تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

روداد جنوبی وزیرستان کے ایک حالیہ سفر کی —- جاوید حسین آفریدی

by دانش ڈیسک 07/08/2019
written by دانش ڈیسک 07/08/2019
84

وزیرستان میدانوں اور پہاڑوں پر مشتمل ایک دلکش علاقہ ہے جہاں داوڑ، وزیر اور محسود آباد اکثریت میں آباد ہیں، آپ بنوں سے مغرب کی طرف جائیں تو واضح طور پر پتہ چلتا ہے ایک طرف شمالی وزیرستان کا تقریباً میدانی علاقہ واقع ہے جہاں بالکل شروع میں داوڑ قوم آباد ہے اور پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہوئے وزیر قوم شروع ہوجاتی ہے، آگے افغان بارڈر کیطرف جاتے ہوئے جنوب کی طرف جنوبی وزیرستان واقع ہے جہاں شروع میں وزیر اور آگے محسود اکثریت میں آباد ہیں۔

ہماری منزل جنوبی وزیرستان تھا اسلئے میرعلی اور میرانشاہ سے ہوتے ہوئے رزمک کیطرف جنوب میں ایک غیر آباد علاقے کی طرف مڑے، یہ علاقہ شمالی اور جنوبی کا عین بارڈر ایریا ہے جہاں وزیر اور محسود دونوں آباد ہیں، اسے شکتوئی کہتے ہیں جہاں ایک بڑے ریگستانی علاقے میں دشوار گزار راستے سے گزر کر ہم شکتوئی شگہ پہنچ گئے اور یہی ہمارا منزل تھی۔

یہ علاقہ حالیہ واقعات میں سب سے زیادہ متاثر علاقہ ہے۔ لگتا ہے جیسے کوئی اچانک اٹھارویں صدی میں پہنچ گیا ہے، آپریشنز سے بھی شدید متاثر اور سہولیات کا فقدان اس قدر کہ اگر اسے مسائلستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، یہاں پر آج بھی سامان گدھوں اور خچروں سے لایا جاتا ہے، یہاں بجلی، سگنلز، صاف پانی، سڑک کا کوئی نام و نشاں نہیں ہے،

مگر اس کے برعکس یہاں کے لوگ حقیقت میں زندہ دل اور ایک وحدت میں پروئے ہوئے ہیں، انتہائی مہذب اور سوشل اصولوں پر مبنی زندگی گزاری جاتی ہے، فاٹا میں اور بھی پہاڑی علاقے ہیں مگر ان نا گفتہ بہ صورتحال کے باوجود وزیرستان کا بلخصوص محسود قوم جتنی تعلیم یافتہ اور سماجی طور پر ترقی یافتہ ہے اور کوئی نہیں اور نہ کسی علاقے میں تعلیم کی اتنی خواہش ہے جتنی جنوبی وزیرستان میں مجھے نظر آئی۔

سماجی طور پر یکسانیت کا یہ حال ہے کہ ان کے حجرے اور مساجد آج بھی اسی ڈھنگ سے آباد ہیں، تعلیم یافتہ بچوں اور جوانوں کی بہت قدر کرتے ہیں، ایک خاندان کا دکھ درد پورے گاؤں کا دکھ درد سمجھا جاتا ہے، تقریباً ہر گاؤں میں فلاحی سوسائٹیز بنائی گئی ہیں جہاں بلخصوص تعلیم کیلئے ضرورتمند طلباء کو ہر ممکن مدد دی جاتی ہے۔

تعلیم سے محبت کا اس کے علاوہ اور کیا ثبوت ہے کہ ہم (جرگہ پاکستان) محض ایک خیمہ سکول کے افتتاح کیلئے گئے، سکول کے طلباء کو سٹیشنری فراہم کی اور اس چھوٹی سی کاوش کیلئے انہوں نے جن جن خطابات سے ہمیں نوازا، جتنی عزت دی اور (بقول ایک مقامی دوست) اتنی عوام انتخابی جلسوں میں کبھی اکٹھی نہیں ہوئی جتنی آج اس چھوٹی سی کوشش کیلئے اکٹھی ہوئی۔ جس انداز سے وہ خوشی کا اظہار کررہے تھے اس سے صرف یہی ظاہر ہورہا تھا کہ وزیرستان کی عوام کتنے پرامن ہیں اور تعلیم سے کس قدر لگاؤ رکھتی ہے۔

مگر بطور ایک قبائلی صحافی مجھے ان تمام واقعات کو بھی کھُل کر اور ویسے ہی بیان کرنا ہوگا جیسا میں نے مشاہدہ کیا ہے، آج تک میڈیا پر ہم نے جو سنا اور دیکھا ہے اس سے بہت سارے معاملات برعکس پائے گئے ہیں۔

ایک انتہائی خوبصورت دو رویہ سڑک جو میران شاہ سے رزمک کیطرف بنائی گئی ہے اور دوسرا میران شاہ میں ایک انتہائی خوبصورت مارکیٹ جسے پاکستان مارکیٹ کا نام دیا گیا ہے، جو واقعی خوبصورت اور معیاری ہے، مگر پہلے تو ان دو سہولیات کو پورے وزیرستان کی ترقی سے جوڑنا اور یہ ثابت کرنا کہ پورا وزیرستان ان دو چیزوں کیطرح ہے، بہت بڑی زیادتی ہے اور دوسری بات، یہ کہ وہ مارکیٹ ہے جو میران شاہ میں ہزاروں دکانوں کی تباہی کے متبادل بنوا کر دے دی گئی مگر یہ آج بھی (انسانی طور پر) ویران ہے کیونکہ حکومت کیطرف سے ہر دکان کے عوض قریباً 07 لاکھ پیشگی (ایڈوانس) مانگا جارہا ہے جو کسی بھی عام آدمی کے بس سے بہت باہر ہے، البتہ عوام نے اپنے بل بوتے تھوڑے فاصلے پر دوسری مارکیٹ (امن مارکیٹ) بنائی ہے جو اس سے کئی گنا ذیادہ آباد اور ریزن ایبل ہے۔

چیک پوسٹوں کا مسئلہ ابھی بھی موجود ہے، ہمیں شکتوئی جاتے ہوئے 10 چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑا، اور بعض چیک پوسٹوں پر رش نہ ہونے کے باوجود بھی بیس سے چالیس منٹ تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔

شگہ شکتوئی میں سینکڑوں ایکڑ زمین سیلاب کی نظر ہوکر مکمل ریگستان میں تبدیل ہوگئی ہے، آج کل کے حالات میں یہ زمین ہی ان لوگوں کیلئے واحد زریعہ معاش تھا، اس کیلئے تھوڑی سی فنسگ (fencing) کی ضرورت تھی اور ہے مگر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔۔۔

پولنگ دھاندلی کے بارے میں ذاتی طور پر عینی شاہدین سے بات ہوئی، ان کے مطابق پولنگ سٹیشنز میں دھاندلی کروائی گئی ہے، مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پہلے تو ایک سیاسی جماعت کے امیدوار کو لانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی مگر جب وہ مکمل طور پر ناکام دکھائی دیے تو ایک امیدوار کی مخالفت میں دوسری جماعت کے امیدوار کو فیور کیا گیا۔ (یہ کیس پشاور ہائی کورٹ میں ہے)

لوگوں میں آج بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے، بہت سارے لوگ نفسیاتی طور پر متاثر ہیں، کھل کر بات (شکوہ) بھی نہیں کرتے، میڈیا اور سوشل میڈیا کی رسائی ممکن نہیں ہے، ریاست کی طرف سے ان کے مخبر جو وہاں کی عوام “سلنڈر” (surrender) یا “سمیسرا” کے نام سے پکارتے ہیں، انہوں نے عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہے، وہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے بہت واقعات ہوئے ہیں جو ان مخبروں نے اپنے ذاتی عناد اور پسند نا پسند کیوجہ سے لوگوں کو نشانہ بنوانا ہے مگر ان کا احتساب نہ کل ہوا ہے اور نہ آج ہورہا ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات بھی بہت ہوئے ہیں کہ ایک طرف سے طالبان آکر زبردستی کھانا مانگتے ہیں، خدمت کرواتے ہیں اور کل اداروں کے افراد آکر پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا،،، اب ایسے حالات میں کسی کو کیا کرنا چاہئے اس کیلئے وہ خود بھی پریشان ہیں۔

ہمارے ہوتے ہوئے وہاں دو اموات واقع ہوئی، ایک بائیک پر سوار مقامی بندے کو گولی مار کر اور دوسرا کچھ ہفتے پہلے مقامی ڈرائیور کو گھر سے اٹھا کر اس دن گاؤں والوں کو اس کی لاش واپس کردی، مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ بائیک والے کو شاید رکنے کے لئے سیٹیاں بجائی گئیں تھیں مگر اس نے سنی نہ ہوںگی جس پر اسے پیچھے سے گولیاں ماری گئیں، اگر ایسا ہے تو یہ بہتر نہ ہوتا کہ اگلے چیک پوسٹ پر اس (مشتبہ) بندے کی خبر دیتے، اور راستہ روکتے۔۔۔ دوسرے بندے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کو کچھ دن پہلے اٹھایا گیا، وہ ڈرائیور تھا اور انہی چیک پوسٹوں سے کئی سالوں سے گزرتا رہا مگر اچانک اسے اٹھا کر غائب کیا گیا اور ایک دو ہفتے بعد اسکی لاش واپس کردی، جبکہ فورسز کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اس نے خود گاڑی سے چلانگ لگا کر خودکشی کی ہے۔

میں داد دیتا ہوں وزیرستان کی عوام کو جو اس کے باوجود بھی کسی نے ادارے کے لئے نامناسب طرزعمل اختیا نہیں کیا، روڈ بلاک نہیں کئے اور نہ احتجاج کیا، وہ اب بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے، ہم اس کے باشندے ہیں، کئی لوگوں سے افغانستان اور بھارت کی حمایت کی مخالفت کی گئی اور یہی کہنا تھا کہ ہمیں جو حساب مانگنا ہے اپنی حدود کے اندر مانگنا ہے، ہمیں ریاست اور اداروں سے ہزاروں گلے شکوے ہیں مگر اس کی آڑ میں ہم کسی بھی بیرونی قوت کے آلہ کار نہیں بنیں گے، ہمارا کسی بھی تحریک سے اپنی محرومیوں کی حد تک تعلق ہے، ہمیں ترجیحی طور پر امن اور جینے کا ماحول چاہئے۔۔۔

Facebook Comments Box
FATAfeaturedMahsudSouth Waziristanwaziristanجنوبی وزیرستانفاٹاقبائلمحسودوزیرستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عورت کی ملازمت: مجبوری اور استحصال ——– محمد مدثر احمد
next post
خوشبو نگر کوغذی اور گندم کا گھونگٹ (قسط ۸) ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.