تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

کراچی: میرا بے ترتیب شہر ——– غزالہ خالد

by Editor2 11/07/2019
written by Editor2 11/07/2019
93

کچھ دن پہلے بہت عرصے بعد لاہور جانے کا اتفاق ہوا اور لاہور شہر کی صفائی ستھرائی، ٹریفک کا نظام، سیر و تفریح کے پارکس، تاریخی مقامات وغیرہ وغیرہ نے بہت متاثر کیا، خصوصاً کینال روڈ سے گذرنا، وہاں کی پریالی کو دیکھنا اور تمام گاڑیوں کا رفتار کو قابو میں رکھ کر گذرنا بہت اچھا لگا۔ پتہ چلا کہ جگہ جگہ کیمرے نصب ہیں اور جو ڈرائیور بھی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتا ہے اس کے گھر پر چالان کی پرچی پہنچ جاتی ہے کوئی مک مکا نہیں ہوتا اور چالان جمع کروانا ہی پڑتا ہے۔ لاہور کی سیر کرانے کے لئے ایک ڈبل ڈیکربس سروس جو “سائٹ سیینگ لاہور” کے نام سے قذافی اسٹیڈیم سے چلتی ہےہم اس میں بھی بیٹھے یہ بس سروس تین گھنٹوں میں آپ کو لاہور کے چند مشہور مقامات کی سیر کروا کر اور بادشاہی مسجد کے پیچھے ایک بہت خوبصورت فوڈ اسٹریٹ، جہاں آپ کچھ دیر رک کر کھانا بھی کھا سکتے ہیں، تک لیکر جاتی ہے اور پھر واپس قذافی اسٹیڈیم چھوڑتی ہے۔ اس بس کا روٹ بھی بہت اچھا لگا، صاف ستھری سڑکیں اور ایک جیسا پینٹ کی گئی دیواریں بہت دلکش لگتی ہیں۔ ایک معمولی سی چیز جو میں نے نوٹ کی کہ لاہور میں ٹریفک کا نظام تو بہتر تھا ہی لیکن وہاں کی موٹر سائیکلیں اور رکشے بھی بہت بہتر کنڈیشن میں تھے، خصوصاً موٹر سائیکلیں جو زیادہ تر سرخ رنگ کی تھیں اور چمچماتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔

Image result for karachi traffic

اس بس میں بیٹھ کر یہ خیال بھی آیا کہ کراچی میں بھی ایسی ہی تفریحی بس سروس ہونا چاہئیے جو قائد اعظم کے مزار سے سی ویو تک سیر کروائے تو کتنا اچھا لگے گا۔ لاہور کے پھولوں سے لدے خوبصورت پارکس کا تو کہنا ہی کیا تھا۔ لاہور کا دورہ بہت ہی اچھا گذرالیکن اتنا لطف اندوز ہونے کے باوجود ایک عجیب سی بے کلی تھی جو لاہور میں محسوس ہوتی رہی جس کو میں کوئی نام نہیں دے سکی۔ واپسی پر لاہور اور اس کے باسیوں کے لئے سدا شادو آبادرہنے کی دعائیں کرتےہم نے اپنے شہر کراچی کی راہ لی۔

ہماری واپسی ٹرین سے تھی، حیدرآباد پہنچے تو اس کے بعد کے سفر سے ہی اپنائیت کی خوشبو آنا شروع ہوگئی۔ اسٹیشن پر ایک پھیری والے کے منہ سے “بھلے لینا ہو تو لو، نہیں لینا تو مت لو” سن کر بہت اچھا لگا ایسا لگا کہ کراچی کےوہ “دہی بڑے” جولاہور پہنچ کر “دہی بھلے” ہوگئے تھے واپس “دہی بڑے” بنتے جارہے ہیں۔

کراچی کے قریب پہنچنے پر میں نے اپنی نظریں کھڑکی سے باہر جما دیں۔ ہر اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے شہر کے آثار نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں سو کراچی کے بھی نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ “کالے رنگ کو گورا بنائیں اور داغ دھبے جھائیاں دور کریں”، “کمزور جسم کو موٹا کریں اور موٹے بدن کو پتلا”، “فلانا عامل اور ڈھماکا پیر” جو آپ کے تمام مسائل چٹکی بجاتے حل کرسکتا ہے قسم کے اشتہارات لکھی دیواریں نظر آنا شروع ہوگئیں۔ یقیناً لاہور ریلوے اسٹیشن سے پہلے بھی یہی کچھ دکھتا ہوگا لیکن چونکہ ہم نے جاتے وقت یہ بات نوٹ نہیں کی تھی اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہمارے اس مشاہدے کے پیچھے لاہور شہر کی وہ سیر تھی جب ہم نے لاہور کی دیواروں کو صاف ستھرا دیکھا تھا اب سسمجھ میں آیا کہ لاہور شہر کے اندر لمبے سفر میں بوریت کیوں ہونے لگتی تھی، بھلا صاف ستھری دیواروں کو دیکھتے ہوئے مطالعے کے شوقین لوگوں کا سفر اچھا کیسے گذرسکتا ہے یہاں توآنکھ جھپکنے کی دیر تھی اور ایک نیا موضوع سامنے تھا، کراچی اسٹیشن آ گیا۔

لاہوریوں کا ایک اور چھوٹا سا جملہ “نہ کریں” اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے۔
کراچی والوں کو اس طرح کی صورت حال میں “اتنی لمبی لمبی مت چھوڑ” یا “ابے چل پھوٹ” قسم کے کلمات ادا کرنے پڑتے ہیں

گاڑی رکتے ہی قلی آگیا، پیسے طے ہوئے اس نے سامان اٹھایا اور یہ کہتا آگے روانہ ہوگیا کہ “پیچھے پیچھے چلتے رہیں آگے جا کر سیدھے ہاتھ مڑوں گا” اس کے یہ کہنے پر لاہور کے قلی کے “سجے ہاتھ” اور ” کھبے ہاتھ ” یاد آئے اور بیساختہ ہنسی آگئی۔ واقعی بات چیت کا بھی ہر شہر کا اپنا انداز ہوتا ہے ۔لاہوری ہر لفظ کے آخر میں “جی” بولتے ہیں مثلاً “اچھا جی” “ہاں جی”، “بالکل جی” وغیرہ وغیرہ جبکہ کراچی ادب آداب میں ذرا ہلکا، ایسا انڈسٹریل شہر جہاں سب تیز رفتاری کا شکار “ابے چل جلدی کر” “او تیری ایسی کی تیسی” “ابھی ایک چماٹ دونگا” کرتے نظر آتے ہیں ویسے یہی چماٹ لاہور میں “چپیڑ ” تھا لیکن یاد رہے کہ فرق صرف نام کا ہی ہے “چماٹ ” ہو یا “چپیڑ” دونوں ہی نانی یاد دلادیتے ہیں، لاہوریوں کا ایک اور چھوٹا سا جملہ “نہ کریں” اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے، کراچی والوں کو اس طرح کی صورت حال میں “اتنی لمبی لمبی مت چھوڑ” یا “ابے چل پھوٹ” قسم کے کلمات ادا کرنے پڑتے ہیں جبکہ لاہوری دو لفظوں میں ہی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔

Image result for lahore

یہ بھی دلچسپ لگا کہ لاہور میں دس بجے شادی ختم ہوجاتی ہے اور کراچی میں شروع ہوتی ہے۔ خیر توبات ہورہی تھی کہ ہم کراچی پہنچ گئے اسٹیشن سے نکلے تو ڈرائیور گاڑی لئے منتظر تھا کراچی کی خاص نمی والی گیلی گیلی ہوا اچھی لگ رہی تھی، گاڑی اسٹیشن سے نکلی تو اونچی اونچی عمارتوں کو دیکھ کر عجیب سا لگا ہر طرف فلیٹوں کی دنیا، لوگ، “گاڑیاں” “دھواں چھوڑتی آثار قدیمہ کا شاہکار بسیں” جن کو اگر فارنرز دیکھتے ہونگے تو حیرت کے مارے انہیں کئی دن تک نیند نہیں آتی ہوگی کہ یہ چلتی بھی ہیں اور موٹر سائیکلیں تو اتنی کہ شمار مشکل ہے۔ ان موٹر سائیکلوں کو دیکھ کر سمجھ میں آگیا کہ لاہور کی موٹر سائیکلیں اتنی چمکتی دمکتی کیوں لگ رہی تھیں، اتنا بڑا شہر جہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنا جانا انتہائی مشکل اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابرہے تو لوگوں نے جیسے تیسے کرکے موٹر سائیکلیں خریدلی ہیں تاکہ آنے جانے میں آسانی رہے اورسیکنڈ ہینڈ موٹرسائیکل اورگاڑی خریدتے وقت یہاں کے لوگ ایک ہی بات سوچتے ہیں کہ “بس چلتی ہو اور چلتی رہے باقی سب خیر ہے”۔ ظاہر ہے ٹریفک کا نظام بھی ویسا کا ویسا ہی تھا جیسا ایک ہفتہ پہلے چھوڑا تھا لیکن ہر چیز کی طرح یہ بھی نیا نیا سا لگ رہا تھا، بےانتہا ٹریفک تھا ٹریفک جام میں پھنس کر خیال آیا کہ اگر کراچی میں سیرکرانے والے ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کی گئے توڈبل ڈیکر ایک ہی جگہ گھنٹوں پھنسی رہے گی اور سیاح قائد اعظم کے مزار سے آگے نہیں جا پائیں گے۔ ڈرائیور کی غلطی پرہمارا چالان بھی ہوتے ہوتے بچا اور پولیس والے نے صرف پچاس روپےکے مک مکا پر چھوڑ دیا۔ حیرت کے مارے میرا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا افسوس الگ ہوا کہ بے چارا اتنا مجبور ہے کہ اس کے لئے پچاس روپے بھی بہت ہیں۔

میری نظریں مسلسل باہر تھیں۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، کھمبوں پر لٹکتے تاروں کے گچھے، ٹوٹی سڑکیں، آلودہ ہوا، بسوں میں لٹکے عوام، اسٹاپ پر کھڑی خواتین اور طالبات، ویگنوں کی چھتوں پر سفر کرتے نوجوان جو اتنے خوش نظر آرہے تھے جیسے ایئر کنڈیشن بسوں میں بیٹھے ہوں، سیپیج والی عمارتیں، ہارن کا شور، بھاگ دوڑ، افراتفری یہ سب مجھے خوشی دے رہے تھے، میری وہ بےنام سی بےکلی ختم ہوگئی تھی جو مجھے لاہور کی صفائی ستھرائی اور خوبصورتی کو دیکھ کر محسوس ہوتی تھی۔ مجھے اپنے بے ترتیب شہر “کراچی” پر بے اختیار پیار آرہا تھا۔ میرا پیارا کراچی جو کروڑوں لوگوں کو روزگار دے رہا ہے، جو کروڑوں بھوکوں کو کھانا کھلا رہا ہے، جہاں پورے ملک سے محنت کش یہ سوچ کر آتے ہیں کہ کراچی جاکر ہم بھوکے نہیں مریں گے اور میرا کراچی ان کے اس بھرم کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔ میرا کراچی جہاں خون کی ندیاں بھی بہیں اور آگ کے شعلے بھی دہکے، کبھی دہشت گردی کا شکار ہوا تو کبھی اپنے ہی باسیوں کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دیا گیا، سینکڑوں بار لہولہان ہوکر بھی اپنے ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے محنت کشوں کو اپنے کمزور بازوؤں میں سمیٹ کر پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ سب کا مان رکھا سب کے اس یقین کومظبوط کیا کہ کراچی ہمیں سنبھال لے گا۔ میری اس تحریر کا مقصد کراچی اور لاہور کا مقابلہ نہیں ہے، ہم سب ایک ہیں لاہور ہمارا دل ہے تو کراچی ہماری جان۔

لاہور واقعی لاہور ہے لیکن روشنیوں کا شہرکہلانے کا حقدار ہمارا معاشی حب کراچی بھی مستحق نہیں کہ کوئی حکومت چاہے ووٹ کی خاطر ہی سہی اس کی طرف بھی نظر کرم کرلے۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کو روزگار دینے والے شہر کا حال کون بہتر بنائے گا اور کب اسے اس قابل کرے گا کہ یہ دوبارہ روشنیوں کا شہر کہلا سکے ہم اور آپ صرف دعا ہی کرسکتے ہیں جو کر رہے ہین اور کرتے رہیں گے۔

کاش کہ کبھی لاہور اور کراچی کے اپنائیت بھرے تقابل مین ہم کراچی والوں کو لاہوریوں کی ہر بات کے جواب میں شرمندہ ہو ہو کر صرف یہی نہیں کہنا پڑے کہ “کراچی” میں سمندر ہے”۔ ہم بھی سر اٹھا کر کہہ سکیں کہ کراچی میں امن ہے، روزگار ہے، صفائی ہے، قانون ہے، ایک اچھا نظام ہے، تفریح ہے، سکون ہے ہمارا کراچی روشنیوں کا شہر ہے۔

یہ بھی دیکھئے:  ایک مہاجر کیمپ: کراچی کی داستان —- احمد اقبالایک اہم مضمون:

Facebook Comments Box
featuredاسلام آبادپاکستانسفرنامہغزالہ خالدکراچیکراچی اسٹیشنلاہورلاہور روڈلاہور سٹیشن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ایک زمانہ تھا —— راجا محمد نوید
next post
ایسے زخموں کا کیا کرے کوئی – سلگتے سوال — ظل ہما

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.