تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

نئی حکومت: امیدیں اور خدشات —– ارشد محمود ملک

by دانش ڈیسک 09/08/2018
written by دانش ڈیسک 09/08/2018
93

وزیر اعظم ہوں تو عمران خان ورنہ کوئی نہ ہو۔ یہ سب میں کسی عقیدت کی وجہ سے نہیں کہہ رہا اور نہ ہی میں خان صاحب کو واحد امید سمجھتا ہوں۔ دراصل میرا یہ مطالبہ ایک ذہنی اذیت سے بچنے کے واسطے ہے۔ پاکستان میں حقیقی مسائل کیا ہیں اور کاسمیٹکس مسائل کیا اسی کا تعین نہیں ہو پاتا۔ میڈیا دانشور اور تجزیہ نگار منتخب سچ بولتے ہیں جس سے ہیجان کی سی کیفیت برپا رہتی ہے۔ عام آدمی جسے معیشت کی باریکیوں اور قانونی موشگافیوں کا زیادہ علم نہیں ہوتا انہیں ذہنی طور پر آلودہ کر کے ہم انتخابات تو جیت سکتے ہیں مگر پاکستان کے حقیقی مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔

گزشتہ دو حکومتوں کے ساتھ میڈیا اور ان پر اثر انداز ہونے والے اداروں کا رویہ افسوسناک کہا جا سکتا ہے۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر یہ تاثر پھیلایا گیا ہے کہ یہ حکومتیں ملک دشمن قوتوں کی ایما پر قائم ہوئی ہیں اور یہ پاکستان کے مفادات سے متصادم کام کر رہی ہیں۔ زرداری صاحب کی حکومت کے دوران بلیک واٹر کے کارندوں کی پاکستان میں موجودگی کا چرچا عام تھا۔ یقیناً یہ الزامات واقعی تشویشناک تھے اور ان کا کوئی منطقی نتیجہ نکلنا چاہیئے تھا۔ مگر ان الزامات کو بھی محض حکومت وقت کو بدنام کرنے کی سازش کے لئے ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اس وقت کے وزیر خارجہ اور جن لوگوں نے مذکورہ افراد کی سیکورٹی کلیئرنس کی رپورٹس دی تھیں آج بھی معتبر ہیں۔ عجب کرپشن کی غضب کہانیاں پرائم ٹائم کا حصہ رہی ہیں۔ مگر دس سال مکمل ہو جانے کے بعد بھی ٹھوس شواہد کے ساتھ یہ ہمیں نہیں بتایا جا سکا کہ صدر زرداری جنہیں مسٹر ٹن پرسینٹ کہا گیا ہے ملکی خزانے کو کتنا نقصان پہنچا کر گئے ہیں۔ کون کون سے پراجیکٹس سے کمیشن وصول کیا۔ ہو سکتا ہے ہمیں این آر او کی کہانی سنا دی جائے کہ اس کے تحت یہ کیسز منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے۔ مگر اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے رہا کہ کیا این آر او ایک فریق کا معاہدہ تھا؟ فریق ثانی اگر مجرم یا ملزم نہیں ہے تو کم از کم فریق اوّل کا محض قیاس کی بنیاد پر سر نہیں کچل دینا چاہئے۔

ہم شاید دنیا کی واحد بدقسمت قوم ہیں جنہیں حکومت سے زیادہ اپوزیشن سے توقعات وابستہ کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔

نواز شریف صاحب کی حکومت جب بھی قائم ہوئی ہے اسے واضح اکثریت حاصل رہی ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ رویہ زرداری صاحب سے مختلف رہا ہے۔ نواز شریف کو بلیک میل کرنے کے لئے کٹھ پتلیاں ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ ان کی حکومتوں کو سیاسی انداز سے شکست دینا آسان نہیں تھا اس لئے روایتی پردہ داری کا تکلف بھی پس پشت ڈال کر ایک مرتبہ باقاعدہ مارشل لاء عائد کیا گیا اور دوسری مرتبہ عدالتی مارشل لاء کی سی کیفیت پیدا کی گئی۔ نواز شریف کے انداز حکومت کو غداری کہا گیا ممکن ہے کسی کے پاس غداری کے کوئی ثبوت ہوں۔ مگر مجھے غدار سمجھنے میں واقعی مشکل ہو رہی ہے کیونکہ مجھے نواز شریف کے کسی دور میں بھی پاکستان ٹوٹتے نہیں دیکھا۔ نہ ہی پاکستان کی سرزمین پر کسی دشمن کو خاموشی سے قبضہ کرتے دیکھا۔ نہ ہی ہزاروں فوجیوں کو جنگی قیدی ہوتے دیکھا۔ شاید غداری ان چیزوں سے ہٹ کر کوئی عمل ہوتا ہے جسے ہم جیسے سادہ لوح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ نواز شریف ہی نہیں سارا ٹبر چور ہے تازہ نعرہ ہے۔ اس نعرے نے کافی ترقی پائی۔ انصاف کے جہاز کو سپر سونک انداز میں چلایا گیا۔ ایسے ادارے تفتیش کے لئے استعمال کئے گئے جن کی شہرت دنیا میں نمبر ون کے نام سے ہوتی ہے۔ مگر ابھی تک نکال کر کیا لائے ہیں؟ اقامہ اور دولت سے زائد اثاثے۔ یہ سیاسی طور پر تو کسی کو مطمئن کر سکتے ہیں مگر قانون اگر قانونی انداز میں پرکھ شروع کر دے تو ان کہانیوں میں وہ دم نہیں ہے کہ یہ زیادہ دیر ٹھہر سکیں۔

ہم شاید دنیا کی واحد بدقسمت قوم ہیں جنہیں حکومت سے زیادہ اپوزیشن سے توقعات وابستہ کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر غیر منتخب اداروں سے مسیحائی کی امیدیں ہمارے جمہوریت پسند ہونے کو خوب عیاں کرتی ہیں۔ پاکستان میں طاقتور طبقوں کی نمائندہ حکومت کافی عرصہ بعد قائم ہوئی ہے۔ اس لئے ہم توقع رکھتے ہیں کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے وہ بڑے سیل جن کی ذمہ داری شاید بھارت امریکہ اور دیگر ممالک کے پروپیگنڈہ کا جواب دینا تھا وہ اپنے اصل کام کی جانب لوٹ جائیں گے۔ اعلی عدالتیں انصاف گھر بن جائیں گی۔ ایگزیکٹو کی طاقت واپس لوٹا دی جائے گی۔ درآمدات اور برآمدات کے فرق کو پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے قربانی قرار دیا جائے گا۔ بھارت کے ساتھ بات چیت مودی کا یار والا طعنہ نہیں بنے گی۔ ایران کے ساتھ تعلقات کا فروغ کسی کلبھوشن کے ایک ویزے کی نذر نہیں ہو گا۔ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے حقانی گروپ کو سرگرمیاں محدود کرنے کے احکامات مل جائیں گے۔ عمومی تاثر درست ہو جائے گا۔ مگر کیا حقیقت بھی بدلے گی؟ کیا شدت پسند ختم کردئیے جائیں گے؟ کیا اکنامک کوریڈور پر کام کی رفتار یہی رہے گی؟ کیا پرائیویٹائزیشن اب بھی مال بنانے کی کوشش کہلائے گی؟ کیا اب بھی ڈاکٹرز ایسوسی ایشنز کو آزادانہ احتجاج کی اجازت ہو گی۔ کیا اب بھی ڈاکٹر طاہر القادری یا خادم حسین رضوی کے دھرنوں کی میراتھن ٹرانسمیشن ہو گی؟ کیا اب بھی پارلیمنٹ کی توہین کی اجازت ہو گی؟ کیا اب بھی ٹی وی اسٹوڈیوز زہر اگلیں گے؟ یہ وہ سارے سوالات ہیں جن کا جواب ڈھونڈنے میں ہمیں دلچسپی رہے گی۔

آنے والی حکومت کو چاہئیے کہ وہ اپنی جماعت کا میڈیا سنسٹو تاثر دور کرے۔ اپنے ایجینڈے کو بھرپور طریقے سے عملی شکل دے تاکہ لوگوں کا حکومت پر اعتبار مضبوط ہو۔ دعا ہے کہ اقتدار کے ساتھ اختیار بھی ملے۔ میڈیا میں سب اچھے کا تاثر قائم ہو تاکہ لوگ جو گزشتہ کئی سال سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے والے تھے کم از کم احمقوں کی جنت میں وقت گزار کر صحت مند ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments Box
الیکشنسیاستعمران خاننواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جنسی توھم: برابری کا نا قابلِ عمل مغالطہ —- بشارت مرزا
next post
بجوابِ آں جوہر افشانی —- منیر احمد خلیلی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.