تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

حکمران طبقہ ا ور اتحادی جماعتوں کی سیاست —– سلمان عابد

by دانش ڈیسک 06/07/2020
written by دانش ڈیسک 06/07/2020
124

پاکستان میں حکمرانی کے نظام میں ایک بڑا مسئلہ حکومتی جماعت کے پاس حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت کا نہ ہونا اور چھوٹی جماعتوں پر انحصار کرکے حکومت بنانا ہوتا ہے۔ اصولی طو رپر تو کسی ایک جماعت کو واضح مینڈیٹ ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنی شرائط پر حکومت بھی بناسکے اور حکومت کو چلابھی سکے۔ لیکن عمومی طور پر واضح مینڈیٹ کے مقابلے میں ہمیں پاکستان کی سیاست میں اتحادی جماعتوں پر مبنی حکومتی ماڈل کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ عمران خان کی موجودہ حکومت بھی اتحادی جماعتوں کی بنیاد پر کھڑی ہے او ران کی اپنی جماعت کے پاس عددی تعداد میں واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو اتحادی جماعتوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو حکومت چلانے میں جہاں گورننس اور معاشی بحران کا سامنا ہے وہیں ان کو اپنی حکومت کو چلانے میں اتحادی جماعتوں سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحریک انصا ف کی حکومت چوہدری برادران، ایم کیو ایم، سندھ کے گرینڈ جمہوری الائنس، بلوچستان سے سردار اختر مینگل اور بلوچستان نیشنل پارٹی (باپ) حکومتی اتحادی جماعتیں ہیں۔ حال ہی میں سردار اختر مینگل نے حکومتی جماعت سے علیحدہ ہوکر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی جماعت سردار اختر مینگل کو منانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ وہ دوبارہ حکومتی اتحاد کا حصہ رہیں۔ آحری مینگل کے بقول حکومت نے بلوچستان پیکج نے نام سے جو بھی ہم سے وعدے کیے اسے پورا نہیں کیا جارہا اور مسلسل اس میں تاخیری حربے اختیار کیے جارہے ہیں۔

دوسری جانب چوہدری برداران بھی حکومت سے نالاں ہیں۔ چوہدری برادران کو تین گلہ ہیں جن میں ترقیاتی فنڈز کے حصول میں مشکلات، مونس الہی کو وزیر نہ بنانا، وزیر اعظم کا اہم فیصلوں میں چوہدری برادران کو عدم شمولیت، پنجاب میں مختلف اہم عہدوں کی تقرری پر چوہدری برادران کے فیصلوں کو قبول نہ کرنا شامل ہے۔ جبکہ ایم کیو ایم بھی اپنے تحفظات رکھتی ہے اور وہ کراچی کے لیے وفاق سے ایک بڑا ترقیاتی پیکج لینا چاہتی ہے اور اس کے بقول سندھ میں پیپلز پارٹی نے ان کو تحریک انصاف کی حمایت کی وجہ سے دیوار سے لگادیا ہے اور ایسے موقع پر وفاق کو ہماری مدد کرنی چاہیے۔ جبکہ سندھ کے پیپلز پارٹی مخالف اتحاد بھی ترقیاتی فنڈز کے نہ ملنے سے نالاں نظر آتا ہے۔

فوری طور پر حکومت کو سردار اختر مینگل اور چوہدری برادران سے مسئلہ ہے اور ان کو منانے کی کوشش ہورہی ہے۔ وزیر اعظم خو د ان اتحادی جماعتوں سے ملنے سے گریز کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اسد عمر، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک ان معاملات کو درست کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم کی براہ راست اتحادی جماعتوں سے نہ ملنے کی پالیسی نے بھی اتحادی جماعتوں کو فاصلوں پر کھڑا کیا ہے۔ خود چوہدری برادران کو گلہ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کی بیماری پر نہ تو وزیر اعظم ان سے ملنے آئے اور نہ ہی خیریت دریافت کی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت پر دباو بڑھانے کے لیے چوہدری برداران تواتر کے ساتھ طارق بشیر چیمہ اور کامل علی آغا کو حکومت کے خلاف بیانات کے لیے پیش کردیتے ہیں، جس سے سیاسی تلخی پیدا ہوتی ہے۔

حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں کا مسئلہ حکومتی کیمپ کو چھوڑنا نہیں کیونکہ چھوٹی جماعتوں کی سیاسی بقا ہی حکومت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ مگر اس بقا کے لیے ان اتحادی جماعتوں کو باربار اپنا بات یا شرائط کو منوانے کے لیے حکومت پر دباو کی پالیسی کو بڑھانا ہوتا ہے۔ دباو یہ ڈالا جاتا ہے کہ اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو ہم اتحاد چھوڑ بھی سکتے ہیں اور متبادل سیاست کے لیے حزب اختلاف کے کیمپ کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔ اتحادی جماعتوں کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ اس وقت حکومت کے پاس ہماری حمایت کے سوا کوئی چارہ کار نہیں اور اگر ہم اس وقت حکومت کی حمایت چھوڑتے ہیں تو حکومت کرنا حکومت کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ یہ ہی صورتحال کا فائدہ حزب اختلاف بھی اٹھارہی ہے کہ کسی طریقے سے حکومتی اتحادی جماعتوں کو کسی نہ کسی طرح حکومتی کیمپ سے علیحدہ کرکے حزب اختلاف کی سیاست کا حصہ بنا کر حکومت کو بڑے دباو میں لایا جائے یا حکومت کو تبدیل کیا جائے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ حز ب اختلاف کے پاس ان اتحادی جماعتوں کو دینے کے لیے کیا ہے تو معاملہ صفر بٹا صفر نظر آتا ہے۔ اسی طرح اس وقت نہ ہی کوئی ایسا سیاسی ماحول ہے جہاں حکومت کی فوری تبدیلی نظر آتی ہے۔ عمومی طور پر ہماری سیاسی تاریخ یہ ہوتی ہے کہ جب اتحادی جماعتوں کو پتہ چلتا ہے کہ حکومت جانے والی ہے اور خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کی حمایت چھوڑ کر متبادل راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو اتحادی جماعتیں بھی حکومت کا حصہ بننے سے انکار کردیتی ہیں۔ اس لیے اس وقت کوئی بڑی سیاسی تبدیلی کا امکان نہیں اور نہ ہی حکومت کو فوری طو رپر اپنی رخصتی کے حوالے کوئی بڑا خطرہ ہے۔ ایسے میں کیونکر اتحادی جماعتیں حکومت سے علیحدہ ہوکر گھاٹے کا سواد کریں گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حکومت بھی سمجھتی ہے کہ اسے تمام تر تحفظات کے باوجود اتحادی جماعتوں سے کوئی بڑا خطرہ نہیں اور وہ اپنے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کو بڑی حمایت سمجھتی ہے۔

اس لیے جو لوگ اتحادی جماعتوں کی سیاست میں رنگ بھر کو کوئی بڑا سیاسی ایڈونچر دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں وہ قبل از وقت ہے۔ یہ اتحادی جماعتیں حکومت سے نالاں ضرور ہیں لیکن وہ ہر صورت میں جب تک ان کوئی بڑی تبدیلی کا اشارہ یا صورتحال نظر نہیں آئے گی وہ حکومت کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔ دراصل اتحادی جماعتیں حزب اختلاف کا سیاسی کارڈ کھیل کریا حزب اختلاف کا سیاسی بھوت دکھا کر حکومت کو سیاسی طو رپر اپنے حق میں کرنا چاہتے ہیں۔ اتحادی جماعتوں کو اندازہ ہے کہ وہ اس صورتحا ل میں حکومت سے اپنی بات منواسکتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اتحادی جماعتیں حکومت سے فوری طو رر علیحدہ ہونے کی بجائے پرانی تنخواہ پر ہی کا م کریں گی۔ اسی طرح یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومت کا یہ موقف کافی حد تک درست ہے کہ ہمیں حکمرانی کے نظام کو چلانے میں جن بڑی مشکلات یا تنقید کا سامنا ہے اس پر اتحادی جماعتیں خود بھی بطور حکومت ذمہ داری لینے کو تیار نہیں اور سارا بوجھ حکومتی جماعت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت میں بیٹھ کر یہ لوگ مراعات بھی مانگتے ہیں اور سیاسی مجالس سمیت ٹی وی پر حکومت پر شدید تنقید بھی کرتے ہیں۔

اس لیے حکومت ہو یا اتحادی جماعتیں اگر انہوں نے اس حکومتی نظام کو چلانا ہے تو دونوں اطراف کے لوگوں کو اپنے اپنے رویوں اور طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ خاص طو رپر دونوں اطراف جو رابطوں کے فاصلے ہیں ان کو ختم کرنا ہوگا اور اس میںحکومت کو خود لیڈ لینی ہوگی اور اتحادی جماعتوں کو بھی لیڈ لے کر حکومت کی اچھی اور بری حکمرانی کے نظام میں اپنی ذمہ داری کو قبول کرنا ہوگا۔ اگر اتحادی جماعتیں اپنی سطح پر یک طرفہ ٹریفک کی مدد سے حکومت کرنا چاہیں گی تو یہ بھی ممکن نہیں۔ مسائل ہیں تو یہ دونوں اطراف ہیں اور اس کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے۔ یہ حکمت کہ ایک طرف حزب اختلاف کا کارڈ دکھا کر حکومت کو بلیک میل کیا جائے اس سے بھی خود حکومتی سطح پر اتحادی جماعتوں کے بارے میں ردعمل کی سیاست پیدا ہوگی۔ مسلم لیگ ق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کا اتحاد یا ضم کرنے کی پالیسی کو بنیاد بنا کر حکومت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مسلم لیگ ق یہ سمجھتی ہے کہ اسے مسلم لیگ ن سے کچھ بڑا مل سکے گا تو وہ یہ غلطی ماضی میں بھی کرچکے ہیں اور اب بھی کسی نئے اتحاد کی صورت میں کچھ نہیں ملے گا۔

Facebook Comments Box
featuredPakistani Politicssalman abidسلمان عابد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سرمایہ دارانہ تصورِ ترقی اور مابعدِ نوآبادیاتی معا شرے — طلحہ افتخار
next post
سب رنگ، شکیل عادل زادہ کا نگارخانہ —- نعیم الرحمٰن

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.