تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینسماجیکالممذہبی

پیارے رسول ﷺ کے نام ایک امتی کا خط‎ ——– عبدہ دانش

by Editor2 09/11/2019
written by Editor2 09/11/2019
105

پیارے رسول!
مجھ حقیر پر تقصیر عجم زاد کو وہ القاب کہاں آتے ہیں جو آپؐ ایسی بے مثل و بے مثال عالی مرتبت ہستی کے شایان شان ہوں۔ میں خط لکھ رہا ہوں تو یہ بھی آپؐ کی سنت کریمہ ہے۔ آپؐ سے تخاطب کی جسارت کر رہا ہوں اور وہ بھی ایسے دور میں جب آپؐ کے اسم پاک کی مالا جپنے والے علما و مشائخ نے مسلک اور مسلکی عقیدہ کا اپنے گرد ایسا حصار بنا دیا ہے کہ ان سے مکالمہ ہو ہی نہیں سکتا۔ آپؐ سے ذرا کھل کر بات ہو سکتی ہے۔ آپؐ نے صحابہ کرام کو سوال اٹھانے سے کبھی روکا ٹوکا نہیں اور ان کو مقلد محض جان کر لکیر کا فقیر نہیں بنایا بلکہ ان کو بارہا اپنے مشاورتی عمل میں شریک کیا۔ آج تو ہمارے علما سوال اٹھانے پر تذلیل کا نشانہ بناتے ہیں اور پارہ ہائی ہو جائے تو کفر کے فتوے صادر کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے۔ اب تو امت شہ لو لاک سے خوف یوں آتا ہے کہ سماعتوں میں رواداری مفقود ہے اور مکالمہ میں تحمل عنقا۔ آپؐ پر میری جان مال اولاد قربان، خدا لگتی عرض کرتا ہوں کہ آپؐ کے نام لیواؤں نے آپؐ کی اسوہ اور دعوت کا الگ الگ خانوں میں بٹوارہ کر لیا ہے۔ کوئی توحید، کوئی تصوف، کوئی عشق رسول، کوئی جہاد، کوئی قرآن، کوئی حدیث، کوئی امامت اور کوئی خلافت کے نام پر الگ مکتب فکر، الگ مسجد، الگ جماعت، الگ گروہ بنا کر منبر سے ولا تفرقوا کی تفسیر کرتا ہے۔

پیارے رسول ﷺ !
آپؐ ہی وہ مبارک ہستی ہیں جن سے محبت میں ہر مسلمان ایسے سرشار ہوتا ہے جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کے بارے کسی کی نازیبا گفتگو کو نہ برداشت کر سکتا ہے نہ نظر انداز کر سکتا ہے۔ آپؐ ایسے عالی مرتبت رسول اکرمﷺ سے اپنی محبت میں سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار رہتا ہے۔ میرا تعلق جس زمینی منطقہ سے ہے وہاں گذشتہ تین دہائیوں سے ایک قانون موضوع بحث بنا ہوا ہے اور وہ آپؐ کے ناموس کا قانون ہے۔ جب اس کے حق میں اصرار کیا جاتا ہے تو مجھے میرے رسولﷺ کی صفت رحمت اللعالمینی کا خیال آتا ہے اور جب اس قانون پر سخت الفاظ میں اعتراض کیا جاتا ہے تو شان رسالتﷺ میں کوتاہی برداشت نہیں ہو پاتی اور اندر اندر گھٹتا مرتا ہوں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہمارے منطقے میں منطق کوئی نہیں مانتا اور اس قدر حساس معاملہ کو تدبر و تفکر کے بغیر جذباتیت سے طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ملک میں اخلاقی اعتبار سے تیسرے درجے کے باشندے بستے ہیں، جہاں عدالتوں میں جھوٹی شہادت دینا معمول کی کارروائی سمجھا جاتا ہے، جہاں معمولی معاوضہ پر ساری تفتیش کا رخ موڑ دیا جاتا ہے، جہاں عدالتوں کے فیصلے اتنے کمزور ہوں کہ متنازعہ بنتے رہتے ہوں وہاں اس قانون کو نافذ کرنا، ناموس رسالت جیسے حساس دینی معاملہ کو سر بازار موضوع بنانے کے مترادف ہے۔ آپؐ کی تعلیم تو یہ تھی کہ کسی کے جھوٹے خداؤں کو برا مت کہو کہ کہیں وہ تمہارے سچے خدا کو برا بھلا نہ کہیں۔ ہمارے ہاں تو ذاتی غم غصہ اور کسی رنجش پر دینی، مسلکی یا قومی رنگ دے کر مخالف کو کافر، گستاخ یا غدار قرار دینے کی روش شروع سے پاکستانی قوم کی نظریاتی رگوں میں سرایت رہی ہے۔ جس ملک میں عدالتوں میں انصاف کا معاملہ ہمیشہ تنازعات سے آلودہ رہا ہو اور قانون و انصاف اندھا ہو نے کی بجائے یک چشم رہا ہو، وہاں آپ سب سے بہتر جانتے ہیں کہ ایسے قانون لانا آپ کی محبت سے زیادہ مذہبی انانیت کی تسکین ہے۔

پیارے رسولﷺ!
ہم مسیحی بادشاہ نجاشی کو کیا منہ دکھائیں گے جس نے مکہ سے ابھرتی انقلابی دعوت کے ابتدائی مہاجرین کو پناہ دے کر اہل مکہ کے غیض و غضب سے بچایا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم آپ ﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ آپ کا اعجاز تو یہ ہے کہ آپ نے استحصالی فرعونی ہامانی و قارونی قوتوں سے پاک معاشرے کا تصور دیا۔ سود خور سرمایہ دار کی معاشی جبریت پر کاری ضرب لگائی۔ عرب ایسے خطہ ارضی پر جہاں لا مرکزیت یا دوسرے لفظوں میں لا حکومتی کی حالت رہتی تھی، ایک مرکز کا تصور دیا۔ صرف روحانی مرکز نہیں بلکہ معاشرتی و سیاسی مرکز بھی قائم کیا۔ آپؐ کی ذات گرامی میں اوصاف حمیدہ اور کمالات حسنہ کا ایسا امتزاج ہے جو آپؐ کو بیک وقت کامیاب سر براہ و سپہ سالار، مصلح و راہنما، ماہر معاشیات و اخلاقیات کے طور پر سامنے لاتا ہے جو فلسفیوں اور حکماء اخلاق کی طرح محض زبانی کلامی نصابی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اپنے روزمرہ عمل، قول و فعل سے کردار سازی کرتا ہے۔ آج کل مساجد میں خطبات و مذہبی اجتماعات کا زیادہ وقت کردار سازی کی بجائے ایک طرف شرک و بدعت، حاضر و ناظر، علم غیب، مدینہ کی مکہ یا مکہ کی مدینہ پر افضلیت، نور و بشر کی مباحث میں لوگوں کے عقائد درست کرانے میں لگتا ہے تو دوسری طرف کہیں وظائف، ذکر اذکار، چلہ کشی کو حاصل اسلام سمجھ لیا گیا۔ یہ فقیر کس کے آگے گریہ کرے کہ پیغمبر اسلامؐ سے کیا سیکھنا تھا اور کیا سکھایا جا رہا ہے۔ شاید یہی اجتماعی فکری کجی ہے کہ مسلمان کئی صدیوں سے ہمہ قسم زوال سے دوچار ہیں۔

پیارے آقاﷺ!
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کس منہ سے عرض کروں کہ ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے اسلام (امن و سلامتی) کو دہشت گردی کا استعارہ بنا دیا گیا ہے۔ مغرب میں اسلام کا نام کسی ضابطہ حیات کی بجائے دہشت گرد ایجنڈا کا مترادف بنا دیا گیا ہے۔ زبانی تبلیغ بہت کی مگر غیر مسلم ملکوں میں مقیم مسلمانوں نے اپنے عمل اور کردار سے وہ تبلیغ نہیں کی جس میں لفظوں کی ضرورت کم کم پڑتی ہے۔ مغربی ممالک میں مقیم کچھ مسلمانوں نے ایسے کار ہائے نمایاں انجام دئیے کہ مسلمان ہونے کا ایک مطلب فراڈ ہونا ہے، گویا صادق و امین رسول ﷺکی امت کی شناخت بد دیانت ہونا رہ گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گویا اب پیغمبرﷺ اور امت ایک پیج پر نہیں رہے۔

پیارے رسولﷺ!
آپؐ مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوئے۔ شدید عصبیت اور قبائلی تفاخر میں مبتلا عرب معاشرے کو درس دیا کہ افضلیت اسے ہے جو زہد و پرہیز گاری میں آگے ہے، ایمان میں کامل وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ حسین ہیں۔ بہتر مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں اور افضل وہ ہے جو دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچائیں۔ ۔ ۔ ۔ بے شک آپؐ اخلاق کے بلند درجے پہ فائز تھے۔ یہ اخلاقیات دراصل مذہب کی جمالیات ہیں۔ رحمان و رحیم کی صفات اپنے اندر پیدا کرنا اور خدا کے رنگ میں رنگ جانا عین اسلام ہے۔

پیارے آقا! ہم بھٹک کر زوال در زوال گڑھوں میں گر چکے اور اب آپؐ کی ذات والہ سے دامن امید وابستہ ہے۔ ہم سے جو جو کوتاہیاں ہو چکیں اور یہ خط لکھتے ہوئے جو غلطیاں ہوئیں ان سے درگذر کیجے، نگاہ کرم کی درخواست ہے۔ اک بار اللہ پاک سے سفارش کر دیجئے کہ اس ذلت آمادہ قوم پر رفعت کے دروازے کھول دے۔ ہم پر ہماری حقیقت، ہماری اوقات کھل جائے اور ماضی کے خمار سے نکل کر علم کی روشنی کو کھلے ذہن سے اپنانے کی توفیق ملے۔ سائل کو مانگنے کے آداب تو آتے نہیں مگر آپؐ ایسے سخی سے نسبت جوڑ لی ہے جو سائل کی خطاؤں کو اپنے دامن عفو و کرم سے ڈھانپ لیتا ہے اور بے بہا نوازشات سے بگڑی بنا دیتا ہے۔

طالب کرم

ایک پاکستانی مسلمان

Facebook Comments Box
جشن آمد رسولؐجشن میلاد النبیؐحضرت محمدؐعید میلاد النبی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
میرے علامہ اقبال:ایک بچے کا خراج — محمد احتشام الحق
next post
چغتائی اسکول آف آرٹ کے نمائندہ مصور : دلاور مرزا — اظہر عزمی

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.