تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمسائنسعلمیکالم

موسمی آفتیں : دوڈگری کا فرق —- بل گیٹس – ترجمہ: ناصر فاروق – پہلا باب (دوسرا حصہ)

by دانش ڈیسک 03/05/2021
written by دانش ڈیسک 03/05/2021
191

تم شاید سوچ رہے ہو کہ 1.5اور 2 ڈگری کا فرق کچھ زیادہ تو نہیں ہے۔ مگر ماہرین موسمیات دونوں منظر ناموں کے خاکے جاری کرچکے ہیں، اور خبر بالکل بھی اچھی نہیں ہے۔ کئی زاویوں سے، دو ڈگری کا اضافہ 1.5 سے محض 33 فیصد زیادہ خراب صورتحال ہی نہیں ہے بلکہ سو فیصد تباہ کُن بھی ہے۔ صاف پانی کے حصول کے لیے، لوگ دوہری مشکل میں پڑجائیں گے۔ مکئی کی عالمی پیداوار دوگنا کم ہوجائے گی۔ موسمی تبدیلی سے پڑنے والے اثرات کافی بُرے ہوں گے۔ صرف شدید گرم دنوں اور سیلاب کا ہی سامنا نہ ہوگا۔ نہیں! موسم کا بدلنا اس طرح کام نہیں کرتا۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک تباہی سامنے آسکتی ہے۔ جوں جوں گرمی بڑھتی جائے گی، مچھر نئی جگہوں کی تلاش میں نکلیں گے۔ خشک علاقے چھوڑ کر مرطوب علاقوں کا رخ کریں گے، وہاں ملیریا اور دیگر بیماریاں پھیلائیں گے۔ یہ وہ مقامات بھی ہوسکتے ہیں کہ جہاں کبھی مچھروں اور ملیریا کا وجود نہ تھا۔

ہیٹ اسٹروک (گرمی کا حملہ) ایک اور بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئے گا۔ اس کا تعلق بھی فضا میں نمی کے زیادہ تناسب سے ہے۔ ہوا خاص مقدار ہی میں نمی جذب کرسکتی ہے، اور ایک نقطہ پر پہنچ کر ناقابل انجذاب ہوجاتی ہے، اس قدر بوجھل ہوجاتی ہے کہ مزید نمی سہار نہیں سکتی۔ اس سے کیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے؟ بات یہ ہے کہ انسانی جسم میں ٹھنڈک کی ضرورت پسینے کے مناسب اخراج سے پوری ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہوا یہ پسینہ جذب نہ کرسکے؟ اور انسانی جسم کو ٹھنڈک نہ مل سکے؟ چاہے کتنا ہی پسینہ کیوں نہ آرہا ہو۔ جب پسینے کے لیے اخراج کی کوئی جگہ باقی نہ رہے، پھر کیا ہو؟ تمھارے جسم کا درجہ حرارت بڑھتا چلا جائے گا، اور اگر ٹھنڈک کا کوئی انتظام نہ کیا جائے، تو چند گھنٹوں میں ہیٹ اسٹروک سے موت آجائے گی۔

یہ دیکھنے کے لیے کہ جب ان مسائل کا انبار لگتا ہے، کیا اثرات پڑتے ہیں؟ فرد پر اس کے اثرکا جائزہ لیتے ہیں۔ فرض کرو کہ تم ایک خوشحال کسان ہو، اور مکئی کاشت کررہے ہو، سویا بین بورہے ہو، اور یہ نبراسکا (امریکی ریاست) میں سن 2050 کازمانہ ہے۔ بدلتے موسم کا تم پر اور تمہارے خاندان پرکیا اثر پڑے گا؟ تم امریکا کے بالکل وسط میں ہو، ساحلوں سے دور ہو، اور بلند ہوتے سمندروں سے محفوظ ہو، مگر ”گرمی“ سے دور نہیں ہو! تباہ کُن طوفان آئیں گے، دریاؤں میں طغیانی آئے گی، کنارے ابل پڑیں گے۔ تمہارے کھیت کھلیان سیلاب میں ڈوب جائیں گے۔ ایسا دہائیوں میں کبھی نہ ہوا ہوگا، تمہارے والدین کبھی ایسی مصیبت سے نہ گزرے ہوں گے، مگر حالات اب یہ ہوجائیں گے کہ ایسا طوفان ایک دہائی میں ایک بار ہی آجائے، توتم غنیمت جانو گے۔

یہ سیلاب تمہاری مکئی اور سویا بین کی فصلیں بہالے جائے گا، اور ذخیرہ گندم برباد کردے گا، تمہارے مویشیوں کا چارہ ضایع ہوجائے گا، اور کچھ بھی بچانا مشکل ہوجائے گا۔ جب پانی اتر جائے گا۔ تم دیکھو گے کہ سڑکیں اور پُل ناقابل استعمال ہوچکے ہوں گے، تم سوچو گے کہ بچا کچھا اجناس کہیں منتقل بھی نہیں کیا جاسکتا، اور نہ ہی وہ بیج تم تک آسکتے ہیں کہ جن کی تمہیں اشد ضرورت ہوگی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اراضی ناقابل کاشت ہوجائے گی، کھیتی باڑی ہمیشہ کے لیے خطرے میں پڑجائے گی، اور تم وہ سب کچھ بیچنے پر آمادہ ہوجاؤ گے، جو نسلوں سے خاندانی ورثہ چلا آیا ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میں نے کوئی سنگین مثال چُن دی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات پہلے ہی سے سر اٹھاچکے ہیں، خاص طورپر غریب کسانوں کے ساتھ یہ سب اس وقت بھی ہورہا ہے۔ چند دہائیوں میں یہ سب کے ساتھ ہورہا ہوگا۔ اگر تم عالمی تناظر میں دیکھو، غریبوں کے لیے حالات انتہائی سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ ایک ارب غریب ترین لوگ شدید ترین مصائب میں گھرتے جارہے ہیں۔

اب تم تصور کرو کہ کسی بھارتی دیہات سے تمہارا تعلق ہے۔ تم اور تمہارا شوہر کسان ہیں۔ تمہارے بچے تقریبا وہ ساری خوراک کھاجاتے ہیں، جو تم تیار کرتی ہو۔ اگرچہ، اچھے سیزن میں تم چار پیسے بچابھی لیتی ہو، بچوں کے لیے چند دوائیں بھی خرید لیتی ہو، انہیں اسکول بھی بھیج دیتی ہو۔ لیکن اس دوران اچانک بدقسمتی سے ہیٹ ویوز (گرمی کی لہریں) گاؤں کو لپیٹ میں لے لیتی ہیں، اور یہ رہنے کے قابل ہی نہیں رہتا، فصلوں کو زندہ رکھنا ممکن نہیں رہتا، باقی ملک میں بارش ہورہی ہوتی ہے مگر تمہارا گاؤں بوند بوند کو ترس رہا ہوتا ہے۔ اب کیا کروگی؟

اپنے سب سے بڑے بیٹے کو تم پہلے ہی شہر بھیج چکی ہو، تاکہ وہ اپنی گز بسر خود کرسکے۔ تمہارا پڑوسی حالات سے تنگ آکر خودکشی کرچکا ہے۔ اس ماحول میں کیا تم کھیتی باڑی جاری رکھ سکو گی؟ یا شوہر کے ساتھ نئی دنیا کی تلاش میں نکل جاؤ گی؟ بڑا دل چیر دینے والا فیصلہ ہے۔ مگر یہ وہ فیصلہ ہے، آج لوگ جس کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں۔

2007سے 2010تک شام میں بدترین قحط آیا تھا، پندرہ لاکھ لوگ اپنی زمینیں گھر بار چھوڑ کر شہروں کو نقل مکانی کرگئے تھے۔

بات دراصل یہ ہے کہ بدلتے موسم نے قحط کا خطرہ تین گنا بڑھادیا ہے۔ سن 2018 تک ایک کروڑ تیس لاکھ شامی دربدر ہوچکے تھے۔ یہ مسئلہ بد سے بد تر ہوتا جارہا ہے۔ سالانہ لاکھوں پناہ گزین یورپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

جنہیں موسمی تبدیلی سے تباہی کا اندازہ لگانا ہو، وہ کووڈ نائنٹین کے اثرات کی سنگینی محسوس کریں۔ جو جانی و مالی نقصان کووڈ نے ایک خاص وقت میں پہنچایا ہے، وہ اگر مستقل ہوجائے توپھر کیا ہو؟ بلا شبہ ہمیں ساری دنیا میں کاربن کا اخراج فورا روکنا ہوگا۔

بدلتے موسم کے سبب، وسط صدی تک شرح اموات 14 افراد فی دس ہزارسالانہ ہوسکتی ہے، اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو یہ نمبر75افراد تک بھی جاسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وسط صدی تک موسمی تبدیلی کورونا جتنی مہلک ہوسکتی ہے۔ سن 2100تک یہ پانچ گنا زیادہ جان لیوا ہوسکتی ہے۔

معاشی منظر نامہ بھی تاریک ہوسکتا ہے۔ موسمی تبدیلی سے معاشی حالات کچھ اس طرح ہوسکتے ہیں: جیسے ہر دہائی میں ایک بار کورونا وبا پھیل جائے، اور سب کچھ رُک جائے۔

اگر تم خبریں سنتے ہو اور موسمی تبدیلی پر نظر رکھتے ہو تو تمہارے لیے یہ پیش گوئیاں شاید نا مانوس نہ ہوں، لیکن جوں جوں درجہ حرارت بڑھتا جائے گا، ان خبروں کا ہر پہلو سنگین تر ہوتا چلا جائے گا۔ اس کا خطرہ بھی اپنی جگہ موجود رہے گا کہ یہ موسمی تبدیلی اچانک وارد ہوجائے۔ مثال کے طور پر اگر بڑے بڑے گلیشئیرز گرمی سے پگھل جائیں، اور بہت بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوجائیں، خاص طور پر میتھین جوبرف کی تہوں میں دبی ہوئی ہے، تو پھربڑی تباہی آسکتی ہے۔

سائنسی بے یقینی کے باوجود، کہ جو کچھ ہونے جارہا ہے، بہت زیادہ بُرا ہوسکتا ہے، ہم بچاؤ کے لیے دو کام کرسکتے ہیں: موافقت پیدا کرسکتے ہیں، مطابقت پیدا کرسکتے ہیں۔ یعنی موسمی تبدیلی حالات کو جس جانب لے جارہی ہے، اُن حالات سے موافقت پیدا کرنی ہوگی۔ گیٹس فاؤنڈیشن کی زرعی ٹیم نے اسے اپنا ہدف بنالیا ہے۔ اس پر تحقیق ہورہی ہے کہ کسی طرح کاشت کاری کو قحط اور سیلاب جھیلنے کے قابل بنایا جاسکے۔

دوسری چیز ہے ”گھٹاؤ“۔ کاربن اخراج میں مسلسل گھٹاؤ ازحد ضروری ہے۔ دنیا کے امیر ترین ملک سب سے زیادہ کاربن خارج کرتے ہیں۔ انہیں سن 2050تک یہ اخراج صفر کرنا ہوگا۔ اس کے بعد متوسط درجے کے ملک، اور پھر غریب دنیا کی باری آئے گی۔

واضح رہے کہ جو ملک کاربن فری معیشت جتنی جلدی مستحکم کریں گے وہی آنے والی دہائیوں میں بڑی معیشت بن کر اُبھریں گے۔ امیر ملکوں میں آگے بڑھ

کریہ کرنے کی صلاحیت اور موقع سب سے زیادہ ہے۔ اس طرح یہ ملک ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بھی اپنے لیے بھرپور مواقع پائیں گے۔

میں نے صفر تک پہنچنے کے لیے کئی رستے اختیار کیے ہیں۔ یہ رستے دشوار ہیں۔ آیئے اُس سفرکی جانب چلتے ہیں، جو ہرگز آسان نہیں ہے۔

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

Facebook Comments Box
Bill GatesHow to avoid climate disasterWhy Zeroبِل گیٹسصفر کیوںموسمی آفتیں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ارطغرل اور نانا پاٹیکر ——- ڈاکٹر وحیدالرحمن خان
next post
سیرت مصطفوی ص کی عصری معنویت — ڈاکٹر غلام شبیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.