تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عمران کو ووٹ دیا تھا یا الہٰ دین کا چراغ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود

by Editor2 25/10/2018
written by Editor2 25/10/2018
93

خدا کے بندو تم نے عمران کو ووٹ دیا تھا یا الٰہ دین کا چراغ؟ اگر الٰہ دین کا چراغ اس کے ہاتھ میں دے آئے تھے تو شکوہ واجب ہے کہ کہ وہ اس چراغ کو رگڑتا کیوں نہیں کہ ایک جن حاضر ہو اور پوچھے کیا حکم ہے میرے آقا؟ اور عمران مسکرا کر اسے کہے: جائو، معاشی بحران حل کرنے کے لیے قومی خزانے کو ڈالروں سے بھر دو۔ لیکن اگر آپ نے اسے الٰہ دین کا کوئی چراغ نہیں تھما رکھا، صرف ووٹ دیا ہے تو پھر اتنی بے تابی کیسی؟

عمران خان کے پاس الٰہ دین کا کوئی چراغ ہے نہ عمرو عیار کی کوئی زنبیل کہ وہ کھڑے کھڑے ملک میں ڈالر کی ریل پیل کر دے۔ اس پر کوئی حکم اس کی پالیسیوں کی روشنی میں لگے گا۔ اس جرم میں نہیں کہ وہ کوئی جادو کر کے کیوں نہیں دکھا دیتا۔ عقیدت اور تعصب کا معاملہ الگ ہے اور دیانت کا الگ۔

عقیدت عمران کی غلط پالیسی کا بھی دفاع کرتی ہے اور تعصب اس کے اچھے اقدام کی تعریف بھی نہیں کر پاتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عمران کی پالیسیوں کا جائزہ اکثر انہی دو نفسیاتی کیفیات کے تحت لیا جا رہا ہے۔ دیانت سے اگر معاملہ کیا جائے تو جہاں عمران پر تنقید بنتی ہے وہیں اس کی تعریف بھی لازم ہے۔ عمران خان سے غلطیاں بھی ہوئیں اور ان سطور میں، کوئی لحاظ کیے بغیر ان پر بات کی گئی۔

عمران خان کی ٹیم ٹھوس معاشی پروگرام دینے میں ناکام نظر آئی۔ یوں محسوس ہوا اسد عمر کے پاس بلند بانگ دعوے تو بہت تھے مگر تیاری نہیں تھی۔ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے اولین مرحلے میں عوام پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا جس نے غریب آدمی کو کچل کر رکھ دیا۔ اسد عمر کی کوئی تیاری ہوتی تو عوام کو اس بلا سے بچایا جا سکتا تھا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ کہانی میں ایک اور باب بھی ہے۔

اندر کی خبر میرے پاس نہیں ہوتی، دستیاب خبروں پر کفایت کریں تو معلوم ہوتا ہے عمران اسد عمر پر خفا بھی ہوئے اور یہ خبر بھی ہم نے سنی کہ معیشت کو اب وہ خود بھی دیکھ رہے ہیں۔ گویا انہوں نے یہ بات تسلیم کر لی کہ معیشت ایک سنجیدہ عمل ہے اسے محض اسد عمر پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ایک بڑی غلطی یہ ہوئی کہ حکومت معیشت پر عوام کو اعتماد میں نہ لے سکی۔

ایک کمیونیکیشن گیپ پیدا ہوا اور اس نے غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی۔ حکومت کے ترجمان جب بھی میڈیا پر آئے کشتوں کے پشتے لگا دیے مگر عوام کو کسی نے اعتماد میں نہ لیا کہ معیشت کس رخ پر جا رہی ہے۔ حتی کہ خود اسد عمر نے بھی اس کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔ اس سے ہیجان کی کیفیت پیدا ہوئی۔ لیکن اب معاملات کچھ قابو میں آتے دکھائی دے رہے ہیں اور احساس پیدا ہو رہا ہے کہ بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

یو اے ای اور چین سے کچھ امکانات اگر حقیقت کا روپ دھار لیں تو سمجھیے آپ کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ موجودہ حالات میں کیا یہ معمولی کامیابی ہے؟ عمران کی مخالفت کسی کی نفسیاتی گرہ بن چکی ہو تو معاملہ الگ ہے ورنہ اس سوال کا جواب نفی میں نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

ایک الجھن یہ تھی کہ حکومت کبھی کہتی ہے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا، ہم دوست ممالک کے پاس جائیں گے ،پھر کہتی ہے ہم آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں اور چند روز بعد کہا جاتا ہے شاید ہم آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں۔ اس پر حکومت کی بھد اڑا دی گئی اور سوشل میڈیا پر اسے سینگوں پر لے لیا گیا۔ لیکن جناب اسد عمر نے کسی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اس سے اضطراب پیدا ہوا کہ یا تو حکومت کو کہیں سے مالی امکانات دستیاب نہیں ہو رہے، ہر کوئی انکار کر رہا ہے یا پھر اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کس سے معاملہ کرنا ہے۔ یہ وضاحت بھی عمران خان کو کرنا پڑی۔ عمران خان نے وضاحت سے بتایا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت چل رہی ہے لیکن معاملات کو حتمی طور پر طے کرنے سے پہلے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دوست ممالک سے بات ہو اور ہمیں ان سے کچھ رقم مل جائے۔

جب ہم دوست ممالک سے بات کر کے دیکھ لیں گے کہ ہماری کتنی ضرورت پوری ہو چکی ۔ہم باقی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے معاملہ کریں گے۔ اور ہو سکتا ہے کہ دوست ممالک سے اتنی رقم مل جائے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی نہ پڑے۔ عمران خان کی اس وضاحت سے پہلے جو بات مجموعہ تضادات لگ رہی تھی، وہ ایک حکمت عملی بن کر سامنے آئی۔ یہی وضاحت وزیر خزانہ اسد عمر نے کر دی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

اب عمران خان کا سعودی عرب کا دورہ کامیاب ہوا ہے اور سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کا تیل تین سال کے لیے ادھار پر دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ادائیگیوں کا توازن بہتر بنانے کے لیے مزید تین ارب ڈالر پاکستان کو دے گا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ سعودی عرب سی پیک میں خاصی بھاری سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے اور اگلے سال کے اختتام تک قریبا دس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ چھ ارب دالر کا معاملہ تو فوری طور پر حل ہوا۔

یو اے ای اور چین سے کچھ امکانات اگر حقیقت کا روپ دھار لیں تو سمجھیے آپ کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ موجودہ حالات میں کیا یہ معمولی کامیابی ہے؟ عمران کی مخالفت کسی کی نفسیاتی گرہ بن چکی ہو تو معاملہ الگ ہے ورنہ اس سوال کا جواب نفی میں نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

عمران خان کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ الٰہ دین کا چراغ رگڑ کے راتوں رات تبدیلی لے آئے اس کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ درست سمت میں درست پالیسیاں لے آئے۔اسد عمر کی خاموشی سے تاثر پھیلا کہ حکومت کے پاس ٹیکس اور مہنگائی کے علاوہ کوئی پلان نہیں۔

یہ تاثر دورہ سعودی عرب سے زائل ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ معاشی پالیسیوں میں خیر کا پہلو بھی موجود ہے اور حکومت کی ایک سمت بھی ہے۔ سخت معاشی فیصلے بھی برداشت کیے جا سکتے ہیں اگر سمت درست ہو۔ سوال وہی ہے: آپ نے عمران کو ووٹ دیا تھا یا الٰہ دین کا چراغ؟

Facebook Comments Box
آئی ایم ایفاسد عمرآلہ دین کا چراغامدادپاک چینپاک چین دوستیپاکستان تحریک انصافتحریک انصافچائینہچینسعودی شہزادےسعودی عربعمران خانقرضہمعاشی پروگرامنئی حکومتنیا پاکستانیو اے ای
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
سوشل میڈیا کی گرفت ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلال الرشید
next post
ان سے ملیے —- سیاست کے یہ ”حیوان ہائے ظریف“ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظ شفیق الرحمن

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.