تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

داعش کی پسپائی: لائحہ عمل کیا ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر قمر الہدیٰ

by دانش ڈیسک 13/02/2019
written by دانش ڈیسک 13/02/2019
72

’’ہم نے شام میں داعش کو شکست دے دی ہے۔ ‘‘(امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ۱۹ دسمبر ۲۰۱۸ء)


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دولت اسلامیہ (جسے داعش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کو شکست دینے کے دعویٰ اور شام سے امریکی فوج کے انخلاء کی بات نے واشنگٹن کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور سیکرٹری دفاع جم میٹس (Jim Mattis) اور سینئر سفارتکار بریٹ مک گرک (Brett McGurk) نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دفاعی ماہرین اور سفیر اس سے لاعلم دکھائی دیتے ہیں کہ اس ٹرانزیشن کے لئے کیا حکمت علمی (transition strategy) اپنائی جائے گی۔ قومی سلامتی کونسل کے مشیر جم بولٹن (Jim Bolton) نے ترکی اور اسرائیل کا دورہ کیا مگر انہیں ترکی کے صدر کی جھڑکی سہنا پڑی۔ بعد ازاں سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو (Mike Pompeo) نے ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی کے تسلسل اور ایران کی جانب کنٹینمنٹ پالیسی (Containment Policy) کے فروغ کے لئے آٹھ عرب ریاستوں کا دورہ کیا۔

ہمیں ان حقائق سے کیا سبق سیکھنا چاہئے؟ یہ کہ کبھی ایسے دہشتگرد گروپ کی شکست کا اعلان نہ کیا جائے جو تین براعظموں میں منظم ہو اور انتقام لینے کا ارادہ رکھتا ہو۔

اس سارے خبط میں امریکی اہلکار، تجزیہ کار اور منصوبہ ساز داعش کے بارے میں ایک اہم حقیقت فراموش کر گئے اور وہ یہ کہ اگرچہ یہ تنظیم عراق اور شام میں متحرک ہے، مگر اسے محض انہی ممالک تک محدود سمجھنا کم فہمی ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ داعش نے وسیع پیمانے پہ فنڈنگ، تنظیم سازی اور بھرتیاں کر رکھی ہیں اور دنیا کے کم از کم ۳۵ صوبوں میں اس کی موجودگی کا سراغ ملتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹر رکمینی کالماچی (Rukmini Callimachi) نے عراق کے ۱۱ مختلف شہروں سے حاصل کردہ داعش کے ۱۵۰۰۰ صفحات پر مشتمل دستاویزات کی مدد سے حکومت کا پیچیدہ نظام چلانے کے طریقہ کار اور ایک کٹر اسلامی ریاست کے قیام کے منشور کا خاکہ (blueprint) کی معلومات حاصل کی ہے۔ ۲۰۱۴ سے ۲۰۱۶ء تک اپنی طاقت کے عروج کے زمانے میں داعشی خلافت کا اثر و رسوخ برطانیہ کے برابر تھا۔ وہ یوں کہ داعش کا ۱۲ ملین سے زائد لوگوں پر تسلط قائم تھا اور وہ بیوروکریٹس کی ایک بڑی ٹیم کی مدد سے ٹیکس بھی جمع کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ اسکولوں اور ہسپتالوں کو چلانے کے علاوہ کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور پروپگنڈا بھی کر رہے تھے اور رسمی طور پر عدالتی نظام بھی چلا رہے تھے۔

ہمیں ان حقائق سے کیا سبق سیکھنا چاہئے؟ یہ کہ کبھی ایسے دہشتگرد گروپ کی شکست کا اعلان نہ کیا جائے جو تین براعظموں میں منظم ہو اور انتقام لینے کا ارادہ رکھتا ہو۔ داعش کی طاقت کا ثقافتی پہلو محض یہ نہیں کہ وہ کس کس اور کتنی زمینوں پر قابض ہے۔ اس کے برعکس اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ وہ کتنے فریب زدہ نوجوانوں کے کچے دماغوں پر اثر کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے تئیں ایک ’درست مقصد‘ کے لئے داعش کے لئے کام کرنے کو تیار ہیں۔ عسکری اور زیر تسلط علاقے کھو دینے جیسے نقصانات اٹھانے کے باوجود آج بھی داعش پروپگنڈے کے بل بوتے پر ایک ایسے نام یا ’’برانڈ‘‘ کے طور اپنا تاثر رکھتی ہے جو جارحین کے خلاف صف آراء ہونے کے ساتھ ساتھ ایمان کی پاکیزگی کی علامت ہے اور جو کرپشن سے آلودہ زمینوں کی کایا پلٹنے جیسی مسیحائی برکتوں کاحامل ہے۔

فلپائن میں کیا ہو رہا ہے؟
اس ہفتے کے شروع میں فلپائن کی مندانائو اسٹیٹ (Mindanao state) میں جولو نامی گرجا گھر (Jolo Cathedral) میں ہونے والی قتل و غارت میں ۱۰ افراد ہلاک اور کم از کم ۸۱ زخمی ہو گئے۔ داعش کی نیوز ایجنسی ایماک (Amaq) نے اتوار کے اجتماع میں ہونے والے دونوں دھماکوں کی ذمہ داری  اور بعد میں حکومتی اہلکاروں کی امداد کے لئے آمد پر تیسرے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ فلپائن کے سیکرٹری دفاع ڈیلفن لورینزانا (Delfin Lorenzana) نے ان حملوں کو بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے اپنے رد عمل میں کہا کہ قانون پوری قوت سے حرکت میں آ کر اس سانحے کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے گا۔ نشانہ بننے والے علاقے میں تاریخی طور پر ابو سیاف کے عسکریت پسندوں کی موجودگی پائی جاتی ہے، جس کا شمار امریکہ کی طرف سے جاری کردہ دہشت گرد تنظیموں میں ہوتا ہے۔

داعش کے انتہا پسندوں نے فلپائن میں جاری تنائو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ابو سیاف کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ ریان گریر (Ryan Greer) کی پیش کردہ سی جی پی (CGP) کی پالیسی رپورٹ ’’دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور اگلی داعش‘‘میں نشاندہی کی گئی ہے کہ داعش کی کاروائیوں کے لئے اگلا پڑائو فلپائن اور لیبیا میں محفوظ ٹھکانے ہوں گے کیونکہ ان ممالک میں پہلے سے انفراسٹرکچر اور تجربہ کار جنگجو موجود ہیں، جو دہشت گردی کی کاروائیاں کر سکتے ہیں۔

افریقہ میں متحرک جنگجو
افریقہ بھر میں حکومتوں کو یہ خدشہ ہے کہ شام میں داعش کے رو بہ زوال ہونے کے نتیجے میں مقامی اسلامی عسکریت پسندوں میں دہشت گردی کی لہر اٹھے گی اور وہ داعش کے جنگجوئوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی حکمت عملی کو اپنا لیں گے۔ مالی، نائیجر اور برکینا فاسو (Burkina Faso) میں تنظیم القاعدہ فی بلاد المغرب الاسلامی (al-Qaeda in the Islamic Maghreb)، انصار دین (Ansar Dine) اور المرابطون (Al-Mourabitoun) پہلے ہی حکومت اور اتحادی افواج سے برسر پیکار ہیں۔ نائجیریا میں بوکو حرام (Boko Haram) کے ایک گروہ نے ۲۰۱۵ء میں داعش کی بیعت کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے صلے میں اس گروہ نے اپنی تنظیم سازی میں معاونت، مالی امداد، گولہ بارود، جنگجوئوں کی ٹریننگ اور اپنے پروپگنڈا کے لئے تکنیکی مدد حاصل کی۔

یہ ایک پریشان کن بات ہے کہ داعش اور اس جیسے دیگر مسائل پر انٹیلی جنس کی تشخیص ، وائٹ ہائوس کے لگائے اندازوں سے مختلف ہے۔ ڈی این آئی ( DNI)، سی آئی اے (CIA)، ایف بی آئی (FBI)، این ایس اے(NSA)، ڈی آئی اے(DIA) اور این جی اے (NGA)کے سربراہان کے بیانات پر امریکی صدر کا اس طرح کا کھلے عام ردعمل کہ ان اہلکاروں کو واپس اسکول میں داخلہ لینا چایئے، داعش اور اس جیسے دیگر دشمنوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں مضبوط کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

یہ باعث حیرت نہیں کہ بوکو حرام ، داعش کا نام اور ساکھ استعمال کر کے خود کو برقرار رکھنے اور نئے لوگوں کی بھرتیوں میں کامیاب رہی۔ سومالیہ میں دولت اسلامیہ (ابناء الخلیفہ) داعش سے منسلک گروپ ہے جس کی پٹ لینڈ (Puntland) کے پہاڑوں میں کمین گاہیں موجود ہیں۔ شیخ عبدالقادر مومن نامی ایک نظریاتی عالم اس گروپ کا سربراہ ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ الشہاب سومالیہ میں داعش سے نبرد آزما ہو کر اپنا وجود بچانے کی تگ و دو میں مشغول ہے کیونکہ وہ داعش کو ایک ایسے بیرونی فریق کے طور پر دیکھتی ہے، جو مقامی معاملات میں دخل اندازی کر رہا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ افریقہ میں تمام مقامی عسکریت پسند داعش کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر الشہاب اور تنظیم القاعدہ فی بلاد المغرب الاسلامی (AQIM) داعش کی فنڈنگ اور مدد کو رد کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ’اسلامی مارکیٹ‘ میں داعش کی موجودگی کو دبانے کی کوشش میں ہیں۔ لیبیا کے قبائلی ملیشیا نے داعش کی موجودگی کو مصراتۃ (Misurata) کے علاقوں تک محدود رکھا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بوکو حرام بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے: ایک حصہ داعش کا ساتھ دے رہا ہے جبکہ دوسرا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ بیرونی عسکری گروپوں سے تعلقات استوار کرنے سے مقامی بیعتیں متاثر ہوں گی۔

پالیسی فوکس کیا ہے؟
امریکہ اور عالمی اتحادیوں نے داعش اور اس سے وابستہ گروہوں کو شکست دینے کے لئے فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے اور انسداد دہشت گردی کے حربوں سے ان گروہوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جب حکمرانی شفاف انداز میں ہو، زیادہ معاشی مواقع موجود ہوں، اقتصادی ترقی ہو رہی ہو، عوامی شمولیت سے ادارے مضبوط ہو رہے ہوں، اسکولوں میں سرمایہ کاری ہو رہی ہو اور بحث و مباحث اور اظہار رائے کے لئے متنوع پلیٹ فارمز موجود ہوں تو ان سب کی موجودگی میں دہشت گردی موروثی طور پر کمزور ہو نے لگتی ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہے کہ ٹرمپ کے وائٹ ہائوس نے محکمہ دفاع اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو اگر کوئی پالیسی ساز ہدایات دی ہیں تو وہ کیا ہیں، جن کی مدد سے داعش اور اس کے درجنوں ساتھی گروہوں کو روکا اور کمزور کیا جا سکتا ہو اور ان کے خلاف عالمی پیمانے پر کوششیں شروع کی جا سکتی ہوں۔ خیال رہے کہ افریقہ سے فلپائن تک داعش کے متحرک نیٹ ورکس عام شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور سیکورٹی کو منہدم کرنے کے لئے اپنا کام کر رہے ہیں۔

یہ ایک پریشان کن بات ہے کہ داعش اور اس جیسے دیگر مسائل پر انٹیلی جنس کی تشخیص ، وائٹ ہائوس کے لگائے اندازوں سے مختلف ہے۔ ڈی این آئی ( DNI)، سی آئی اے (CIA)، ایف بی آئی (FBI)، این ایس اے(NSA)، ڈی آئی اے(DIA) اور این جی اے (NGA)کے سربراہان کے بیانات پر امریکی صدر کا اس طرح کا کھلے عام ردعمل کہ ان اہلکاروں کو واپس اسکول میں داخلہ لینا چایئے، داعش اور اس جیسے دیگر دشمنوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں مضبوط کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ اپنے ملکی سیاسی مسائل کو اس معلومات سے ہم آہنگ کریں جو ملک کی ٹاپ انٹیلی جنس ایجنسیاں خارجہ پالیسی کے معاملات پر انہیں دیتی ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ان کی انتظامیہ، جنگی آپریشنز سے ہٹ کر ایک طویل المعیاد حکمت عملی کی تشکیل پر توانائیاں صرف کرے تا کہ داعش کو تقویت دینے والے جغرافیائی سیاست (geopolitical) کے مسائل پر توجہ دی جا سکے۔

Facebook Comments Box
al-Qaeda in the Islamic MaghrebAmaqAmericaAQIMBurkina FasoCIADelfin LorenzanaDIADNIDonald TrumpFBIISISJolo CathedralMindanao stateMisurataNGANSAPuntlandRyan Greerافریقہالانصارالشبابالقاعدہالمرابطونامریکہایرانبوکوحرامخودکش حملہداعشدہشت گرد تنظیمدہشت گردیشامعراقفلپائنلیبیامغرب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مار نہیں پیار: صالحین کا ویلنٹائن پر بدلتا موقف —- فیضان جعفری
next post
مکتوب میسنی بنام کُکو ——- لالہ صحرائی

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.