تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبلسانیات

اردو بولنے میں شرم کیسی؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف محمود

by Editor2 23/10/2018
written by Editor2 23/10/2018
112

ہمیں اردو بولتے ہوئے شرمندگی کیوں ہوتی ہے؟ ہم کب اس احساس کمتری سے باہر نکلیں گے؟

مارگلہ کی دہلیز سے اس کے دامن میں بوہڑی کے چشمے تک، خوابوں کا ایک نگر ہے۔ بہتی ندیا کا شور ، پرندوں کی چہچہاہٹ، بہت ساری تتلیاں، صبح دم کسی پگڈنڈی پر آنکھوں میں حیرانی لیے نمودار ہونے والی بھوری لومڑی، قوس قزح کے رنگوں والا مرغ سیمیں اور پھر پہاڑ کے دامن سے پھوٹتا صاف پانی کا میٹھا چشمہ۔ یہ وہی کچھ تو ہے جس کی اقبال نے تمنا کی تھی:

شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہے میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ میں جہاں نما ہو
ہو ہاتھ کا سرہانا، سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت میں وہ ادا ہو
مانوس اس قدر ہو، صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مِرا ہو
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو
پانی کو چھُو رہی ہو ، جھک جھک کے گُل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی، آئینہ دیکھتا ہو
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو
بانگِ درا کی یہ نظم بچپن میں کہیں پڑھی تھی۔

اس ساون میں موسلا دھار بارشوں سے جب نئے چشمے پھوٹ پڑے اور پہاڑی پگڈنڈی کے ساتھ عرصے سے پڑی خشک ندی بھی رواں ہو گئی تو ایک صبح ندی میں سے گزرتے پائوں پھسلا اور میں پانی میں جا گرا تو اس نظم نے آ کر ہاتھ تھام لیا۔ پتھر پر کتنی ہی دیر میں بیٹھا رہا کہ کپڑے خشک ہو جائیں۔

اسی صبح یہ احساس ہوا کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کی تمنا اقبال نے کی تھی۔ بھلے پتھروں پہ ہی چل کر جانا ہوتا ہے مگر اس راستے میں کہکشائیں بکھری پڑی ہیں۔ بس کبھی کبھار شام سے پہلے یہاں سے یہاں ایک بے ہودہ منظر ہوتا ہے اور اس بے ہودگی سے بچنے کے لیے عرصہ ہوا میں نے یہاں جانے کے اوقات ہی بدل لیے۔

اب میں وہاں سہہ پہر کو نہیں جاتا، صبح جاتا ہوں۔ خرانٹ قسم کے کچھ بیوروکریٹ، جن کے چہرے رعونت سے بھرے پڑے ہوتے ہیں سہہ پہر میں دفاتر سے نکلتے ہیں تو اس ماحول کو آلودہ کرنے آ جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایسا نہیں جو شیکسپیئر کی نانی کے ہاں پیدا ہوا ہو۔

یہ سب پاکستانی ہیں، ان کے لہجے بتاتے ہیں یہ پنجاب کے ہیں۔ ان سب کو پنجابی بھی آتی ہے اور اردو بھی۔ لیکن انہوں نے ایک دوسرے سے انگریزی میں بات کرنا ہوتی ہے۔ کوئی ہمسفر انگریز ہو یا کوئی ایسا غیر ملکی مہمان ساتھ ہو جسے اردو نہ آتی ہو تب تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن احساس کمتری کی ماری یہ مخلوق آپس میں اردو میں بات نہیں کرتی۔

ایک خالص قدرتی ماحول میں یہ تصنع کسی نحوست سے کم نہیں۔ لیکن احساس کمتری کی ماری یہ مخلوق انگریزی میں بات کرنے کو فضلیت سمجھتی ہے۔ آج ہی روزنامہ 92 میں الطاف گوہر صاحب کی ایک کتاب کے اقتباسات شائع ہوئے ہیں جس میں وہ نواب آف کالاباغ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کی انگریزی اور ان کا لہجہ اتنا اچھا تھا کہ ہم سب حیران ہوتے۔ وقت بدل گیا لیکن بیوروکریسی کا احساس کمتری ختم نہ ہوا۔

یہ احساس کمتری ہمیں مکمل لپیٹ میں لے چکا ہے۔ عدالتوں میں وکیل آج بھی غلط انگریزی بولنا معیار فضیلت سمجھتے ہیں۔ کسی روز وہاں جا کر دیکھیے احباب کی گفتگو کا معیار کیا ہے ۔ لیکن احساس کمتری کی گرفت اتنی شدید ہے کہ اردو میں بات کرنا گوارا نہیں۔ برسوں پہلے میرے ماموں امریکہ سے گائوں لوٹے تو ان کے چھوٹے سے بچے کو انگریزی میں بات کرتے دیکھ کر گائوں کا ایک آدمی کہنے لگا : دیکھو یار کتنا لائق بچہ ہے فر فر انگریزی بول رہا ہے۔

بھارت میں ہندی قومی زبان نہیں لیکن اس کے باوجود وہ دفاتر میں بطور سرکاری زبان کے رائج کی جا چکی ہے لیکن ہم نے اردو کو قومی زبان قرار دے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود اسے دفاتر میں رائج کرنے کو تیار نہیں۔

شعوری طور پر اس ان پڑھ اور ہماری تعلیم یافتہ بیوروکریسی میں کیا فرق ہے؟ آئین میں لکھا ہے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے ۔ اسے دفتری زبان بھی بنایا جائے۔آرٹیکل 251 میں حکومت کو پندرہ سال کی مہلت دی گئی کہ اس دورانیے میں اردو کو دفاتر میں رائج کرنے کے لیے جو ضروری کام ہے وہ کر لیا جائے۔

یہ مدت 1983 میں ختم ہو چکی ہے لیکن حکومت اس ضمن میں کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔ بھارت میں ہندی قومی زبان نہیں لیکن اس کے باوجود وہ دفاتر میں بطور سرکاری زبان کے رائج کی جا چکی ہے لیکن ہم نے اردو کو قومی زبان قرار دے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود اسے دفاتر میں رائج کرنے کو تیار نہیں۔

مسلم لیگ ن نے 2013 کے انتخابات میں ایک نیشنل لینگوئج کمیشن بنانے کا وعدہ کیا تھا پھر اقتدار کی مدت عدت سمجھ کر پوری کر لی لیکن یہ وعدہ یاد نہ رہا۔ 8 ستمبر 2015 کو سپریم کورٹ نے اس بارے میں فیصلہ دیا کہ آئین کے مطابق اردو کو دفاتر میں سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے۔

اس فیصلے میں عدالت نے لکھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے معاملات چلانے کے لیے سامراج کی انگریزی زبان کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اسے عوام کی اکثریت سمجھ سکتی ہے۔چنانچہ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تین ماہ کی مدت دی اور حکم دیا کہ ان تین ماہ میں جو ضروری اقدامات کرنے ہیں کر لیجیے۔

تین ماہ کی بجائے تین سال ہو چکے اس فیصلے پر عمل نہیں ہو رہا۔جہاں انگریزی کی ضرورت ہے اس میں کوئی برائی نہیں ، ضرور بولی اور لکھی جائے لیکن دفاتر میں اردو رائج کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ سوائے احساس کمتری کی ماری بیوروکریسی کے۔

ملک معراج خالد بھی کہاں یاد آئے۔ جب میں ایم اے انگلش کا طالب علم تھا، وہ ہماری یونیورسٹی کے ریکٹر تھے۔ ایک روز کہنے لگے انگریزی ادب ضرور پڑھو ، بلکہ اس کے طالب علم ہو تو دل لگا کر پڑھو لیکن انگریزی کو خود پر سوار نہ ہونے دینا اور یاد رکھنا شیکسپئیر اقبال سے بڑا نہیں تھا ۔

Facebook Comments Box
اردواردو ادبانگریزی زبانپاکستانی ادبزبانقومی زبانقومی زبان اردوہندیہندی زبان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
تسطیر’ 5‘ ایک مکمل ادبی گلدستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن
next post
خوش خرامی یا برق رفتاری؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد اظہار الحق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.