تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ——– محمد مدثر احمد

by دانش ڈیسک 06/08/2019
written by دانش ڈیسک 06/08/2019
104

کچھ باتیں صاف صاف بیان کی جاسکتی ہیں۔ ان کے لیے ڈرامائی انداز اختیار کرنے اور لفاظی کی ضرور ت نہیں۔ واضح کردوں کہ یہ کوئی خوبصورت یا ادبی باتیں نہیں ہیں۔ یہ بد صورت مگر ضروری باتیں ہیں۔ تلخ حقیقت بیانی کے لئے باذوق طبائع سے معذرت۔

’’عورتیں غمِ روزگار کے ہاتھوں جبر اور استحصال کا شکار ہیں۔‘‘

یہ ایک تلخ سچ ہے۔ ہمیں حالات کی خرابی کا کچھ ادراک تو ہے لیکن اس کی سنگینی کا صحیح احساس نہیں۔ شاید ہم اس سطح پر سوچنے کے متحمل نہیں ہو سکتے یا خود کو دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں چند عشرے پیشتر خواتین کے نوکری اختیار کرنے کو غیر ضروری بلکہ معیوب سمجھا جاتا تھا۔ گھریلو عورت ہونا اور گھرگر ہستی کے امور تک محدود رہنا معمول تھا اور باعث ِ شرم ہر گز نہ تھا۔ وقت اور حالات نے بتدریج کروٹ بدلی، معیار ِ زندگی اور حقوقِ نسواں کے تصّورات کو فروغ ملا جس کے نتیجے میں عورت نے عملی زندگی، معاش اور معاشرتی مقام کو اپنے روایتی کردار پر واضح فوقیت دینا چاہی۔ مردوں کے نظریات بھی تبدیل ہوتے گئے۔

کارپوریٹ کلچر نے بعض روایتی فکری انداز چھوڑنے کا مشورہ دے دیا اور تو اور خاندان کی بڑی بوڑھی عورتوں نے بہو بیٹی کی ڈگری اور تنخواہ کو خا ندان میں عزت کے معیار کے طور پر رائج کر دیا۔

۔۔۔یہ سارے بوجھ اعصاب پر اٹھائے تعلیم یافتہ لڑکی پہلے روائتی اور موزوں روزگار کے امکانات تلاش کرتی رہتی ہے اور پھر کسی کمزور لمحے میں کسی مشکل فیصلے پر پہنچ کر اپنے لیے کام ’ڈھونڈ‘ ہی لیتی ہے۔

حقوق نسواں کی تحریک اٹھی اور اب ’’آزادی‘‘ نے عورت کو ماتھے کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔ ڈگری اور نوکری اس نئے سلیبس کے دو اہم فرائض ہیں۔ یہ اس کے رشتے میں بند ھنے کی ضروری شرائط ہیں ۔ہمارا تجربہ ہے کہ ملازمت اور ترقی کے امکانات حقیقی معنوں میں ہمیشہ محدود ہی ہوتے ہیں۔ ہمارا نظام تمام ڈگری یا فتگان کو محفوظ مستقبل یا مستقل روز گار کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روز گار لڑکیاں اچھے رشتوں کی بنیادی شرائط پوری کرنے کے لیے گھر کی دہلیز سے قدم باہر نکالتے ہی ’’منڈی‘‘ میں داخل ہو جاتی ہیں۔ ایک انار سو بیمار۔ ایک خالی آسامی کے لیے اوسطََ سو کے لگ بھگ امیدوار قطار بنائے ہاتھ باندھے حاضر ہو جاتے ہیں۔

’’صاحب‘‘ ہو یا ’’سیٹھ‘‘ یہ اپنے انتخاب میں کلی با اختیار ہوتے ہیں۔ یہ کامیاب لوگ کمزوروں کی پو زیشن سے فائدہ اُٹھانے کے فن میں یکتا ہو چکے ہوتے ہیں۔ نوکری دینے کی صورت میں چھوٹی موٹی ’’قربانی‘‘ مانگنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ شادی کے بعد یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ بھی جاری رہتا ہے۔ کنٹریکٹ یا عارضی ملازمت ایک مستقل مشغلہ ہے۔

سماجی اور معاشی دباؤ کے تحت سسرال بہو کی نوکری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کچھ عرصہ تک اچھے نتائج کا مہذب انداز میں انتظار بھی کرتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے اصرار بڑھتا جاتا ہے۔ بہو غیر محفوظ محسوس کرنا شروع کر دیتی ہے۔ میکے والے بھی صورتِ حال کو بھانپ کر روٹی روزی کرنے کی تلقین شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سارے بوجھ اعصاب پر اٹھائے آزاد اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی پہلے روائتی اور موزوں روزگار کے امکانات تلاش کرتی رہتی ہے اور پھر کسی کمزور لمحے میں کسی مشکل فیصلے پر پہنچ کر اپنے لیے کام ’ڈھونڈ‘ ہی لیتی ہے۔

حاصل گفتگو یہ ہے کہ عورتوں کو کام کی اجازت دیں۔ ان کی مناسب حوصلہ افزائی بھی کریں لیکن کبھی بھی ان کو مجبور نہ کریں۔ سیٹھ اور صاحب لوگ خدا کا خوف کریں۔
مصنف کی کتاب ’سوچ سرائے‘ سے۔۔۔

یہ بھی پرھیئے: ملازمت پیشہ عورت اور ہراسمنٹ کا آزار —— فارینہ الماس
اور یہ بھی عورت کی نجات ۔۔۔ ملازمت یا گھر داری

 

Facebook Comments Box
خواتینعورت کی نوکریملازمت پیشہ خواتینورکینگ لیڈیز
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
موٹیویشنل سپیکنگ: تعریف اور ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عمر عمیر‎
next post
روداد جنوبی وزیرستان کے ایک حالیہ سفر کی —- جاوید حسین آفریدی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.