تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلم و ادبکالممزاح

مکتوب میسنی بنام کُکو ——- لالہ صحرائی

by لالہ صحرائی 13/02/2019
written by لالہ صحرائی 13/02/2019
134

عالیجاہ نواب کُکو صاحب
بارگاہِ محبوب میں بندی کا سلام قبول ہو…!

عالیجاہ کسی مرحوم نے سچ ہی کہا تھا کہ محبت زندگی ہے اسلئے کہ جب میں آپ کے ساتھ ہوتی ہوں تو واقعی خود کو زندہ محسوس کرتی ہوں کیونکہ انسان کو زندگی کا احساس ہمیشہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ کسی مصیبت میں ہو یا گھٹن کا شکار ہو۔

جانِ من…!
آپ سے تو اب روٹھ جانے کو ہی جی چاہتا ہے، حیرت ہے ابھی تک آپ کو میری محبت کا یقین نہیں آیا حالانکہ آپ میرے لئے خوشیوں کا ایسا خزانہ ثابت ہوئے ہیں جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا، یقین کیجئے آپ کی ہر ایک ادا سے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، اب تو میں تصور بھی نہیں کرسکتی کہ آپ کے بغیر بھی زندگی ایسی دلچسپ ہو سکتی ہے، اتنے شگوفے ہر شخص میں کہاں ہوتے ہیں جتنا آپ پیدا کرلیتے ہیں، مجھے تو اب یہ فکر بھی دامنگیر ہو گئی ہے کہ آپ بچے بھی پیدا کرسکیں گے یا صرف شگوفوں ہی پیدا کریں گے۔

جان من…!
یقین کیجئے میں ہر روز صبح اٹھ کے شکر ادا کرتی ہوں کہ آپ ملے اور اس بات کا بھی احساس ہے کہ جتنا آپ مجھے خوش رکھ سکتے ہیں، میں اس کا عشر عشیر بھی آپ کو لوٹا نہیں سکتی، ایسے رنگ برنگے منہ بنانا ہر کسی کے بس میں کہاں ہوتا ہے، مجھے بھی اس سلسلے میں معذور ہی سمجھیں، سچ کہوں تو آپ میرے دل کو ایسے چُھو جاتے ہیں کہ دوسرا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، اب تو میرا جی چاہتا ہے زندگی آپ کے قرب و جوار میں ہی گزرے خواہ آپ کا ساتھ میسر ہو یا نہ ہو پر خدا کرے آپ کا پڑوس ضرور میسر ہو ورنہ پتا نہیں میں کتنے دلچسپ ہنگامے ہر روز مِس کر جاؤں گی جو آپ نے تو بہرحال جاری ہی رکھنے ہیں لیکن پتا نہیں میرے نصیب میں دیکھنے لکھے ہیں کہ نہیں۔

اے چہار سالہ ہمدم…!
یقین کیجئے، پچھلے چار سال سے آپ ہی میرے لئے وہ مینارہ نور ہیں جسے دیکھ کر بھولے ہوئے جہاز راں اپنا کھویا ہوا راستہ پالیتے ہیں، آپ ہی وہ چٹان ہیں جسے دیکھ کر خشکی کی سمت کا پتا چلتا ہے، خشکی سے یاد آیا کہ سر پہ روغن زیتون کی مالش ضرور جاری رکھیئے گا اور مالش کرکے سر پہ تولیہ یا مفلر لپیٹ کے سونے کی عادت ابھی سے اپنا لیں، ورنہ تیل سے چیکٹ تکیئے کے غلاف دھونے سے مجھے سخت الرجی ہے۔

اے جانِ محبوب…!
آپ کو میری محبت کا یقین نہیں جبکہ ہماری محبت تو بیشک جوان ہو چکی ہے بلکہ اب تو مجھے یہ فکر بھی ستانے لگتی ہے کہ آپ کہیں اس محبت کی جوانی دیکھ کر میری اپنی جوانی سے ہی آنکھیں نہ پھیر لیں کیونکہ ایک بار آپ جس طرف منہ اٹھا لیں تو بس نتائج کی پرواہ کئے بغیر پھر آپ اسی سمت میں چل دیتے ہیں، میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ آپ کیلئے میری محبت لازوال ہے اور کبھی مر نہیں سکتی پھر بھی ہفتے میں ایکبار تو ضرور نہا لیا کریں تاکہ مجھے اور میری محبت کو بھی چار دن زیادہ جینا نصیب ہو۔

یہ آپ نے ٹھیک کہا کہ میں آپ کیلئے سب کچھ ہوں لیکن ہونٹ گول کرکے سیٹیاں آپ صرف کبوتروں کو ہی مارا کریں ورنہ میرا بھی اڑنے کو جی چاہنے لگتا ہے، اب آپ خود ہی سوچیں میں اڑتی ہوئی کوئی اچھی تو نہ لگوں گی، ویسے آپ کے پیار کی فضاؤں میں تو ہر دم اڑتی پھرتی ہوں، یوں تو آپ بھی میرے لئے سب کچھ ہیں لیکن ککڑوں کو دانہ ڈالتے ہوئے میں نے تو کبھی آپ کا تصور نہیں کیا کجا یہ کہ سیٹی ماروں۔

اے جان الفت…!
آپ کی ہر بات ہی انمول ہوتی ہے، آپ نے سچ کہا، دل تو میرا بھی یہی چاہتا ہے کہ آپ کے پہلو میں سؤوں اور صبح جب بیدار ہوں تو آپ کا ہی مسکراتا ہوا چہرہ دیکھوں، مسکراہٹ سے یاد آیا اگلی ملاقات پر دانت صاف نہ ہوں تو کوئی بات نہیں لیکن ماؤتھ واش سے کلیاں ضرور کرکے آئیے گا پلیز۔

میں وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھوں گی، ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی خواہ کیسے بھی حالات کیوں نہ ہوں، اس کے باوجود کہ قبلہ نواب صاحب آپ سے خوش نہیں اور عاق نامے کی تلوار بھی آپ کے سر پہ لٹکتی رہتی ہے پھر بھی آپ میرے ہو، ویسے بھی آپ فکر نہ کیا کریں نواب صاحب نیکدل انسان ہیں، اپنے لاڈلے کو کچھ نہ کچھ تو دے کر ہی گھر سے نکالیں گے، کوئی خالی ہاتھ تو بھیجیں گے نہیں، اچھے لوگوں کی بس یہی پہچان ہوتی ہے، اسی لئے میں کہتی ہوں جتنا جلدی ہو سکے مجھے اپنے گھر لے جائیں، یقین کریں میں آپ کو اپنے حصے سے زیادہ جائیداد دلوا کے نہ لائی تو میسنی نہ کہنا، عاق ہو کے نکلنے سے تو یہ کہیں بہتر ہے عالیجاہ، باقی آپ کی مرضی…!

آپ نے جو گھڑی بھیجی تھی اس کی وجہ سے مسلسل تین دن دیر سے اسکول پہنچتی رہی، بلآخر عقدہ یہ کھلا کہ اس کا سیل بھی آپ کی طرح کمزور ہے، پچیس روپے نقد لگے مگر اب ٹھیک ہے، برائے مہربانی پچیس روپے مونا کے ہاتھ لازمی بھجوا دیجئے گا، اتنے تو آپ نے وینڈر سے کم بھی کرالئے ہوں گے، سیانے سچ ہی کہتے ہیں محبت میں دیئے جانے والے تحفوں کی قیمت کم نہیں کرانی چاہئے ورنہ شرمندگی ہوتی ہے لیکن آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ تین دن دیر سے سکول پہنچنے پر صدر مدرس کیجانب سے جو جھڑکیاں مجھے کھانی پڑی تھیں اسے نصیب کا لکھا سمجھ کے بھول گئی ہوں، محبت میں ایسے مقام تو خیر آتے ہی رہتے ہیں، اسلئے محبوب کو کوسنا مناسب نہیں ہوتا، بس امتحان سمجھ کے بھگتنا ہوتا ہے، پھر بھی امید کرتی ہوں آئندہ ہلکی کوالٹی کی چیز دے کر مجھے کسی اور امتحان میں مت ڈالئے گا، کیونکہ بعض اوقات انسان کو غصہ بھی آجاتا ہے، اور غصے میں آئی استانی سنسناتی ہوئی چنڈ بھی مار دیا کرتی ہے، نہیں یقین تو کلاس ہفتم کی کسی بھی لڑکی سے پوچھ لیجئے گا سوائے مونا کے، مونا تو بہت ہی لائق بچی ہے ویسے بھی اپنے ڈاکخانے کی بقا کیلئے اس سے میں کبھی سبق بھی نہیں سنتی ہوں۔

سیانے کہتے ہیں محبوب کے کبوتر کھانے سے محبت بڑھتی ہے، آپ حوصلہ کر کے چینا کبوتر کسی دن ضرور برضرور بھیج دیجئے گا تاکہ محبت میں کچھ گرمجوشی آئے، بلی نے بھی کھا ہی جانے ہیں، پہلے کونسا وہ نہیں کھا جاتی، مونا کو پلیز دس روپے ضرور دے دینا، ڈاکخانے سے ادھار اچھا نہیں ہوتا اگر خدانخواستہ کوئی خط ادھر ادھر ہو گیا تو قیامت ہی آجائے گی، آپ تو پہلے ہی ڈیوڑھی میں رہتے ہیں، دس روپے بچاتے بچاتے کہیں خارج از مکان ہی نہ ہو جانا۔

اس بار بھی ویلینٹائین ڈے پر ملاقات پکی سمجھئے لیکن پھولوں کیساتھ تحفہ لانا مت بھولئے گا، اس بار نئی ریسیپی سے چُوری بنا کے لاؤں گی اور اپنے ہاتھوں سے ساری کھلا کے بھیجوں گی ورنہ پچھلی بار کی طرح آپ لیجا کے کبوتروں کو ہی کھلا دیں گے۔

بس کافی باتیں ہو گئیں، باقی اگلے خط میں یا اگلی ملاقات پر ہوں گی، اب اجازت چاہتی ہوں۔

آپ کی اپنی
میسنی بانو
نائب صدر مدرس و انچارج کلاس ہفتم
گورنمنٹ گرلز مڈل سکول باگڑ والا کلاں

یہ بھی دلچسپ ہے: مار نہیں پیار: صالحین کا ویلنٹائن پر بدلتا موقف —- فیضان جعفری
Facebook Comments Box
featuredValentine Dayککولالہ صحرائیمیسنیولینٹائن ڈے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
لالہ صحرائی

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

previous post
داعش کی پسپائی: لائحہ عمل کیا ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر قمر الہدیٰ
next post
اسلام کا احیاء اور اکیسویں صدی؟ —— عمر ابراہیم

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.