تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ان سے ملیے —- سیاست کے یہ ”حیوان ہائے ظریف“ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظ شفیق الرحمن

by Editor2 25/10/2018
written by Editor2 25/10/2018
64

سنا تھا کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی، آج کے دوست کل کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست بنتے دیر نہیں لگایا کرتے۔ وہ جن سے آج محبت کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں کل انہی محبوبوں کو موت کا جھولا جھلانے میں بھی کوئی عار اور حجاب محسوس نہیں کیا جاتا۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں پتھر کی سل ہوتی ہے، تعلق بڑھ جائے تو ”نظریہ ضرورت“ کا اقتضاء اور تعلق ٹوٹ جائے تو وہ بھی حالات کا تقاضا۔۔۔ تعلق بڑھنے کی خوشی اور نہ تعلق ٹوٹنے کاغم! کیا مشینی سے رابطے اور تعلقات ہوتے ہیں؟ جیسے ریموٹ کنٹرولڈ روبوٹس، روبوٹس سے معانقہ، مصافحہ یا مقاطعہ کر رہے ہوں۔ ابھی روبوٹس کا ہماری عملی زندگی میں عمل دخل اتنا مضبوط اور گہرا نہیں۔ یہ تو آنیوالی نسلیں ہی بتا سکیں گی کہ روبوٹس کے ہاں تعلقات کے قائم ہونے اور تعلقات کے ٹوٹ جانے کے بعد آیا کسی قسم کے طربیہ و کربیہ احساسات بیدار ہوتے ہیں یا صورت حال سپاٹ رہتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ آنے والی نسلوں کو غم ِروزگار نے اتنی مہلت دی کہ وہ اپنی ذات کے منطقے سے باہر جھانک کر دیکھ سکیں۔

غمِ روزگار اور فکرِ معاش نے آج کے انسان کو اس حد تک مصروف اور محدود کر دیا ہے کہ بیٹی کے پاس فرصت نہیں کہ بستر مرگ پر پڑی بیمار ماں کی عیادت کر سکے اور بیٹے کے پاس اتنا وقت نہیں کہ ”اولڈ ہوم“ میں پڑے بوڑھے باپ سے ”ہیلو ہائے“ کر کے اس کی تنہائی کو قدرے شگفتہ اور رنگین بنا دے۔ ”اولڈ ہوم“ ہمارے ہاں بھی تو قائم ہو چکے ہیں۔ بوڑھے والدین….. پرانے شہر، پرانے محلوں، قدیمی گلیوں، مانوس ماحول، دیرینہ ہمسایوں، آبائی گھروں اور آزمودہ دوستوں کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں اور نودولتیا نسل نو، یہاں رہنے کو تیار نہیں کہ ان کا ان تنگ و تاریک اور پرہجوم گلیوں میں دم گھٹتا ہے۔ سو، وہ پورکھوں کی ان نشانیوں کویک قلم فارغ خطی دے کر ان پوش آبادیوں میں منتقل ہونا چاہتے ہیں، جہاں بندہ مر جائے تو جنازے کو چارپائی پر ڈال کر قبرستان تک پہنچانے کے لیے چار ہمسائے بھی اکٹھے نہیں ہوتے۔ مشینی دور کی سہولیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ”شارٹ کٹ“ اختیار کیا جاتا اور لاش کو ایمبولینس میں ڈال کر قبرستان یا جنازگاہ کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے اور مغموم پسماندگان ، بعد ازاں گاڑیوں میں ”جائے تدفین“ پر پہنچ کر متوفی کو سپرد خاک کر آتے ہیں۔

بس اتنی سی حقیقت ہے فریب خواب ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہو جائے

اب تو تعلق ٹوٹنے کا بھی دکھ نہیں ہوتا۔ ایک دور تھا کہ شاخ سے پتہ بھی ٹوٹ جائے تو گماں گزرتا کہ نظامِ ہستی درہم برہم ہو گیا ہے۔ اب تو ہم اس حد تک بے حس ہوچکے ہیں کہ تعلقات ٹوٹ جائیں، دل ٹوٹ جائیں یا سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے حتیٰ کہ ملک بھی ٹوٹ جائے، ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ہمیں کچھ بھی تو محسوس نہیں ہوتا۔ چلو، اچھا ہوا! محسوس کرنے کی اذیت سے تو جان چھوٹی۔ اصل ”جان لیوا اذیت“ یہ نگوڑا احساس ہی تو ہے۔ مادی میکانکی تصور حیات کے قربان جائیں کہ اس نے ان ”نگوڑے احساسات“ سے ہماری جان چھڑا دی وگرنہ قدم قدم صفِ ماتم بچھانا پڑتی اور سانس سانس نوحہ کرتے ہوئے سوچنا پڑتا کہ دل کو پیٹیں یا جگر کو روئیں۔۔۔ زندگی جبر مسلسل بن کر رہ جاتی۔

اب تو بدترین مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شام کے اوقات میں گلی محلے میں واقع ہوٹلوں میں ایک ہی میز پر دو بدو اور روبرو بیٹھتے ہیں۔ اس امر پر ان کا اتفاق رائے ہو چکا ہے کہ لیڈروں کے لئے ہمیں ایک دوسرے سے منہ موڑنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔

صد شکر! ان بلاؤں اور آفتوں سے گلو خلاصی حاصل کر کے ہم نے اظہار رائے کی آزادی کے اس دور میں آزادانہ سانس لینا سیکھ لیا ہے۔ اب صائمہ جیسی بیٹیاں باپ کی دستار اور ماں کا آنچل پاؤ ں تلے روند کر گھر کی دیوار پھلانگ جائیں توہم انہیں” کوٹھے ٹپنی“ کہنے کے بجائے ”روشن خیال لڑکیاں“ قرار دے کر آزادی دلوانے کی جنگ میں قدم قدم ان کی قانونی معاونت کرتے ہیں اور اس قانونی معاونت کی فیس مغربی آقاؤں سے ڈالروں میں وصول کرتے ہیں۔

سیاست اورتعلقات بھی ایک عجیب و غریب موضوع ہے۔ آپ نے اکثر اخبارات کے صفحات پر اس قسم کی تصاویر دیکھی ہوں گی کہ وہ سیاستدان جو بیانات میں ایک دوسرے کے لتے اس بری طرح لیتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اگر زندگی کے کسی موڑ پر ان کا آمنا سامنا ہو گیا تو ایک دوسرے کے خون کے یہ پیاسے آپس میں یوں دست و گریباں ہو ں گے جیسے روایتی سوتنیں ایک دوسرے سے جو تم پیزار ہوتی ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا ایک دوسرے کے پیٹ چاک کر کے ”مال مسروقہ“ برآمد کرنے کی عوام کو بلند بانگ یقین دہانیاں کرانے والے جب کسی ختنے، منگنی، شادی، ولیمے ، میلے، نیو ائیر نائٹ یا بسنت نائٹ کی تقریب میں ملتے ہیں تو یوں ایک دوسرے کی طرف بے تابانہ بڑھتے ہیں جیسے مقناطیس کی طرف لوہے کے ذرات یا چاند کی طرف چکور۔۔۔ اور پھر اخبارات میں ان معانقوں اور ملاقاتوں کی تصویریں ان جلی سرخیوں کے ساتھ شائع ہوتی ہیں کہ۔۔۔ بڑا مزہ اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہو کر۔۔۔ یا ۔۔۔ جب گلے سے مل گئے سارا گلہ جاتا رہا۔۔۔ یہ جو سیاستدانوں نے بیان بازی کے اکھاڑے میں ایک دوسرے کو ”دھوبی پلٹا“ دینے کے حوالے سے ”نورا کشتی“ شروع کر رکھی ہے ان تصویروں کو دیکھنے کے بعد اس کا پول کھل جاتا ہے۔

”ایام جاہلیت“ میں سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے عوام کا الانعام اپنے ذاتی تعلقات اور نجی مراسم بھی اس حد تک کشیدہ بنا لیتے تھے کہ ایک دوسرے سے بات تک کرنا بھی گوارا نہ کرتے تھے لیکن یہ تو بھلا ہو پریس کی آزادی اور بے باک صحافت کا! اس نے سیاست دانوں کے چہروں پر پڑے تقدس کے ہر نقاب اور گھونگھٹ کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ اب جبکہ سیاستدانوں کا تمام برا بھلا، زشت و خوب، سیاہ و سفید اور کچا چٹھا عوام کے سامنے آچکا ہے اور انہوں نے ان کا اصل روپ دیکھ لیا ہے ۔ان کا حقیقی چہرہ اور اصل روپ سامنے آنے کے بعد اب وہ بھی لبرل اور نارمل ہو چکے ہیں۔ اب سیاسی کارکن ان کا تعلق خواہ کسی بھی جماعت سے ہو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دست و گریباں نہیں ہوتے۔

اب تو بدترین مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شام کے اوقات میں گلی محلے میں واقع ہوٹلوں میں ایک ہی میز پر دو بدو اور روبرو بیٹھتے ہیں۔ اس امر پر ان کا اتفاق رائے ہو چکا ہے کہ لیڈروں کے لئے ہمیں ایک دوسرے سے منہ موڑنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ وگرنہ ایک دور میں تو گلی محلوں میں واقع چھوٹے قہوہ خانے بھی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے تقسیم ہو چکے تھے۔ گلی کی ایک نکڑ پر واقع ”مولا جی کی کنٹین“ مسلم لیگیوں کا ”ترنجن“ تھی اور دوسرے کونے پر قائم ”شیخ صاحب کاٹی سٹال“ پیپلز پارٹی والوں کے لئے چوپال کا درجہ رکھتا تھا۔ اب یہ ترنجنیں اور چوپالیں آپس میں گڈ مڈ ہو چکی ہیں ۔ اب سیاستدانوں اور اپنے لیڈروں کے لئے مارنے اور مر جانے کا ”جاہلانہ جوش جنوں“ سرد پڑ چکا ہے…. بھلا سانڈوں اور بھینسوں کے اس ید ھ میں معصوم میمنے اپنے سینگ کیوں تڑوائیں۔

سیاسی دوستیاں کانچ کی چوڑیوں سے بھی زیادہ ناپائیدار ہوتی ہیں جب مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے سیاسی جماعتوں کے سربراہ اکٹھے ہوتے ہیں تو بھولے بھالے عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ گویا وہ ”بنیان مرصوص“ بن چکے ہیں۔۔۔ جب وہ عوامی جلسہ گاہوں میں آتے ہیں تو اپنے اس سیاسی یا انتخابی اتحاد کو ”دیوار چین “ سے بھی مضبوط قرار دیتے ہیں لیکن دیکھتی آنکھوں دیوار چین سے بھی پائیدار یہ اتحاد مکڑی کا جالا اور ریت کا کھروندا ثابت ہوتا ہے۔ ریت کی دیوار پر یہ رہنما ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور شانے سے شانہ ملائے یوں کھڑے ہوتے ہیں جیسے ان کی یہ رفاقت شام ابد تک برقرار رہے گی۔ متخالف اور متضاد نظریات رکھنے والے رہنماؤں کو ”نظریہ ضرورت“ کے تحت ایک ہی پلیٹ فارم پر سینہ تانے ایستادہ دیکھ کر آگ اور پانی کے ایک ہونے پر عبوری دور کے لئے یقین آ جاتا ہے لیکن اتحاد اور یقین کی یہ فضا زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ مفادات کی تکمیل ہوتے ہی اتحاد کے اصطبل میں کھونٹے سے بندھا ہر ”چوپایہ“ رسہ تڑا کر بھاگنے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ایک ہی تھان پر بندھے سیاست کے یہ ”حیوان ہائے ظریف“ ایک دوسرے سے یوں منہ موڑے ہوتے ہیں کہ لکھنؤ کا معاملہ بند شاعر یاد آجاتا ہے۔

اگر جاناں خفا ہو تو چلو یوں شب بسر کرلیں
تم اپنا منہ ادھر کر لو، ہم اپنا منہ ادھر کرلیں

Facebook Comments Box
پاکستانی سیاستپاکستانی سیاستدانسیاستسیاسی جماعتیںسیاسیات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
عمران کو ووٹ دیا تھا یا الہٰ دین کا چراغ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود
next post
افغان، پٹھان اور پاکستان: خوگرِحمد سے تھوڑا سا گِلہ بھی سن لے ۔۔۔۔۔۔۔ عبد الطیف آرائیں

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.