تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

ان کے پاس بندوقیں ہیں، ہمارے پاس شاعر۔ لہذا، جیت ہماری ہوگی —-  نعیم صادق

by دانش ڈیسک 07/07/2020
written by دانش ڈیسک 07/07/2020
52

یہ ایک خیالی ملک P میں واقع ایک خیالی شہر K، کی ایک خیالی پولیس فورس C کی کہانی ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ یہ اظہار لاتعلقی اوروضاحت پہلے کردی جائے کہ اس کی ‘حقیقی افراد، اداروں یا واقعات سے کوئی مشابہت محض اتفاقیہ ہے۔

چونکہ اس ملکP کی آبادی غیر متناسب طور پر بڑھنے لگی ہےاور اس کی حکمرانی سکڑنا شروع ہوگئی ہے، اس لیے P کی سرزمین میں بہت سے لوگوں نے اغوا کا مقدس پیشہ اختیار کرنا شروع کردیا۔ اس پیشے میں ان لوگوں کے لیے بہت منافع تھا، جن کے پاس نہ کوئی تعلیمی قابلیت، اور نہ ہی پہلے سے کوئی تجربہ تھا۔ ۔ اس میں صرف ایک بندوق کی سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ جو آسانی سے، خریدی، چوری، چھینی، قرض پر یا کرایے پر لی جاسکتی تھی۔ اس لیے اس ملک P میں قانونی اور غیر قانونی بندوقوں کی ضرورت اور اسی طرح ان کے لائسنسوں سے وابستہ رشوتوں کو بھی فروغ ملا۔

جب اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوا تو، P کے معاشرے کا بااثر طبقہ اپنے آپ کو بہت غیر محفوظ محسوس کرنے لگا۔ تاوان کی رقم بینک بیلنس کی جسامت سے منسلک ہونے کے بعد ، اس میں امیروں کا نقصان بہت زیادہ تھا۔ گھبرائے ہوئے اور پریشان امراء کے ایک وفد نے تحفظ اور امان پانے کے لیے گورنر سے رابطہ کیا۔ گورنر نے اس مافیا سے لڑنے کے لئے ایک نئی تنظیم C تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔ شاندار حوصلہ افزائی کرنے اور معزز شہریوں کے تعاون سے C نے تیزی سے اغوا کاروں کا سراغ لگانا اور انہیں پکڑنا شروع کیا۔ اس کا طریقہ کار تاہم رد عمل پر مبنی تھا۔ وہ اغوا کاروں کے پیچھے تو گئے، لیکن اصل وجہ کا سدباب نہیں کیا۔

جب اغوا کاری کا پیشہ مندی کا شکار ہوا، تو بندوق مالکان نے تیزی سے ’کارجیکنگ‘ نامی ایک سسٹر انڈسٹری کا رخ کیا جس میں تقریبا ایک جیسی ہی مہارت درکار تھی۔ C نے بھی پھرتی دکھائی اورجواب میں ایک نیا محکمہ قائم کیا جس نے گاڑیوں کے ڈیٹا کو اکھٹا کرنا اور کار چوروں کو K کی حدود سے پار ٹریک کرنا شروع کیا۔ ایک بار پھر، سی ایک رد عمل کی کیفیت میں تھا، وہ اس جرم کے ان بنیادی عناصر کا قلع قمع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

جیسے ہی ان منافع بخش پیشوں کی خبر پھیلی تو، شہر Kہتھیاروں سے بھر گیا۔ 20 سال کے عرصہ میں، بندوقوں کی تعداد 18 ملین سے بڑھ کر 44 ملین ہوگئی۔ لوگوں نے 9 سے 5 ملازمتوں کے بجائے ٹریفک چوراہوں پر سیل فون چھیننے کے جز وقتی منافع بخش پیشے کا انتخاب کرلیا۔ بندوق فوری رقم کی ضمانت تھی جیسے ایک ذاتی موبائل اے ٹی ایم۔ اس مافیا کے خلاف C، K اور P نے شکست خوردہ جنگ لڑی، مزید عملے کی خدمات حاصل کی، مزید کیمرے لگائے اور مزید ہیلپ لائنیں قائم کیں۔ ہمیشہ علامات پر توجہ مرکوز رکھی، لیکن کبھی اسباب پر غور نہیں کیا۔

P سرزمین کے لوگ جو اپنے مطالعے کی وجہ سے مشہور نہ تھے، انھوں نے اپنی بچی کھچی کتابوں کو بھی کوڑے دان کے سپرد کردیا۔ یا اور اس کے بجائے بندوق کا انتخاب کیا۔ Pمیں تمام طاقت، خوشحالی اور عہدے بندوقوں کے گرد گھومتے ہیں۔ بندوقوں سے آپ صرف کار یا فون نہیں چھینتے ہیں، بلکہ آپ لوگوں کو غلام بناسکتے ہیں، اپنے حق میں مقدمات کا فیصلہ کراسکتے ہیں، شہر بند کرسکتے ہیں، فیکٹریوں کو جلاسکتے ہیں، پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرسکتے ہیں، فاشسٹ سیاسی جماعتیں تشکیل دے سکتے ہیں تھے اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہو سکتے ہیں۔ اس مملکت کے ہر وزیر اعظم کا وزیر اعظم ہاؤس میں قدم رکھنے یا اس سے نکلنے سے پہلا اور آخری کام، خود اور اپنے دوستوں کو ہتھیاروں کے لائسنس تقسیم کرنے کا ہوتا ہے۔

ایک لاکھ سے زائد ممنوعہ بور ہتھیاروں کے ذخیرے کے ساتھ، مملکت P کی پارلیمنٹ جلد ہی دنیا کی سب سے عسکریت پسند اور غیرجمہوری پارلیمنٹ بن گئی۔ اس نے اپنے لئے ممنوعہ بور ہتھیاروں کے لائسنس کے لئے متفقہ طور پر قراردادیں منظور کرکے آئین کی صریح خلاف ورزی کرنا شروع کردی اور پارلیمنٹیرین نے اپنی ذاتی ملیشیا کو منظم کرنا شروع کیا۔ گن لائسنس کے محکموں نے رشوت کے عوض لاکھوں جعلی گن لائسنس جاری کرنے میں سب کو مات دے دی۔

جرائم کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لیے، قصبے میں ہونیوالے ہر نئے جرم کے ساتھ، C نے ایک نیا محکمہ کھولا۔ اغوا کے سدباب کےلئے محکمہ کے ساتھ ہی، اب کار چوری کرنے والے، فون چھیننے والے، منشیات کے عادی افراد، سائیکل چوروں، گھڑیوں کے اسمگلروں اور یہاں تک کہ پرس چھینے والوں کے لئے محکمے موجود ہیں، جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا گیا، Cکا حجم بڑھتا ہی گیا جبکہ اس کی کارکردگی گرتی رہی۔ C، K اور P نے کبھی بھی یہ نہیں سمجھا کہ اگر انھوں نے صرف ہتھیاروں کے خاتمے پر صرف توجہ مرکوز کی ہوتی تو آج، P ایک ترقی پسند، پرامن اور جدید ریاست بن سکتا تھا۔ افسوس کہ P کی سرزمین میں، ، ہاورڈ زنز، ، نہیں تھے جو مسکرا کر یہ کہتے کہ، “ان کے پاس بندوقیں ہیں، ہمارے پاس شاعر۔ لہذا، جیت ہماری ہوگی۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سب رنگ، شکیل عادل زادہ کا نگارخانہ —- نعیم الرحمٰن
next post
سب رنگ کہانیاں: سب رنگ تماشا —- محمد حمید شاہد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.