تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

مار نہیں پیار: صالحین کا ویلنٹائن پر بدلتا موقف —- فیضان جعفری

by دانش ڈیسک 13/02/2019
written by دانش ڈیسک 13/02/2019
87

فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کسی حوالے سے شہرت نہیں رکھتی اور نا ہی اس کا کوئی نام لیتا ہے ہاں البتہ لوگ کبھی کبھار پوچھ لیتے ہیں کہ اس کا وی سی وہی ہے جسے مشرف لایا تھا ناں؟ جواب ملتا ہے جی! اب ایسا وی سی ڈھونڈنا جو ذہنی اور جذباتی طور پر کسان ہو اور کوالی فکیشن کے اعتبار سے پروفیسر بھی ہو، آبِ حیات ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ ایسے لوگ جنیٹک انجینئرنگ سے بھی نہیں بن سکتے۔ زرعی یونیورسٹی کے لوگ اپنی جامعہ کی شہرت کا اندازہ لگا کر اپنی جاب پلیس پر اپنا ادارہ نہیں صرف اپنی ڈگری بتاتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے مشہور نہ ہونے کی ایک یہ بڑی وجہ ہے۔

اگر یہ تھوڑا بہت مشہور ہے بھی تو اس کی وجہ جنوری اور فروری کے مہینے میں اخبارات میں کچھ مذھبی تنظیموں کی جانب سے ویلنٹائنز ڈے کے موقع پر نوجوانوں کو عریانی، فحاشی اور بیہودگی سے روکنا ہوتا ہے جس سے ہر سال اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ مذہب اور مذہبی لوگ ہر کام سے بس روکتے ہی ہیں اور انسان کے جذباتی وجود کے منکر ہیں۔ دو ہزار دو تین میں شباب ملی کے نوجوان و غیر نوجوان موٹر سائیکلوں پر ڈنڈا بردار گشت کیا کرتے تھے اور اس بات کو یقینی بنایا کرتے تھے کہ کوئی طالبعلم کسی طالبہ علم کو طالبہ فلم نہ دکھا دے یا پھول کا تحفہ نہ دے دے یا موبائل ری چارج کارڈ نہ دے دے۔ یہ گشت اوائل جنوری سے وسط فروری تک جاری رہتی ہے جبکہ اس کے بعد تحفہ دینے پر کوئی پابندی نہیں مگر سردی کا ’خوبصورت‘ موسم تو گزر جاتا ہے۔ ان تنظیموں کے اس پدرانہ رویے سے دلبرداشتہ جوڑے جناح کالونی مدینہ ٹاؤن ڈی گراؤنڈ اور کوہِ نور کے چھوٹے چھوٹے کیفیز میں لذت کام و دہن کے ساتھ رسمِ محبت کی انجام دہی کر لیتے تھے۔

اس سال البتہ ڈنڈا بردار گشت والوں نے پدرانہ سے مادرانہ رویے کا ثبوت دیتے ہوئے طلبہ کے چنگ چی کے پیسے بچائے ہیں اور کہا ہے کہ اس مرتبہ چودہ فروری کو ‘سسٹرز ڈے’ منایا جائے گا۔ اور اس ڈے پر عبایا اور اسکارف بہنوں کو ان سے محبت کے اظہار کے طور پر دیا جائے گا۔ البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تحائف ساتھی طالبات کو دینا ہیں یا اپنی حقیقی بہنوں کو اور ان تحائف کی چودہ فروری سے کیا مناسبت ہے؟ بعض دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سسٹرز ڈے کے امر میں ویلنٹائنز ڈے کی ’نہی‘ مضمر ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مذھبی جماعتوں والے بہت دور کی کوڑی لائے ہیں۔

ایک دوست کہنے لگا میری کلاس فیلو سسٹر نے ‘حجابیز’ نامی برانڈ کا عبایا مانگ لیا ہے اب میں کہاں سے آٹھ دس ہزار لاؤں۔

ایک دوست کہنے لگا میری کلاس فیلو سسٹر نے ‘حجابیز’ نامی برانڈ کا عبایا مانگ لیا ہے اب میں کہاں سے آٹھ دس ہزار لاؤں۔ میں نے کہا انارکلی سے کوئی سستا عبایا خرید کر اس میں یوفون کا 520 والا سپر کارڈ رکھ کر اسے دے دو، دیکھنا وہ گلہ نہیں کرے گی۔ فرطِ جذبات میں کہنے لگا کہ آپ نے مجھے کنگال ہونے سے بچا لیا ہے، مولا خوش رکھے! مجھے یاد ہے ہماری یونیورسٹی میں ایک لڑکا ہوا کرتا تھا جو شام کے وقت ہوسٹل میں لڑکوں کو ایک ایک کر کے پکڑتا اور کہتا کہ بول فلاں میری بہن ہے، فلاں بھی میری بہن ہے اور فلاں بھی۔ ۔ ۔ اسی وجہ سے جتنے جوڑے بنے وہ ڈے اسکالرز کے تھے۔ ہم ہوسٹل میں رہنے والے فیلم بینڈ باجا بارات دیکھتے رہے اور خوش خوش رہے۔

اس سسٹرز ڈے کے حوالے سے طالبات سے نہیں پوچھا گیا کہ وہ ‘سسٹرز’ بن کر عبایا اور اسکارف ہی لیں گی یا ان کی کوئی اور ضرورت یا خواہش بھی ہے، اس بارے میں یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم کی رائے ہے کہ اس میں قدیم پدرسری نظام جس میں مردانہ غلبہ اہمیت رکھتا ہے اختیار کیا گیا ہے اور اس نظام میں عورت کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی اسی وجہ سے طالبات کو بے بس کر دیا گیا ہے کہ وہ صرف عبایا اور اسکارف ہی تحفے میں قبول کریں، دیگر ہر تحفہ عریانی اور بے حیائی کے زمرے میں آئے گا۔ اس وجہ سے طالبات میں بغاوت کے کچھ آثار ظاہر ہوئے ہیں مگر ابھی تک وہ صرف زبانی حد تک ہیں۔ دلبرداشتہ طالبات نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ چودہ فروری کو طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے جامعہ ہی نہیں جائیں گی تا کہ والدین بھی کسی طرح کا شک نہ کر لیں اور ویسے بھی کیا فائدہ!!

ایک طاب علم کا کہنا تھا کہ یومِ محبت یا یومِ ہمشیران پر تحفہ دینا کیا صرف لڑکوں کی ذمہ داری ہے؟ کیا شریکِ محبت ہونے والی لڑکیوں اور زیادہ محبت کا دعویٰ ہر وقت جتانے والیوں کا کوئی فرض نہیں بنتا؟ آخر لڑکیوں کو بھی صرف لینے کی بجائے کچھ نہ کچھ تحفہ دینا چاہئے۔ فی الحال یہ جماعتیں اس مسئلے کا کوئی حل نہیں دے سکی ہیں۔

یہ بھی دلچسپ ہے: مکتوب میسنی بنام کُکو ------- لالہ صحرائی
Facebook Comments Box
featuredبرانڈپاکستان برانڈپنجابپنجاب کالجحجابدوستزرعی یونیورسٹیسسٹر ڈےشباب ملیفیصل آباد زرعی یونیورسٹیکلاس فیلوکلاس فیلو سسٹرویلنٹائن ڈےیو فونیو فون سپر کارڈیونیورسٹی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فیروز ناطق خسرو صاحب کی سات کتابوں پر تبصرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد فیاض حسرت
next post
داعش کی پسپائی: لائحہ عمل کیا ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر قمر الہدیٰ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.