تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

سب رنگ کہانیاں: سب رنگ تماشا —- محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 07/07/2020
written by محمد حمید شاہد 07/07/2020
108

شکیل عادل زادہ کا کہنا ہے کہ جنوری انیس سو ستر میں “سب رنگ ڈائجسٹ” کا پہلا شمارہ شائع ہوا تھا۔ گویا یہ نصف صدی پہلے کا واقعہ ہے۔ تب میں پندرہ برس کابچہ تھا۔ ایسا بچہ کھیل کود جس کی ترجیحات میں کہیں اوپر تھاتاہم مجھے اب بھی یاد ہے کہ اس زمانے میں ہمارے ہاں جو کتابیں یا رسالے آیا کرتے تھے ان میں اردو ڈائجسٹ یا سیارہ ڈائجسٹ بھی ہوتا۔ کبھی کبھار ان دونوں کی بہ جائے عالمی ڈائجسٹ آجایا کرتا تھا۔ میں نے سب رنگ ڈائجسٹ کچھ برس گزرنے کے بعد دیکھا تھا۔ تب تک اس کا چرچا ہر کہیں تھا۔ جن لوگوں نے ”سب رنگ“ ڈائجسٹ کی مقبولیت کا وہ زمانہ نہیں دیکھا وہ اُس سچی تاہنگ کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے، جو ہمارے من میں ہر شمارے کے لیے جاگا کرتی تھی۔ اس تاہنگ کا سبب اس ڈائجسٹ میں ہر بار ہاتھ لگنے والا عالمی ادب کا وہ انمول انتخاب تھا جو ہمیں عمر بھر کے لیے لفظ اور کہانی سے محبت کا سبق سکھا گیا تھا۔

مجھے یاد ہے میں نے پہلی بارایک دوست سے مانگ کر سب رنگ پڑھا تھا۔ پھر کیا تھا، اس میں چھپنے والے فکشن کا دیوانہ ہوگیا۔ ہماری نسل کے کچھ لوگ اگر یہ کہتے ہیں کہ وہ فکشن کی طرف شکیل عادل زادہ کے سب رنگ میں چھپنے والی کہانیوں کی وجہ سے آئے تو بلاسبب بھی نہ کہتے ہوں گے۔ ”سب رنگ“ محض ڈائجسٹ نہیں تھا ایک نسل کی زبان سنوارنے والا اور دنیا بھر کے اعلیٰ فکشن کے ذخیرے کو اس نسل کی رسائی میں دے دینے والا تھا۔ اس میں ہر کہانی منتخب ہوتی اور شکیل عادل زادہ جتنی محنت ڈائجسٹ میں پیش کی جانے والی کہانیوں کے متن پر کرتے تھے، اتنی محنت تو باقاعدہ ادبی جریدوں کے مدیران کے بس میں بھی نہ تھی۔ تراجم سہل اور رواں ہوتے، یوں کہ تخلیق نو کا گماں گزرتاتھا۔

حسن رضا گوندل نے ”سب رنگ“ کی وہ روشن روایت جو ماضی میں کہیں گم ہو رہی تھی اسے پھر سے زندہ کرنے کا اہتمام کیا۔ سب رنگ میں چھپنے والی کہانیوں کا پہلا انتخاب گگن شاہد اور امر شاہد نےبک کارنر جہلم سے بہت اہتمام میں شائع کیا ہے۔ وہ ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ یوں ”سب رنگ“میں چھپنے والے شاہکار عالمی فکشن یعنی شکیل عادل زادہ کے نگار خانے کا دریچہ آج کے قاری پر بھی کھل گیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سب رنگ میں چھپنے والی ہر کہانی کے عنوان کے ساتھ شکیل عادل زادہ چند تعارفی سطروں کا اضافہ کر دیا کرتے تھے، ان اشتہاانگیز سطور سے لگ بھگ وہ وہی مقاصد حاصل کیے جاتے تھے جو آج کی میڈیا منڈی میں ”ٹیزر کمپین“ سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ایک دو مثالیں۔ ڈان ٹیلر مور کی کہانی ”اقوال زریں“ پر انہوں نے لکھا تھا:۔

“مغرب سے مشرق کی ایک شہ زادی کی کہانی
اُس کا محبوب، تاج و تخت، خدام باندیاں، سارا جاہ و حشم، سب کچھ خزاں کھا گئی
لیکن بہ ہر حال وہ ایک شہ زادی تھی۔ گل فام نازک اندام۔”

ایک اور کہانی”ٹھوکر“ پر ایسی ہی اشتہاانگیز سطریں دیکھیں۔

“روسی زبان کے عجائب خانے سے
دنیا کے ایک نادر روز گار کہانی کار چیخوف کی تحریر
ایک شوہر کی کہانی، وہ ایک مردبھی تھا، ایک منصب دار۔۔۔”

نظم کی طرح لکھی گئی محض ان سطور پر اکتفا نہ کیا جاتا، یہیں کہیں ایک چوکٹھے میں قدرے طویل نوٹ ہوتا جو مصنف کے فن اور زندگی کی بابت ہماری معلومات میں گراں قدر اضافہ کرتا تھا۔ یوں کئی فکشن نگاروں کے نام پڑھنے والوں کے ذہن پر نقش ہونے لگتے اور ان کے مزید فکشن کو پڑھنے کو جی للچانے لگتا تھا۔ ان میں کئی نام توبہت معروف ہوتے اور کئی ایسے تھے کہ نہ بعد میں سنے اور نہ ان کی کہانیاں پڑھنے کو نہ ملتیں۔ حسن رضا گوندل کی مرتب کردہ ”سب رنگ کہانیاں“ کے نام سے چھپنے والی پہلی کتاب کے ناموں کی اس فہرست سے اس امر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ٹالسٹائی، موپاساں، اوہنری، چیخوف، سمر سٹ ماہم، کیتھرین مینسفیلڈ، ڈان ٹیلر مور، ولیم بریئین، جولیس اورے ولی، میری این چیز، گلبرٹ رائٹ، سی بی گلفورڈ، کیپٹن ڈبلوجے لیڈار، رولڈ ڈل، مارک شولمان، رشمیل کریمپلین، جوزف مارٹن بائر، سی ڈبلیو لٹل فیلڈ، بورسن لاسکن، ڈونیلڈآلسن، جان ڈی ہیس، اے پی ہربرٹ، جون ہیرس، گرانٹ فریلنگ، ایل بائرو، فرینک اوکانراور پی رومانوف۔

شکیل عادل زادہ نے بتایا ہے کہ پہلا شمارہ پانچ ہزار کی تعداد میں شائع ہوا تھا، ساڑھے تین ہزار بک گئے، باقی کے ڈیڑھ ہزار واپس آگئے۔ تیسرے شمارے تک انہیں سمجھ آگئی تھی کہ سب رنگ میں اور کچھ نہیں، بس فکشن چھاپنا ہوگا۔ جب صرف فکشن چھاپا جانے لگا تو سب رنگ کی مانگ بڑھتی گئی۔ اگلے پانچ برسوں میں اشاعت ڈیڑھ لاکھ پہنچ گئی تھی۔ جتنا چھپتا ہاتھوں ہاتھ بک جاتا تھا۔

کہانیوں کی تلاش اور انتخاب میں بہت محنت اور احتیاط سے کام لیا جاتا، جہاں جہاں فکشن کے شیدائی تھے وہ شکیل عادل زادہ کے رابطے میں تھے۔ اچھی کہانی کی نشاندھی ہو جاتی تو اسے ہر عمر اور ہر سطح کے کارکنوں اور فکشن کے طلب گاروں سے پڑھوا کر رائے لے لی جاتی۔ شکیل کا کہنا ہے کہ یہ رائے لفظوں میں نہیں اعداد میں ہوتی؛ سو نمبروں میں سے کتنے نمبر۔ پچاس سے کم نمبر حاصل کرنے والی کہانی چاہے کسی کی ہوتی، اسے مسترد کر دیا جاتا تھا۔ گویا نام نہیں، کہانی۔ ۔ ۔ ۔ یہی سبب ہے کہ سب رنگ میں ایسی بھی کہانیاں منتخب کر لی جاتی تھیں جن کے لکھنے والے نامعلوم ہوتے۔ اس انتخاب میں بھی تین ایسی کہانیاں شامل ہیں جن کے مصنفین نامعلوم ہیں۔

ترجمہ کرنے والوں کی بھی ایک ٹیم بن گئی تھی۔ ان میں کئی نام تو عمدہ فکشن لکھنے والوں کے ہیں۔ اتنے کڑے انتخاب کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرچہ چھپنے میں وقفے پڑنے لگے ابن انشا نے کاملیت پسند نہ بننے کا مشورہ دیا تو بہ قول مرتب شکیل عادل زادہ نے کہا تھا۔ اچھا مواد ملے گا تو پرچہ چھپے گاورنہ نہیں، کم زور تحریریں چھاپنے سے بہتر ہے کہ پر چہ ہی نہ آئے۔ ژولیدہ مو، مضمحل اور منتشر آنے سے بہتر ہے پرچہ سامنے ہی نہ آئے۔ خیر اب ”سب رنگ“ قصہ پارینہ ہوا۔ مگر یہ پرانا قصہ پرانے چاولوں کی طرح ذائقہ بڑھا لینے والا ہے۔

حسن رضا گوندل کے مرتب کردہ انتخاب ”سب رنگ کہانیاں“ نے اردو زبان و ادب کی ترویج میں سب رنگ کے کردار کی یاد تازہ کر دی ہے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
ان کے پاس بندوقیں ہیں، ہمارے پاس شاعر۔ لہذا، جیت ہماری ہوگی —-  نعیم صادق
next post
قیامت اور جرمانۂ شاعری —– عزیز ابن الحسن

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.