تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

خوش خرامی یا برق رفتاری؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد اظہار الحق

by Editor2 23/10/2018
written by Editor2 23/10/2018
67

لڑکا بگڑا ہوا تھا۔ برسوں کا بگڑا ہوا، کھیل کود کا عادی، پڑھائی سے متنفر، کبھی گھر سے بھاگ جاتا، کبھی مکتب سے، کبھی کسی لڑائی میں ملوث، کبھی کسی کو پیٹ کر آتا، کبھی آتا تو سر پر پٹی بندھی ہوئی۔ ماں باپ کا بخت اچھا تھا۔ استاد وہ ملا جو حکومت پر نہیں حکمت پر یقین رکھتا تھا۔ اُس نے لڑکے پر رعب جمایا نہ کوئی سزا دی۔ اصلاح کا آغاز اُس نے لڑکے سے شطرنج کی بازی کھیل کر کیا۔ دوستی ہو گئی تو اس کے مشاغل کی تفصیل معلوم کرنے لگا۔ پھر وہ دن آیا کہ لڑکا زیادہ وقت استاد کے ساتھ گزارنے لگا۔ چند ہفتوں بعد اس میں تبدیلی آنے لگی۔ اس نے لڑائی جھگڑے والے دوستوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ محلے والوں نے حیرت سے اسے کتابیں خریدتے اور پڑھتے دیکھا۔ اب وہ سکول میں باقاعدہ آنے لگا۔ پھر یہ وہی لڑکا تھا جس نے اچھے نمبروں سے امتحان پاس کیا اور تقریری مقابلوں میں سب سے زیادہ انعامات حاصل کیے۔

ایک طرزِ اصلاح متبادل بھی تھا۔ یہ کہ اسے زبردستی پڑھائی پر مجبور کیا جاتا۔ سارا کام سزا سے شروع ہوتا ہے۔ دوسرے طلبہ کے سامنے اس کی تذلیل کی جاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ ایسا بھاگتا کہ کسی کے ہاتھ نہ آتا۔ اور ظاہر ہوتا تو عادی، سزا یافتہ مجرم بن کر۔

یہ واقعہ ایک خبر پڑھ کر ذہن میں تازہ ہوا۔ لاہور میں کل سے ان افراد کے لیے بھی ہیلمٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے جو موٹر سائیکل چلانے والے کے پیچھے بیٹھیں گے یعنی دوسری سواری کے لیے بھی۔ اس میں کیا شک ہے کہ ٹریفک کے معاملے میں ہم مہذب دنیا سے پیچھے ہیں۔ کوسوں پیچھے۔ شاہراہوں پر قتلِ عام یوں ہو رہا ہے جیسے خانہ جنگی برپا ہو۔ موٹر سائیکل سوار کسی نظم کے پابند نہیں۔ وہ ٹکر مارتے ہیں اور اٹھائی گیروں کی طرح بھاگ پڑتے ہیں۔ سانپ کی طرح دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں رینگتے ہیں۔ ’’زرعی‘‘ گاڑیوں یعنی ٹریکٹروں، ٹرالیوں اور ڈمپروں نے الگ حشر برپا کر رکھا ہے۔ ان پڑھ، غیر تربیت یافتہ وحشی ان ٹریکٹروں، ڈمپروں اور ٹرالیوں کو چلاتے ہیں۔ لوگوں کو کچل دیتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بڑی شاہراہوں پر، شہروں کے درمیان، ویگنوں، ٹرکوں اور بسوں نے ریاست کے درمیان ریاست الگ قائم کر رکھی ہے۔ شریفوں کی حکومت کو ان پہلوئوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کے خواب و خیال میں بھی پاکستان کو مہذب ملک بنانے کا نصب العین نہیں تھا۔ شاہراہوں، پلوں اور انڈر پاسوں سے ان کی حکومت شروع ہوتی تھی اور منی لانڈرنگ پر ختم ہوتی تھی خواہ اس کے لیے پاکستانی بنک کی نیویارک برانچ بند ہی کیوں نہ کرنی پڑتی۔

عمران حکومت کی خواہش ہے کہ پاکستانی ایک قانون پسند قوم بن کر دنیا کے نقشے پر از سرنو ابھریں، یہاں ہر کام ضابطے کے مطابق ہو۔ تعمیرات قانون کے مطابق ہوں مگر نئی حکومت کا طریقِ کار حکمت سے خالی نظر آ رہا ہے۔ حکومت کا طرزِ عمل اُس استاد کی طرح ہے جو اصلاح کا عمل ڈنڈے تھپڑ اور پائوں کی ٹھوکر سے شروع کرتا ہے۔ وزیر اعظم کے اردگرد جو لوگ حصار باندھے کھڑے ہیں وہ حکمت سے کم اور حکومت سے کام زیادہ لے رہے ہیں۔ کچھ تو شفقت محمود صاحب کی طرح بالکل ہی سو رہے ہیں اور ان کی قلمرو میں آلِ شریف کے وفادار راتب خور اسی طرح مسندوں پر براجمان ہیں جیسے پہلے تھے اور کچھ اتنا تیز بھاگ رہے ہیں کہ آج نہیں تو کل ضرور گریں گے۔ کوئی ہے جو انہیں بتائے کہ ستر برس پر پھیلی ہوئی برائیاں اچانک اصلاح پذیر نہیں ہوں گی۔

عمران حکومت کی خواہش ہے کہ پاکستانی ایک قانون پسند قوم بن کر دنیا کے نقشے پر از سرنو ابھریں، یہاں ہر کام ضابطے کے مطابق ہو۔ تعمیرات قانون کے مطابق ہوں مگر نئی حکومت کا طریقِ کار حکمت سے خالی نظر آ رہا ہے۔ حکومت کا طرزِ عمل اُس استاد کی طرح ہے جو اصلاح کا عمل ڈنڈے تھپڑ اور پائوں کی ٹھوکر سے شروع کرتا ہے۔

ہیلمٹ ہی کی مثال لے لیجیے۔ پیچھے بیٹھنے والی سواری کے لیے ہیلمٹ پہننا اس کی اپنی سلامتی کے لیے ضروری ہے مگر مسئلہ مالیات کا ہے۔ پہلے انہیں ذہنی طور پر تیار کرنا ضروری ہے۔ یہ الیکٹرانک میڈیا کا عہد ہے۔ آسانیاں حکومت کے لیے بہت ہیں۔ کم از کم تین ماہ کا عرصہ تشہیر کے لیے رکھنا چاہیے۔ اخبارات میں اشتہارات دیجیے۔ ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعے لوگوں کے ذہن بدلیے۔ انہیں مسلسل بتائیے کہ تین ماہ کے بعد یہ پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اکثریت اس عرصہ سے فائدہ اٹھائے گی اور ہیلمٹ کا انتظار کر لے گی۔ جب یہ عرصہ گزر جائے تو پھر آپ بے شک قانون پر سختی سے عمل درآمد کرائیے۔ سزا دیجیے مگر اچانک پچھلی سواری پر ہیلمٹ کی پابندی لگائیں گے تو ردّعمل شدید ہو گا اور سخت منفی! اسی طرح جرمانہ کی رقم بتدریج بڑھائیے۔ مہم کم جرمانے سے شروع کیجیے تا کہ عوام کو احتجاج کی ضرورت نہ پڑے۔ دو تین سو روپے کا جرمانہ ایک رکشے والے کے لیے، ایک موٹر سائیکل سوار کے لیے بہت ہے۔ اتنی رقم کا جرمانہ تین چار بار ہو گا تو وہ اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو گا۔ یکدم جرمانہ اس کی بساط سے باہر ہو گا تو وہ خودسوزی کا تماشہ بھی لگائے گا۔ جلوس بھی نکالے گا اور حکومت کو گالیاں بھی دے گا۔ووٹ تو خیر وہ ایسی نامہربان حکومت کو کبھی بھی نہیں دے گا۔

غیر قانونی تعمیرات گرانے میں بھی حکومت نے عاجلانہ اقدام اٹھایا ہے۔ زیریں طبقے کو یا تو مستثنیٰ قرار دیا جاتا یا ان کی بات سنی جاتی۔ جس شخص کے پاس خریداری کی رجسٹری موجود ہے، اس نے رقم دے کر قطعۂ زمین خریدا پھر خون پسینے کی کمائی سے ایک چھوٹا سا ٹھکانہ تعمیر کیا، اسے گرا دینا دانش مندی نہیں ظلم کے دائرے میں آتا ہے۔ اس کالم نگار کے ذاتی علم میں ہے کہ دارالحکومت کی ایک نواحی آبادی میں ایک با اثر مقامی شخصیت نے پہاڑ اور ٹیلے کاٹ کر زمین ’’تیار‘‘ کی۔ پھر چھوٹے چھوٹے پلاٹ بنا کر فروخت کیے۔ اصل مجرم سرکاری پہاڑ اور ٹیلے کاٹنے والے افراد تھے۔ پلاٹ خریدنے والے کا مکان گرانا غیر منطقی ہونے کے علاوہ ناروا بھی ہے۔

ایک معروف کالم نگار الگ رو رہے تھے کہ ان کے ساتھ بھی ایسا نہ ہو جائے۔ تبدیلی حکمت اور تدبر سے آتی ہے۔ جبر اور دھونس کا طریقہ کارگر ہوتا تو سوویت یونین کی ایمپائر کبھی ختم نہ ہوتی۔ پہلے عوام کی ذہن سازی کیجیے۔ ان کی سوچ بدلیے۔ انہیں قائل کیجیے کہ چند ماہ کے بعد ہم یہ قانون نافذ کرنا چاہتے ہیںسو، ہماری مدد کیجیے۔ دشمنوں کی تعداد میں اضافہ نہ کیجیے۔ عشروں کا کام برسوں میں، برسوں کا مہینوں میں اور مہینوں کا دنوں میں کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ یہ بھی یاد رکھیے کہ پالیسیاں نافذ کرنے والی نوکر شاہی میں کالے رنگ کی بھیڑیں اچھی خاصی تعداد میں ہیں۔

Facebook Comments Box
استادپاکستانٹریفکٹریفک رشٹریفک وارڈنچالانرشکہ چالانعمران حکومتعمران خانموٹر سائیکلموٹر سائیکل چالاننیا پاکستان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
اردو بولنے میں شرم کیسی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود
next post
ایک وزیر اعظم ایسا بھی تھا —– سید مظفر الحق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.