تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

سوشل میڈیا کی گرفت ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلال الرشید

by Editor2 24/10/2018
written by Editor2 24/10/2018
68

اس روز اس نیم تاریک کمرے میں، میں اسے دیکھتا رہا، اس کی بات سنتا رہا۔ وہ ہم دوستوں میں عقل اور علم کا استعارہ ہوا کرتا تھا، لیکن اس روز وہ بے حد تلخ ہو رہا تھا۔

اس نے کہا ’’دوسروں کی طرح تم بھی مجھے آزاد سمجھتے ہو۔ ہاں، میرے بدن پر لوہے کا کوئی قفل موجود نہیں، لیکن میں نادیدہ زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہوں۔ ایک وقت تھا، جب میں اپنی مرضی سے رات کے ایک پہر میں سو جایا کرتا تھا۔ آج میں اس وقت سوتا ہوں، جب تھکن کا مارا دماغ مزید جاگنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایک وقت تھا، جب میں بہت سوچ سمجھ کر اپنے دوستوں اور دشمنوں کا انتخاب کیا کرتا تھا۔ اس آنتخاب کی بنیاد برسوں کی آشنائی پہ استوار ہوا کرتی تھی۔ آج سوشل میڈیا پہ وہ لوگ میرے دوست اور دشمن بن چکے ہیں، جن سے پوری زندگی میری ملاقات تک نہیں ہوئی۔ میری طرح شاید انہیں بھی اس بات کا علم نہیں کہ ہم سب کی ڈوریاں تو کسی اور ہاتھ میں ہیں۔ وہ لوگ مجھے میری سالگرہ کی مبارکباد دیا کرتے ہیں، جنہوں نے آج تک ایک دفعہ بھی مجھ سے ملاقات نہیں کی، بلکہ میں یقین سے یہ بھی کہہ سکتا کہ وہ لوگ exist بھی کرتے ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔۔ اور میرے حقیقی رشتے دار بھی مجھ سے دور ہو چکے ہیں‘‘۔

اس نے کہا ’’کبھی میں گوشئہ عافیت میں زندگی بسر کیا کرتا تھا۔ آج میرا ایک ایک لمحہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ میرا موبائل فون اور لیپ ٹاپ میرا قیمتی وقت ضائع کرنے والے آلات بن چکی ہیں۔ کبھی میں خوب سوچ بچار کیا کرتا تھا۔ آج میں ذرا بھی یکسوئی سے کوئی کام نہیں کر سکتا۔ یہ موبائل اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے، میں خود کو نشئی محسوس کرتا ہوں۔ کبھی میں احتیاط سے گاڑی چلایا کرتا تھا۔ آج میری ایک آنکھ سٹیرنگ اور دوسری موبائل پہ گڑی ہوتی ہے۔ میں بخوبی جانتا ہوں کہ میرا وقت بہت تیزی سے ضائع ہوتا چلا جا رہا ہے۔ صحت اور جوانی کے قیمتی لمحات میرے ہاتھ سے پھسلتے جا رہے ہیں۔ اور اگر یہی حال رہا، تو میں سبکدوش ہونے سے قبل کوئی بھی قابلِ ذکر کام نہ کر سکوں گا‘‘۔

اس نے کہا ’’میرا موبائل مجھ سے وہ کام بھی کرواتا ہے، جو میں ہرگز نہیں کرنا چاہتا۔ ایک دن میرے بیٹے نے اس موبائل میں ایک گیم ڈائون لوڈ کر دی۔ ساتھ ہی وائرس آ گیا۔ اب ہر دس منٹ بعد اس پر مختلف کمپنیوں کے اشتہار موصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ فون کو ہینگ کر دیتے ہیں۔ اس دوران آواز کٹنے لگتی ہے اور میں ’ہیلو‘ ’ہیلو‘ کرتا رہ جاتا ہوں۔ اب اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں کہ میں اپنا سارا ڈیٹا کہیں محفوظ کروں۔ پھر موبائل سے سب کچھ ختم کروں اور پھر نئے سرے سے اپنا ڈیٹا واپس ڈالوں۔ یہ صرف کوئی ایک مثال نہیں۔ موبائل بنانے والی کمپنی، اس کا آپریٹنگ سسٹم بنانے والوں، ای میل اور دوسری ایپس میں ایکا ہو چکا ہے۔ مجھے پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ آپ کے فلاں ای میل contact کی آج سالگرہ ہے، اسے wish کیجیے۔ بھلا میں کیوں انہیں wish کروں، جن کا چہرہ آج تک میں نے دیکھا ہی نہیں‘‘؟۔

اس نے کہا ’’میرے بچے مجھ سے بڑے نشئی بن چکے ہیں۔ وہ سارا دن پاگلوں کی طرح موبائل میں گیمز ڈائون لوڈ کرتے رہتے ہیں؛ حتیٰ کہ جھولوں پر بیٹھ کر بھی موبائل میں مگن رہتے ہیں۔ وہ کھیلتے کودتے بھی نہیں۔ وہ پڑھتے ہیں اور نہ سوچتے ہیں۔ مجھے وہ زندہ لاشوں کی مانند دکھتے ہیں۔

ہماری مصروفیات کا تعین اب ہمارے ہاتھوں میں نہیں رہا۔ ہمارے دماغوں کو غور و فکر کے لیے ایک لمحہ بھی تو میسر نہیں۔ وہ جس کار زار میں اترا ہے، ایک نہ ایک دن پوری انسانیت کو اس میں اترنا ہو گا۔ ایک نہ ایک دن، آج نہیں تو کل!

اس نے کہا ’’اور میرا لیپ ٹاپ؟ میں جس ویب سائٹ کو کھولتا ہوں، جس product کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہوں، اگلے کئی ہفتوں تک مسلسل اس شے کو بنانے والی کمپنیوں کے اشتہار موصول ہوتے رہتے ہیں‘‘۔

اس نے کہا ’’24 گھنٹوں کے درمیان جتنا وقت بھی میں بیدار رہتا ہوں، اس دوران میری آنکھوں نے کیا دیکھنا ہے اور دماغ نے کیا سوچنا ہے، میرے معدے میں کیا جانا ہے، اس سب کا فیصلہ اب میرے ہاتھ میں نہیں رہا۔ میں کھاتا جا رہا ہوں، پھلتا جا رہا ہوں۔ کبھی مجھے ایسا لگتا ہے، جیسے میں کسی ڈیرے پر بندھا ہوا ایک جانور ہوں، جس کا مالک اس کا وزن بڑھاتا جا رہا ہے‘‘۔

اس نے کہا ’’کبھی میں صاف گو ہوا کرتا تھا۔ آج میں انتہائی ریاکار بن چکا ہوں۔ موجودہ زمانے میں ہر چیز چونکہ ریکارڈڈ بن چکی ہے۔ قربانی سے لے کر عمرہ تک، میں اپنی ایک ایک نیکی کے ایک ایک لمحے کی تصویر بنا کر نیت پر لگاتا رہتا ہوں۔ اگر میں کبھی کسی کی مدد کروں تو نوٹ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے اس کے شرمسار چہرے کی بھی وڈیو بنا لیتا ہوں۔ سچ پوچھو تو میں ہمیشہ یہی سوچتا رہتا ہوں کہ لوگ کیا سوچیں گے، لوگ کیا سوچیں گے۔ مقابلے کی ایک فضا بن چکی ہے۔ میرے عزیز رشتے دار اپنی نیکیاں پیش کرتے رہتے ہیں؛ لہٰذا مجھ پر بھی اپنی نیکیاں پیش کرنے کا دبائو ہمیشہ موجود رہتا ہے‘‘۔

اس نے کہا ’’میری مصروفیات کا تعین دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ بڑے بڑے گروپس میں، دوسروں کے ساتھ مل کر میں ان لوگوں کا مذاق اڑانے میں مصروف رہتا ہوں، جن سے میں کبھی ملا تک نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ شرفا ہوں۔ ہم سب ہر وقت اپنے موبائل فون اٹھا کر گھومتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ریکارڈنگ کرتے رہتے ہیں، جس کی بنیاد پر بعد میں ایک دوسرے کو شرمندہ کیا جا سکے۔ ہم سب ہمیشہ کوئی نہ کوئی سیکنڈل پیش کرنے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ اس کوشش میں ہمیشہ لڑائی مار کٹائی کا ماحول بنا رہتا ہے‘‘۔

’’لیکن‘‘ اس نے کہا ’’میں شکست تسلیم نہیں کروں گا‘‘ وہ اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آیا اور میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے ٹھیک ٹھاک وزن کم کیا تھا۔ اب اس کی تھوڑی خاصی چھوٹی لگ رہی تھی۔ وہ مسکرا رہا تھا۔

’’ہاں‘‘ میرے دوست، میں ہار نہیں مانوں گا۔ میں کم کھائوں گا، سوچ سمجھ کر کھائوں گا۔ یہ میری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ میں وزن گراتا جائوں گا۔ ورزش ایک ایسی دلچسپ چیز ہے، جو مجھے اس سے باہر کھینچ لیتی ہے، ہم سب جس کے victim بن چکے ہیں۔ میں اپنے مسلز build کروں گا۔ میں دوڑ لگاتا رہوں گا؛ حتیٰ کہ میرا جسم مشقت کی مسرت سے مسکرانے لگے۔ میں ڈیوائسز استعمال کرتا رہوں گا لیکن اپنی مرضی اور فرصت کے مطابق تا کہ اپنے زمانے میں اجنبی نہ ہو جائوں۔ میں ان ڈیوائسز کو استعمال کرنا سیکھوں گا۔ میں الیکٹرانک وائرس سے اس طرح لڑوں گا، جیسے میرا جسم حیاتیاتی وائرس کے خلاف لڑتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں غور و فکر کرتا رہوں گا اور دو ٹانگوں والا ایک جانور ہرگز نہیں بنوں گا‘‘۔

اس بات کو کئی مہینے گزر چکے ہیں۔ میں دوبارہ اس سے مل نہیں سکا، لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ victim ہم سب ہیں۔ ہم سب نشئی بن چکے ہیں۔ کچھ نادیدہ ہاتھوں نے ہمیں جانور بنا دیا ہے۔ ہماری ناکوں میں نکیل ڈالے جا چکے ہیں۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک، ہماری مصروفیات کا تعین اب ہمارے ہاتھوں میں نہیں رہا۔ ہمارے دماغوں کو غور و فکر کے لیے ایک لمحہ بھی تو میسر نہیں۔ وہ جس کار زار میں اترا ہے، ایک نہ ایک دن پوری انسانیت کو اس میں اترنا ہو گا۔ ایک نہ ایک دن، آج نہیں تو کل!

Facebook Comments Box
devicesface bookgooglesocial mediasocial media addictiontwitervirtual worldwhatsAppآپریٹنگ سسٹمٹیوی ٹرڈیوائسزسوشل میڈیاسوشل میڈیا ایڈکشنفیس بکگوگللیپ ٹاپموبائلوٹس ایپ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ایک وزیر اعظم ایسا بھی تھا —– سید مظفر الحق
next post
عمران کو ووٹ دیا تھا یا الہٰ دین کا چراغ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.