تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

موازنہ اور عدم اطمینان —- فرحان کامرانی

by دانش ڈیسک 27/07/2019
written by دانش ڈیسک 27/07/2019
117

یہ 2010ء کی بات ہے۔ ہم کراچی کے ایک ادارے سے وابستہ تھے جہاں بچوں کے ایک نفسیاتی مسئلے ADHD کا علاج کیا جاتا تھا۔ ہم وہاں کچھ ورکشاپس کروا رہے تھے جن کا انعقاد عموماً ہفتے یا پھر اتوار کے دن ہوتا۔ ان ورکشاپس میں اس مسئلے کے شکار بچوں کے والدین اور ان کے اساتذہ مدعو ہوتے۔ایک مرتبہ ورکشاپ میں ادارے کے مالک نے بھی شرکت کی اور میرے اور ادارے کے دیگر کارکنوں کے لئے انعامات کا اعلان کیا۔ تب ہم چند دنوں کی چھٹی لے کر گلگت جانے کا ارادہ کر رہے تھے اور یہ انعام جیسے ہمارے لئے غیبی امداد تھا۔ ہم بہت خوش تھے اور ایسے میں ہمیں یہ خبر ملی کہ ہماری ایک کولیگ کو انعام میں ہم سے زیادہ رقم ملی ہے۔ بس یہ خبر ملنی تھی اورہمارا سارا مزہ کرکرا ہو گیا۔

اب تقریباً ایک دہائی بعد میں یہ سوچتا ہوں کہ اپنی زندگی کے اتنے حسین دور میں آخرہم نے کیوں خود کو اس بات سے مغموم کیا کہ ہمیں پیسے کم ملے۔ آخر ایسا کیوں ہوا اور کیا یہ صرف ہمارے ساتھ ہوا یا یہ ایک عمومی انسانی رویہ ہے؟ سب انسانوں کے بابت کوئی حتمی بات کرنا تو خیر بہت بڑا دعویٰ ہو گا مگر شائد یہ موازنے کی روش اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ عدم اطمینان بڑی حد تک اب روح عصرہے اور اسی رویے نے سارے سماج کو ایک نہ ختم ہونے والی بے اطمینانی کا شکار کر دیا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد دکھی رہتی ہے۔ طلبہ و طالبات میں جو پڑھائی لکھائی میں اچھے ہیں وہ اپنے اچھے خاصے امتحانی نتائج کا موازنہ کسی خود سے بہتر نمبر والے سے کر کے کڑھتے ہیں۔ اچھی اچھی نوکریاں اور کاروبار کرنے والے لوگ بھی نہ جانے کس کس کو سوچ کرناخوش ہی ہیں۔

لوگوں کی کثرت جن افراد کو رشک سے دیکھتی ہے اورجن کے جیسی زندگی پانے کے خواب رکھتی ہے، وہ لوگ بھی موازنے میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ موازنہ صرف دولت اور تنخواہ و مراعات تک محدود نہیں، شکل و صورت، صحت و تندرستی، رشتہ، شادی، اولاد غرض کون سا معاملہ ہے کہ جس میں موازنہ نہیں ہے۔ انسان سن کر حیران ہی رہ جاتا ہے کہ لوگ کس کس چیز پر کڑھ رہے ہیں، کس کس چیز پر ایک دوسرے سے حسد کا شکار ہیں۔

ہم نے اس تحریر کے شروع میں اپنی حیات سے جو مثال دی اس میں ہمیں یوں لگتا تھا کہ ہم زیادہ انعام کا حقدار تھے اور زیادہ انعام اُسے ملا جس نے کم کام کیا۔ اس خیال نے ہمارے لئے اس انعام کی وقعت کو ختم کر دیا اور ہمارے لئے اس انعام نے جو آسانی پیدا کی تھی اس کے لئے ہم اللہ کے کا شکر گزار بھی نہ ہو پائے۔ انسان اس نوع کے موازنوں کی وجہ سے اپنے پاس موجود اور خود کو ملنے والی نعمتوں کے لئے شکر گزاری کی اہلیت ہی رفتہ رفتہ کھو دیتا ہے۔

الفاظ کی ضد جاننا بعض اوقات ان کو سمجھنے میں بہت معاون ہوتا ہے۔ لفظ ”شکر“ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں۔ بار بار یہ تلقین دہرائی جاتی ہے کہ ”شکر کرو“ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس کا متضاد کیا ہے؟ شکر کا متضاد ہے ”کفر“۔ یعنی جب انسان شکر کرنا چھوڑ دیتا ہے تو دراصل وہ کفر کرنے لگتا ہے اور ظاہر ہے کہ کفر میں اطمینان تو ہوتا نہیں۔

انسان جب اس نہج پر سوچنے لگتا ہے تو اسے ہر لمحہ یہی لگتا رہتا ہے کہ اس کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، اس سوچ کی ابتداء میں تو انسان کے ذہن میں اپنے ہی ارد گرد موجود افراد میں کئی ولن بن جاتے ہیں مگر پھر یہ ناانصافی کا شکوہ انسانوں سے ہٹ کر بالآخر خالق تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر ایک ناشکری کی زندگی شروع ہوتی ہے اور یہ سلسلہ پھر کہیں ختم نہیں ہوتا۔

الفاظ کی ضد جاننا بعض اوقات ان کو سمجھنے میں بہت معاون ہوتا ہے۔ لفظ ”شکر“ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں۔ بار بار یہ تلقین دہرائی جاتی ہے کہ ”شکر کرو“ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس کا متضاد کیا ہے؟ شکر کا متضاد ہے ”کفر“۔ یعنی جب انسان شکر کرنا چھوڑ دیتا ہے تو دراصل وہ کفر کرنے لگتا ہے اور ظاہر ہے کہ کفر میں اطمینان تو ہوتا نہیں۔ ہم یہ رونا روتے رہتے ہیں کہ فلاں کو فلاں چیز ملی تو وہ اس کا حقدار نہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا کا خالق و مالک اللہ ہے۔ جسے جو ملتا ہے، جس بھی وسیلے سے ملے،مگر ملتا اللہ سے ہی ہے۔ اللہ اپنی حکمت سے واقف ہے جسے ہم نہیں جانتے۔ ہم ان نعمتوں کا موازنہ جو ہم کو ملی ہیں، دوسروں کی نعمتوں سے کرتے رہتے ہیں حالانکہ ہم دوسروں کے حالات و مشکلات سے واقف نہیں ہوتے اور اس سے بھی بے بہرہ ہوتے ہیں کہ خدا نے ہمارے لئے کون کون سے نعمتیں مستقبل میں لکھ رکھی ہیں۔ ہم ان شیطانی موازنوں میں الجھے رہتے ہیں اور اپنی حیات کے حسین ترین لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں۔ مگر اس بات کا شعور عام نہیں، اسی لئے بے اطمینانی اب ہمارے سماج میں سکہ رائج الوقت ہے۔ ایک ایسی کرنسی جس کے علاوہ اب کوئی کرنسی باقی ہی نہیں رہی۔

Facebook Comments Box
اطمینانتقابلشُکرفرحان کامرانیکفرموازنہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ابنِ صفی دنیائے ادب میں زندہ رہے گا — گل ساج
next post
پسندیدہ شخصیت کا سحر —- فوزیہ قریشی

Related Posts

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.