تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سماجیکالم

نبض سے تشخیص کیونکر ممکن؟ —- تحریر و ترتیب: محمد شاہ جہان اقبال

by دانش ڈیسک 27/04/2020
written by دانش ڈیسک 27/04/2020
129
نبض کو بدن کی باطنی بائیوگرافی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ احوالِ پیدائش سے لے کر موجودہ احوال کی مکمل تاریخ کا نام ہے۔ تشخیص کی دنیا میں نبض شناسی کے کرشمے ایک جادوئی حقیقت رکھتے ہیں۔ شاید اس وجہ سے لوگوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی مگر یقین کیجیے یہ ایک فن ہے جس پہ دسترس رکھنے والا ایک جادوگر معلوم ہوتا ہے۔ وہ کلائی پہ انگلیاں رکھ کے بغیر آلات کے باطن کے احوال سے مطلع کر دیتا ہے۔ افسوس ہر عام و خاص اس سے دوری پہ جاگرا اور ایک عظیم فن سے محرومی ہمارا مقدر ٹھہری۔

 طب کی دنیا میں تشخیصِ امراض کے متعدد طریقے موجود ہیں۔ یہ تمام طریقے اپنی جگہ ایک حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ مقصد و مدعا مرض کی تشخیص و تفہیم ہے اس لیے ان تمام طریقہءِ تشخیص سے مدد حاصل کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔

طب میں امراض کی تشخیص کے لیے جہاں جسم کی رنگت، آنکھوں کی رنگت اور دیگر علامات کو مد نظر رکھا جاتا ہے وہاں دو اہم ذرائع تشخیص بھی ہیں۔ ان میں
1-نبض (شناسی)
2-قارورہ (شناسی)

اس وقت صرف نبض کے حوالے سے تشخیصِ امراض کی فلاسفی بیان کرنا مقصود ہے۔ جیسا کہ علوم و فنون کی دنیا میں تجسس و تحقیق کا اہم کردار رہا ہے۔ یہی تحقیق انسان کے اندد تجسس پیدا کرتی ہے اور انسان مشاہدے اور تجربات سے اپنی بساط کے مطابق نتائج اخذ کرتا ہے۔ سائنس کی دنیا میں نتائج کے استنباط کے لیے استقرائی طریقہ(Inductive Method) کافی مانی شے ہے۔

منطق کی دنیا میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے اسے “دلالت” سے موسوم کیا جاتا۔

مختصرًا دلالت سے مراد ایک شے کو سمجھ لینے سے اس سے ملحق دوسری شے اگرچہ وہ نامعلوم ہو سمجھ لینا دلالت کہلاتا ہے۔ اس کے دو بازر ہوتے ہیں ایک ‘دال’ اور دوسرا ‘ مدلول’ اس تمہید کو باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ استقرائی دنیا میں دلالت بڑی اہم شے ہے۔

طب میں نبض صرف دل کے دھڑکنے پہ دلالت نہیں کرتی بلکہ بہت سی امراض کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ نبض ایک فن ہے جس پر صدیوں سے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پہ ایک مکمل فلاسفی تعمیر کی گئی ہے۔ نبض سے امراض کی تشخیص کا مشاہدہ اور تجربہ آج تک استعمال کیا جاتا ہے اور صدیوں سے کیا جاتا رہاہے۔

نبض دل اور باطن کی وہ زبان ہے جو دیگر دوسری زبانوں کی طرح اپنی حروفِ تہجی اور مخصوص گرائمر رکھتی ہے۔ قبل اس کے کہ اس کی اس حروفِ تہجی اور گرائمر کو ذریرِ بحث لاو چند عظیم حکیم، فلاسفر، سائنسدانوں کے اقوالِ پیش خدمت ہیں جو فنِ نباضی کو سمجھنے میں بڑھے اہم ہیں۔

بقراط کا قول:-
’’نبض ایک خاموشی اعلانچی ہے اور باطنی حالات کو بہ آواز بلند بتاتی ہے لیکن جو حکماء اس پر دسترس نہ رکھتے ہوں ان کے لیے گونگی ہے‘‘۔
جالینوس کا قول ہے:-
’’نبض بیماری کی پیچیدگیوں کو طبیب کے سامنے رکھ دیتی ہے‘‘۔ رازی کا قول ہے ’’ نبض ایک ایسا آلہ ہے جس سے جسم کے تمام حالات کا علم ہو جاتاہے اور جسم کے تمام مفرد اعضاء کے حالات بتلاتی ہے۔
افلاطون کا قول ہے ’’نبض کبھی خطا نہ کرنے والا پیغامبر ہے”
ایک جید حکیم فرماتے ہیں کہ ” نبض دل اور باطن کا وکیل ہے جو اپنے موکل پہ دلائل فراہم کرتا ہے۔

آئیں دیکھے نبض کی وہ زبان کونسی سی زبان ہے جو سمجھنے سے باطن کے احوال جو صدیوں کے مشاہدے سے داناوں نے اکٹھے کیے ہیں۔

فلاسفر آف طب اس زبان کی نو حروفِ تہجی یا رموز و اسرار کی نشاندہی کرتے ہیں جو درجہ ذیل ہیں۔

1-مقدار 2-قرع 3- حرکت 4- سکون 5- قوام 6- رطوبت 7-کیفیت 8- وزن 9- استواء و اختلاف۔

ان کو پھر ایک عظیم محقق سائنسدان دوست محمد صابر ملتانی رحمة اللہ نے چھ مرکب اور تین مفرد میں ضم کر کے طب کی دنیا میں عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

خیر اس علمی تناظرِ نبض جس میں طب کی دق اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں تھوڑا سمٹتے ہوئے ایک عام آدمی اس کو کس طرح سمجھ سکتا ہے اس پہ چند معروضات پیشِ خدمت ہیں۔

عام مشاہدے کی بات ہے کہ جب کسی پائپ، نالی یا نہر میں پانی (رطوبت) کی مقدار زیادہ ہو گی تو اس کا حجم اور چوڑائی بھی زیادہ ہوگی۔ اور جیسے ہی اس میں کمی ہو گی تو چوڑائی کمی کی طرف مائل ہو گی۔ اس مشاہدے کو جب کوئی طبیب نبض کے اندر محسوس کرتا ہے تو اس پہ بات کھُل جاتی ہے کہ جسم میں رطوبت زیادہ ہے یا کم اگر زیادہ ہے تو رطوبتی امراض و علامات زیادہ ہیں اور اگر خشکی یا سوداویت یعنی ایسڈیٹی زیادہ ہے تو اس کی نبض چوڑائی میں کم ہونے سے حکیم معلوم کر لے گا جو اسے اس بات پر دلالت کناں ہوگی کہ جسم میں تیزابیت زیادہ ہے جس کی وجہ سے معدے کی سوزش، السر یا ورم ہے، اگر یہ تیزابیت مقعد کے خلیوں پہ اثر انداز ہے تو بواسیر جیسے امراض جنم لے سکتے ہیں اور اگر دل کے امراض کی بات کی جائے تو اس نبض میں گلیسٹرول کی زیادتی کے مسائل ہو سکتے ہیں نیز اسی پہ دیگر اعضاء کے قیاس کو مد نظر رکھ کر تشخیص ممکن ہے۔ اسی طرح عام مشاہدے کی بات ہے کہ گرمی کی وجہ سے انجن یا جنریٹرمسنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے انجن کی کارکردگی متاثر ہو کر ظاہر ہو نا شروع ہو جاتی ہے۔ اور ایک ڈرائیور انجن کی اس دلالت پہ فورًا گاڑی کی حدت کو کم کرنے کے اہتمام کرتا ہے۔

نبض کی زبان اور اسی فلاسفی کو سمجھنے کے بعد ایک طبیب ساری صورتِ حال سے بخوبی واقف ہو جاتا ہے اور وہ تشخیض کے مرحلے کو احسن انداز میں سرانجام دے پاتا ہے جو اس کی حذاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

چونکہ ہر نبض کے تحت امراض و علامات کا ایک چارٹ مرتب دیا گیا ہوتا ہے طبیب اس پہ ایک ایک کر کے نظر کرتا جاتا ہے اور اس طرح وہ امراض اس پہ روزِ روشن کی عیاں ہو جاتی ہیں۔

نبض فنون کے جنس سے ایک شریف فن کی حیثیت رکھتا ہے۔ دیگر فنون و علوم جس طرح تجربات کے مرہونِ منت ہے نبض بھی اسی میں سے ایک کامل و اکمل ہے۔ دنیا طب میں بیسیوں نبض شناس گزرے ہیں ان میں سے ایک عبد الوہاب انصاری جن کی کتاب ” اسرار سریانیہ” ان میں انہوں نے بہت سے رموز لکھے ہیں۔ جس میں انہوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر میں ایک ماں کی نبض پورے اہتمام کے ساتھ دیکھ لوں تو ایک سو بچوں میں سے اس ماں کے بچے نبض دیکھ کر نکال سکتا ہوں کہ یہ یہ تمہارے بچے ہیں۔ اسی طرح وقت کے مجدد طب دوست محمد صابر ملتانی رحمة اللہ نبض کے ماہر اور محقق تھے۔

بہرکیف نبض شناسی کافن ایک عظیم فن ہے جس سے جلد اور بنا کثیر رقم خرچ کیے امراض کی تشخیص ممکن ہے۔ اور اس تجربے سے عمومی طور پہ بہت سے لوگ گزرے ہوں گے کہ واقعتاً نبض ایک کرشمے سے کم نہیں۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اندھے حافظ جی اور آموں کی پیٹیاں —– محمد اقبال دیوان
next post
قومی اثاثہ BAG OF THE NATION —- مصنف (عربی): اسامہ العمر مترجم : جنید جاذب

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.