تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

بھارتی انتخابی نتائج : کچھ دلچسپ پہلو —– احمد الیاس

by دانش ڈیسک 23/05/2019
written by دانش ڈیسک 23/05/2019
84

بھارتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے (اگرچہ مجموعی طور پر نشستوں میں کمی واقعہ ہوئی ہے)۔ ان نتائج کے دو مثبت اور تین منفی پہلو ہیں۔

دو مثبت پہلو مندرجہ ذیل ہیں :-

  1. ہندوؤں نے ہندو قوم کی بات کرنے والی بی جے پی کو جتوا کر اور “ہندوستانی قوم” کی بات کرنے والی کانگرس کو ہرا کر دو قومی نظریے کو تسلیم کرلیا ہے۔ گویا اب برصغیر میں دو بڑی قوموں یعنی ہندو اور مسلمان کے ہونے پر ان دونوں قوموں میں سے کسی کو بھی شک نہیں ہے۔ مخلوط انڈین نیشنلزم کا سنجیدہ اور طاقتور نام لیوا اب کوئی نہیں رہا۔ یہ ایک طرح سے محمد علی جناح کی فائنل وکٹری ہے کیونکہ مخالف فریق نے خود ہی اپنا کیس واپس لے لیا ہے۔ “علیگڑھ کا لونڈا” ہونے کے ناطے یہ بات میرے لیے باعثِ مسرت ہے کہ برصغیر ہندو مسلم کی مشترک ہندوستانی قومیت جیسی فینٹسی سے باہر آگیا ہے۔ کچھ پاکستانی دانشور اور متاثرینِ ابوالکلام آزاد یہ مالا جپتے رہیں تو اور بات ہے۔
  2. محنت کرکے بالکل نیچے سے اپنی جگہہ خود بنا کر اوپر آنے والا شیطان بھی ہو تو اس نیک شہزادے سے کہیں نہ کہیں زیادہ قابل احترام ہوتا ہے جسے سب کچھ قدرتی طور پر یا وراثت میں مل گیا ہو۔ یہ گرمیِ کردار کی ویسی ہی افضلیت ہے جو اقبال ابلیس کو جبریل پر دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ بات خوش کن ہے کہ برصغیر جیسے جاگیردارانہ سماج کے ایک ملک میں بھی “چائے والے مودی” نے “شہزادہ راہول” کو شکست دی۔ موروثی سیاست کو اس سے بہت دھکا پہنچا ہے۔ خدا کرے پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہو۔
نیچے سے اپنی جگہہ خود بنا کر اوپر آنے والا شیطان بھی ہو تو اس نیک شہزادے سے کہیں نہ کہیں زیادہ قابل احترام ہوتا ہے جسے سب کچھ قدرتی طور پر یا وراثت میں مل گیا ہو۔

ان انتخابی نتائج کے مندرجہ ذیل منفی پہلو ہیں۔

  1. مسلمانوں اور دلتوں کی زندگی مزید مشکل بن جائے گی۔ ان کے لیے اگلے پانچ سال کوئی امید نہیں۔ اٹھارہ کروڑ مسلمانوں اور اس بھی زیادہ دلتوں کا دوسرے درجے کا شہری بن جانا کسی انسانی المیے سے کم نہیں۔ یہ الیکشن مسلمانوں اور دلتوں کے متعلق ریفرنڈم تھا اور اس میں گائے اور مندر کا تقدس مسلمان اور دولت کی جان کے تقدس سے زیادہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔
  2. انیس سو ستتر کے بھارتی انتخاب جو اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے بعد ہوئے، اس بارے میں تھے کہ بھارت جمہوری رہے گا یا نہیں۔ دو ہزار انیس کے انتخابات اس بارے میں تھے کہ بھارت بھارت رہے گا کہ نہیں۔ مسلمان اور ہندو اگرچہ دو الگ ثقافتیں اور قومیں ہیں لیکن ان کے درمیاں صدیوں کے رابطے اور پل تھے اور یہ رابطے ان دونوں کو توانائی فراہم کرتے اور ہندوستان کو وہ شناخت فراہم کرتے تھے جس کے سبب اقبال جیسا پین -اسلامسٹ مسلمان بھی کہتا تھا کہ “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”۔ اب یہ رابطے کمزور تر ہوتے جائیں گے اور ہندوستان کی شناخت بدل جائے گی۔
  3.  دو ہزار چودہ کی جیت بی جے پی کی جیت تھی۔ یہ جیت صرف مودی کی جیت کہی جارہی ہے کیونکہ امیدوار کو کہیں ووٹ نہیں پڑا، صرف مودی کو ووٹ پڑا ہے۔ دو ہزار چودہ میں بی جے پی کے دور نعرے تھے، وکاس یعنی معاشی ترقی اور ہندوتوا یعنی ہندو قوم پرستی۔ اب کی بار مودی کا صرف ایک نعرہ تھا یعنی ہندوتوا اور پاکستان دشمنی۔ گویا ایک تو شخصی آمریت کی طرف رجحان بڑھا ہے دوسرا معاشی ترقی ایجنڈے سے ہی نکل گئی ہے۔ اس سے جمہوریت اور معیشت دونوں کا نقصان ہوگا (دونوں کا مستقبل باہم ملا ہوا ہوتا ہے)۔ یاد رہے کہ بھارت جو انیس سو نوے سے مسلسل ترقی کررہا تھا، گزشتہ پانچ سال معاشی طور پر جمود کا شکار رہا ہے۔

اس کے علاوہ اس انتخاب کے دو دلچسپ پہلو اور بھی ہیں۔

  1. گزشتہ الیکشن میں بی جے پی ہندی بولنے والے علاقوں کی متفقہ پارٹی بن کر ابھری اور پوری ہندی بیلٹ سے نیز گجرات سے بھی سویپ کیا۔ اب کی بار بھئ ہندی علاقوں اور گجرات کی سب سے بڑی پارٹی یہی ہے لیکن اس کی کچھ سیٹیں کانگرس اور دولت جماعتوں نے چھین لی ہیں۔ اس کے برعکس بنگال، آسام، اڑیسہ اور کرناٹک جیسی غیر ہندی اور قدرے سیکولر سمجھی جانے والے ریاستوں میں جہاں گزشتہ الیکشن مین بی جے پی بالکل غائب تھی، اب کی بات بی جے پی یا و جیت گئی ہے یا بہت بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ گویا اپنے روایتی علاقوں میں اس کا ترقی کے نام پر لیا گیا ووٹ چھن گیا ہے لیکن ہندوتوا کے نام پر دوسرے علاقوں میں اس نے ووٹ بنا لیا ہے۔
  2. بنگال اور آسام وغیرہ کے جو علاقے کبھی لیفٹ کی جماعتوں مثلاً کمیونسٹ پارٹی وغیرہ کا گڑھ سمجھے جاتے تھے وہاں بی جے پی جیتی ہے۔ لیفٹ کی جماعتوں کے سابقہ علاقوں میں انتہائی دائیں بازو کی نسل پرست جماعتیں فرانس اور جرمنی وغیرہ میں بھئ بہت اچھا پرفارم کرچکی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعتاً نظریات سے زیادہ سیاسی رویے اہم ہوتے ہیں۔ جن علاقوں کے لوگ انتہاء پسندی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں وہ انتہاء پسندی کو ووٹ دیتے ہیں، چاہے وہ لیفٹ کی ہو یا رائٹ کی۔

پاکستان بھارت تعلقات کی بات اس لئے نہیں کی کیونکہ کانگرس یا بی جے پی میں سے کوئی بھی پارٹی جیتے، پاکستان سے تعلقات خراب رکھنے پر مجبور ہے۔اور نہ ہی سنجیدگی سے مذاکرات کرسکتی ہے۔ بھارتی الیکشن سے اس پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ پاکستان کا وجود ہی بھارت کے سینے میں خنجر ہے، خنجر سے کوئی مذاکرات نہیں کرتا۔ پاکستان اور بھارت میں کبھی دوستانہ تعلقات نہیں ہوسکتے۔ ہاں جنگ سے دور رہنا بہت ضروری ہے۔ ایٹمی اسلحے اور پاکستان مں معتدل سیاسی قوتوں کی برسراقتدار ہوتے ہوئے امید کی جاسکتی ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے:  نظریہ پاکستان کا مستقبل: خوش گمانیاں، بدگمانیاں —- خالد ولی اللہ بلغاری
Facebook Comments Box
BJPfeaturedIndian Elections 2019InidaModiانڈین الیکشنبھارتبھارتی انتخاباتبی جے پیراہول گاندھیمودی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
شیطانی شکنجہ ——- محمد عنصر عثمانی
next post
قرآن کی روشنی میں اہلِ تقویٰ کی چند صفات —- سید متین احمد شاہ

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.