تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ایک جذباتی سیاسی کارکن کے خواب —- سحرش عثمان

by دانش ڈیسک 06/12/2018
written by دانش ڈیسک 06/12/2018
77

سیاست پر لکھنے کے لیے جتنی بار قلم اٹھایا یعنی کی بورڈ کھولا اتنی بار رک گئے، ٹھہر گئے یا تحریر درمیان ہی میں چھوڑ دی، ادھوری۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ جب اتنے لوگ سیاست کر رہے ہیں تو بھلا ہمارے کہے کی کیا ضرورت و اہمیت۔ دوسری وجہ ہمارا اپنے دوستوں سے سیاسی اختلاف ہونا ہے۔ تو جب جب ہم سیاست پر لکھتے ہیں انہیں گماں ہوتا ہے ہم ان کو سنا رہے ہیں۔ ہمیں اپنی رائے سے کہیں زیادہ اپنے دوستوں کی بدگمانی تکلیف دیتی ہے سو ہم چپ کرجاتے ہیں۔

آج یہ تحریر جو پچیس کی شام ہی لکھنا تھی، نہیں لکھی۔ وجہ ہماری بہت زیادہ سستی کے بعد یہ ہی تھی کہ ہمارے دوست غصے میں تھے اداس یا فرسٹریٹ تھے۔ ہمیں اچھا نہیں لگا کہ ایسے میں سنجیدہ باتیں کر کے انہیں مزید اداس کیا جائے۔

خیر یہ کوئی ایسی سنجیدہ تحریر بھی نہیں اسے ایک جذباتی سیاسی کارکن کی خود کلامی کہا سمجھا جائے تو بہتر ہے۔

تو پچیس جولائی کی شام نہیں لکھا ایسا کچھ تو بعد میں تو ہمارا فرض تھا خاموش رہنا, وقت دینا, برداشت کرنا, سو کیا۔ آج یہ تحریر لکھ رہی ہوں کہ سو دن پورے ہوئے حکومت کے۔ حکومت کے اور اس کی پالیسیز کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوئے ہیں۔ جو یقینا میرے ملک اور میری قوم کے لیے بہترین ہوں گے۔

خان صاحب آپکو سو دن پورے ہونے اقتدار ملنے پر مبارک ہو آپ سے زیادہ کوئی اس مبارک کا مستحق نہیں۔ ہم تو خیر کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔ خان صاحب آپ نے میری نسل کو خواب دیکھنا سکھایا کیا اس کا شکریہ ممکن ہے؟ آپ نے ہمیں سطحی باتوں سے اوپر اٹھ کر ملک و قوم کے لیے سوچنا سکھایا کیا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے؟
خان صاحب جب آپ گرے تھے اس ایک لمحے میں خواب چھن جانے کا جو خوف میں نے اور میری نسل نے محسوس کیا تھا اور اس خوف نے جس طرح ہمیں دیوانہ وار آپ کی طرف لپکنے پر مجبور کیا تھا اس فیلنگ کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بس اس خوف سے رہائی کے لیے آپ کا شکریہ۔

خان صاحب جب آپ گرے تھے اس ایک لمحے میں خواب چھن جانے کا جو خوف میں نے اور میری نسل نے محسوس کیا تھا اور اس خوف نے جس طرح ہمیں دیوانہ وار آپ کی طرف لپکنے پر مجبور کیا تھا اس فیلنگ کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

آپ نے ہمیں خود پر یقین کرنا سکھایا اس ملک پر یقین کرنے اور یقین رکھنے کا حوصلہ دیا۔ بے یقینی کے ساتھ بھی بھلا کوئی تعلق بن سکتا ہے کیا؟ یہ بات ہمیں معلوم تھی کہ ہماری بے یقینی اس ملک کوکھوکھلا کررہی ہے۔ لیکن ہم کس کے آسرے یقین کی مالا جپتے؟ اس تعفن زدہ نظام میں جس میں میرے کالج کی کئی ایکڑ زمین پر سابقہ حکومتی جماعت کے کارکنوں کا قبضہ تھا۔ ان پر رکھتے کیا یقین؟ یا ان پر جنہوں نے گردوارے مندروں اور مسجدوں کی زمینوں پر ناجائز ٹھیکے دے کر عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوے گلی گلی محلے محلے بھجوائے تھے۔ یا ان پر یقین رکھتے جن کے پٹرول پمپس کی وجہ سے ہم روز لمبے چکر کاٹ کر اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچتے تھے۔ اور جب جب ٹریفک کے رش میں پھنستے تھے تو اپنے جرم ضیعفی پر نادم ہوتے تھے۔ خیر ہماری اماں کہا کرتی ہیں “باری وری روڑی دی وی سنی جاندی اے”
یعنی ایک عرصے بعد کچرا کنڈی بھی صاف ہوجاتی ہے۔

تو ہمیں بھی موقع دیا گیا۔ جیسے کہ زندگی بار بار چانس نہیں۔ دیتی لہذا ہم نے اس چانس پر یقین کیا۔ آپ کی صورت میں۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ آپکی ہر بات پہ آمنا صادقنا کہا ہو یا آپکو اومنی پوٹینٹ سمجھا ہو یا آپکو ہر مسئلے کا اکلوتا حل تصور کیا ہو۔
آپ پر تنقید بھی کی شدید تنقید آپ سے کبھی کبھی دوری بھی ہوئی کبھی غصہ اور کبھی خوش گمانی انسانی تعلقات کی یہ ہی خوبصورتی ہوتی ہے شائد اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ بقول فراز: کبھی تو کشت زعفراں کبھی اداسیوں کے بن
سماج میں تعلقات تب تک قائم رہتے ہیں جب تک ان میں امید برقرار رہتی ہے جب توقع اٹھ جائے تو شاعر لوگ بھی گلہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

شاید ہماری حالت زار پر رحم آیا تھا رب کو۔ یا پھر آپکی مستقل مزاجی نے ہمیں پرامید رکھا ان سارے حالات میں ہم بھئ غصہ کرتے رہے تنقید کرتے رہے لیکن مایوس نہیں ہوئے۔ کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھئے گا خان صاحب ہم سے کئی لوگ ہیں جن کے پاس آپ سے بہتر آپشن نہیں ہے۔ جب بھی انہیں آپ سے بہتر انسان اس منظر نامے میں نظر آیا وہ اس کی طرف چلا جائے گا۔ خان صاحب۔ آپ کے پاس ڈیلیور کرنے اس قوم کی حالت بہتر کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  عمران خان پلیز ! تبدیلی کے خرگوش برآمد کیجئے — مستنصر حسین تارڑ

 

یاد رکھئے گا ہم نے آپکی خاطر عثمان بزدار کو گوارا کیا ہے۔ ہم نے اعظم سواتی سمیت بہت سے “ایلیکٹیبلز” برداشت کیے ہیں لیکن ہم اگلی ٹرم میں انہیں برداشت نہیں کریں گے اس بار اتنا کام تو کر جائیں گے اگلی بار ہم ایلیکٹیبلز کے بغیر جیت جائیں۔ جو ہماری فتح ہو سچی فتح ہمارے لوگوں کی فتح۔

خان صاحب اتنا کام تو کرنا پڑے گا آپ کو کہ اگلی بار ہمیں ولید اقبال پر ہمایوں اختر کو ترجیح نہ دینا پڑے۔ اتنا کام تو کرلیں کہ میرے حلقے میں امیدوار کو ٹکٹ لینے براستہ سیالکوٹ بنی گالا نہ جانا پڑے۔ آپکو پتا ہے نا خان صاحب سیالکوٹ بنی گالہ کے راستے میں نہیں پڑتا؟

خان صاحب اتنا ڈیلیور کر جائیں کہ شبلی فراز کو سینٹر نہ بنانا پڑے وہ ہمارے وزیر ہوں۔

خان صاحب اتنا کام کرنا پڑے گا آپ کو کہ ٹو تھرڈ میجارٹی ملے آپ کو اگلی ٹرم میں بڑے اور مضبوط فیصلے کرنے کے لیے۔
خان صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے مخالف پر حوالداروں کو بیرکوں تک محدود کرنے کی جنگ لڑیں تو اس کاایک ہی راستہ ہے صاف سیدھا اور کھٹن کام کرنے کا ڈیلیور کرنے کا لوگوں کو راحت پہنچانے کا۔

خان صاحب ہم آپ کے ہر مشکل فیصلے میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن آپ کو پہلے اس مشکل راستے پر خود چل کر دکھانا پڑے گا۔

خان صاحب آپ کام کریں اپنے وزیروں کو کہئے کام کریں میڈیا کا پراپیگنڈا خود ہی ناکام ہوجائے گا۔

سوشل میڈیا پر آپ کے لیے لڑنے والے بہت لوگ ہیں۔ جن کا حکومت سمیت کسی ادارے سے کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں سوائے اس کے کہ ان کی آنکھوں میں ایک رنگین خواب کے رنگ چھلکتے ہیں۔ اپنے لوگوں کے لیے اپنے ملک کے لیے دیکھا ہوا اک سہانا خواب اور آپ ہی تو کہتے ہیں “بڑی” خواب دیکھنے والے بڑی فائٹ کرتے ہیں۔ یہاں لڑ لیں گے ہم پر کام کرنا پڑے گا آپ کو۔ یاد رکھئے خان صاحب اپنے سارے ایم این ایز ایم پی یز کو بھی بتا دیجئے ہم ہرگز ہرگز جیالے یا پٹواری نہیں۔ نہ۔ ہمارا بھٹو زندہ ہے نہ شیروں پر فخر ہمیں۔ یہ ان سب کا پہلا اور آخری چانس تھا ہم سے اگلی بار ہمدردی کی امید مت رکھے کوئی۔ کام نہیں کریں گے تو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے ہم انہیں۔

خان صاحب اپنے سارے ایم این ایز ایم پی یز کو بھی بتا دیجئے ہم ہرگز ہرگز جیالے یا پٹواری نہیں۔ نہ۔ ہمارا بھٹو زندہ ہے نہ شیروں پر فخر ہمیں۔ یہ ان سب کا پہلا اور آخری چانس تھا ہم سے اگلی بار ہمدردی کی امید مت رکھے کوئی

خان صاحب آپ بھی یاد رکھئے گا شاہ و ترین سمیت ہر شخص کو بتا دیجئے گا اگلی بار ٹکٹس میرٹ پر دی جائیں گی اور میرٹ وہ ہوگا جو ہم طے کریں گے۔ “ہماری” ووٹ کو عزت نہیں دیں گے تو ان سب کو اٹھا کر ان کے فیورٹس سمیت باہر پھینک دیں گے۔ ہمارے پاس اب نہ تجربوں کے لیے وقت ہے نا موقع کہ زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔

اب ہم اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے ایگریسو ہیں۔ اور اب ہمیں ہمارے انسانی حق چاہیے ہیں اور سارے چاہیے ہیں۔
خان صاحب اتنا ڈیلیور کرلیحئے گا کہ اگلی بار ایسی ایگریسو تحریر نہ لکھنی پڑے۔

سماجی ڈھانچہ ابھی بھی آپکی توجہ کا منتظر ہے۔ کوشش کریں یہ اتنا گھٹن زدہ نہ رہے۔ ہمیں انتہائیں مزید یرغمال نہ بنا سکیں۔ ہماری نسلوں کو ملا گردی نہ بھگتنا پڑے اور میرے بچوں کو کوئی سوڈو لبرل یہ نہ بتا سکے کہ ایکسپوییر آف باڈی ماڈرن ازم ہوتا ہے۔

ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے خان صاحب چاہے وہ موقع پانچ سال بعد آئے یا اڑھائی سال بعد اگر رب کے حبیب صلی علیہ وسلم کی ناموس کو دنیا اور یہ ملک اور عدالتیں اور یہاں کے باسی ہمارا سینسٹو کارنر تسلیم کرلیں اور اس حساس ایریا پر اپنی زبانیں دراز کرنے سے پہلے اگر انہیں رٹ آف سٹیٹ کا خوف گھیر لے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

چاہے کوئی بھی سال ہو یا مہینہ۔

شائد یہ تحریر آپ تک نہ پہنچے لیکن یہ کئی لوگوں کے ان کہے خیالات ضرور ہیں وہ جو آپ کے ووٹر ہیں۔

Facebook Comments Box
featuredIKImran KhanPTISharish UsmanTehreek e Insafپی ٹی آئیتحریک انصافسحرش عثمانسو دنعمران خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی: مرض، موت – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 10
next post
وحید مراد اور ہمارا عہد: قوم کا ارمان —- قسط 5 — خرم علی شفیق

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.