکی عہد میں مسلمان اس قدر ضرور پاورفل ہوگئے تھے کہ قرآن نے دانش وجدل کی ہر دو اقلیمات پربھرپورجوابی حملے یا انتقامی کاروائی کی اجازت دے دی تھی اگرچہ صبروتحمل کو احسن قرار دیا(16:126)۔ اور جب اسلام کے مغربی نقادبھی بالعموم اسے مکی آیت قراردیتےہیں توپھریہ ماننے سے مفر کیسا کہ تحریک مصطفوی کو مکہ میں ایسے بحرانوں نے حصارمیں نہیں لیا تھا کہ اہل مکہ جب چاہیں اسے اپنی شیریں رضاورغبت کے مطابق فنا کے گھاٹ اتاردیں جیسی کہ کچھ سیرت نگاروں نے منظرکشی کی ہے۔ اورنہ ہی تحریک اسلامی کسی ڈیڈلاک یابندگلی کا شکار ہوئی اگرچہ عسرت وتلخی ایام اور تنگی حالات نے اس کی ترقی اور نمو کو سست رو ضرور رکھا تھا۔ دوسری طرف اسی کشمکش کے دوران ہجرت مدینہ سے ایک سال قبل معراج النبیﷺ کے مذہبی تجربے نے تکوین و تقویم عالم، کائنات کی وسعتوں اورحظاہری وباطنی حقائق و مدرکات اشیا کو مصطفےٰ کے بحر خودشناسی کے مقابلے میں مثل حباب کر دکھایا تھا

That these revelatory experiences involved an expansion of the Prophet’s self by which he enveloped all reality and which was total in its comprehensive sweep—the reference in both cases is to an ultimate, be it the “highest horizon” or the “furthest lote-tree”(53:5-18)(5).

مقام بشریت اور مقام الوہیت باہم مصافحے اور معانقے کی منزل پرآگئےہیں۔ جس کے بحرخودی میں گنبد آبگینہ رنگ حباب ہو وہ عناصرواجزائے تاریخ سے مات کیونکر کھا سکتا تھا وہ چندکلیوں پرقناعت کیوں کرتا جب اسے اذھب الیٰ فرعون انہ طغیٰ کا اذن نہیں ملا تھا کہ مقامی جدوجہد پرقانع رہتا وہ اپنے بے پایاں دامن میں انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (7: 158) یعنی بلا تفریق رنگ ونسل تمام بنی نوع انسان کی رہنمائی اوررحمت اللعالمینی کا مینڈیٹ رکھتاتھا۔ جو اوائل نبوت کے پر خار و پر حجر راستے پر مخالفین کے تحریص وتفویض کے جملہ امکانات کوپائے حقارت سے ٹھکراتے ہوئے گویا ہوا تھا اے چچا! اگریہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پرسورج اور بائیں ہاتھ پرچاندرکھ کریہ کہیں کہ میں تبلیغ رسالت سے بازآجائوں تومیں اس سے دستبردارنہیں ہوں گا۔ یہاں تک کہ خدامیرے دین کو رائج کرے یا میں اس کوشش میں ہلاک ہوجائوں۔ کیا ایسا اولولعزم قائدورہنما کسی موڑ پر مصلحت بینی یاسمجھوتے کاشکار ہوسکتا تھا جیساکہ ابن اسحاق کے بقول زنادقہ نے واقعہ غرانیق کی تھاپ پر افترا باندھا اور رجسے ولیم میورسمیت دیگرمستشرقین مزے لے لے کربیان کرتے ہیں۔ سرداران قریش نے یہ پیشکش کی تھی کہ اگرآپﷺ اپنے دینی فریم ورک میں بتوں کیلئے گنجائش پیداکردیں تووہ آپ کی متابعت اختیار کرنے کو تیارہیں اوروہ کہ جس نے ماسوا نذیروبشیراوربشرمثلکم کبھی کوئی دعویٰ نہ کیا تھاممکن ہے اپنی کمیونٹی کے تحفظ کیلئے لمحہ بھراس پیشکش پرغور کیلئے رکا بھی ہومگراس آفرکوردکرنے کیلئے وحی کی ضرورت نہ تھی کہ یہ نبوت و رسالت کےبنیادی مینڈیٹ سے انحراف تھا قرآن کی گواہی بھی یہی ہے ولولا ان ثبتنٰک لقد کدت ترکن الیھم شیاً قلیلاً۔ اگر ہم نے آپ کو راسخ فی الدین نہ بنایاہوتا توآپ مشرکین کیطرف قدرے جھکائو اختیارکرلیتے(17:73-75)۔ یوں ایسا نہ تھا کہ آپ اس سمجھوتے پررضامندہوئے ہوں اوروحی کے ذریعے روکا گیا ہوبلکہ وحی کی شہادت ہے کہ آپ بلحاظ اصول ومبادی اس قدر راسخ العقیدہ تھے کہ آپ نے فطرتاً اس پیشکش کو جھٹک دیا۔ تاہم افترا پرداز واقعہ غرانیق کے حق میں یہ آیات پیش کرتے ہیں۔ اورہم نے آپ سے قبل جس قدرنبی اور رسول بھیجے سب کا معاملہ یکساں تھا۔ جونہی لوگوں کی ہدایت کیلئے وہ کچھ فرماتے شیطان (ذاتی اثرورسوخ یا سیاسی قدکاٹھ) ان کے دلوں میں وسوسے ڈال دیا کرتا۔ مگر اللہ ابلیس کی دراندازی مٹا کر اپنی نشانیوں کو اور زیادہ ابھاردیتا (22:52-53)۔ ڈاکٹر اسدکا موقف ہے کہ یہاں ثم یحکم اللہ آیٰتہ سے مرادہے “God causes his messages to speak for themselves, so that any insinuation as to the prophets’ “hidden motives” is automatically disproved(6)”. ۔ مشاہدہ عام ہے کہ انسان سہل پسندواقع ہوا ہے سہل انگاری میں Evil impuses and satanic temptations کی مابدولت شارٹ کٹ کی راہ سوجھاکرتی ہے مگر فکرومطالعہ سے ابھرنے والی اصول پسندی رضا ومشیت الٰہیہ سےسہل انگاری کی راہ کھوٹی کردیتی ہے۔ تاہم انبیا و رسل پروحی کا چیک اینڈ بیلنس معمولی بشری تقاضے اورکمزوریاں بجا مگرانہیں اصول فروش نہیں بننے دیتااسی لیے انہیں الٰہیات کے ماہرین نے معصوم عن الخطا قراردیاہے۔

قرآن واسوہ رسول کی باطنی تاریخ inner viscissitudinous history سے عدم واقفیت و عدم موافقت کے حامل متاخرین سیرت نگاروں نے مکی عہدنبوی ﷺ کو مایوسی و ابتلا اور نامرادی و ناکامرانی کا عہد قرار دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا نتیجتاً ایک ٹھکرائے ہوئے ردکردہ شخص کا تصورجنم لیتاہے جواستردادکے سبب کسی عدم دریافت شدہ جغرافیے یا سرزمین Terra incognita میں محفوظ پناہ گاہ کا متلاشی ہے۔ یہ حقائق کی قیمت پرمراتب و درجات مصطفویﷺ کو ناموزوں اورناروا طور پر بلند رکھنے کی دوست نما احمقانہ سعی ہے۔ گویا جب تک آپﷺ اورتحریک اسلامی کو مجبوری وبے کسی اور استرداد و ناکامی اورنامرادی کے قعرمذلت میں پھنسا نہ دکھایا جائے مقام مصطفوی کا تعین ہونہیں سکتا۔ خواہ اس کیلئے غرورعشق اور استحکام خودی کےاس بانکپن کو گہنادینا یا حتمی طور پرمسخ کردینا کیوں نہ پڑجائے جوحیات وتحریک مصطفوی کا اول تاآخرجزولاینفک نظرآتاہے۔ راقم کا احساس ہے کہ اہل اسلام کی سیاسی اقلیم پر جو سیاسی باولاپن Political cynicism درآیا تھا یاتواس کا فطری نتیجہ تھا کہ زمانہ وسطیٰ میں سلاطین کے پروردہ اسکالرز قرآن و اسوہ رسول سے ایک ایسا آفاقی پیغام مرتب کربیٹھے جواخلاقی یاسیت Moral Pessicism کا شاہکارہو یا انہیں عمداً اس پرمامورکیا گیا تھا تاکہ ملوکیت کسی بھی ممکنہ مزاحمت سے مامون رہے۔ یہی وجہ ہے اگرچہ اہل تصوف اور علما تاریخی طورپر دیگرکئی نظریاتی محاذوں پرگتھم گتھا ہونے کے باوجود چنداستثنائی مثالوں کے علاوہ اس امر پر متفق الیہ رہےہیں کہ قرآن واسوہ رسول سے ایسا کوئی خوش نما حوصلہ افزا مبنی برامیدوبیم تصورنہیں ابھرتا جوزمین پر سماجی معاشی سیاسی اورثقافتی نظام اخلاق کی تشکیل وتجسیم کا بیڑااٹھانے پرمائل کرے خواہ یہ قرآن واسوہ رسول کا ناقابل مفر جوہر وموقف اوراسٹینڈکیوں نہ رہا ہو۔ اس لیے زمین پرنظام اخلاق کی تشکیل وتجسیم کیلئے وہ جاں گسل عظیم الجثہ پہل کاری initiative tremendousجو رسول واصحاب رسولﷺ کا اخص الخاص تھی پوری تاریخ اسلام میں عنقا ہے۔ خواہ سلجوقوں کے زیرسایہ نموپانے والا مدرسہ نظامیہ بغداد ہو یا فاطمیوں کی جامعہ الاظہر، جہاں فلسفے اور دیگر علوم کا نصاب طے شدہ تھاکیا وہاں تحقیق و تدقیق اور دریافت کا ایسا کھیت جوتا جاسکتا تھا جو ابتدائے اسلام کے حقیقی مدعا پر پڑی سلطانی و ملائی اور پیری کی مفاد پرستیوں کی گرد ہٹاسکتا۔ ان سربستہ مفادات کےکہرمیں لپٹے ان آفتابان علم کا مقدرزیادہ سے زیادہ خوں رنگ شفقین کا نظارہ پیش کرنا تھا۔ تحقیق وتدقیق اور دریافت سے کلی طور پر محروم یہ ادارے گوش نازک میں آویزاں اس چاند کی مانندہوتے ہیں جس کا مقدراندھی تقلید، قدامت پرستی اور تنگ نظری کی دھند میں بالآخر غیاب اختیار کرجانا ہوتا ہے۔ یوں زمانہ وسطیٰ کے مسلم اسکالرز میں قرآن و اسوہ رسول کا خالی از مغز تصور جہاں سلاطین اہل تصوف اور علما کے مشترکہ مفادات سے ترتیب پایا تھا وہاں یورپی نشاۃ ثانیہ کے بعد مسلم ممالک پر مغربی یلغار اور اسلام کے بزور تلوار پھیلنے کے یورپی استعمارانہ پروپیگنڈے نے بھی ایسے معذرت خواہ اسلامی اسکالرز کی ایک لمبی چوڑی کھیپ کے Defensive instincts کو وہ بھڑکایا کہ ان کی ساری توانائیاں یہ ثابت کرنے پروقف خاک ہوئیں کہ گویا اسلام بدھ ازم یا عیسائیت کی طرز پر تبلیغ محض سے پھیلا ہو۔ سید امیر علی اور سرسید اینڈ کمپنی کا تعلق اسی قبیل سے ہے۔ اسلام کے بزورتلوار پھیلنے کا مغربی پروپیگنڈا ایسا عالمی بیانیہ بنا دیا گیا کہ جیسے یہی امرواقعہ ہو۔ یوں کلاسیکی ماڈرن عہد کے مسلم اسکالرز کو مثبت طور پر تنقیدی اور تخلیقی پیرائے میں اسلام کو امرواقعہ کے طور پر دیکھنے کا موقع خال ہی نصیب ہوا۔ ان کی تنقیدی اورتخلیقی صلاحیتیں وسیع پروپیگنڈے سے سلادی گئیں اور دفاعی جبلتوں کو اسلام کیخلاف ایک عالمی بیانیے کی ہوا سے بھڑکایا جاتا رہا یوں ان کی مثال اس شخص جیسی بن گئی جسے جب کہا گیا کہ تیرا کان کتا لے گیا تووہ پہلے اپنے کان کی تسلی کرنے کے برعکس کتے کے پیچھے دوڑ پڑا۔ یہ دفاعی جبلتیں اس قدرحاوی رہیں کہ ڈاکٹر محمد اسد جیسا مسلم تشخص اور سیاسی عصبیت کا حامل صاحب حریت اسکالر لیٹ مکی عہد کی آیت کریمہ جس میں مسلمانوں کو جوابی حملے اور انتقامی کاروائی کا اذن الٰہی ملتا ہے اور صبر کو ترجیحاً اختیار کرنے کی نصیحت ہے (16:126) کے باب میں لکھتا ہے کہ یہاں جوابی دلائل کا اذن مرادہے اور بطور حکمت عملی صبر کو ہنوز ترجیح دی گئی ہے۔ انسان پراس کے ماحول اورزمان و مکاں کا گہرا اثر ہوا کرتا ہے۔ ڈاکٹر اسد کا زیادہ تر وقت مشرق وسطیٰ میں گزراجہاں فکری اقلیم پرشیخ عبدہ اوررشیدرضا کا طوطی بولتا تھا اور ان کی توانائیاں بھی اسلام اور تلوار کو الگ الگ دکھانے میں وقف ہوئیں اوراسدچونکہ جابجا حاشیے میں المنار کا حوالہ دیتاہے تو بعید ازقیاس نہیں ہے کہ وہ غیرمحسوس طور پر مفتی عبدہ اوررشیدرضا کی لائن اختیار کرگئے ہوں اور اس وقت کا عالمی بیانیہ بھی انہیں اس پر مجبور کر رہا ہو۔

تاہم ڈاکٹراقبال احمد اور رابندرا ناتھ ٹیگور کا تجزیہ صائب ہے کہ جب 1904-1905 کی روس جاپان جنگ میں جاپان کو فتح ہوئی توپہلی باروائٹ مین سپریمیسی یا مغرب کی unearned racial superiority کاسحر ٹوٹا کیونکہ یورپی نشاۃ ثانیہ کے بعد پہلی بارکسی مشرقی قوم نے سفیدنسل روس کو بھاگنے پر مجبور کیا اور یوں مغربی اقوام کاکئی نسلوں کی کاوش سے بناگیا یہ فلسفہ غلط ثابت ہوا کہ ارتقائی طور پر مغرب اس منزل پر ہے کہ اسے نان وائٹ نسلیں شکست نہیں دے سکتیں یوں وائٹ مین سپریمیسی کا نشہ ہرن ہوا تو Revisionist school منظر نامے پرابھرا جنہوں نے بلاتخصیص رنگ و نسل مغرب اور مشرق کو برابری کے درجے پر دیکھنے کی طرح ڈالی۔ کینٹول اسمتھ، میکسم روڈنسن جیکوئس برک اور دیگر چند مغربی اسکالرزاسی مکتبہ فکر کے نمائندگان ہیں جنہوں نے مشرق ومغرب کو نسل پرستی کا چشمہ اتار کر دیکھنے کی کوشش کی۔ یوں اسلامی اسکالرزکو بھی دفاعی جبلتوں سے چھٹکارا ملا اور اسلام کو امرواقعہ کے طور پر سمجھنے کی کاوش نے جنم لیا۔ اقبال، شبلی نعمانی، ڈاکٹر فضل الرحمان اور ڈاکٹرطارق رمضان وغیرہ کا تعلق اسی قبیل سے ہے۔ تاہم یہ اسکول یا مدرسہ فکرافق پر تادیر قائم نہ رہ سکا۔ کیونکہ ایک طرف مشرق وسطیٰ سے نکلنے والے تیل کی دولت کو عرب ممالک نے براہ راست تیسری دنیا میں انویسٹ کرنے کے بجائے سرمایہ امریکی اور برطانوی مالیاتی اداروں کو سونپا تو ان روباہ صفت تاجراقوام نے استحصالی حربوں سے نوآزاد غریب اقوام کو سود کے شیطانی چکر میں وہ پھنسایا کہ جغرافیائی نوآبادیاتی نظام کی جگہ معاشی نوآبادیاتی نظام neo colonialism نے لے لی یوں مغربی استعمار کے مفادات کے تحفظ کیلئے نوآزاد ریاستوں میں پے درپے مارشل لا رژیم انسٹال کی گئیں۔ سوجہاں مغرب نے عالمی مالیاتی اداروں کے باوصف نوآزاد مسلم ریاستوں کے وسائل اورسیاسی مستقبل پردوبارہ قبضہ کرلیا اور وائٹ مین سپریمیسی کا عفریت لوٹ آیا وہاں مسلم ڈکٹیٹرز نے ہراس آواز کا گلہ دبادیا جوروشن خیالی کے باوصف آزاد و خود مختار ریاستوں کا خواب مغرب کے ساتھ برابری کی سطح پردیکھ رہی تھی۔ اور ہم اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے کی عملی تصویر بن گئے۔ ان شیوخ العرب کی منفی عملیت پسندی ملاحظہ ہو کہ اگران سے انفرادی طور پر سود پر ادھار مانگا جائے تو شدت گناہ کے احساس سے شایدان کی ہڈیاں پگھل کر راکھ ہوجائیں تاہم انہیں کے سرمائے سے عالمی ساہوکار پوری پوری قوموں کو سودی سرمایہ دارانہ نظام سے باجگزار بنالیں تو اسلام کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔

ایسے میں قرآن واسوہ رسول کا بے مغز تصورہی جگہ پاسکتا ہے۔ یوں اگر مکی عہدنبویﷺ کو خالی ازشکوہ و بانکپن ناکامی و نامرادی اور ناکامرانی واسترداد اور مطلق جبرواستکراہ کے طور پر پیش کیا جاتاہے تو مسئلہ کج فہمی، تعبیر کی غلطی اور پیوستہ مفادات کے اسٹیکس کا ہے۔ مدثر کچھ کے نزدیک العلق کے بعد نازل ہوئی جس کی شہادت ہے کہ مشن مصطفوی نے اہل مکہ کے اوسان اڑادیئے کانھم حمر مستنفرۃ فرت فی قسورۃ۔ آیات الٰہیہ کی معنوی شدت و ارتکازکا یہ عالم ہے کہ جب انہیں پیش کی جاتی ہیں تویوں لگتاہے جیسے گدھوں کے بیچ شیرکا ورود ہوا ہو۔ آپﷺ کی چالیس سالہ صداقت وامانت شعارزندگی کا سکہ ایسا بیٹھ چکا ہے کہ بمطابق قرآن اہل مکہ آپﷺ کو تو جھٹلانے سے رہے وہ خدا و قرآن پر افترا باندھتے ہیں۔ دودفعہ کبائرقریش نے ابوطالب سے پیغمبر کی محافظت سے دستبردار ہونے کی خواہش کی مگر نبیﷺ کا اصرارکہ یا تویہ دین غالب آئے گا یا میں اسی جستجو میں ماردیا جائوں تیسری کوئی راہ نہیں ہے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دوتوبھی دین کے غلبے کی جہدمسلسل سے دستبردارنہیں ہوں گا۔ ابوطالب کو بستر مرگ پر پاکر امرائے قریش نے استدعاکی کہ آپ اپنی قدرومنزلت سے آگاہ ہیں مبادا آپ کے بعد ہمارے اورآپ کے بھتیجے کے درمیان جنگ چھڑ جائے آپ انہیں بلا کر ہمارے درمیان کوئی فیصلہ کردیں کہ ہم ایک دوسرے سے کوئی تعرض نہ کریں۔ آپﷺ کو بلا کر صورت حال بیان کی گئی تو آپﷺ نے فرمایا تم ایک کلمے پرمتفق ہوجائو پھر دیکھنا کہ عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔ ابوجہل نے کہا ہم ایک نہیں دس کلموں پرمتفق ہونے کو تیار ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا لاالٰہ الااللہ پڑھ کربت پرستی سے دستکش ہوجائو۔ بات نہ بن سکی تو امرائے قریش اٹھ کرچلے گئے اور ابوطالب آخرت کو سدھار گئے۔

ابن اسحاق کے مطابق صرف امیرحمزہ اورعمرکے قبول اسلام نے اسلامیان کوقریش کی طاقت کے مقابلے اور برداشت کے قابل کردیا تھا۔ اب توآئے روز اسلام قوت وطاقت اوررعنائی خیال کا مرقع بنتا جارہاہے۔ پیروان اسلام کے عزم و استقلال اور تعدادمیں گوناگوں ترقی ہورہی ہے۔ پیکرصدق وصفا جماعت المومنین سے وعدہ کیا جارہا ہے کہ اگرصدق و عدل کو شعار بنائے رکھوگے تواستخلاف فی الارض تمہارامقدرہوگا۔ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی (58:21) اللہ نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے کہ اس نے کبھی بھی کسی رسول کو مغلوب نہیں ہونے دیا۔ موسیٰ زہوش رفت بیک جنبش صفات توعین ذات نگری ودرتبسمی۔ جس نے ہجرت سے ایک سال قبل ہی حقیقت مطلقہ کو ملاحظہ کیا اور اس مشاہدے کے دوران مازاغ البصروماطغیٰ یعنی حقیقت کبریٰ سے مصافحے اور معانقے کے دوران نہ نگاہ ٹیڑھی اور ترچھی ہو کر دائیں بائیں یا اوپرنیچے ہٹی اورنہ مقصود مشاہدہ سے تجاوز کرکے آگے بڑھی۔ بس اس چیز پر جمی رہی جس کادکھانا اللہ تعالیٰ کو مقصود تھا۔ جس قادرمطلق کی یک جنبش صفات نے موسیٰ کو عزم و قوائے آہنی کی وہ دولت گراں مایہ بخشی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کے آہنی پنجوں سے نجات دینے میں کامران رہا تھا جس کے مشاہدے کی Accuracy & Precision کی گواہی قرآن دے رہا ہے اورجس نے حقیقت کبریٰ اور حکمت ومشیت الٰہیہ کو ریشہ بہ ریشہ نخ بہ نخ تاربہ تار پو بہ پو دیکھا ہے وہ اگرگرمی نشاط تصور سے ایک نئے گلشن ہستی کے قیام کیلئے نغمہ سنج ہے تواس کے نفسیاتی جوش وابال کا کیا عالم ہوگا؟ کیا وہ ایک لمحے کیلئے بھی اپنے مشن کی ناکامی کا سوچ سکتا ہے کجا کہ اسے مکہ وطائف کا مستردشدہ شخص متصور کیاجائے جورات کی تاریکی میں محفوظ ومامون پناہ گاہ کا متلاشی ہو۔

قرآن واسوہ رسولﷺ اورعہدمکہ کی مزاحمت کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی کا ارتکاب متاخرین سیرت نگاروں، مفسرین اور مورخین سے یوں ہواہے کہ وہ اسلام کو ایسے عقائد کا مجموعہ سمجھ بیٹھے جن کا زبانی اقرارہی کافی ہے جسےعمل کی لاگ درکارنہیں ہے، خواہ قرآن اورقرن اول کی جماعت المومنین کی شہادت اس کیخلاف کیوں نہ ہو۔ اس کی بھی کچھ تاریخی وجوہات ہیں ورنہ قرآن روزقیامت منکرین حق اورایسے مسلمانوں کوایک ہی صف میں کھڑا کرتا ہے جن کے ایمان کی کوکھ سے صالح معاشرت کے قیام یعنی زمین پرسماجی نظام اخلاق کی تشکیل و تجسیم کیلئے کچھ برآمد نہ ہوسکا(6:158)۔ پیغمبرؑ نے دراصل اہل مکہ کے سامنے عملی، لاگو یا اطلاقی توحید Applied Monotheism کا مقدمہ پیش کیا یعنی اگرخدا ایک ہے تولازماً انسانیت بھی ایک ہے اورمساوی المرتبت واہمیت ہے سماجی اور معاشی انصاف اس تصور توحید کا ناقابل جدا جزولاینفک ہے۔ سوشیواکنامک جسٹس کے تصور پر زوروشدت اور فکروعمل کا ارتکاز اسی شدومد سےہے جتناکہ خودخداکی وحدانیت پرہے۔ گویا حتمی تجزیے میں محمدﷺکےتصور توحید اور سماجی اصلاحات کے درمیان گماں ہی نہیں یقین کی حدتک ہم زیستگی اوریک جان دوقالب symbiotic relationship والا معاملہ ہے یعنی توحید اور سماجی ریفارمزکے جڑواں تصور میں دونوں کے درمیان organic link ہے اورایک کی حیات لازمی طور پر دوسرے تصور کی حیات سے مشروط ہے۔ یوں تصور توحید ایک ہی صورت میں زندہ حقیقت بن سکتا ہے کہ سماجی معاشی سیاسی اور ثقافتی ناہمواریوں socio-economic cum politico cultural inequalities and imbalances کا قلع قمع کیا جائے۔ اہل مکہ وطائف کو عقیدہ توحید سے کہیں زیادہ توحیدکی عملی جہات نے مائل بہ دشمنی کیا کہ اہل عرب کا پریکٹیکل ٹیمپرامنٹ یہ سمجھنے میں کسی ابہام و الجھن کا شکارنہیں ہوا کہ یہ تصور توحید ان کی مذہبی، سیاسی اور معاشی سیادت کا خراج مانگ رہا ہے۔ دولت و جاہ و حشمت کی جمع پونجی جوان کے پرکھوں نے کئی نسلوں کے استحصال سے انہیں بہم پہنچائی ہے اسے وہ کیونکر وقف خیر کریں۔ مذہب کا ایک سیکولر تصوران میں موجود تھا کہ ڈاکو اور لٹیرے بھی اپنی کمائی سے کچھ حصہ کعبے کا نکالا کرتے تھے اورمنزل پرمامون و محفوظ پہنچنے والے بھی کعبے کیلئے نذرانوں کا اہتمام کرتے تھے یوں مجاورکعبہ ہونے کے ناتے ابولہب مکہ کا امیرترین شخص تھااس نے اپنی مذہبی اجارہ داری کا طلسم ٹوٹتا محسوس کیا اسی لیے سب سے زیادہ کٹیلا اورمرچیلا ردعمل اسی کا تھا۔ ابوجہل اور خاندان امیہ کو سیاسی اجارہ داری کا مینارہ زمیں بوس ہوتے دکھائی دیا توبدک گئے، یہی حال مکی کامرس کے استحصالی طبقے اور سودی معیشت کے کارپردازوں کا تھا۔ اہل طائف کا مسئلہ بھی یہی وجوہات تھیں۔ بنی ثقیف کا طائف خوشگوار آب و ہوا اور ٹھنڈا مقام ہونے کے ناتے جہاں اہل مکہ کیلئے سیرگاہ کی اہمیت رکھتا تھا وہاں لات کامعبدبھی تھا یوں وہ اسلام قبول کرلیتے تولات کی قدرومنزلت اور طائف کی اہمیت برقرارنہ رہ سکتی تھی اوراہل مکہ کے اقتصادی مقاطعے کا خوف اپنی جگہ موجود تھا۔ بنی عامرنے اس شرط پراسلام قبول کرنے کی حامی بھری تھی کہ رسول اللہﷺ انہیں اپنے بعد مذہبی اور سیاسی قیادت وسیادت کیلئے نامزد کردیں مگر آپﷺ نے کہہ دیا یہ فیصلہ صرف اللہ تعالی کے ارادہ اختیار میں ہے۔ اس لیے یقین سے کہا جاسکتا ہے عرب کا ہرقبیلہ بت پرستی کے آبائی دین سے کہیں زیادہ اقتصادی اور دیگر مقامی وجوہ کی بنیاد پر دعوت اسلام پر لبیک کہنے سے مانع تھا۔ ولید بن مغیرہ کہاکرتا تھا کہ قریش کی سیادت و قیادت کی سند میرے لیے ہے اور اہل طائف یعنی بنوثقیف کی پیشوائی ابو معوذ ثقفی کیلئے ہے ہمارے ہوتے ہوئے قرآن کا نزول محمدﷺ پرکیوں ہوتا ہے۔ وقالوا لولانزل ھذالقرآن علیٰ رجل من القریتین عظیم (43:31-32) اور انہوں نے کہا کہ یہ قرآن دو شہروں (مکہ وطائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ تو کہیو کیا رب کی رحمت تقسیم کرنے کا ٹھیکہ ان کے پاس ہے۔

یوں اگرچہ پیغمبرؑ اہل مکہ اوراہل طائف کے ردعمل کوزمینی حقائق کی روشنی میں ان کے پیوستہ مفادات کو کماحْہ سمجھ رہے ہیں تاہم نہ توآپ کو اپنے تھیسس کے استرداد کا سامنا ہے اورنہ ہی اپنے مشن کی ناکامی کا ذرہ برابرخدشہ ہے، بس درون خانہ ایک ہی ہنگامہ برپا ہے کہ آپﷺ بشری وصف کے عین مطابق پیغام الٰہیہ کا نفاذ بسرعت چاہتے ہیں جبکہ لامبدل لکلمٰتہ کا حامل خدامصرہے کہ نصرت و تائیدالٰہیہ کاایک مقررہ وقت ہےسو منتظر رہاجائے۔ بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب بت پرستی پرقائم رہتے ہوئے بھی قبائلی تعصب اوربنی امیہ سے دیرینہ دشمنی کے باوصف قبائلی وفاداریوں کے اصول کہن کی لاج میں پیغمبرؑ کی محافظت سے دستکش نہ ہوسکے، ان کا مدعایہی تھا کہ جس طرح امیہ بن ابی صلت اور ورقہ بن نوفل سمیت دیگر کچھ لوگ اپنے نئے دین اور عقائد کا ابلاغ کر رہے تھے یا ہیں اسی طرح کا حق محمدﷺ کو بھی دیاجانا چاہئے اگر ان کا مشن درست ثابت ہوا تو اس سے خودبنی ہاشم کے عزوناز میں اضافہ ہوگا ورنہ آپﷺ کے گردجمع ہونے والے بالآخر منتشر ہوجائیں گے جس طرح دیگرکا معاملہ ہوا ہے۔

ایسے میں یثرب کے عرب قبیلوں یعنی اوس وخزرج کے افراد سے ایک سال بیعت عقبہ اول اوراگلے سال بیعت عقبہ ثانی لینے والا پیغمبرکوئی ایسا شخص نہیں ہے جسے مکہ میں اپنی اورپیروان کی بقا کے لالے پڑے ہوں اورنہ ہی وہ مکہ کو ہمیشہ کیلئے خداحافظ کہہ کر محفوظ پناہ گاہ کا متلاشی ہے۔ سیرت فہمی میں ایک بڑا بگاڑ بیعت عقبہ اول اوربیعت عقبہ ثانی کی جزیات اوروح کو مع عوامل نظرانداز کرنے سے پیدا ہوا ہے نتیجتاً الاماں ایک نفسیاتی طور پر شکست خوردہ مکہ کی واماندہ ودرماندہ مفرورجماعت المومنین اورقیادت کا تصور ابھرا ہے اور کچھ استثنا کے ساتھ یہ امر مستشرقین کیلئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا کہ سرورعالمﷺ پر چند بڑےالزامات کی بوچھاڑ کے بڑے تانے بانے یہیں سے ابھرے ہیں۔

بیعت عقبہ اول میں توحیدالٰہیہ پر ایمان اور چوری زناہ اوربہتان و افترا اور بچوں کے قتل سے پرہیز اور اطاعت مصطفویﷺ کا پیمان ہوا تھا۔ تاہم جب قرآن نے بھی لیٹ مکی عہد میں صبر کو ترجیح دینے کے باوجود جوابی اور انتقامی کاروائی کا اذن عام دے دیا تواشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑدی پرہیزکے مصداق آںحضورﷺ اس نتیجے پرپہنچے کہ دعوت و موعظت بجاتاہم نظریاتی توحید پر ایمان لے بھی آئیں تواہل مکہ وطائف اوردیگرعرب قبائل عملی اور اطلاقی و لاگو توحید یعنی سماجی اور معاشی و سیاسی انصاف کی اقدارواخلاقیات کو تبلیغ محض سے قبول نہیں کریں گے اور وہ توحیدجو سماجی معاشی اور سیاسی اقلیم پرثمربارنہ ہوسکے اورایک خدا ایک انسانیت پرمبنی معاشرت کے قیام میں بانجھ پن کا مظاہرہ کرے کسی فلسفی کا خیال ہوسکتی ہے پیغمبرکے آنگن قلب میں پھوٹنے والی توحیدحقیقی و اصلی و ازلی و ابدی نہیں ہوسکتی جس کی تخم ریزی بیج نبوت کیاکرتاہے۔ تاریخ کا فتویٰ ہے کہ سماجی اورمعاشی انصاف کیلئے روسا و اہل ثروت اورحل و عقد تبلیغ محض سےکبھی شیریں رضاورغبت Sweet Will کے ساتھ آمادہ کار نہیں ہوئے۔ سماجی ومعاشی انصاف کا تانا بانا بننا صرف طاقت کو روا ہے۔ آپﷺ نے طے کیاکہ فریضہ دعوت وموعظت کا اتمام حجت ہوچکا مذیدیہ ساتھ ساتھ چلے گا۔ صرف نرم روی اور نرم مزاجی سے تکالیف ومصائب برداشت کرنا بارآور نہیں ہوا لہٰذا مسلمانوں کیلئے ازبس ضروری ہے کہ وہ طاقت کا طاقت سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک دوسرے کی اعانت کا آپسی معاہدہ کریں۔ بیعت عقبیٰ ثانی کا معاہدہ انہیں امور کو ایڈریس کرنے کیلئے ہوا۔ ابن اسحاق لکھتاہے اس معاہدے میں آپ کے ساتھ آپ کے چچاعباس بھی ہنوز اسلام قبول نہ کرنے کے باوجود شریک ہوئے۔ گرمی وسختی حالات کے تیورنے عباس بن عبدالمطلب کو اس معاہدے میں شریک ہونے پر مجبور کیا۔ قریش آںحضورﷺ اور یثرب کے اوس وخزرج قبائل کے درمیان رابطوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہونی کے بادل افق پر نمایاں تھے۔ عباس بن عبدالمطلب کو قلق تھا کہ ممکن ہے جنگ کی نوبت آجائے اور انہیں بنی ہاشم اوربنی عبدالمطلب کے دیگررشتہ داروں کے ہمراہ بھتیجے کی محافظت کیلئے میدان جنگ میں اترنا پڑجائے۔ وہ چاہتے تھے کہ محمدﷺ اور بنی ہاشم و عبدالمطلب کیلئے اہل یثرب سے خودعہدوپیمان کرلیں تاکہ بصورت جنگ وہ ان کی مدداوراعانت کے مکلف رہیں۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے عباس نے اوس وخزرج کے افرادسے کہا۔ محمدﷺ کی قدرومنزلت جوہمارے دل میں ہے محتاج بیاں نہیں۔ ہم قریش کے ہم عقیدہ ہونے کے باوجود اس (محمدﷺ) کے تحفظ کیلئے اٹل ہیں۔ یہ اپنے شہرمیں قرابت داروں کے درمیان ہر طرح سے محفوظ ہیں۔ محمداورپیغام محمدﷺ آپ کو مدداوراعانت کیلئے سونپ رہے ہیں، یہ مت سمجھناکہ ہم ان کی حفاظت سے دستکش ہواچاہتے ہیں۔ اہل یثرب میں سے برا بن عازب نے کہا ہم جنگ آزمودہ لوگ ہیں اور یہ فطرت ہمیں بزرگوں سے ورثے میں ملی ہے۔ پیغمبرؑ نے کہا آپ مجھ سے ہیں اورمیں آپ سے ہوں جنگ وصلح میں ہم زیست وہم رکاب رہیں گے۔ بعدازاں معاہدہ مرتب ہوا ہم عہدکرتے ہیں کہ رنج وراحت اورسختی ونرمی میں ہم آپ کی اطاعت کریں گے اور جہاں کہیں بھی ہوں گے لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اعلان حق کریں گے۔

معاہدہ حکمتاً رات کے پچھلے پہر ایک پہاڑی گھاٹی میں ہوا تھا۔ قریش کواپنے ذرائع سےخبرملی توممکنہ نتائج سے بدحواسی کے عالم میں اگلے روزخزرجیوں کی قیام گاہ پر پہنچے اورکہا ہم تم سے جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے پھرتم نے کیوں محمدﷺ کی معیت میں ہم سے لڑنے کا معاہدہ کیا ہے؟ جو معاہدے میں شریک نہ تھے انہوں نے اظہاربرات کیا، شرکائے معادہ نے قریش کے تامل کو غنیمت جانا اورچپ رہے۔ خبرکی تسلی تک کے وقت کو غنیمت جانتے ہوئے خذرجیوں نے واپسی کی راہ لی۔ یوں محفوظ پیرائے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ بیعت عقبہ ثانی کا معاہدہ ہر اعتبار سے ”معاہدہ جنگ” تھا۔ عباس بن عبدالمطلب کا بیان واضح کرتاہے کہ محمداورپیروان محمدﷺ مکہ میں بقا کے خطرے سے دوچار نہیں ہیں۔ حکمت مصطفوی بھی یہاں دفاعی کے بجائے منزہ و مقدس طورپرجارحانہ ہے۔ اگرخزرجیوں سے قریش کے مکالمے کی تحلیل نفسی کی جائے تو قریش دفاعی لائن پر نظر آتے ہیں اور معاہدے کی تعلیل و تعجیل اور تسجیل بھی سمجھ آتی ہے۔ غالباً اسلام اورتلوار کے مغربی پروپیگنڈے کا الزام جدید مسلم مفکرین کے دماغوں پر ایسا سوار رہا ہے کہ بیعت عقبہ ثانی کا معاہدہ سیرت کے لٹریچر میں کماحقہ جگہ نہیں پاسکا اور شاید تاریخی طور پر سلاطین و علما اور صوفیا کا اتحاد ثلاثہ بھی اس معاہدے کی روح اجاگر کرنے میں اپنے مفادات کو زد پر سمجھتا تھا کہ یوں پہل کاری initiative کے جزبے سے انبوہ امت زمین پر نظام اخلاق کی تشکیل کیلئے متحد ہوکر معرکہ زن نہ ہوجائے اور یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے۔ جب دوفریق حالت جنگ میں ہوں تو ہر ایک کو اپنی پالیسی اور حکمت عملی وضع کرنے کا حق ہوتا ہے جو گاہے دفاعی ہوگی اورگہے جارحانہ اس کا تعین تو حالات اور فریقین کا عزم کرتا ہے۔ مگر معذرت خواہ مسلم اسکالرز نے طے کر رکھا ہے کہ پیغمبرﷺ کے ہراقدام کے جواز کیلئے کوئی کفارکا جارحانہ اقدام ہونا چاہئے۔

اموربالا کی روشنی میں جب بیعت عقبہ ثانی کے معاہدے کے بعد مکہ سے مہاجرین مدینہ پہنچنا شروع ہوئے، حبشہ کے مہاجرین کو بھی مدینہ پہنچنے کی ہدایات جاری ہوئیں اورجب مدینہ کو مسلمانوں کا ایک معتدبہ حصہ اور طاقت میسر آگئی تو طاقتور ہوکر لوٹنے کے ارادے سے بحکم الٰہیہ آپﷺ بھی مدینہ ہجرت کرگئے۔ اگرچہ ہجرت مدینہ کے بیان میں کچھ اسکالرز بیعت عقبہ اول اوربیعت عقبہ ثانی اور دیگر عوامل سے صرف نظرکرتے ہوئے اسے اچانک کی پرواز قرار دیتے ہیں تاہم تاریخ اسلامی کا گہرا ادراک رکھنے والے اسکالر فلپ کے ہٹی ان عوامل سے باخبر نظر آتا ہے جب وہ لکھتا ہے

Muhammad allowed two hundred followers to elude the vigilance of the Quraysh and slip quietly into Madina , his mother’s native city; he himself followed and arrived there on Sept 24, 622. Such was a famous hegira (hijra)- not entirely a “flight” but a scheme of migration carefully considered for some two years(7)

 ہجرت بیشترانبیا کی سنت رہی ہے اوریہ ثابت کرتی ہے کہ انسان کی جڑیں زمین میں نہیں آسمان میں ہیں۔ یعنی وہ ایک روحانی اوراخلاقی وجود ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے بجا طور پر کہا ہے کہ فلسفہ ہجرت کو سمجھنا ہوتو ٹوائن بی کی ہسٹری آف سیولائزیشن کا مطالعہ کیجے مصنف نے جن پچیس تہذیبوں کے عروج وزوال کو موضوع بنایا ہے پچیس کی پچیس تہذیبوں کے قیام وترقی کا ہیولیٰ ہجرت کا مرہون منت ہے۔ دورکیا جانا امریکا جسے مہاجرین کی سرزمین کہاجاتاہے فرید زکریا کے الفاظ میں اسی مظہرہجرت کے باوصف متنوع اذہان کی کاک ٹیل بننے سے سپرپاور بنا۔ برطانیہ جس کی سلطنت میں کبھو سورج نہیں ڈوبتا تھااس کی تاریخ کھنگالو تو اس کی ترقی اورالوہ کا سبب بھی مظہرہجرت نظرآئے گا۔ مکہ جسے قرآن ام القریٰ یعنی تہذیبوں کی ماں قراردیتاہے ہاجرہ و اسماعیل کی ہجرت سے آبادہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عمر جس کے نوربصیرت سے کہکشائیں اور ماہونجوم روشنی مانگتے تھے جب اسلامی کیلنڈر کا نکتہ آغازطے کرنے لگے ولادت نبوی یا فتح مکہ کے سنین کے بجائے ہجرت مدینہ کی بے سروسامانیاں اور بلاتیغ وسیف مدینہ کی فتح مرکزنگاہ بنی اورتاریخ اسلامی کا یہی واقعہ تقویم اسلامی کا نکتہ آغاز ٹھہرا۔

مدینہ میں پیغمبراسلام ﷺ نے میثاق مدینہ پردستخط کیے جس میں یہودیوں کی مذہبی آزادی کو تسلیم کیا گیا اور مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہرممکن ترین حدتک قیام امن اور دفاع مدینہ کیلئے تعاون کو لازم قرار دیاگیا جہاں تک امن عامہ کا تعلق ہے نزاعات ودیگرمسائل کے حل میں رائے محمدیہ کو مطلق اتھارٹی اور ویٹو پاور تسلیم کرلیا گیا۔ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر معذرت خواہانہ مسلم اسکالرشپ میثاق مدینہ کو سیکولر اسٹیٹ کا مسودہ ثابت کرنے میں کوئی دقیقہ فرگزاشت نہیں کرتی۔ اگرسیکولرازم کا مطلب محض دوسروں کی مذہبی آزادی کو تسلیم کرنا ہے تو بلاشبہ میثاق مدینہ اس جانب حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے تاہم اگر سیکولرازم کا مطلب امورآئین وقوانین ریاست و سیاست میں مذہب کا عدم دخیل ہونا مراد ہے جو سیکولرازم کی تاریخ سے عیاں ہے اورجس سے مسلم معذرت خواہ اسکالر اعتنا برتتے ہوئے تجاہل عارفانہ کا اظہار کرتے ہیں ایسے سیکولرازم کا میثاق مدینہ پراطلاق سراسربددیانتیی یا حقائق سے عدم واقفیت کا مظہر ہے۔ ایسے اسکالرز کو بجا طور پر علی شریعتی یورپی اقدارکی ٹرانسلیٹنگ مشینیں قراردیتے ہیں۔ فضل الرحمان لکھتے ہیں میثاق مدینہ کو سیکولر ڈاکیومنٹ قراردینا یہ کہنے کے مترادف ہے کہ جب محمدﷺ اس پر دستخط کر رہے تھے تو وہ ایک غیرمذہبی عمل اور رویے کا اظہار کر رہے تھے۔ اوریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پیغمبرﷺ اتنے اہم ترین معاہدے کے دوران اپنے فرائض منصبی سے دستبردار ہوجائیں۔ اگر سیکولر طرزکی معاشرت ہی درکارتھی توایسا سیٹ اپ مکہ میں عین ممکن تھا پھر ہجرت کیوں کی۔ میثاق مدینہ سے متعلق ڈاکٹر نکلسن کا دادوتحسین سے مملو تجزیہ ملاحظہ ہو

No one can study it (Pact of Madina) without being impressed by the political genius of its author. Muhammad does not strike, openly at the independence of the tribes, but he destroyed it, in effect, by shifting the center of power from the tribe to the community; and although the community included Jews and pagans as well as Muslims, he fully recognized, what his Opponents fail to foresee, that the Muslims were the active, and must soon be the predominant, partners in the newly founded state (8).۔

اس معاہدے کے مطالعہ کے دوران کوئی بھی اس کے مصنف کے سیاسی جوہرسے متاثرہوئے بغیررہ نہیں سکتا۔ محمدﷺ نے بظاہر قبائلی حریت پرضرب نہیں لگائی تاہم طاقت کا سرچشمہ قبیلے کے بجائے کمیونٹی کو قراردے کر درحقیقت آپ نے قبائلی نظام و تفاخرکوملیامیٹ کردیا۔ اوراگرچہ اس کمیونٹی کا مسلمان یہودی اورمشرکین حصہ تھے۔ آپﷺ کو ادراک تھا جسے آپﷺ کے مخالفین نہ سمجھ سکے کہ اس معاہدے کی روسے حتمی تجزیے میں اس ریاست نو کا غالب عنصر مسلمان ہی ہوں گے۔

میثاق مدینہ کے بعد ہرممکن ترین حدتک ایک ثانیہ ضائع کیے بغیر بسرعت وتعجیل پیغبرانقلاب ﷺ مہاجرین مکہ اور انصار مدینہ کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے جسے تاریخ مواخات مدینہ کے نام سے جانتی ہے۔ مواخات مدینہ ایک ایسے مظہر کا نام ہے جوجدید و قدیم اسکالرشپ کو مساوی طورپر ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ میثاق مدینہ اورمواخات مدینہ کے بعد آپﷺ اس ٹاسک کیطرف متوجہ ہوئے جوآپ کے مشن کی تکمیل کیلئے شاہ کلید، مرکز ثقل اور فلکرم کی حیثیت رکھنے کے باوصف آپﷺ کے دل کا قریب ترین کلیدی نکتہ تھا۔ وہ مکہ کو اسلام کی اقلیم یا قلمرو میں داخل کرنا اور پھرمکہ کے مذہبی مرکز کو اطراف واکناف عالم تک اشاعت اسلام کیلئے بطور لانچنگ پیڈ بنانا تھا۔ یوں اب آپ کی جدوجہد اور قویٰ کی تمام جہات اسی مقصد کیلئے حصول مکہ پرمرکوزہوئیں۔

All his political actions after his arrival in Madina –harassment and waylaying of the Meccan trade caravans- are really intelligible only in the light of his over-riding concern to take Mecca- if not through peaceful means, then through economic pressure or, if necessary, war (9).۔

حصول مکہ کی حکمت عملی مدینہ میں نہیں ترتیب دی گئی جیساکہ اسلام کے مغربی نقادوں کا خیال ہے۔ مکی عہد میں بھی حصول مکہ مشن وحکمت پیغمبرﷺ میں تاج کی حیثیت رکھتا تھایہاں تک کہ حکمت عملی کمپرومائزکی حدوں کو چھونے لگی تھی قرآن کی بروقت خبرگیری کام آئی اورنصرت وتائیدالٰہیہ کا منتظررہنے کوکہا گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مستشرقین نے فہم سیرت میں بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ صرف اتنا بھی سمجھ لیتے کہ تاریخ میں انبیا و رسل اور مصلحین میں سے کسی بھی غیرمسلح شخص کو تاریخ کے افق پراپنا رنگ ونقش ثبت کرنے میں کامیابی نہیں ملی تو درست جہت نمائی ہوسکتی تھی۔ جب کسی دوسرے کلچریا مذہب کی تاریخ کو اپنے آئینہ خیال سے دیکھنے کی کاوش کی جائے گی ٹھوکر یقینی ہے۔ اسلام کی سیاسی اورعسکری جدوجہد موسیٰؑ کی بنی اسرائیل کو فراعین مصرسے آزاد کرانے اور کلمہ اعلائےحق کو بلند کرنے کی جدوجہد سے مماثلت رکھتی ہے اسی لیے قرآن میں موسیٰ و کتاب موسیٰ کا ذکر سب سے زیادہ آیاہے اوریہودی اسکالرز اگر نسلی اعجاز اور تعصب کی قربانی دیں توحیات وتحریک مصطفوی کا مطالعہ آسان ہوسکتا ہے تاہم عیسائیت چونکہ سلطنت روما کے مظالم کا شکار رہی اور عیسیٰ وحواریون عیسیٰ کو تاریخ کے افق پر اپنا رنگ ثبت کرنے میں کوئی خاطرخواہ کامیابی نہیں ہوئی اس لیے عیسائی آئینہ خیال مذہبی جدوجہد کو ناکامی و نامرادی اور ناکامرانی و استرداد اور دارورسن کی قابل رحم دلسوز داستانوں تک محدود سمجھتا ہے یوں عیسائی روایت کے اسکالرز کیلئے کسی مذہبی شخص کےکامیابی سے مملو ہونے کاخیال انہیں اخلاقی سمجھوتے کا مکروہ مظہر دکھائی دیتا ہے۔ اسی روایت میںں رچے بسے عیسائی مستشرقین یکسو ہیں کہ مدینہ پہنچتے ہی پیغمبراسلامﷺ یکسر بدل گئے۔ The seer in him now recedes into the background and the practical man of politics comes to fore. The Prophet is gradually overshadowed by the statesman (10). اس بنیادی غلطی نے اسلام کے مغربی نقادوں کے ذہن کو اس قدر آلودہ اور پراگندہ کیا ہے کہ وہ سیرت مصطفویﷺ کی ایک گتھی سلجھاتے ہیں دوسری الجھ جاتی ہے آنکھیں تعبیر کی غلطی سے بھینگی ہوئیں تو قصرنبوت کی اہینٹوں میں جابجا ٹیڑھ نظر آیا۔

میثاق مدینہ اورمواخات مدینہ نے جب مطلوبہ طاقت اور استحکام بہم پہنچایا توبات صبریا صرف جوابی اور انتقامی حملوں تک محدود نہ رہی بلکہ سرگرم جدوجہد یعنی جہادبالقتال کا حکم بھی آگیا(22:38-40)۔ یوں ڈاکٹر فضل الرحمان اور ڈاکٹر کلیم صدیقی بالاتفاق لکھتے ہیں کہ مدینہ میں مواخات مدینہ کے بعد بنیادی سماجی اور معاشی معاملات سنبھلتے ہی پیغمبرؑ نے چھاپہ مار دستے اورجاسوسی کارواں کا سلسلہ ان تجارتی راستوں اور ساحلی راستوں پر جاری کیا جوقریش کے تجارتی قافلوں کی گزرگاہ تھے یہ ایک مبارک جارحانہ پالیسی قریش کو نفسیاتی طور پر ہراساں اور شام کے ساتھ معاشی مقاطعے سے بندگلی میں پہنچانے کی نیت سے تھی۔ جب فریقین حالت جنگ میں ہوں تو دونوں طرف جارح یا دفاعی حکمت پالیسیوں کے آپشنز ٹیبل پرہوتے ہیں یہ معذرت خواہ اسکالرزہیں جو پیغمبرؑ کے ہر اقدام کیلئے قریشی جارحیت کا جواز لازم سمجھتے ہیں۔ محمدﷺ اپنی پالیسی اور ویژن میں حصول مکہ کیلئے یکسوہیں پرامن اندازمیں ہو تو فبھا، معاشی ہراسمنٹ اور بندش و مقاطعہ بروئے کار آئے تو بھی درست ہے اور میدان جنگ سجانا پڑے توبھی عارنہیں ہوگا گر جیت گئے تو کیا کہنے ہارے بھی توبازی مات نہیں۔ مکہ کعبۃ اللہ کے باوصف صحرائے عرب کا مذہبی حب ہوتے ہوئے ویٹی کن سٹی ہی نہیں بلکہ تجارتی مرکز ہونے کے ناطے جزیرہ نماعرب کا وال اسٹریٹ بھی ہے۔ یہ عقدہ مدینہ آکر ہی وا نہیں ہوا تھا مکی عہد کی سورۃ قریش نے واضح کردیا تھا مکہ کی خوشحالی اور امن کے جتنے چراغ ہیں کعبۃ اللہ کے چراغ سے روشن ہیں۔ پھر صحرائے عرب میں قریش کی مذہبی اور سیاسی حیثیت کے چراغ ہیں اور جو انہیں دیگر قبائل سے معاہدوں کے باوصف مرکزی اہمیت حاصل ہے شمع نظرخیال کے انجم جگر کے داغ جتنے چراغ ہیں تیری محفل سے آئے ہیں کے مصداق صحرائے عرب کے کسی بھی گھرمیں اگرکوئی بچا کھچا اجالاہے یاسحرکے امکاں ہیں تو وہ سب اسی کعبۃ اللہ کے مرہون منت ہیں۔ یہیں جاں نثاران حق کی ایڑیاں رگڑنے سے ابدی و سرمدی چشمے بہہ نکلے ہیں۔ پیغمبرؑ کو صدیقیں تھا کہ ان اصبح مائوکم غوراًفمن یاتیکم بما معین (67:30) کے مصداق روحانیت کا چشمہ یہیں سے ابھرے گا جو عالم انسانیت کی تشنہ لبی کا درماں ہوگا۔ یوں دواہم ترین عوامل جوحصول مکہ کا مقتضا پیش کررہے ہیں ان میں ایک تویہ ہے کہ مکہ صحرائے عرب کا مذہبی مرکزثقل اور فلکرم ہے اورجب تک اس مرکزکی مابدولت اہل عرب کی شیرازہ بندی نہیں ہوجاتی اسلام کے جزیرہ العرب سے نکل کراطراف واکناف عالم میں پھیلنے کے امکانات مسدود دکھائی دیتے ہیں اور دوسرا عامل یہ ہے کہ اگر پیغمبرؑ کا اپنا قبیلہ قریش اسلام کومیسرآجاتاہے تو اسلام کو ایک بڑی اسپورٹ بہم پہنچے گی کیونکہ صحرائے عرب کے دیگر قبائل سے ان کے معاہدے ہیں اورمتولین کعبہ ہونے کے ناطے انہیں جوجاہ و حشمت میسر ہے وہ اسلام کی فتح وکامرانی کیلئے شاہ کلید ہوگی۔ یہ کسی طرح کا بھی نیشنلزم نہیں جیساکہ مغربی اسکالرز نے اعتقاد کی حد تک اس نکتے سے عرب نیشنلزم کا تصوربناہے۔ یہ دراصل ایک عظیم اخلاقی مقصد کیلئے عناصر و عوامل تاریخ actual forces and materieux of history کو بروئے کار لانے کی کوشش ہے کیونکہ وہ خدا جو تاریخ کے نشیب و فراز پر قادر ہوتے ہوئے تاریخ کے گوشت پوست میں موثر حقیقت کا مظہر نہیں ہے وہ قرآن ومحمدﷺ کا خدانہیں ہوسکتا اور

If history is the proper field for Divine activity, historical forces must, by definition, be employed for the moral end as judiciously as possible.۔ iously as possible.oper field for Divine activity, historical forces must, by definition, be employed for the moral end as judi

ابن خلدون نے اس حقیقت کوسمجھتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب عصبیت اسلام کی ابتدائی لانچینگ کیلئے از بس ضروری تھی(11)۔ شاہ ولی اللہ نے بھی انہیں خطوط پرلکھا کہ اسلام کواگر دنیا میں ایک موثرمذہب کے طورپراپنے پروگرام توحید کا لوہا منوانا تھا تو اس کیلئے عرب عصبیت کی لاگ اوراس کی عرب کلچرسے مناسب ہم آہنگی و موافقت مطلقاً ضروری تھی(12)۔

یوں ابتدائی مدنی دورمیں بھی انہیں دواہم ترین ایشوزکا سامنااورکشمکش ہے جوحتمی تجزیے میں مکی عہد ہی کا تسلسل ہیں اورمکی عہد سے ہی ایڈریس ہورہے ہیں ایک زمین پرمبنی برانصاف نظام اخلاق کی تشکیل ہے اور دوسرا یہ کہ ایک خدا ہے تو انسانیت ایک کیوں نہیں یعنی یک مذہبی عالمی کمیونٹی Single Religious community کا قیام ہے۔ اول الذکر مسئلے کی اہمیت کتنی عزیز ہے کہ اس کیلئے مکہ میں آپﷺ کمپرومائزکے بارڈرز تک پہنچنے کو تھے کہ قرآن نے حکمت عملی اور سمجھوتے کے درمیان خط فاصل کھینچتے ہوئے نصرت وتائید الٰہیہ کا منتظر رہنے کو کہا جوابی اور انتقامی کاروائیوں کی اجازت بھی دی مگر صبروتحمل کوترجیح دی۔ اب جبکہ عہدمدنی میں آل آئوٹ جدوجہد بمشول قتال کا بذریعہ وحی اجازت نامہ مل گیاہے یوں جہاں مبنی برانصاف اخلاقی معاشرت کے قیام کیلئے طاقت مجتمع کرنے کے اذن سے پہلا ایشوڈیل ہورہا ہے وہاں کچھ فیصلے یک مذہبی عالمی کمیونٹی کے قیام سے متعلق سنگین الٰہیاتی مسئلے کو ایڈریس کرنے کیلئے بھی ہورہے ہیں جس کا عقدہ مکی عہد سے ہی وا ہونا شروع ہوگیا تھا۔ یعنی جہاں ابتدائی مکی عہد میں اس امید اورغرض سے یہودونصاریٰ کو صرف اہل کتاب کہاگیا کہ وہ یک مذہبی امت واحدہ کا حصہ بن جائیں گے اور انہیں قرآن حذب وگروہ اورتفرقے کہہ رہا تھا جو دین کی صراط مستقیم سےبہت زیادہ وقت گزرجانے کے باوصف منحرف ہوچکے تھے اوراب جبکہ مخبرصادق آچکا ہے تویہ واپس صراط مستقیم پرلوٹ آئیں گے مگرجب وہ اپنے اسٹینڈ پر مصر اوراٹل نظر آئے تولیٹ مکی عہد میں ہی ابراہیم ؑ کو یہودونصاریٰ سے الگ کرتے ہوئے قرآن نے بطور پیغمبر اعظم، آرچ مونوتھیسٹ اور حنیف بیان کرنا شروع کردیا تھا، اہل کتاب کی جگہ تورات اورانجیل کا ذکربھی شروع ہوگیا تھا اور کلمہ اعلائے حق کا مشن بھی نومولود کمیونٹی کو سونپنے کا ذکر مکی عہد میں ہی ہوگیا تھا (6:89-93)۔ تاہم مدنی عہد میں انہیں مسائل کو بہ زور و ارتکاز اور واشگاف پیرائے میں ایڈریس کیا جارہا تھا کیونکہ ان عقائد کے قیام وانصرام کیلئے یہ زمین بہ نسبت مکہ زیادہ موزوں و موافق نظرآئی۔ اوریاد رہے یک مذہبی امت واحدہ کا تصور پیغمبرؑ کے قلب وذہن کی اختراع کے برعکس عین مدعا و منشائے وحی الٰہیہ ہے۔ کیونکہ جہاں موسیٰ ؑ کیلئے اذھب الیٰ فرعون انہ طغی کے حکم سے اشارہ ہے کہ ان کا مینڈیٹ مقامی نوعیت کا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کی محکومی سے نجات دلائیں اور عیسیٰؑ خود انجیل میں یہ کہہ رہے ہیں کہ میں بنی اسرائیل کی راہ گم کردہ بھیڑوں کی راہنمائی کیلئے بھیجا گیا ہوں وہاں محمدﷺ کا پیغام اور مینڈیٹ آفاقی ہے کہ آپ سے کہا گیا کہہ دیجئے انی رسول اللہ الیکم جمیعاً(7:158) مجھے پوری انسانیت کیلئے نبی بناکر مبعوث کیا گیا ہے۔ یہی بیانیہ آپﷺ کویک مذہبی امت واحدہ کے قیام پرمائل کر رہاتھا مگر جس شدت سے اہل مکہ نے اس تصورکی تعبیرکی راہ مذاحمت، ہٹ دھرمی اورمخالفت کا مظاہرہ کیا مدینہ میں اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ کی مزاحمت و مخالفت کسی درجہ کم نہیں تھی۔ یوں جس طرح یہ الٰہیاتی مسئلہ مکی عہد میں اعلیٰ نوعیت کا دردسرتھا اور بتدریج ایڈریس ہو رہا تھا بعینہ اسی مسئلے کے کل پرزے مدنی عہد میں پیغمبرؑ کیلئے سوہان روح بنے ہوئے تھے اور انہیں ہنگامی بنیادوں پر ایڈریس بھی کیا جارہاہے۔ غالباً اس وقت انسانیت بحیثیت مجموع ارتقا کی اس منزل پرنہیں تھی کہ وہ یک مذہبی امت واحدہ کے تصور کی متحمل ہوسکے یا اس تصور کی عملی جہات کو Sustain کرسکے۔ ورنہ انسان کے اجتماعی ارتقائی سفر اور قرآن کے تصور توحید کے مخفی امکانات پر بحث کرتے ہوئے اقبال Composite Monotheism کا تصور پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں Human integration on grand ethical ideal of Oneness of God is the final and an ultimate destiny of mankind(13).۔ لہٰذا عہد نبوی میں انسانیت کی اجتماعی ارتقائی ناپختگی اور غیر میچیورٹی کو الائونس دیتے ہوئے حکمتاً یک مذہبی امت واحدہ کے تصورکو موخرکرتے ہوئے یہ تصور تاریخ کو سونپ دیا اور زمینی حقائق سے ہم آہنگی کوشعارکیا۔ یا پھر کثیرمذہبی دنیا امور خیر میں مقابلے اور مسابقت کیلئے مشیت الٰہیہ کا حصہ قرارپائی اور یہ سنت الٰہیہ ٹھہری کہ اس کثیر مذہبی دنیا میں جو کمیونٹی بہتر پرفام کرے گی تاریخ کے اسٹیئرنگ ویل پراسی کو متمکن کیا جائے گا۔ اور دنیا پر خیر کی حکمرانی ہوگی اور خیر اپنے دارالحکومت تبدیل کرتی رہے گی کبھی مشرق عالمی امور پر راج کرے گا توکبھی مغرب بقا صرف امور خیرکو حاصل رہے گی۔ یہ قرآن کا ہی بیانیہ جو بتدریج سامنے لایا گیا۔

مدنی عہد میں یک مذہبی امت واحدہ کے قیام و انصرام کی راہ میں حائل ارتقائے انسانی کی منزل کے پیش نظر اس عقدے کو قرآن یوں حل کرتاہے کہ اب جہاں موسیٰ کا ذکر آتاہے وہاں تورات کا ذکر بھی زورشور سے آنے لگا ہے اور جہاں عیسیٰؑ کا ذکرآرہاہے وہاں انجیل کا ذکرکیا جارہاہے۔ مکی عہد میں سادہ انداز میں انہیں اہل کتاب یا حذب اور فرقے کہا جارہا تھا وہاں اب اہل کتاب کے بجائے ان کی علامات اور تشخص کو ابھاراجارہاہے یعنی جہاں کتاب کے عمومی تصور کے برعکس تورات اورانجیل کا ذکر آنے لگا ہے وہاں انہیں بطور قوم موسیٰ اور قوم عیسی ٰ ایڈریس کیا جا رہا ہے۔ ان کی بطور الگ کمیونٹیز شناخت ابھر رہی ہے بعینہ اہل اسلام کی بھی علامات اور تشخص بتدریج ابھر رہاہے۔ ہجرت کے تقریباً اٹھارہ ماہ بعد وحی الٰہیہ نے یک مذہبی امت واحدہ کے تصور کا عقدہ یوں حل کیاکہ تاریخ کے اس مخصوص موڑ پر ارتقائے انسانی کی رعایت اور الائونس کے پیش نظر قوم موسیٰ اور قوم عیسیٰ کو الگ الگ کمیونٹیز تسلیم کرلیا گیا اور اہل اسلام کو ایک الگ کمیونٹی مانا گیا جسے بہترین امت قراردیتے ہوئے امت وسط قرار دیا گیا یعنی ان میں نہ تو یہود جیسا اکھڑپن، ضد، اناگیری اور Imperviousness ہے اورنہ ہی عیسائیوں جیسا مدرپدر آزاد رویہ اخلاق اور liquidity ۔ قوم مسلم کو ایک سنہرے مبنی بر عدل وسط رویے کی حامل امت قرار دیا گیا۔

یہ تمہارے جدامجد ابراہیم کی کمیونٹی ہے۔ جس نے پہلے تمہیں مسلم کمیونٹی کے نام سے موسوم کیا تھا۔ اس امرمیں پیغمبر تمہارے اوپر گواہ ہے اورتمہیں انسانیت کیلئے گواہ بنایا جارہاہے۔ نماز و زکوٰۃ کے قیام و انصرام کو یقینی بنائو اور خدا کے ساتھ مضبوطی سے تعلق استوار رکھو جو تمہارا پاسباں و محافظ ہے۔ وہ کیا ہی شاندار محافظ اور شاندار مددگار ہے (22:18)۔ مسلمانوں کو الگ کمیونٹی ڈیکلئر ہوتے ہی امت وسط قرار دیا گیا(2:143) اوراس کے سر پر بہترین امت ہونے کی کلغی سجادی گئی (3:110; 3:104) اور ان کی یہ پہچان قراردی گئی کہ جب انہیں زمین پراقتدارملتا ہے وہ صلوٰۃ وزکوٰۃ کا انتظام و انصرام اور امر بالمعروف ونہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام دیتے ہیں (22:41) نمازوزکوٰۃ کے قیام و انصرام کا مطلب سماجی اور معاشی تشکیل وتجسیم اخلاق ہے۔ یوں قرآن نے بصراحت واضح کیا کہ قیام نماز سے مرادمحض قبلہ رخ ہوکر جسمانی طور پر رکوع سجود مرادنہیں ہے اور بلاشبہ یہ اسلام کے رکن رکین ہیں تاہم اسلام کے کلی مدعاومقصود کی عدم موجودگی میں یہ زائدازڈرامہ اور تھیٹر کچھ جوازنہیں رکھتے۔ نیکی یہ نہیں کہ تم نماز میں مشرق اورمغرب کی طرف رخ پھیر لو۔ متقی وہ ہیں جوخدا، یوم جزاوسزا، ملائکہ اورکتب سماویہ پرایمان لاتے ہیں جو دولت سے محبت رکھنے کے باوجود خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (مصارف زکوٰۃ)، اپنے وعدے ایفاکرتے ہیں۔ مشکلات بدحالی اورجنگ میں ثابت قدم رہتے ہیں یہ ہیں حقیقی مومنین (2:177)۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جابجا قرآن امربالمعروف اورنہی عن المنکر اور نماز و زکوٰۃ کے قیام وانصرام پر زور دیتا ہے۔ اس سے عیاں ہے کہ قرآن مومنین سے ایک ایسے سیاسی نظام کے قیام کا تقاضا کر رہا ہے جو مبنی برانصاف مساواتی سماجی نظام اخلاق Egalitarian and just Moral Social order کی تشکیل وتجسیم کرے۔ ایسانظام جوہری طور پر فسادفی الارض کے خاتمے کا مینڈیٹ رکھتا ہوگا۔ جوہرقرآں میں یہ نکتہ پنہاں ہے کہ غربت انسان کے بنیادی شرف اور عزوناز کے خلاف ہونے کے باوصف فساد فی الارض ہی کی ایک شکل ہے اور بعینہ سماجی معاشی اورسیاسی ناہمواریاں بھی فسادفی الارض کے مترادف ہیں جوانسان کے مخفی قویٰ اور امکانات یعنی پوٹینشلز پر تالے لگادیتی ہیں۔ ایسا نظام معاشرت تبلیغ محض سے ممکن نہیں کہ لوگ شیریں رضاورغبت سے اس کا دم بھرنے لگیں اس کیلئے اقتدارکی قوت درکار ہے اور اقتدار خواہشات اور دعائوں کے ریلے پرسوار ہوکر نہیں آتا زوربازو اور حکمت ودانائی کے عظیم امتزاج سے وقوع پذیر ہوا کرتا ہے یوں جہاد جو آل آئوٹ جدوجہد بشمول قتال ومعرکہ آزمائی سے عبارت ہے اسلام کا عظیم ترین رکن رکین قرار پاتا ہے۔ اوریہ مجوزہ نظام اخلاق اور اس کی جدوجہد ہے جس نے مسلمانوں کو امت وسط اور بہترین امت کے مقام پر فائز کیا ہے اس فریضے اور جدوجہد سے عدم دلچسپی انہیں اس مقام سے گرانے کیلئے کافی ہے اور مبادا اہل یہود کیطرح مسلمان اپنا مرکزی کردار بھول کرخود کو خدا کی منتخب کردہ قوم اور ڈارلنگ کمیونٹی سمجھ بیٹھیں خبردار کردیا گیا کہ خداکیلئے تم ناگزیر نہیں ہو۔ اگرتم نے ایسا کیا اور قرآن کے اس تفویض کردہ پیغام اور مشن سے پھرگئے تو خدا تمہاری جگہ اور لوگ لائے گا جو تمہاری طرح اپنے مینڈیٹ سے منہ پھیرنے والے نہیں ہوں گے(47:38; 9:38)۔ قرآن نے ساتھ ہی کثیرالمذاہب دنیا میں پنہاں مشیت وحکمت الٰہیہ بھی واضح کردی کہ تم میں سے ہر کمیونٹی کیلئے الگ الگ شریعہ و قانون کا تعین کردیا گیا (اگرچہ دین کی روح ایک ہے) ہے۔ خدا کیلئے تمہیں یک مذہبی امت واحدہ بنانا مشکل نہ تھا۔ ایسا اس لیے ہے کہ تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ لہٰذ فاستبقوالخیرات امورخیرمیں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو (5:51)۔

یوں یک مذہبی امت واحدہ کے قیام کا سنگین الٰہیاتی مسئلہ جو مکی عہد سے لیکر ہنوزجاری تھا اور یغمبرؑ کی کمر توڑے جارہا تھا اور زمین پرمساویانہ سماجی معاشی اورسیاسی نظام اخلاق کی تشکیل اور تجسیم کا مسئلہ جوشدت معنویت اور بھاری بھرکم ٹاسک ہونے میں اول الذکرسے کسی طورکم نہیں ہے دونوں مسئلوں کو قرآن مساویانہ طور پر پہلو بہ پہلو ایڈریس کر رہا ہے فرق اتنا ہے کہ مدینہ میں حالات مکہ کی نسبت سازگار ہیں۔ جہاں یہودونصاریٰ اور اہل اسلام کی الگ الگ پہچان اور تشخص کے ذریعے پہلا مسئلہ حل ہو رہاہے وہاں ادارہ جہاد کے قیام سے زمین پر مبنی برانصاف نظام اخلاق کا اہتمام بھی جاری ہے اس کیلئے وحی اوررسول اللہ کی نگاہ حصول مکہ پر مرکوز ہے۔ عسکری مہمات چھاپہ مار کاروئیاں اور جاسوسی مشن رسول اللہﷺ نے اس لیے بھی جاری کیے کہ اہل مکہ اور مہاجرین بہرحال حالت جنگ میں تھے۔ اہل مکہ نے ہجرت پرمجبورکیا سوکیا اور مہاجرین کے گھر اور جائیدادیں بھی ہتھیا لیں تاہم ہنوز وہ اس پر چپ نہیں سادھ سکتے تھے کہ ان کے مخالفین مدینہ کے قبائل کیساتھ جاملیں۔ یوں اہل مکہ کیلئے فطری تھا کہ وہ مدینہ کوخوف و خدشات میں مبتلا کریں جیسا کہ انہوں نے کیا اوراہل مدینہ خاص طور پر مہاجرین کیلئے بھی فطری تھا کہ وہ ایسے کسی بھی خطرے کو حقیقت میں ڈھلنے سے روکنے کیلئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ ہر اعتبار سے فریقین حالت جنگ میں ہیں اور اس کی شہادت قرآن بھی دیتا ہے۔ جب ایک مکی کارواں اور گروہ مہاجرین کے درمیان پیغمبرؑ کی اجازت بغیر ایسے مہینے کے دوران جھڑپ ہوئی جس میں بین القبائل روایتی قانون کے اعتبار سے جنگ منع تھی اور قریش نے بہ اعتبار طعن و تشنیع محمدﷺ اور مسلمانوں کو اس قانون شکنی پر آڑے ہاتھوں لیا تو قرآن نے کہا لوگ آپ سے ممنوعہ ماہ میں ارتکاب جنگ سے متعلق پوچھتے ہیں کہئے اس میں جنگ کرنا سنگین معاملہ ہے اس سے سنگین تر مسئلہ راہ خدا کا پتھر بننا اسے رد کرنا لوگوں کو حرم کعبہ میں داخل ہونے سے روکنا اور انہیں ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔ فتنہ قتل سے بدتر ہے یہ (اہل مکہ) ہنوز آپ سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہوسکے تو تمہیں ایمان باللہ سے منحرف کریں(2:117)

یوں مدینہ سے محمدﷺ کی عسکری مہمات، چھاپہ مار کاروائیاں اور ساحلی پٹی اور دیگر تجارتی راستوں پر وقتاً فوقتاً جاسوسی دستوں کی پیٹرولنگ اور تعیناتی ایک غیر مشتعل unprovoked شخص کی یکسرجارحانہ کاروائیاں ہرگز نہیں ہیں جیسا کہ اسلام کے مغربی نقادوں نے حقائق کی الٹ پھیر سےثابت کرنے کوشش کی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام کے ہر اقدام کیلئے پہلے کوئی نہ کوئی اہل مکہ کا جارحانہ اقدام ضروری ہو جیسا کہ مسلم معذرت خواہ ثابت کرنے پہ تلے رہتے ہیں۔ کسی بھی فریق کیلئے یہ آپشن کھلا رہتا ہے کہ حالت جنگ کی عمومی صورت حال میں وہ کوئی منصوبہ یا کسی مخصوص کاروائی کو بروئے کار لائے۔ تاہم جو کچھ اسوہ و مزاج رسول سے مترشح ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپﷺ کو جنگ پر مجبور نہ کیا جاتا اور آپ پرامن طریقے سے اطلاقی توحید کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکنے میں کامیاب ہوسکتے تو آپ مطلقاً جنگ کا رستہ اختیارنہ کرتے۔ کیونکہ آپ کو تولیٹ مکی عہد میں صرف جوابی یا انتقامی کاروائی کا اذن ملا تھا اور صبروتحمل کو ترجیح دی گئی تھی۔ آپ نے جنگ اسی صورت کی جب وہ ناگزیر ٹھہری۔ کیرن آرم اسٹرانگ نے لکھاہے کہ معرکہ بدر ہو یا صلح حدیبیہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ یعنی محمدﷺ کا اول و آخرمدعا و مقصود امن تھا اس کیلئے جنگ کی ضرورت پڑی تو جنگ کی صلح کے معاہدے کی ضرورت پڑی تو ساتھیوں اور مصاحبین سے بغاوت کا خطرہ مول لیکربھی صلح کو ترجیح دی۔ آپﷺ کی جدوجہد کا Pivotal point یہی تھا کہ مقصد اسلام بطور ایک مطلق اخلاقی حکم پورا ہونا چاہئے اور اس کیلئے تبلیغ محض ہی نہیں بلکہ سماجی اورسیاسی اجزاوعناصر کو بھی بروئے کار لایا جائے گا۔ اس لیے محمدﷺ کے مدنی کیرئر کو سیاست کیساتھ سمجھوتہ بازی کے برعکس تعمیل و تکمیل مشن رسولﷺ ہی سمجھنا موزوں ہے۔

اہل مکہ اورمدینہ کے درمیان مذکورہ تنائو ابتدائی کشمکش اورچند جھڑپوں نے غزوہ بدرکی راہ ہموار کی جب قریش کو پتہ چلا کہ شام سے واپس آنیوالے ابوسفیانی تجارتی کارواں کو اہل مدینہ سے خطرہ ہے تو پورا مکہ دامے درمے سخنے میدان جنگ کی طرف کھچا آیا۔ قرآن کا بیانیہ یہ ہے کہ اہل اسلام بھرپور جنگ کے برعکس صرف اس کارواں پر نظررکھے ہوئے تھے مگر اللہ عزوجل کی مشیت و حکمت نے بھرپور جنگ کا ارادہ کرلیا تھا تاکہ حق و باطل میں فیصلہ ہوجائے اسی لیے اسے فرقان قرار دیا۔ رمضان المبارک دوہجری مارچ 624 میں بدر کے مقام پرایک ہزار قریش نے تقریباً تین سو مسلمانوں سے جنگ کی اور بھاری نقصان کیساتھ کچھ سرداران بھی مروا بیٹھے۔ فتح بدرسے واپسی پر آپﷺ نے کچھ بدوی قبائل سے فوراً معاہدے کرلیے جو اسلام کی ابھرتی طاقت کے باوصف اسلامیان کے ساتھ جڑنا چاہتے تھے تاہم وقت نے بھی ثابت کیا اور قرآن نے بھی بتایاکہ وہ صرف طاقت کے پوجاری تھے۔ اور آپﷺ نے فوراً یہودی قبیلے قینقاع پرحملہ کیا اور انہیں شام کیطرف دربدر کیا کیونکہ ان کیخلاف اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قریش کے ساتھ سازش کرنے کے ناقابل رد شواہد مل گئے تھے۔

زخم خوردہ قریش انتقام کی آگ کا الائو بھڑکاتے ہوئے تین ہزار افراد کا لشکر لیکر تین ہجری 625عیسوی میں جبل احد کے پہلو میں اہل مدینہ سے معرکہ زن ہوئے۔ شروع میں عددی قوت کے باوجوداہل مکہ کو بھاری نقصان ہوا تاہم درے میں تعینات مسلم تیرانداز واضح حکم کے باوجود جب مال غنیمت سمیٹنے کیلئے درہ چھوڑ بیٹھے تو عقب سے خالدبن ولید (ابھی مسلمان نہ ہوا تھا) کی قیادت میں دھاوا بول دیاگیا، ادھررسول اللہ کے قتل کی افواہ سے پائوں اکھڑنے لگے تو مغرور قریش نے این الحق کا نعرہ لگایا تو چٹانی عزم کے حامل محمدﷺ نے کہا حق اپنی جگہ پرقائم ہے تو اکھڑتے پائوں جم گئے تاہم قریش نے فرارکی راہ اختیارکی۔ قرآن نے اہل اسلام پرجزواً تنقید کی جزواً ان کے زخموں پر مرہم رکھا اورجزواً ان کا مورال بحال کرنے کیلئے کہا کہ تمہارا ایک سو ہزار کفارکا مقابلہ کرسکتاہے تلک الایام نداولھا بین الناس یہ تو دن ہیں جو خدا لوگوں کے درمیان ادل بدل کرتا رہتاہے آج تمہیں اچھے نتائج نہیں ملے کل وہ بھی توبدرمیں زخم چاٹنے پرمجبورہوئے تھے۔ یہود مسلمانوں کی شکست پر ہنسی اور مسرت کو بغل میں نہ دباسکے تھے دوبارہ ان پرحملہ کرکے بنونضیر کو بھی قینقاع کی طرح علاقہ بدر کردیا گیا۔ طاقت کے پجاری بدو قبائل بھی مسلمانوں کو قدرے کمزور پاکر ایفائے عہد پرمائل کم ہی نظر آئے۔

یہود خیبر کے اشتعال پر بدوی قبائل سے مل کرمدینے پرقبضہ کرنے کی نیت سے قریش دس ہزار کا لشکرلیکر وارد ہوئے۔ پیغمبرؑنے مدینہ کے داخلی راستوں پرخندقیں کھودکردفاع کیا۔ محاصرہ طویل ہونے سے بدو قبائل اور قریش کے درمیان ناچاقیاں اور تنازعات درآنے سے محاصرین نے دل ہارتے ہوئے محاصرہ ختم کیا اورچلتے بنے۔ محاصرہ ختم ہوتے ہی آخری بڑے یہودی قبیلے بنوقریضہ کوعبرت ناک انجام سے دوچار کیا گیا۔ رائے منقسم تھی تاہم ان کی باربارکی غداری کے باوصف اب انہیں تہہ تیغ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس میں بھیانک کردار منافقین کا تھا جو یہودیوں کیساتھ منسلک بھی تھے اوربرے حالات میں انہیں چھوڑدیتے تھے۔ تاہم یہ طے ہے کہ غزوہ خندق مشن مصطفوی کو ناکام بنانے کی مکی جدوجہد کی حتمی قبرثابت ہوا۔

غزوہ خندق جسے غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے کہ قریش مختلف بدوی قبائل کے گروہوں اوراہل کتاب کے مختلف فرقوں کے کھلے اورمخفی تعاون سے مدینہ پر چڑھ دوڑے تھے اوربے شک محاصرے کی طوالت کیوجہ سے باہمی نفاق کا شکار ہو کر لوٹ بھی گئے تھے تاہم محمدﷺ اور جماعت المومنین کیلئے بھی یہ ایام حشرسامانیوں سے کم نہ تھے قرآن نے اس دردوالم کی منظر کشی کی ہے کہ آزمائش نے انہیں اوپراورنیچے ہرطرف سے گھیر لیا تھا دل دحشت ووحشت سے حلق کو آگئے تھے، اور جو تھڑدلے آہوئے صیاد دیدہ شکل کے باوصف اوراق مصورکی تصویر تھے لگے سوچنے کہ وہ وعدے کیا ہوئے جو ہم سے اقتدارعالم کے کیے گئے تھے۔ تاہم جن کے دلوں میں ایمان تھا اس کرب واذیت کے ہنگام ان کے ایمان بڑھ گئے اور کہہ اٹھے تھے کہ خدایا بے شک تیرے وعدے سچے ہیں۔ الغرض یہ زلزلہ ہائےباطن کے ایام تھے اور مومنین اندر سے خوب ہلااورچھنکا دیئے گئے تھے اور کیا کیجے کہ نخل محبت کی نمو ازل سے برق کی خواستگار رہی ہے اور قرآن بھی آزمائش وابتلا کو نعمت خداوندی قرار دیتا ہے کہ استحکام خودی کے قصر کو آزمائش اور ابتلا کی بھٹی میں پک کر تیار ہونے والی عزم مصمم و اٹل کی اینٹیں درکار ہوتی ہیں۔ خودی کے قلزم خاموش کا ہر واہمہ و فکر جمیل و عزم صمیم مثل قطرہ چشم پرنم ہی رہتا ہے جب تک تلخی غم ہجراں چشیدہ نہ ہو۔ آئینہ بندی گوہر دام ہرموج اور حلقہ صدکام نہنگ کا حاصل ہوا کرتی ہے۔ عشق ازل سے آزار طلب واقع ہوا ہے۔ بقول بانو قدسیہ بٹے کے سوال نہیں جانتا اور اسے عاشق کے گھر سرمایہ یک ککھ بھی برداشت نہیں۔ عشق الٰہیہ پہلا سودا ہی جان کا کرتا ہے۔ فکروفہم انسانی اور خودی کا استحکام اور اعتدال و توازن جنگوں کی آتشیں بھٹی اورلطف واکرام اور انعام الٰہیہ کے امتزاج سے ہی نمو پاتا ہے۔ انسان کی کمزوریوں کو ابلیس کی تحلیل نفسی سے سمجھا جاسکتاہے کہ جب اسے آدم کو مسجودبنانے کا اذن ہوا وہ استکبار کا شکار ہوا جب غلطی کا ادراک ہوا توسمجھا کہ احیائے خودی ممکن نہیں اور مایوسی کے بے پیندہ گڑھے میں جا گرا۔ انسان استکبار اور مایوسی کی دو انتہائوں کے درمیان پینڈولم بنارہتاہے تاآنکہ آزمائش وابتلاکی گرم بھٹیاں اور ثابت قدم رہنے پر اکرام الٰہیہ کی بارشوں کا امتزاج حسیں اسے ایک مطلوب حق متوازن اور معتدل شخص بنادیتا ہے۔ مصر کی امامت کیلئے یوسف کواٹیوں کے مول بکنا پڑتا ہے۔ بنی اسرائیل کو شکنجہ فراعین مصرسے نجات دلانے کیلئے موسیٰ کو مدائن کے لق و دق دشت کی برسہا خاک چھاننا پڑتی ہے۔ جب تک کوئی گرم و سردچشیدہ نہ ہومنصب امامت کے اہل نہیں ہوتا۔

طلسم خواب زلیخاودام بردہ فروش
ہزارطرح کے قصے سفرمیں ہوتے ہیں

آزمائش و ابتلاکے دردوتالم میں کوئ سہارا تھا تو بس خداکا جووقت کی بھٹی میں قطرے کو گوہر، پتھر کو موتی، مرجان و الماس اور کوئلے کو ہیرا بناتا ہے۔ غزوہ احزاب جہاں کڑی آزمائش تھا وہاں قریش کو تحریک مصطفویﷺ کے ناقابل شکست جوہر کا سندیسہ ثابت ہوا۔ مدینہ کادفاع جب ناقابل تسخیرمظہربن چکا توخارالم سے پشت بہ دنداں گزیدہ قوم کا قائدﷺ اپنی حکمت عملی کے مرکزی محور یعنی بلاجنگ وجدل حصول مکہ کیطرف متوجہ ہوا۔ چھ ہجری کے آخر میں آپﷺ نے صلح حدیبیہ کے ذریعے قریش مکہ کو سفارتی محاذ پرایسی فیصلہ کن چوٹ لگائی جسے ابن اسحاق غزوہ بدر سے بھی بڑی فتح قراردیتاہے یعنی معاہدے سے جہاں ایک طرف قریش نے مسلمانوں کی طاقت کو تسلیم کیا وہاں جنگ بندی کے معاہدے سے تبلیغ کا عمل آسان ہوجانے کے بعد اسلام کوبڑے پیمانے پر افرادی قوت میسر آئی۔

آٹھ ہجری میں اہل مکہ کی ایک ایسے قبیلے سے جنگ شروع ہوگئی جو مسلمانوں کا اتحادی تھا۔ اخلاقی عظمت وترفع پر سمجھوتہ کیے بغیر صاحب عزیمتﷺ مکہ کے باہر خیمہ زن ہوا۔ اہل مکہ نے پرامن سرنڈر سے لاتثریب علیکم کا مژدہ واذن عام پایا۔ ناقابل معافی دشمن صرف بتان کعبہ قرار پائے جنہیں اپنی نشستوں سے برخاست ہونا پڑا ۔ تقریباً پورا مکہ مشرف بہ اسلام ہوا۔ صلح حدیبیہ کو فتح مبین قراردینے والے معلم ازلی نے وعدہ پورا کر دکھایا اور اس مطلق فتح کے ہنگام جب پورا صحرائے عرب زیر پائے رسالت مآبﷺ تھا توپیکرعجزونیازبندیﷺ کا سر عجزونماز میں یوں جھکا کہ ثابت کردیا کہ نماز زندگی کو عجز سے نشوونما بخشنے کا نام ہے (سورۃ نصر)۔ خداکی نصرت آپہنچی اور لوگ جوق درجوق، کارواں بہ کارواں جتھہ بہ جتھہ مشرف بہ اسلام ہونے لگے۔ اگلے دوسال کے دوران طائف کے علاوہ تقریبا پورا صحرائے عرب رضاکارانہ طور پر حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ اہل طائف یعنی قبائل بنوہوازن کے ساتھ معرکہ زنی میں پہلی بار مسلم تعدادووسائل میں دشمن سے زیادہ تھے تواحساس نے آلیاکہ جب کم ہوتے ہوئے غالب آتے رہے ہیں یہ توترنوالہ اورلٹکتا پھل ہیں کبر در آیا تو پائوں لرزہ براندام ہونے سے زمیں قدموں سے سرکتی دکھائی دیئے معلم ازلی کی نصرت واعانت کے خواستگار ہوئے تواس نے قلوب میں سکینت اتاری اورپائوں جم گئے توفتحیاب ٹھہرے۔ آپﷺ نے مدینہ کومستقل مقر بنایا۔ نوہجری میں ماورائے اردن کے عیسائی عرب قبائل کیخلا ف مہم جوئی کی قیادت فرمائی۔ تیرہ ربیع الاول گیارہ ہجری بمطابق 8 جون 630 کووصال فرمایا مگراس سے قبل شمال کیطرف مہم بھیجنے کی وصیت فرمائی۔ جس سے ثابت ہواکہ اسلام کو صحرائے عرب تک محدود رکھنا مقصود ہرگز نہیں تھا۔ مستشرقین اسلام کو عرب نیشنلزم کا مظہر قراردینے کیلئے شمال کے عیسائی عرب قبائل کے خلاف مہم جوئی کو انہیں بازنطینی اور ایرانی حکام سے نجات دلا کراسلام کے زیرنگیں لانے کی کاوش قرار دیتے ہیں۔

مستشرقین نے فلسفہ تاریخ کی سیڑھی پہ چڑھ کرتحقیق وتدقیق اوردریافت کے جدیددانشورانہ ٹولز کوبروئے کارلاتے ہوئے دورجدید کے تناظر میں اسلام فہمی اورپندارخاک ہوئی میراث اسلامی کے گمشدہ ابواب پرپڑی تاریخ کی ڈسٹ کو ہٹانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ہی ابن خلدون، ابن رشد، امام طبری، ابن اسحاق، امام غزالی، سینا و فارابی، ابن العربی اور دیگر مشاہرین اسلام کے علمی سرمائے پرپڑی وقت کی گرد جھاڑ کر تقلیدوجمود کی ماری ملت اسلامیہ کو اصل حالت میں واپس بہم پہنچائے۔ ورنہ ادھرحالت یہ تھی کہ مفتی عبدۃ اور ان کے استاذ جمال الدین افغانی کو مقدمہ ابن خلدون کے مطالعہ کی پاداش میں جامعہ الاظہرکا خارجی دروازہ دکھا دیا گیا تھا۔ مستشرقین نےقرآن اورسیرت رسول پر گہری تحقیق سے انتاج کا گراں قدرسرمایہ بھی فراہم کیا ہے۔ تاہم مغربی استعمار کے کارپوریٹ مفادات کے تحفظ کیلئے وقف مغربی اسکالرز آف اسلام نے اورجنل حقیقی تصوراسلام کو پراگندہ اور آلودہ بہ شکوک کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا بددیانتی اورجمیع تعصب نے انہیں جو وسائل فراہم کیے فراخ دلی سے برتے گئے۔ مغربی استعمار کی دو جہتی Two prong پالیسی میں جہاں ایک طرف جدید فوجی قوت سے جغرافیائی طور پر اقوام وملل اسلامیہ کو مراکش سے ملائیشیا اور انڈونیشیا تک باجگزار بنایا گیا وہاں مقامی علمی، مذہبی اور ثقافتی روایات کو استعمار کےسیاسی کارپوریٹ مفادات کے متوالے مستشرقین نے ناقابل اعتبار و وقار ثابت کرنے میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے کیونکہ استعمارکی طاغوتی قوتیں بدرجہ اتم جانتی تھیں کہ جب تک محکوم اقوام سے تشخص نہ چھینا جائے جغرافیائی تسلط قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لیے Epistmicide یعنی مقامی علمی روایات کا قتل ضروری سمجھا گیا۔ ایڈورڈ سعید کی ”اوریئنٹلزم“ اس موضوع پرحرف آخرہے۔ اگرچہ اس کا اعتراف فرانسیسی اسکالر جیکوئس برک، کینیڈین کینٹول اسمتھ اور دیگر وسیع الظرف مستشرقین کی تحریروں میں بھی ملتاہے۔ یوں ڈاکٹر علی شریعتی کے بقول عالمی ساہوکار استعمارانہ عزائم کی آبیاری کیلئے علم جس کا بنیادی وظیفہ سچ کی تلاش تھا انسٹرومنٹ آف پاوربنا دیا گیا۔ محکوم قوموں کے ستر اور لباس کی تاراجی اورشکست وریخت کا آلہ و اوزار بنادیا گیا۔ جہاں بن پایا حقائق کومسخ کیا گیا ورنہ درست حقائق کو بددیانتی سے برت کرمرضی کے نتائج نکالنا ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق محققانہ credentials کا بھرم رکھتے ہوئے حریف کی علمی اورثقافتی میراث سے کھلواڑ کا آسان نسخہ تھا۔

معروف مستشرق Snouck Hurgronje اسوہ رسول ﷺ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے لکھتاہے

In the beginning Muhammad was convinced of bringing to the Arabs the same [message] which the Christian had received from Jesus and the Jews from Moses, etc., And against the [Arab] pagans, he confidently appealed to “to the people of knowledge”. whom one has simply to ask in order to obtain a confirmation of the truth of his teaching.[But] in Madina came the disillusionment ; the people of the Book will not recognize him. He must, therefore, seek an authority for himself beyond their control, which at the same time does not contradict his own earlier Revelations. He, therefore, seizes upon the ancient Prophets whose communities cannot offer him opposition [i.e. whose communities are not there or no longer there: like Abraham, Noah etc.](14)۔

آغاز میں محمدﷺ کویقین تھا کہ وہ اہل عرب کیلئے وہی پیغام لائے ہیں جونصاریٰ کو عیسیٰؑ اور یہود کو موسیٰ ؑ سے ملا تھا اور مشرکین کیخلاف آپ نے اپنی تعلیمات کے سچ کی تصدیق کیلئے اعتماد سے راسخون العلم یعنی اہل کتاب سے اپیل کی۔ تاہم مدنی عہدحیات میں آپﷺ پریہ عقدہ وا ہوا کہ اہل کتاب آپ پرایمان لانے سے رہے۔ آپ ایسی اتھارٹی اور سندکے متلاشی ہوئے جو بیک وقت ان کے کنٹرول سے بھی ماورا ہو اور آپ کی پہلے کی پیش کردہ آیات کو بھی رد نہ کرے لامحالہ نظر انتخاب قدیم انبیا پر جا ٹھہری، وہ انبیا جن کی کمیونٹیز مخالفت نہ کرسکتی ہوں یعنی جن کی امتیں موجود نہیں ہیں مثلاً نوح وابراہیم ؑ۔ ہم پیچھے وضاحت کرآئے ہیں کہ مدنی حیات لازمی طور پر مکی حیات کا تسلسل ہے۔ تاہم مکی اورمدنی حیات کو الگ الگ پیرائے میں دیکھنے کا بیانیہ مغربی اسکالرشپ میں ایک پدرانہ ورثہ بن چکا ہے اسی لیے اقبال احمداس اسکالرشپ کو ویسٹرن اکیڈمک آرتھوڈاکسی کی Rigged scholarship قراردیتے ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمان مغربی اسکالرشپ یا مستشرقین کے اس بیانئے کو دو وجوہات کا سبب قرار دیتے ہیں۔ پہلا سبب یہ ہے کہ جہاں مغربی اسکالرشپ انفرادی آیات قرآنی کے looms اور سماجی پس منظر اور اسباب و علل اورشان نزول کی تحقیق و تدقیق اور کارفرما زمانی و مکانی عناصرتاریخ کی دریافت میں خاصی کامیاب رہی ہے وہاں اس Ultimate unifying Fabric کو سمجھنے میں مایوس کن ناکامی سے دوچارہوئی ہے جس کا تانا بانا ان لومز سے قرآن حتمی تجزیے میں چندبڑے بنیادی اور مرکزی تصورات کی وضاحت کیلئے بنتا ہے۔ یہ کارنامہ مصنف نے Major Themes of Quran لکھ کر سرانجام دیا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے مغربی اسکالرشپ کا دوسرابڑا مسئلہ یہ بیان کیا ہے کہ وہ قرآن اوراسوہ رسول ً کو مکی اور مدنی دوالگ الگ پیرائے میں دیکھنے کے نشئی بن چکے ہیں۔

The basic trouble lies with viewing the career of the Prophet and the Quran in two neatly discrete and separate periods- the Madinan and the Meccan- to which most modern scholars have become addicted. A closer study of the Quran reveals, rather, a gradual development, a smooth transition where the latter Meccan phase has basic affinities with the earlier Madinan phase; indeed one can “see” the latter in the former (15).

فضل الرحمان کے نزدیک اسلامی اورمغربی اسکالرشپ کا بڑالمیہ یہ ہے کہ قرآن کو بطور فنکشنل گائیڈ کے برعکس خدا اور فطرت الٰہیہ سے متعلق صحیفہ، یا مقالہ ورسالہ سمجھا گیا۔ اسلامیان نے اسوہ وسنت رسول کے حرکی تصورکے برعکس قرآن کو اپنے مجوزہ و اختیارکردہ جامد تصورحدیث سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ جب قرآن اوراسوہ رسول کی جزیات کو ان کی نامیاتی کلیت وحدت Integral whole سے نکال کر بے ترتیب اور ادھ موا کر کے دیکھا گیا توایک سرا سلجھانے کی کوشش میں دوسرے سرے کا الجھا بیٹھنا فطری اور یقینی امر تھا۔ مستشرقین نے قرآن اورسیرت رسولﷺ کے واقعات کی تاریخ وارانہ ترتیب اور کرونولوجیکل ڈیویلپمنٹ پر گراں قدرکام کیا ہے اور اسلام کو بطور منظم نظام دیکھنے کی بھی عمدہ کوشش کی ہے تاہم کہانی آپ الجھی ہے یا الجھائی گئی ہے یہ عقدہ تب کھلے جب اہل مغرب اسلام کو اپنے استعمارانہ عزائم سے بالاتر ہو کر دیکھیں تب تک قرآن اور اسوہ رسولﷺ کی ریشمی ڈور کو دانتوں سے کاٹنے کی کوشش جاری رہےگی۔ مغربی اسکالرز کا انبوہ کثیر ایک ہی تان اڑاتا ہے کہ قرآن یہودی اور عیسائی تصورات کی پرداخت ہے۔ یہ فیلڈ دو مکاتب فکرمیں منقسم ہے ایک رچرڈبیل کا مکتبہ فکر ہے جس کے نزدیک قرآن عیسائی تصورات پربنی گئی کتاب ہے اور دوسرا مکتبہ فکر سی سی ٹوری C.C Torrey کا ہے جو سمجھتا ہے کہ قرآن یہودی تصورات پرترتیب دی گئی کتاب ہے۔ قرآن سارے تاریخی مواد کے ساتھ براہ راست خدا کی نازل کردہ کتاب ہونیکا مدعی ہے۔ قرآن نے خود کہا ہے کہ اگر آپﷺ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھنے کا فن جانتے تویہ بدبخت الزام دھرتے کہ یہ قرآن آپ کے اپنے لکھے گئے واقعات کا مجموعہ ہے(29:48)۔ اگرقرآن محض یہودی اورعیسائی تصورات پرترتیب دی گئی کتاب ہے تو اس نے جا بجا دونوں کمیونٹیز کے توارات اور انجیل کے تحریف کردہ واقعات اورانتاج کی کیوں درست جہت نمائی کی ہے؟

ساون کے اندھے کو ہر جگہ سبزہ ہی دکھائی دیتاہے کے مصداق نیشنلزم کی اکلوتی قدر کے پروردگان تہذیب جدید کے مغربی اسکالرز کو حقائق کے کتنے بھاری پتھر کاٹ کاٹ کرحیات و تحریک مصطفویﷺ کو عرب نیشنلزم پر استوار کرنا پڑتا ہے اس میں خواہ قرآن و اسوہ رسولﷺ کی داخلی اکھاڑ پچھاڑ اور تلپٹ کیوں نہ کرنا پڑے۔ اس مقصد کیلئے تیربہ ہدف نسخہ قرآن اور اسوہ رسولﷺ کے مدنی کیرئر کو مکی عہد کا تسلسل ماننے کے برعکس الگ الگ مکی اور مدنی ادوار میں منقسم کردینا ہے تاکہ بہ اعتبار کرداروحکمت عملی دونوں ادوار میں یکسراجنبیت اور باہم لاتعلقی کا گمان یقین بن جائے۔ اس باب میں اہل مغرب لغت ہائے حجازی کے قاروں ثابت ہوئے۔ ہٹی لکھتا ہے

In Madenese period the Arbianization, the nationalization of Islam was effected. The new Prophet broke off with both Judaism and Christianity; Friday was substituted for Sabbath, the adhan (call from minaret) was decreed in place of trumpets and gongs, Ramadhan was fixed as a month of Fasting, the qibla was changed from Jerusalem to Mecca, the pilgrimage to al-Kaba was authorized and the kissing of the Black stone a pre-Islamic fetish-sanctioned (16).

مدینہ میں عربیانے کیلئے اسلام پر قومیت پرستی کی پیوندکاری کی گئی۔ نئے پیغمبرﷺ نے یہودونصاریٰ سے قطع تعلق کیا یوم السبت کی جگہ جمعہ ناد اور آلات گھنٹی کی جگہ اذان نے لی۔ رمضان ماہ صیام مقررہوا، بیت المقدس کی جگہ کعبۃ اللہ قبلہ قرارپایا، حج بیت اللہ اور حجر اسود کا چومنا فرض قرارپایا” اسلام کے سادہ لوح طلبا کیلئے یہ پر لطافت بیانیہ اپنی تہہ میں مکاری اورعہاری کا جہان پرفریب رکھتاہے۔ الامانہ کا مینڈیٹ یعنی زمین پر اطلاقی توحید کا قیام جوزمین پر مبنی برعدل سماجی معاشی اور سیاسی نظام اخلاق کی تشکیل کا خواستگار ہے یہ آفاقیت اور یونیورسلزم سے عبارت ہے یا یہ محدود عرب نیشنلزم کی چغلی کھارہاہے۔ دیگرانبیا ورسل مخصوس اقوام وملل کیلئے رہنمائی کا مینڈیٹ رکھتے تھے جہاں موسیٰ کو اذھب الیٰ فرعون انہ طغیٰ کہہ کر مقامی مینڈیٹ حاصل تھا وہاں پیغمبرﷺ کو انی رسول اللہ الیکم جمیعا یعنی تمام بنی نوع انسان کی رہنمائی کا آفاقی مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ مصطفوی تصورتوحید مساویانہ سماجی اور معاشی انصاف جس کی عملی جہات قرار پائیں ان عملی اصلاحات کا عرب نیشنلزم سے کتنا تعلق ہے؟ رہا سئلہ یہود و نصاریٰ سے نام نہاد قطع تعلقی کا جیسا کہ Hitti اور Snouk Hurgronje سمیت دیگر مستشرقین کا موقف ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ مدنی دور حیات میں مکی عہد کے پیغمبر کے بجائے عملیت پسندریاستدان بن گئے تو کیا قرآن اور رسولﷺ نے ان کی ہٹ دھرمی اور ضد کے باوصف انہیں الگ الگ کمیونٹیز تسلیم کرکے کسی سابقہ اصولی موقف سے انحراف کا ثبوت دیا ہے؟ یا انہیں الگ کمیونٹیز تسلیم کرنے کے بعد ان کیلئے قبول اسلام کی راہیں مسدود کردیں؟ یا انہیں تسلیم کرنے کے بعد قرآن نے ان کا ذکریا ان سے متعلق مثبت تنقیدی بیانئے کا باب بندکردیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہودونصاریٰ سے متعلق قرآن کا بیانیہ بیک وقت تنقیدی بھی ہے، ان کے الگ تشخص کی تسلیم بھی ہے اور دعوت اسلام بھی ہے۔ ان تین پہلووں کیلئے الگ الگ ادوار کی تقسیم نہیں ہے۔ رہا مسئلہ مدنی عہد میں موسیٰ وعیسیٰ کے بجائے ان انبیا کے ذکرکا جن کی امتیں صفحہ ہستی پر موجود نہیں ہیں مثلاً نوح و ابراہیم وغیرہ کے ذکرکا تو یہ کسی طور کسی حدتک درست حقائق کو اپنی پچ پر لاکر کھیلنے اور کھلواڑ کرنے کا مغربی استعمارانہ دانش کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ قرآن کے مطابق اہل کتاب کاقبول اسلام سے مفر اور ان کی اس اٹل پوزیشن کا معمہ مدینہ کے برعکس لیٹ مکی عہد میں وا ہوچلا تھا۔ ابراہم ؑ کو یہودونصاریٰ سے بتدریج الگ کرنا اور بطور پیغمبراعظم اور حنیف یعنی Super Prophet cum arch monotheist کا قرآنی بیانیہ مکی عہد سے شروع ہوچکا تھا۔ ہم نے یہ بھی واضح کردیا کہ امت مسلمہ مکی عہد میں ہی بطور الگ کمیونٹی ایک نئے پیغام کی مکلف قراردے دی گئی تھی(6:89-93)۔ اس کا باضابطہ اعلان ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد مدینہ میں ہوا تھا۔

اسلام کے مغربی نقاد اس پر یکسوہیں کہ تحویل قبلہ کا اعلان مدینہ میں یہودیوں سے Break off کا نتیجہ تھا۔ اگرحضورﷺ نے مدینہ پہنچ کر یہودیوں کی خوشنودی کیلئے بیت المقدس کو قبلہ قراردیا ہوتا تومستشرقین کا یہ موقف کچھ جوازبھی رکھتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیت المقدس کواہل اسلام نے مکہ میں قبلہ بنایاتھا اوراس کی وجہ بھی غالباًیہ تھی کہ اہل اسلام کے حرم کعبہ میں داخلے پر قریش نے پا بندی لگادی تھی۔ علاوہ ازیں باقی عرب کیطرح اہل مدینہ کیلئے بھی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز یروشلم کے برعکس کعبۃ اللہ تھا۔ مذیدبرآں مکہ میں بیت المقدس کا بطور قبلہ انتخاب جبر و استکراہ کا نتیجہ تھا تاکہ اہل اسلام اوربت پرستوں کے درمیان خط تفاوت کھینچ دیاجائے۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ مکہ میں دوران نمازآپ ﷺ ایسی پوزیشن اختیارکرتے کہ بہ یک وقت حرم کعبہ اوربیت المقدس کیطرف رخ ہوجایاکرتا تھا۔ قران کہتا ہے ہم نے تمہارے لیے اسی قبلہ کا انتخاب کیا ہے جس پرتم پہلے تھے تاکہ پیروان پیغمبرﷺ اورایڑیوں پردبے پاوں واپس پھرجانیوالوں کے درمیان امتیازوتمیز قائم کردیا جائے (2:143) ۔ بیت المقدس کواگرقبلہ رکھنا ہوتا تو جیسے ابراہیم ؑ و موسی ٰ اوعیسیٰ ؑ کو یہودونصاریٰ سے الگ کرکے اپنالیا گیا تھا بعینہ بیت المقدس کو بھی یہود سے الگ کرکے مستقلاً اپنایا جاسکتا تھا۔ جہاں تک حج بیت اللہ کا تعلق ہے اس کا یہودی مخمصے سے دورپارکا بھی کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد جب اہل اسلام کی بطور الگ کمیونٹی شناخت طے ہوگئی تو فوراً اس کے الگ تشخص کے پیرامیٹرز یعنی شعائراسلام کا بتدریج ڈیویلپ ہونا فطری تھا۔ حج کعبہ کا اذن اور تحویل کعبہ کے حکم کے درمیان صرف چھ ماہ کا گیپ تھا اوریہ دونوں احکام غزوہ بدرسے تھوڑا ہی قبل واقع ہوئے تھے۔ یہود کا بغض و نفاق آن واحد کی پیداوار نہیں تھا یہ تو بتدریج بدر، احد، احزاب اورخیبرتک unfold ہوا یعنی بیج سے تن آوردرخت بننے تک اسے وقت لگا۔ اور قرآن کا موقف ہے کہ نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق کیطرف منہ کرویا مغرب کیطرف نیکی توخدا، فرشتوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہوئے امر بالمعروف اورنہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام دینا اپنے مال سے مستحقین کا حصہ نکالنا اور اپنے عہدوپیماں کو ایفا کرنا ہے۔ فاستبقولخیرات پس امورخیرمیں سبقت لے جانے کی سعی کرو۔ یوں قبلہ بذات خود کوئی اہمیت نہیں رکھتا اصل اہمیت البر یعنی نیکی اور امور خیر اور پھر ان کاموں میں کمیونٹیز کے درمیان مسابقت کی ہے۔ مذید برآں یہ کہ اگر اسلام دیگر مذاہب اور ملل وامم کے تشخص اور شعائر کو تسلیم کرتا ہے جو مقامی مینڈیٹ کی حامل تھیں تو کیا عالمی مینڈیٹ کے حامل اسلام کو یہ حق نہئں ہے کہ وہ اپنے الگ تشخص اور ابن خلدون کے الفاظ میں الگ عصبیت common aspiration کیلئے اپنی علامات اور پہچان کے پیرامیٹرز اور شعائر کا تعین کرے۔ قیام اصلوٰۃ وزکوٰۃ ہو یا ماہ رمضان کا بطورماہ صیام تعین اور یوم جمعہ کا تقدس واحترام یا نمازکیلئے اذن اذان اور صاحبان استطاعت کیلئے زندگی میں ایک بارفریضہ حج کی ادائیگی اور صفا ومروہ کی سعی اورطواف کعبہ کا التزام اور حجر اسود کا بوسہ یہ سب جہاں امت مسلمہ کے تشخص کیلئے شعائر اسلامی قرار پائے ہیں وہاں اپنے اندر پنہاں معنویت کا ایک جہاں ہیں اگراس معنویت کا اظہار ہمارے سوشل فیبرک اور عملی پیراڈائم میں نہ ہوسکے تو رسوم محض کے سواکچھ نہیں ہیں۔ نماز روزہ و قربانی وحج یہ سب باقی ہیں توباقی نہیں ہے کا مظہرلگتی ہیں۔ اگر یہ علامات کسی نیشنلزم کا استعارہ ہیں جیساکہ ہٹی نے قراردیا ہے تویہ کیسا نیشنلزم ہے جو امت مسلمہ میں قطب شمالی سے قطب جنوبی تک یا مراکش سے ملائیشیا تک ایک ہی رنگ لیے ہوئے ہے۔

فلپ کے ہٹی جہاں مدنی حیات میں رسول اللہ ﷺ کو مکہ کے پیغمبر اور مبلغ کے برعکس صاحب سیاست وریاست دیکھتا ہے وہاں دیگر مستشرقین کی ہمنوائی میں مکہ کے امن پسند اور صلح جو پیغمبرﷺ کو مدنی عہد میں جہادوقتال میں مصروف کار بھی پاتا ہے۔ دلیل کی بنت میں پنہاں subtlety دادوتحسین کی مستحق ہے۔ ہٹی لکھتاہے اگرچہ احدمیں قریش نے بدر کا بدلہ چکانے کیلئے قدرے کامیابی حاصل کی اور پیغمبرؑ زخمی بھی ہوئے تاہم

Islam recovered and passed on gradually from the defensive to the offensive, and its propagation seemed always assured. Hitherto it had been a religion within a state; in al-Madina, after Badr, it passed into something more than a state religion-it itself became a state. Then and there Islam came to be what the world has ever since recognized it to be- a militant polity (17).

اہل اسلام کا مورال بحال ہوا اوراسلام بتدریج دفاعی سے جارحانہ پالیسی میں شفٹ ہوگیا اور اس کی اشاعت ہمیشہ سے یقینی تھی۔ اب تک مدینہ میں اسلام ریاست کے اندرایک مذہب کی حیثیت رکھتا تھا تاہم بدر کے بعدیہ ریاست کے مذہب سے زائد حیثیت اختیار کرگیا یہ بذات خود ریاست بن گیا۔ اس وقت سے اسلام کو دنیا آج تک ایک عسکری ریاست کے طور پر جانتی اور پہچانتی ہے”۔ اسلام کو کلیتاً عسکری مذہب قراردینا اہل مغرب کا بنیادی بیانیہ رہا ہے اور کئی سیاسی اور معاشی وجوہات پر یہ رہے گا۔ اس بنیادی بیانئے کی بنت کیلئے عہدسلاطین کی اسلامی دانش اور مورخین نے بھی اہل مغرب کو بہم کمک پہنچائی ہے جو مکی عہدکو کم وبیش تبلیغ محض اور مدنی عہد کو جہادوقتال محض کا عہد سمجھے تھے۔ شریعتی یہ سمجھنے میں برحق تھا کہ اسلام نے اپنے کیرئرکا آغازہی سیاست اور جہاد سے کیا بشرطیکہ سیاست اور جہاد کو اس معنویت میں نہ لیا جائے جو میکیاولی مغرب کے زیراثر شرق و غرب کا ماوراالااصول و اخلاق متفقہ رائج الوقت بیانیہ بن چکا ہے۔ سیاست مغربی لفظ Politic کا متبادل نہیں ہے جو یونان کی سٹی اسٹیٹ کی پولیسنگ کا ترجمان ہے۔ عربی میں سیاست سرکش گھوڑے کو سدھانے کانام ہے۔ گویا یہ انسان کی سرکش اور باغی جبلتوں کے سدھارنے کا عمل ہوا اور اس کیلئے درکار جہد مسلسل اورمشقت کا نام جہادہے یوں جسے پیغمبرؑ کے مدنی عہد کی سیاست اور جہاد قرار دیا جارہاہے وہ اسلام کے کیرئرکا ابتدائی عہدمکہ سے آغاز کار تھا۔ العنکبوت کی پہلی گیارہ آیات عہدمکہ میں قریش کے ظلم وستم اورپروپیگنڈے کو فتنہ اوراہل اسلام کی مبنی بر تحمل مزاحمت کو جہاد اور تھڑدلے اہل اسلام کی اسلام سے متعلق کنفیوژن ابہام اورغیرمستقل مزاجی کو منافقت قراردے رہی ہیں۔ جہاں مکی عہد کی مبنی برتحمل مزاحمت مدنی عہدکی سرگرم مزاحمت میں ڈھلتی ہے وہاں مکی عہد کی آزمائش و ابتلا مدنی عہد میں بدرواحد اوراحزاب کا تن آور جھاڑ بنتی ہے تو عہدمکہ کی ننھی و شیرخوار منافقت عہد مدینہ میں ففتھ کالم کا روپ دھار لیتی ہے فرزندان توحید کا رویہ مکہ ہویامدینہ “واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا“ کا اول و آخر مظہر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عہد مکہ میں خانقاہی طرز کا نصاب تبلیغ بروئے کار لایا جاتا تو شعب ابی طالب کی کٹھنائیاں ہجرت حبشہ کی غریب الوطنی اور ہجرت مدینہ کی خارہ شگافیاں مقدر بنتیں؟ یا پھربلال وعماروسمیعہ اورحباب بن الارت اور دیگر پر ایسے ستم کے کوہ گراں گرائے جاتے؟ مغربی مفکرین نے مذہب کا جوتصوربطور خالصتاً روحانی تحریک کے وضع کیا ہے یہ سیکولرازم کے تحت مذہب اور ریاست کے درمیان طلاق کے تصورکی دین ہے۔ ولیم منٹگمری واٹ لکھتا ہے۔

”The recent occidental conception of ‘ a purely spiritual movement’ is exceptional. Throughout most of human history religion has been intimately involved in the whole life of man in a society, and not least in his politics. Even the purely religious teaching of Jesus- as it is commonly regarded- is not without political relevance (18) “

خالصتاً روحانی تحریک کا معاصر مغربی تصور استثنائی حقیقت ہے۔ پوری تاریخ انسانی میں مذہب معاشرے میں فردکی حیات کلی پر گہرائی کیساتھ اثرانداز رہا ہے اورسیاست میں بھی اس کا کردارکوئی کم نہیں رہا۔ یہاں تک کہ عیسیٰؑ کی خالصتاً مذہبی تعلیمات جیسا کہ انہیں متصورکیا گیا ہے وہ بھی سیاست کے تڑکے کے بغیرنہیں تھیں”۔ لگتا ہے عیسیٰؑ جن کا قول ہے کہ مجھے تلوار دے کرمبعوث کیا گیا اسے سیکولر مغربی عیسائی روایت نے سیکولرائز کرکے خالص روحانی تحریک کا تصور بنا ہے۔ یوں آنکھ کے بھینگے پن اور مناظری دھوکے کے باوصف مغرب کی جدید سیکولردانش کو اسلام اور صاحب اسلام کی تصویرالٹی سیدھی دکھائی دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس نے روزآفرینش سے زمین پرمبنی برعدل سماجی معاشی سیاسی اور ثقافتی نظام اخلاق کی تشکیل و تجسیم کواپنا فرض منصبی اوربنیادی مینڈیٹ قراردیا تھا اس پریہ امرمکہ ہی سے واضح تھا کہ اس راہ کی وادی پرخار جاں گسل معرکوں سے عبارت ہوگی اورٹاسک کی شدت سے کپکپی طاری ہونے پر مجھے کنبل اڑھادو کی فہمائش پر مجبور ہوا تھا جو بقول کیرن آرم اسٹرانگ غار سے نکل کرپہاڑسے اترتے ہی قوم کی طرف بھاگتا نہیں آیا تھا کہ مجھے وحی ہوئی ہے اوربقول لیزلے ہزلٹن جو جو ودیعت وحی پر بھی متشکک تھا جسے خدیجہ اور ورقہ بن نوفل نے یقین دلایا وہ باطل گزیدہ سچ پر سے نشان باطل کو رفع کرنے اور دیگر باطلانہ ملمع کاریوں کوپرت بہ پرت تہہ بہ تہہ ہٹانے کا کس قدر وسیع اورجمیع تجربہ اورمشاہدہ رکھتا ہوگا۔ کیا اس پریہ مدینہ آکرکھلا تھا کہ سماجی ومعاشی نظام اخلاق کی تشکیل وتجسیم کیلئے تبلیغ محض نہیں بلکہ جہادوسیاست کی ضرورت ہے یا یہ عمل مکہ سے ہی جاری وساری تھا۔ کیرن لکھتی ہے۔

”instead of wandering in unworldly fashion round the hills of Galilee, preaching and healing, like the Jesus of Gospels, Muhammad had had to engage in a grim political effort to reform his society, and his followers were pledged to continue this struggle. Instead of devoting all their efforts to restructuring their own personal lives within the context of the pax Romana, like the early Christians, Muhammad and his companions had undertaken the redemption of their society, without which there could be no moral or spiritual advance.(19)”

خلیل کی پہاڑیوں کے گردغیردنیوی انداز میں تبلیغ کیلئے پھرتے اوربیماروں کوشفادیتے صاحب انجیل عیسیٰ کے برعکس محمدﷺ کواپنے معاشرے کی اصلاح کیلئے ایک ہولناک سیاسی جدوجہدمیں مصروف کارہونا پڑا تھا اور اسی جدوجہد کو جاری رکھنے کیلئے اس نے اپنے پیروان سے بیعت لی تھی۔ سلطنت روما کی ابتدائی عیسائی روایت کے برعکس جس میں ساری جدوجہد کی جہات کا محورومرکز ذاتی زندگیوں کی تعمیروتشکیل تھا محمدﷺ اور آپ کے اصحاب کا مطمع نظر معاشرے کی نجات واصلاح اور ترازو کی درستگی تھا جس کے بغیر اخلاقی اورروحانی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو نہیں سکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ سیکولرازم کے عدسے سے مذہب کو کلی روحانی معاملہ سمجھنے پر مصر دانش جدید کو اسوہ رسول کیونکر سمجھ آئے جو شدید گاڑھی مرتکز روحانیت اور حقیقت پسندانہ سخت عملیت پسندی کا حسیں امتزاج عظیم تھا۔ وہ زارکی چیزیں زار اور خدا کی چیزیں خداکو سونپنے والے مبلغ کے برعکس تاریخ کے گوشت پوست میں ایک روحانی نظام پیوست کرنے والاخلاق عظیم تھا۔ محمدﷺ کا خداکسی فلسفی کے ذہن کا بلڈلیس اصول محض یا دانشورانہ تخلیق محض نہ تھا جسے تاریخ میں موثریا غیرموثررہنے سے کوئی دلچسپی نہ ہو، محمدکا خدا فل بلڈڈ خدا تھا جو مناجات اور دعائوں کاجواب دیتاہے انسانوں کوانفرادی اوراجتماعی طورپرہدایت دیتا ہے اورتاریخ کی تعمیروتخریب کے جاوداں اصولوں سے لیس ہے اورابن تیمیہ کے الفاظ میں بولتا اور کر دکھاتا ہے۔ محمدﷺ اسی خداکی عنان التفات سے جڑے ہوئے تھے جو لایکلف نفساً الا وسعھاولدینا کتاب ینطق بالحق وھم لایظلمون (اورہم کسی کو استطاعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتے کیونکہ ہمارے پاس ان کی صلاحیتوں کاریکارڈ ہے جوہمیں بتاتا ہے کہ انسان کیا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور کیا اس کی بساط سے باہر ہے کسی سے ظلم و زیادتی نہیں ہوتی) کا داعی ہے(23:62)۔

مغربی اصحاب دانش سمجھتے ہیں کہ مدینہ پیغمبرؑ کیلئے پھولوں کی سیج ثابت ہوا، مدنی عہد میں جب مشن مصطفویﷺ (قرآن کے نظام اخلاق واقدار) کے معاشرے کے رگ و پے میں نفوذ کرنے اور معاشرے کے حقیقی پیراہن پر کڑھنے کا وقت آپہنچا تو ٹاسک کی شدت کا یہ عالم ہے کہ مدنی عہد کی آیت کریمہ بتاتی ہے کہ اگ یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا جاتا تو تم اسے عجزوانکسارسے اطاعت حکم اور خشیت الٰہیہ سے ریزہ ریزہ ہوتے اپنی آنکھ سے دیکھتے (59:21)۔

حقیقت یہ ہے کہ مذہب کو سماجی معاشی اورسیاسی وثقافتی حرکیات سے بے دخل کرکے کلیتاً انسان کا انفرادی نجی اور داخلی روحانی معاملہ بنادینے اوراپنے تیئیں تاریخی طورپربھی مذہب کو ایساہی مظہر قراردینے والی فسطائیت پسند سیکولر مادہ پرست مغربی دانش کو سیرت مصطفویﷺ میں عظیم پیغامبر اور یکتائے روزگار مصلح کی یکجائی ایک بھیانک پرخطر ڈراونا خواب محسوس ہوتی ہے۔ فرانس کے مارکسی اسکالر Maxime Rodinson نے جب سیکولرزم کی لکیر پیٹنے کے برعکس حقیقت پسندانہ اندازسے سیرت مصطفےٰﷺ کا مطالعہ کیا تواسے محمدﷺ شارلیمان جس نے عظیم سلطنت کے قیام واستحکام کیلئے عیسائیت کو جرمنی کے Saxon قبائل تک پہنچایاتھا اورعیسیٰؑ جس کی سلطنت اس کرہ ارض و آب کیلئے نہ تھی کا عظیم امتزاج نظرآئے۔ ایک مارکسی دانشورہی سمجھ سکتاہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کو غلامی سے نجات دلا کر مضبوط بنانا اورمذہبی اجارہ داروں (آرتھوڈاکسی، کلرجی، ملائیت یعنی ابولہبوں) سیاسی وڈیروں (مطلق العنان ڈکٹیٹرشپ یا سرداران قریش کی oligarchy) اور استحصالی سرمایہ دارایلیٹ (مکی و مدنی سود خور استحصالی طبقہ) جنہیں قرآن مترفین یا اشراف کمینہ کارقرار دیتاہے ان کی میجسٹریسی (خصوصی حقوق) کو طاق نسیاں بنا دینا محمدﷺ کا کتنا بڑاعظیم کارنامہ تھا۔ The 100 a ranking of the most influential persons in history کا مصنف مائیکل ایچ ہارٹ رقمطراز ہے کہ اگرعیسائیت میں دائیں گال پرتھپڑ لگنے کی صورت بایاں گال پیش کرنے کا فرمان عیسیٰ عملی جہت رکھتا تو مجھے عیسیٰ کو سرفہرست ڈالنے میں کوئی عارمحسوس نہ ہوتا تاہم پیغام محمد کا نقش عملی صورت میں تاریخ پر سب سے زیادہ ثبت ہے اس لیے انہیں اس کتاب میں سرفہرست لیا گیا ہے۔ ٹوائن بی کا اعتراف ریکارڈ پر ہے کہ مغرب شراب نوشی اورنسل پرستی کو متعدد قوانین اور ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود اس طرح نہیں روک پایا جس طرح اہل اسلام میں یہ چیزیں اخلاقی پختگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے سیرت مصطفویﷺ میں پیغمبراورمصلح کی یکجائی کو بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے“

The Prophet was not an impractical visionary who simply made high-sounding moral pronouncements. It was a central function of the Prophet and his mission, after having made these moral pronouncements, to be effective in society and to move it in a certain direction. In other words, the Prophet was a seer cum-reformer. But at any given time a reformer, however zealous, cannot change society beyond a certain point. The Prophet, therefore, had to act both on the moral plane and the legal plane (20).”

پیغمبرؑ ایک غیرعملی قائد ورہنما ہرگزنہیں تھے کہ صرف سادہ طور پر پرکشش اخلاقی آئیڈیلز کے اعلان پراکتفا کرلیتے۔ پیغمبرؑ اور آپ کے مشن کا مرکزی کرداریہ تھاکہ ایسے عظیم اخلاقی آئیڈیلز کے اعلان کے بعد معاشرے پر اثر انداز ہونے کیلئے اس کی مخصوص جہت نمائی کی جائے۔ بالفاظ دگر محمدﷺ ایک پیغمبراورمصلح کی یکجائی کا مظہر عظیم تھے۔ لیکن تاریخ کے کسی موڑ پرکوئی مصلح کتنا ہی پرجوش کیوں نہ ہو معاشرے کو مخصوص حد سے آگے تک تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس لیے پیغمبرؑ کی کارکردگی کا دائرہ کارقانون واخلاق دونوں کی اقلیمات پرتھا”۔ یعنی پیغمبرؑ کا عملیت پسند مزاج سمجھتا تھا کہ سوسائٹی کے مخصوص ارتقائی مقام پر کس حد تک اصلاح ممکن ہے اس کیلئے قانون سازی کردی اور جن اخلاقی اصولوں اور آئیڈیلز کی طرف سفر درکار تھا اس کی جہت نمائی بھی کردی گئی۔

قرآن اور اسوہ رسول ﷺ نے ایشوز کی قانون اوراخلاق کی الگ الگ اقلیمات پر جو لطیف ونفیس درجہ بندی کی اس کی تفہیم میں اہل اسلام اوراہل مغرب نے یکساں ٹھوکرکھائی ہے۔ مثلاً قرآن مسئلہ قتل کوجب قانون کی اقلیم پر ایڈریس کرتا ہے تواس کے سامنے مخاطب قبائلی معاشرت کی زمانی ومکانی صورت حال ہے اس لیے قتل کابدلہ قتل، خوں بہا یا مقتول کے ورثا کی جانب سے معافی کے آپشن کے ذریعے ارتقائے انسانی کے مخصوص حالات کی رعایت کے باوصف قتل کوبطورانفرادی جرم ایڈریس کرتا ہے تاہم جب یہی جرم قتل اخلاقی اصولوں کی دائمی اقلیم پراٹھاتاہے تو ایک انسان کے قتل کوساری انسانیت کے قتل کا مصداق ٹھہراتے ہوئے قتل کوانفرادی جرم سے اٹھاکر بمنزلہ سوشل کرائم قرار دیتے ہوئے آنیوالے زمانوں کیلئے قانون سازی کے متنوع امکانات کا درواکردیتاہے۔ ایسے ہی قرآن جب مدنی عہد کے مخصوص حالات اوراہل کتاب کے مخصوص رویوں کی روشنی میں مخصوص تاریخی تناظر میں یہودونصاری ٰ کو اہل اسلام کا دشمن قرار دیتا ہے تویہ حکم تاریخ کے مخصوص موڑ پرقانون کی اقلیم پرصادرہوا تاہم جب اسلام کے یہودونصاریٰ سے تعلق کو اصول واخلاق کی دائم اقلیم پراٹھایا تو تعالو الیٰ کلمۃ سوا بیننا وبینکم کہا۔ یعنی آئو اے اہل کتاب اس پلیٹ فارم کے ذریعے جو تمہارے اورہمارے درمیان قدرمشترک ہے یعنی اطلاقی تصورتوحید کے عظیم الشان آئیڈیل کے تحت کرہ ارض پر مبنی بر انصاف سماجی معاشی سیاسی اورکلچرل نظام اخلاق کی تشکیل اورحتمی قیام کیلئے ایک دوسرے کا دست و بازو بنیں(3:64)۔ اسلام کا یہ بین المذاہب ہم آہنگی کاتصوروہ نہیں ہے جو Ecumenism کے عنوان سےاہل مغرب میں کلیسائی ہم آہنگی کیلئے رائج ہے۔ کیونکہ عیسائیت کسی بھی طرزکے سوشل آرڈرکے قیام کی داعی نہیں ہے اور ولیم منٹگمری واٹ کے الفاظ میں چونکہ معاصر آکسیڈنٹل مائینڈسیٹ کے نزدیک مذہب ایک خالص روحانی تحریک بن چکا ہے جب اس کا دخل سیکولر اقدار کے تحت سماجی معاشی اورسیاسی حرکیات میں ناقابل قبول قرار دیا گیا تو Ecumenism بین المذاہب جزبہ خیرسگالی اورایک دوسرے کیلئے نجات ورستگاری اورمکتی کی دعا سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اسلام میں salvation کے برعکس فلاح یا خسران کا تصور ہے جس کا تعلق کرہ ارض وآب پر مورل ورلڈآرڈر یعنی عالمی نظام اخلاق کے قیام سے ہے۔ مسلمان جب تاریخ کے اسٹیئرنگ ویل پرتھے انہوں نے یہودونصاریٰ کو ازلی وابدی دشمن سمجھنے کے برعکس قرآن کے دائمی اصول یعنی مبنی بر توحید معاشرت کے قیام کیلئے یہودونصاریٰ کیساتھ مشترکہ جدوجہد کو شعار بنایا۔ اقتدار اسلامی کی ہسپانوی تاریخ اورسلطنت عثمانیہ کا دوراس پرگواہ ہے۔ یہودونصاریٰ ہی نہیں ایران کے زرتشتیوں کو بھی رسول اللہ کی جانب سے کمثل اہل کتاب قراردیئے جانے پرانہیں اہل کتاب کی طرح ہی سمجھا گیا۔ اسی اصول کی بنیاد پر برصغیر اورملائشیا و انڈونیشیا میں ہندومسلم تنائو، فسادات اورتاریخی کشمکش کے درماں کیلئے جدیدمسلم اسکالرشپ ہندوں کو بھی کمثل اہل کتاب قراردے رہی ہے۔ راقم کوجسٹس جاویداقبال مرحوم نے اس پیش رفت سے آگاہ کیا تھا۔ دیر آید درست آید یہ اسی عدم توجہی کا ازالہ ہے جس طرف صدیوں پہلے کتاب الہندکے مصنف ابو ریحان البیرونی نے توجہ دلائی تھی کہ اہل اسلام نے جہاں یہودیت اورعیسائیت وزرتشتیت اوردیگر مذاہب کے مطالعے اور تفہیم کا حق ادا کیا تھا وہاں ہندوازم کے باب میں پہلوتہی کا ارتکاب کیا ہے۔ مصنف نے اس وقت موجودہ پاکستان کے علاقے پنڈدادن خان میں سنسکرت اورریاضی کے علاوہ ہندی ویدانتی فلسفے کی تعلیم کیلئے ہندواساتذہ کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیاتھا وہاں ان کی یادمیں حکومت پاکستان نے البیرونی کالج قائم کیاہے۔ اسی علاقے میں کٹاس راج کا مندربھی ہے۔

عالمی افق پرابھرتے نئے ریجنل الائنسز، فوجی معاہدوں اورسیاسی اتحادوں کی دینامیت نے اسلامی ممالک اور کنفیوشس چین کو تیزی سے قریب لانا شروع کردیا ہے مگر ڈاکٹرحمیداللہ نے اہل اسلام کی اس وقت بدھ ازم، کنفیوشس ازم اور تاو ازم کے مطالعے اورتحقیق کی طرف توجہ مبذول کرائی تھی جب امریکا کا مطلق العنان عالمی اقتدار فضا میں End of History کی تانیں اڑارہاتھا۔ بلاشبہ ڈاکٹرحمیداللہ کے پیش نظربھی (3:64) کامجوزہ عالمی نظام اخلاق کے قیام کا تصور الٰہیہ تھا جسے شاہ ولی اللہ دہلوی نے قرآن کے سماجی فکری فریم ورک کے تحت اپنے نظریہ ارتفاقات کی چوتھی آخری اورحتمی منزل قراردیاتھا۔ کیرن آرم اسٹرانگ نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں فضل الرحمان میموریل سیمینار سے خطاب کے دوران کہاتھاکہ قرآن نے (3:64) اور کچھ دیگر آیات میں اہل اسلام اوریہودیت و عیسائیت کے درمیان ایک عالمی نظام اخلاق کے قیام کیلئے اتحاد پر زور دیا تھا مگراس راہ میں صلیبی جنگوں اورجدیدیورپ کی مسلم ممالک پراستعمارانہ یلغار کی تاریخ حائل ہے۔ راقم کا احساس ہے کہ قرآن کا انسانی اتحادعالم کایہ نظریہ حالیہ زوال گزیدہ مسلم دانش کیلئے abhorrent اور ڈراونا و گھنائونا مکرہ تصور ہے۔ تاہم اس کراہت اور خوف کی جڑیں قرآن اوراسوہ رسول سے کہیں زیادہ عہدوسطیٰ کی فکری و نظری بنت، ترتیب و تدوین اور مسلم اسکالرشپ میں ہیں۔ یہ رویہ تاریخ کی اسیری سے ماورا کچھ نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ عہدحاضرکے سلگتے مسائل کے حل کیلئے قرآن واسوہ رسولﷺ اہل اسلام کے دروازے پر کسی ہیرے کے لشکارے کی طرح نورًاعلی ٰ نور بصیرت کے ساتھ عہدکہن کیلئے پیغام رحیل کے اذن سے محو دستک و خرام ہیں مگر اہل اسلام اندرسے چٹخنی لگائے زمانہ وسطیٰ کی قدامت پرستی کے ساتھ بیڈ شیئرنگ اور جن جپھی کا شکار ہیں۔ میرا احساس ہے Medieval conservatism جارحیت پسند مغرب کیخلاف ردعمل کی نفسیات کا عارضی شاخسانہ ہے۔ معاشی اور سیاسی خود مختاری سے جب خودشناسی کی منزل نے آلیا عہدوسطیٰ کی قدامت پرستی کا نشہ خودبخود کا فور ہوجائے گا۔ جدیدمارکسی تصور تاریخ کہتا ہے کہ ذرائع پیداوارکے بدلنے سے اقداربدل جایاکرتی ہیں راقم اسے کلی کے بجائے جزوی حقیقت سمجھتے ہوئے اس بات کا قائل ہے کہ زمان ومکاں کی حقیقتوں کے تبدل سے اقدارنہیں بدلتیں اقدار کی بجاآوری اورتکمیل کے Patterns & methodologies بدل جاتی ہیں جو تاریخ اسلام کے مجتہد مطلق عمربن خطاب کی اصلاحات سے اظہرمن الشمس ہے۔ زمانہ وسطیٰ کی فقیہانہ کاوشوں، متکلمین کے الٰہیاتی فلسفوں اور مفسرین کی قرآن فہمی کا محل نظرزرعی معاشرت کا مائنڈ سیٹ اور مسائل تھے۔ معاشرتی ارتقا زرعی معاشرت کے احوال و واقعات اور معروضی حقائق سے جست لگاکر صنعتی معاشرت اور کارپوریٹ دورسے ہوتا ہوا سائبر عہد میں دم بھر کے سکون کیلئے ماندگی اور درماندگی کے درماں کیلئے رکا ہے اورعہد بہ عہدکتنے نئے زمانوں کیلئے اڑان بھرنے کو تیار ہے تو کیا فکری ونظری اقلیم پرزمانہ وسطیٰ کا جمودبحال رکھنا صائب رہےگا؟ یا قرآن و اسوہ رسول نئے مسائل کی تفہیم اور درماں کیلئے بانجھ ہوچکے ہیں؟ اندھے کا روشنی کو محسوس نہ کرسکنا خورشید جہاں تاب کے عدم وجود کی دلیل نہیں ہے۔ صدجلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے! فلسفہ تاریخ کے شناورجانتے ہیں کہ اگر کوئی معاشرہ ماضی میں رہنا شرع کردے۔۔ خواہ ماضی کی یادداشتیں کتنی ہی شیریں کیوں نہ ہوں اورحال کے معروضی حقائق سے نبرد آزمائی سراپا ترک کردے۔۔ خواہ یہ کتنے ہی تلخ، ناخوشگوار اور کڑوے کسیلے کیوں نہ ہوں ایسے معاشرے کا وجود حتمیت میں رکاز (fossil) بن جایاکرتاہے اوریہ سنت الٰہیہ ہے کہ فوسلززندگی کی حرارت تادیرقائم نہیں رکھ سکتے۔ ایسے معاشروں اور اقوام وملل کے باب میں فرمایا گیا ہےـ ہم نے ان پرکوئی ظلم نہیں کیا تھا۔ یہ وہ خودتھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا (11:101;16:33, etc)۔ جب انہیں انجام نے آلیا توان کے اس دردناک المیے پرنہ آسماں رویا نہ زمیں اشک بار ہوئی۔

قرآن نے زندگی کی ابتدا اور نمو کا ماخذنفس واحدہ کو قرار دیکر انسانی ابتداکی وحدت کے نظریے سے ملت آدم کو بطور جسدواحد پیش کیا(4:1;6:98;7:189)۔ پیغمبرؑ کا ایک خدا ایک انسانیت کا تصور تاریخی جبر اور انسان کی ارتقائی مجبوریوں کے باوصف اگرتاریخ کے اس مخصوص چوراہے پر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا تھا تو اس کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ قرآن و رسول ﷺ وحدت انسانی کے اس تصور سے دستبردار ہوگئے تھے۔ جو وحدت انسانی کے تصورکی تحریک سے وابستہ ہوئے تھے قرآن نے انہیں کانھم بنیان مرصوص قراردیا۔ دیوار کے اجزائے ترکیبی اپنی حتمیت میں اپنی انفرادی حیثیت اور پہچان کھو کر یک رنگ ویک جوہربن جاتے ہیں اس لیے قرآنی و مصطفوی تصور وحدت انسانی کیلئے برپا تحریک کیلئے بروئے کار ملت اسلامیہ کودیوارکی تمثیل سے بیان کیا گیا۔ اقبال اس تصور کو ثقافت اسلامیہ کا اعجاز و امتیاز قرار دیتے ہوئے مغربی مورخ Flint کا حوالہ دیتے ہوئے خطبات میں رقمطراز ہیں کہ فلنٹ کو اس امرکا اثبات ہے کہ اگرچہ عیسائیت نے انسانی مساوات کا پرچار کیا تھا مگرانسانیت کو بطور جسد واحد سمجھنے میں ناکام ہوئی تھی۔ سلطنت روما کے کسی عیسائی مفکر مورخ یا مذہبی رہنما کو اس ادراک کا مکلف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وہ انسانی وحدت کے ایک عمومی تصور یا واہمہ وخیال سے آگے نہ بڑھ سکے تھے۔ دوسری طرف یورپ میں نیشنلزم کی نشوونما اور قومی عادات وخصائل پر زوروشور نے وحدت انسانی کے اپنے سابقہ عمومی تصور اور کمزور و نحیف واہمہ کو بھی سپرد زنداں کیا ہے۔ اسلام کا معاملہ مطلقاً مختلف ہے یہاں وحدت انسانی کا تصورنہ کسی فلسفی کا خیال تھا اورنہ ہی شاعرانہ خواب۔ بطور سماجی تحریک اسلام کا مقصود و مدعا اس تصور کو مسلم روزمرہ حیات کی زندہ وجاوداں حقیقت بناکر پایہ تکمیل تک پہچانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے توحید کے عظیم الشان اخلاقی آئیڈیل کی بنیاد پروحدت انسانی کو بنی نوع انسان کی آخری منزل اور پڑائو قرار دیا تھا۔ ویدانتی فلسفے کے بے تاج بادشاہ ڈاکٹر سرواپلی رادھا کرشنن جس کی علمی وجاہت کا بلاتخصیص شرق وغرب ایک زمانہ معترف تھا ڈاکٹر شریعتی جس پر نازاں رہاکرتے تھے کہ ان کےممدوح کے زور دلائل سے بڑے بڑے مغربی شہ دماغوں کو سانپ سونگھ جایا کرتا تھا اس نے وحدت انسانی کے تصور کو مستقبل کے خواب کے برعکس امر واقعہ قراردیا۔

“The human race is one. This oneness of humanity is more than a phrase; it is not a mere dream. It is becoming a historic fact. With the speeding up of communications, ideas and tools now belong to man as man. The necessities of the historical processes are making the world into one. We stand on the threshold of a new society, a single society. Those who are awake to the problems of future adopt the ideal of the oneness of mankind as the guiding principle of their thought and action (21)”.

نسل انسانی ایک ہے۔ وحدت انسانی کا تصورایک محاورے سے بڑھ کرحقیقت ہے۔ یہ خواب محض نہیں ہے یہ ایک تاریخی حقیقت بن رہا ہے۔ ذرائع مواصلات کی برق رفتاری کیساتھ تصورات اور ہتھیار و اوزار کو انسان نے بطورانسان برتنا شروع کر دیا ہے۔ تارخی عوامل و حرکیات کی ضروریات ومقتضیات دنیا کو وحدت میں پرو رہی ہیں۔ ہم ایک نئی معاشرت یعنی سنگل معاشرے کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ وہ جومستقبل کے مسائل سے آشنا ہیں انہوں نے اپنے فکروعمل کی اقلیم پر وحدت انسانی کے تصور کو بطور رہنما اصول اپنالیا ہے۔

یہ تصورایک جدید ہندو فلسفی کا ہے جس کے ہم مذہب اندرسے ذات پات کے نظام کے انتہائی کمزور دھاگے سے بندھے ہیں اور غیرہندوئوں کو ملیچھ تصورکرتے ہیں۔ دوسری طرف یہی تصورمسلم روزمرہ زندگی کا کتنا حقیقی اور جاوداں مظہر ہے جس پر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اورعام مسلم یکساں طور پر کاربند ہے۔ یہ سیرت واسوہ رسول کا اعجاز ہے۔

یورپ کی مادہ پرست تہذیب جدید کی کوکھ سے دواہم ترین آئیڈیالوجیز یعنی کیپٹلزم اور کمیونزم نے جنم لیا ہے۔ زندگی کی مادی تعبیرسے جنم لینے والے یہ دونوں نظریے اپنی حتمیت میں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ بیسویں صدی کا آخر نصف امریکا اور روس کی قیادت میں انہیں دو آئیڈیالوجیز کے مقابلے اورباہم تعامل وردعمل سے عبارت تھا۔ تیسری دنیا دو میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور رہی اور اسی کی روشنی میں اپنی سماجی اور معاشی پالیسیوں کو ترتیب دینے پر مجبور ہوئی۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعدیک قطبی دنیا نے ان کرائسس کو بڑھایا اب امریکا اورچین کے باہم مقابلے نے اکیسویں صدی کو معیشتوں کے مقابلے کی صدی بنا دیاہے۔ تاہم دنیانے دیکھا کہ دونوں آئیڈیالوجیز نے انسان کی عظمت کے زبانی کلامی اعتراف کے باوجود انسان کو عظیم الجثہ پیداواری پہیے کا ایک گھسا پٹا دندانہ بنانے کے سوا اسے کچھ نہیں دیا۔ رینے گوں کے الفاظ میں اس تہذیب کی کوکھ سے کسری اور یک جہت انسان کا ظہور ہوا جو چانڈل کے الفاظ میں ایک دائرانی انسان ہے یعنی پیداوار کیلئے صرف کرتاہے اورصرف کیلئے پیداوار کرتا ہے۔ پھر استحصالی نظام معیشت سے ایک طرف غربت کا سمندرہے دوسری جانب مال وتمول اور ارتکازوتکاثر مال ودولت کے چند جزیرے ہیں۔ قرآن اور اسوہ رسولﷺ غربت کو فساد فی الارض قراردیتے ہوئے اسے انسان کے بنیادی شرف کیخلاف قرار دیتے ہیں اور کرہ خاک و آب پر مبنی بر انصاف عالمی سماجی معاشی اورسیاسی نظام اخلاق کی تشکیل اور تجسیم کوانسان کی حتمی منزل قرار دیتے ہیں۔ مغربی تصور قومیت جس کی سائنسی اور ٹیکنالوجیکل تیغ جگردار سے وحدت انسانی کا شیرازہ تصویر اجزائے پریشاں ہوا تھا زیادہ سے زیادہ جمعیت اقوام میں اپنے دکھوں کا درماں تلاش کرتا دکھائی دیا۔ مگر مرحومہ لیگ آف نیشنز کوئی مداوانہ کرپائی۔ پھر جمعیت اقوام کے تصور پر اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا اس کی تقدیر بھی سگی بہن لیگ آف نیشنز سے جدا نظر نہیں آرہی۔ ابلیس کے تعویز گنڈوں پراپنے دن پورے کر رہی ہے۔ تاہم موجودہ فقیدالمثال بحرانوں کے حل کیلئے اگر کوئی نسخہ کیما وشفا ہے توبرنارڈشا کے الفاظ میں وہ صرف پیغام و اسوہ مصطفویﷺ ہے جو نسل پرستی نیشنلزم اور سیکولرازم سمیت عہد حاضر کے دیگر جملہ سماجی امراض کیلئے کافی و شافی و اکسیر دوا ہے کیونکہ یہ جمعیت اقوام کے برعکس جمعیت آدم پریقین رکھتاہے۔ یہ کوئی سبجیکٹو وشفل بیانیہ نہ سمجھاجائے پورا اسوہ رسول کجا موجودہ ہمالیہ سائزبحرانوں کیلئے فقط میثاق مدینہ اورمواخات مدینہ سے رہنمائی کافی ہے۔ رادھاکرشنن کے الفاظ میں ذرائع کمیونیکیشنز اور تاریخی عوامل و احتیاج نے ہمیں سنگل عالمی معاشرت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے اور وحدت انسانی کا تصور اب کسی فلسفی کا خیال یا شاعرکا خواب نہیں رہا بلکہ حقیقت میں ڈھل چکا ہے۔ انسانی بحرانوں کے پیچیدہ ترین سادہ مسائل کےحل کیلئے پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ترقی یافتہ شمالی ممالک (گلوبل نارتھ) جو دیمک کی طرح جنوبی ممالک کے وسائل کو چاٹتے آئے ہیں اور جونک کیطرح مفلوک الحال جنوب کا خون چوسا ہے وہ بہ رضاورغبت رضاکارانہ طور پر انصار مدینہ کا کردار کریں اورپسماندہ ودرماندہ اہل جنوب کیساتھ مہاجرین مکہ جیسا سلوک کیا جائے بشرطیکہ گلوبل سائوتھ بھی غیرت و حمیت وعزیمت اورجاں نثاری وجاں فشانی میں مہاجرین مکہ جیسے کردار کا مظاہرہ کرے یہ متمول خطہ شمال اور مفلوک الحال خطہ جنوب کے درمیان سماجی معاشی اور سیاسی ناہمواریوں کی تلافی کیلئے توازن کی بحالی کیطرف ایک چھوٹا مگرجست عظیم ہوگا۔ مگرکب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں کب کوئی بلاصرف دعائوں سے ٹلی ہے؟ کے مصداق معاشی، سیاسی اور سماجی مذہبی اجارہ داریوں کے سرخیل تاریخ میں کب تبلیغ محض سے رضاکارانہ طور پر استحصال اور جبرواستکراہ سے دستکش ہوئے ہیں؟ الا یہ کہ کسی مبلغ کو مولانا وحیدالدین اور جاوید احمد غامدی صاحب کی دعوتی فصاحت و بلاغت اور زور قلم میسر آجائے۔ بہرحال دعوت و تبلیغ سے ہو یا کسی عالمی تحریک کی جدوجہد کے نتیجے میں ہو گلوبل نارتھ اورگلوبل سائوتھ کے درمیان سماجی معاشی اور سیاسی مساوات اور بھائی چارے کا قیام ازبس ضروری ہے۔ یہ توازن خیرات میں نہیں ملا کرتا جیسا کہ بینظیر بھٹو نے مغربی دنیا سے مارشل پلان کی طرز پر عالم اسلام کیلئے کشکول بڑھایا تھا، یہ قوموں کے آہنی عزم سے کسب کا نتیجہ ہواکرتا ہے۔ اس مقصد کی بجاآوری کیلئے ایک عالمی تحریک کا قیام ناگزیرہے۔ ایسی عالمی تحریک ہم خیال مذہبی کمیونٹیز اور ممالک کا عالمی اتحاد ہوسکتا ہے جومطلوبہ طاقت اور اثرورسوخ کے حصول کے بعد میثاق مدینہ کی طرزکا ایک میثاق عالم برپاکرے جوزمینی حقائق کی سنگلاخ زمین پر ایڑیاں رگڑنے سے عالمی امن اور خوشحالی کا چشمہ آب زم زم رواں کرسکے۔ میثاق عالم کے فوراً بعد اس منزل کے حصول کیلئے میثاق کے اراکین مواخات مدینہ کے ماڈل پر مواخات عالم قائم کریں اورحقیقی مدعا کیلئے تمام مالی اورجانی وسائل کوبروئے کارلاتے ہوئے جدوجہد میں جت جائیں اگر ثابت قدم رہیں گے تو نکتہ آغاز کے دشمن حتمی نتیجے میں اس تحریک کا دست وبازو بن کرابھریں گے۔ گلوبل نارتھ اور گلوبل ساوتھ کے درمیان معیشت حیات کا ترازوجب تک برابر نہیں ہوگا قرآن اور اسوہ رسولﷺ کے مطلوب و مقصود مبنی پر توحید مساواتی عالمی نظام اخلاق کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا۔ افراد معاشرہ کے درمیان حیات معیشت کا توازن بگڑنا کتنے بڑے بگاڑ کا مخزن ہوتا ہے کوئی دل بوذرسے پوچھے جوربذہ کے صحرامیں نالے کھیچتا پھرا جس کے ذہن دوررس نے یہ نکتہ پالیاتھا کہ پے درپے فتوحات سے آنیوالا مال غنیمت اور دیگر عوامل کچھ مخصوص ہاتھوں میں ارتکازدولت کا سبب بنے ہیں ہےجو کی لایکون دولت بین الاغنیا منکم کی خلاف ورزی کے سبب سفینہ مصطفویﷺ کو سپرد منجدھار کرسکتا ہے۔ لہٰذا ان سے پیسہ واپس لیکر دوبارہ عوام الناس میں مساواتی بنیادوں پر تقسیم کیاجائے۔ اسی فہم و ویژن کی داد دیتے ہوئے صاحب کشف المحجوب نے ابوذر کو اندر زہد مانند عیسیٰ اندرشوق بدرجہ موسیٰ قرار دیا۔

وارث قرآن و رسولﷺ ہونے اور توحیدی معاشرے کے قیام کاعملی تجربہ مشاہدہ اور تاریخ رکھنے کے سبب عالمی نظام اخلاق کے قیام کے سب سے زیادہ مکلف اہل اسلام ہیں۔ اسی لیے اقبال روح مسلم سے سپاس گزار ہے کہ وہ قرآن اور اسوہ رسولﷺ سے تاریخ کی گردجھاڑ کر دنیا کی امامت کیلئے بروئے کارلائے۔ سبق پھرپڑھ عدالت کا صداقت کا شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیاکی امامت کا۔ ڈاکٹرفضل الرحمان کابھی یہی موقف ہے کہ عالمی سماجی معاشی اور سیاسی نظام اخلاق کی تشکیل کے لئے دنیا کی امامت کا فریضہ بہرحال قوم مسلم کوہی ادا کرنا ہے۔ یوں عہد جدید کے چیلنجز اور ضروریات و مقتضیات کے ادراک کیلئے سب سے پہلے ماضی کی زنجیریں توڑنا ہوں گی۔

Muslims have, by and large, become prisoners of their own historic creations, whether laws or institutions. In order to set mankind on the right path and provide a positive orientation in the present morass, we must transcend much of historic Islam and rediscover real Islam, which is concretely ever- present in the Quran and its ethical principles. This is the challenge that Muslims must face, for the benefit of all mankind (22).

مسلمان کم وبیش اپنی تاریخی تخلیقات کے اسیربن چکے ہیں خواہ وہ قوانین ہوں یا ادارے۔ بنی نوع انسان کو صراط مستقیم پرلانے اور موجودہ اخلاقی دلدل اور کیچڑ سے نکالنے کی جہت نمائی کافریضہ سرانجام دینے کیلئے ہمیں تاریخی اسلام سے ماورا ہوکر حقیقی آفاقی اسلام کو دوبارہ دریافت کرنا ہوگا جو ٹھوس اور کنکریٹ انداز میں قرآن اور اس کے اخلاقی اصولوں میں ہمیشہ سے موجود ہے۔ یہی وہ چیلنج ہے جس سے مسلمانوں کے عہدہ برآ ہونے میں ہی پوری انسانیت کی فلاح وبہبود پنہاں ہے”۔ روایات جو کسی مخصوص مکانی اور زمانی چیلنج کا درماں تھیں وقت کے رواں دھارا جب انہیں irrelevant بنادے اور قومیں ان کے ترک پرآمادہ کارنہ ہوں تو وہ فرینکن اسٹین مونسٹرز Frankenstein Monster بن کراپنے تخلیق کاروں کے وجود کیلئے خطرہ بن جایاکرتی ہیں۔ تاہم یادرہے فضل الرحمان کا علمی اور فکری اصلاحات کا یہ بیانیہ سرسید مکتبہ فکر کے سیدچراغ علی، غلام جیلانی برق اورغلام محمد پرویز سے یکسر مختلف ہے جو ڈارون ازم اور کارتسی عقلیت پرستی (Cartesian Mindset) کے زیراثر قصرحدیث وسنہ اور سیرۃ مصطفویﷺ سمیت تاریخ اسلامی کی پوری روایت کو مسمار کرکے ازسر نو فکر اسلامی کی تعمیروتشکیل کا مدعی ہے اور اہل القرآن کہلاتاہے۔ فضل الرحمان انہیں نیرو کے اس رویے کے مماثل قراردیتاہے جوجلتے روم کا بانسری بجا کر مشاہدہ کرتے ہوئے رطب اللسان تھا کہ پورا روم جل لینے دو اس کی راکھ پرہم نیا اور بہتر روم تعمیرکریں گے۔ فرانسیسی اسکالر جفیکوئس برک Jacques Berque اس معذرت خواہ طبقہ فکر اسلامی کوایسا مدرسہ فکرقرار دیتاہے جس کی اپنی تہذیب میں کوئی جڑیں نہیں ہیں۔ یہ اپنی روایت کو مغربی روایت کی کسوٹی پرپرکھتا ہے اوراسی کو قبول کرتا ہے جواس معیار پر پوری اترے یوں ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطابق ایسا مکتبہ فکر اپنی تہذیب و ثقافت کے اصول ومبادی کمپرومائز کرنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابوالکلام آزاد کے الفاظ میں قدجا کم من اللہ نوروکتاب ببین میں نورسے مراد سیرت واسوہ رسول کا سراج منیر ہے۔ اسی سیرت اور اسوہ رسول کو شیخ الاکبر محی الدین ابن العربی لوح محفوظ قرار دیتے ہیں جس میں قرآن ابداً محفوظ و مامون ہوگیا۔ ختٰمہ مسک وفی ذالک فلیتافس المتنافسون(83:26) جس پراللہ عزوجل کی مہرتصدیق ثبت ہے اوریہ سلسلہ انوار سیرت طیبہ ایسا مشکیں وعنبریں ہے جو کون ومکاں کو ہمیشہ معطر رکھنے کیلئے کافی ہے اور ایسا مشروب علم ہے جو ساقی کی رضاومقصود سے ہر لحظہ تشنہ لبوں کیلئے ابل اور امڈ رہاہے۔ عائشہ نے خلقہ القرآن کہہ کر قرآن اور اسوہ رسول کے درمیان یک زیستی symbiotic relationship تعلق کا راز افشا کرتے ہوئے قرآن واسوہ رسول کی دوئی ختم کردی تھی۔ اقبال کے الفاظ میں خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان تاریخ کے اسٹیئرنگ ویل پربراجمان اہل مغرب کو سیرت مصطفویﷺ سے متعلق جملہ اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جوابات دیتے ہوئے انہیں معروضی انداز میں اسوہ محمدﷺ سے کسب ضیا کا مشورہ دیتے ہیں۔

But the real achievements of Muhammad are to be judged, in the long run, not on the basis of how many times he married, not even on the basis of his personal achievements in a most brilliant career- he himself was so self-effacing that he referred every bit of it to God- but on the basis of what he bequeathed to mankind: both a set of ideals and a concrete way of achieving those ideals, which still constitute the best solution for mankind’s ills(23).

مگر محمدﷺ کی حقیقی کا میابیوں کو طویل المیعاد درانئے میں اس معیار پر نہیں پرکھا جاسکتا کہ آپﷺ نے کتنی شادیاں کیں اوریہاں تک کہ نہ اس بنیاد پر پرکھا جائے گا کہ ایک شاندار کیرئرمیں آپﷺ کی ذاتی کامیابیاں کیا تھیں کیونکہ اس استعارہ عجزوانکسار نے اپنی کامیابیوں کے ذرے ذرے کا انتساب واکتساب خدا کے نام کیا۔ ہاں محمدﷺ کو اس بنیاد پر پرکھا اور تولا جائے کہ آپﷺ انسانیت کیلئے کیا چھوڑا یا عطا کیا۔ دونوں یعنی اخلاقی رہنما اصولوں کا مجموعہ اوران کے حصول کا ٹھوس اور کنکریٹ طریقہ کارجو آج بھی نوع انساں کے جملہ امراض اور بیماریوں کا درماں ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان اگرچہ مسلمانوں کی موجودہ حالت زارپررنجیدہ خاطررہے تاہم جہاں تک قرآن اوراسوہ رسول کےخالص حقیقی مدعا اور مشمولات کا تعلق ہے تاریخ کی اقلیم پراسلام کی حتمی کامیابی سے متعلق کسی طرح کا تشکک ان کے دل میں کوئی جگہ نہ پاسکا۔ مادہ پرستی، بوالہوسی، اشتہاپرستی اورکلبیت کے بوجھ تلے سسکتی اور آئیں بھرتی انسانیت کا حقیقی درماں قرآن اور اسوہ رسول سے میسرآئے گا۔

Islam at present stands radically polarized and is in unmistakable ferment and transition. Medieval conservatism cannot, however, supply genuine and effective answers to today’s problems. It appears largely to be a reaction against Western colonialism. I am therefore confident of the eventual success of the pure Islam of the Quran, which is fresh, promising and progressive (24).


References

  • Tehzeeb , Jadeediyyat aur Hum, Shariati, Ali, trans Saadat Saeed, Sang e meel Publications Lahore, 2017, p.91.
  • Major Themes of Quran, Fazlurrehman, Islamic Book Trust Kuala Lumpur, 1999, p.85.
  • Islam, Fazlurrehman, Anchor Books New York, 1968, p.2.
  • Islam, Fazlurrehman, Anchor Books New York, 1968, p.8.
  • Major Themes of Quran, Fazlurrehman, Islamic Book Trust Kuala Lumpur, 1999, p.92.
  • The Message of The Quran, Asad, Muhammad, Redwood Books,1980, p. 514.
  • History of The Arabs, Hitti, Philip.K, Macmillan & Co. Ltd, 1953, p.116.
  • Nicholson, R.A, A Literary History of the Arabs, Cambridge At the University Press, 1956, p.173.
  • Major Themes of Quran, Fazlurrehman, Islamic Book Trust Kuala Lumpur, 1999, p.146.
  • History of The Arabs, Hitti, Philip.K, Macmillan & Co. Ltd, 1953, p.116.
  • Ibn Khaldun, Muqaddima, Engl. Transl, F. Rosenthal, New York, 1958, 1,.279.
  • See his Hujjat Allah al-Baligha, Cairo 1322 AH, 1, 93 ff.
  • Iqbal’s Vision of a Composite Muslim-Christian-Jewish Nationalism, Article by Fateh Muhammad Malik , Iqbal Review, April, 2003, p.5.
  • Quoted in Geschichte des Qorans (New York, 1970), part 1, pp.146-147.
  • Major Themes of Quran, Fazlurrehman, Islamic Book Trust Kuala Lumpur, 1999, p.133.
  • History of The Arabs, Hitti, Philip.K, Macmillan & Co. Ltd, 1953, p.118.
  • History of The Arabs, Hitti, Philip.K, Macmillan & Co. Ltd, 1953, p.117.
  • Watt, W. Montgomery, Islamic Political Thought, Edinburgh, 1968, p.26.
  • Muhammad A Biography of the Prophet, Armstrong, Karen, Phoenix press, 2001, p.250-251.
  • Fazlur Rahman, “The Controversy Over the Muslim Family Laws” in South Asian Politics and Religion, Donald Smith, ed (Princeton,N.J: Princeton University Press, 1966), p.418.
  • Sarvepalli Radhakrishnan, Religion in a changing World (London: George Allen and Unwin Ltd, 1967), pp.15-16.
  • Fazlur Rahman, “Islam: Challenges and Opportunities” p.330.
  • Fazlur Rahman, Islam, Anchor Books New York, 1968, p.24.
  • Fazlur Rahman, in The Courage of Conviction, Philip 1 , Berman, ed., (New York: Dodd, Mead & Company, 1985), p.159.

Advertisement

Trending