تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

جنسی توھم: برابری کا نا قابلِ عمل مغالطہ —- بشارت مرزا

by دانش ڈیسک 08/08/2018
written by دانش ڈیسک 08/08/2018
64

جنس کا مسئلہ قدیم سے حل شدہ نہیں ہے اور یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ قدیم سے جنسی سوال کوئی بڑی اہمیت بھی نہیں رکھتا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں ہے کہ ماضی میں طرفین میں معاملات اطمینان بخش طریقے پر چلتے رہے تھے۔ لیکن اگر ماضی پر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ جنس مرد کے غلبے کا زمانہ تھا تو یہ اعتراض در حقیقت ہمارے دور سمیت ہر دور پر کیا جا سکتا ہے۔ ہم مواقع کی مساوات کی بات نہیں کرنا چاہیے ہم ہمہ نوع استعدادی مساوات کی بات کرنا چاہتے ہیں جو کبھی حاصل نہیں رہی تھی۔ مضبوط فلسفیانہ نظریات، معروضی حالات کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ مذاہب خواہ ان کی بنیاد الہامی ہوئی ہو یا عرفانی بنیادی بندوبست میں جنس مرد کو خصوصیت کے ساتھ مخاطب کرتے ہوئے انہیں بعض جواز مہیا کرنے اور بعض استعدادیں فراہم رکھنے کے لیے ترغیب دیتے رہے ہیں اسی مقدس بندوبست کی بدولت، اگرچہ مکمل طور پر کبھی بنی نہیں لیکن کچھ حد تک، اجتماعی قواعد جو مقامی سماجی قراردادوں سے ہم آہنگ ہوں، رائج رہے ہیں۔ ہم شاید صحیح اندازہ نہیں لگا سکے ہیں کہ آج بھی جب آگاہی اور اطلاعات کئی آسانیوں کی وجہ سے بہت بڑھ گئی ہیں، اقدار اور روایات کی بنیادیں ایک بڑی دنیا کے مردانہ ذہن میں پیوست ہیں، بہت دفعہ جنسی مساوات کے ماحول میں بھی۔

سائنسی فکر اور صنعتی ترقی کے ماحول نے جس فلسفے کو پروان چڑھایا ہے اتفاق سے ایسا ماحول موجود تھا جس نے اس کی کامیابی کو کم از کم معاشی سطح پر منوا لیا ہے۔ لیکن اگر ہم جانتے ہیں کہ زندگی کی معاشی کے علاوہ ذہنی اور پھر روحانی ضرورتیں بھی ہوتی ہیں تو اس درجے میں ہمارا فلسفہ، ہماری بے اطمینانی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ ناکام ہو گیا ہے۔ تا ہم مجموعی انسانی تاریخ میں چونکہ یہ توازن کبھی بھی کسی لمبے عرصے تک برقرار نہیں رہا ہے اور پھر کسی بڑی دنیا میں بھی اس لیے ہم اپنے حالات کے سلسلے میں کسی سرچشمے سے عملی رہنمائی حاصل کرنے کے قابل بھی نہیں بن سکے ہیں، یہیں ایک مشکل، تعصّبات کی بھی ہے جو عقلی اور الہامی ہونے کی بجائے نسلی شعور اور روایت پرستی میں جڑیں رکھتے ہیں۔ اگر ہم معاشروں کے نوع بہ نوع تحولات کو مرد اور عورت کے مابین تبدیل ہونے والے معاملات کے عنوان سے ملاحظہ کرنا چاہیں تو کسی کو اسے ہماری غیر واقعی حساسیت کہہ کر آسانی کے ساتھ محض مسکرا کر مسترد کر دینے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کسی بھی ماحول میں انسانی موقعیت کا درست جائزہ لیتے ہوئے اس کی مجموعی کیفیت کو معلوم کرنے کی کوشش کرنا کوئی پوچ عمل نہیں ہو گا۔

جنسی برابری کے نا قابلِ عمل مغالطے کے علاوہ ہمارے اندر سلیقوں، عادتوں، رسموں اور لباس کے ضمن میں کئی توہمات رواج پا چکے ہیں۔ میرے نزدیک یہ سب ہماری اجتماعیت کی روحانی بنیادوں کو کھودنے کی غیر شعوری کوشش ہے۔

ہمارے مسلم روشن فکروں نے، سائنس میں پیش رفت کے ذریعے جو صنعتی انقلاب برپا ہوا ہے اسے، غلطی سے مرد و زن کے معاملات کے ساتھ بھی جوڑا ہے اور سلیقوں، عادات، رسومات اور ملبوسات کے ساتھ بھی۔ اگر ہم باقی دنیا کے حوالے بھی دیکھیں تو ہر جگہ اصلاح پسندوں اور تجدید کے مویدوں نے ہماری ہی طرح غلط نتائج اخذ کیے تھے۔ ہماری ہی طرح انہیں ناکامی بھی ہوئی تھی۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان دنیا کی حد تک ہم آج بھی اپنی دنیا میں برپا ہونے والی تبدیلیوں کی وجوہ کا صحیح علم حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ ہم وہ ماحول پیدا کیے بغیر ویسی توقعات قائم کر رہے ہیں جن کا ہم نے دنیا میں مشاہدہ کیا ہے۔ ہمیں آج دراصل ایک بہت ہی مضحکہ خیز پریشان کن صورتِ حال کا سامنا ہے۔ ہمارا بظاہر تشخص تبدیل ہو رہا ہے یعنی ہماری ملی ھیئت اور شخصیت کا جنازہ سا تیار ہے اور ہم اپنی حالتِ موجود سے نفرت کرتے ہوئے اسے پر لوک روانہ کرنے کے دوران بھی اصلاً سوگوار نہیں ہیں۔

جنسی برابری کے نا قابلِ عمل مغالطے کے علاوہ ہمارے اندر سلیقوں، عادتوں، رسموں اور لباس کے ضمن میں کئی توہمات رواج پا چکے ہیں۔ میرے نزدیک یہ سب ہماری اجتماعیت کی روحانی بنیادوں کو کھودنے کی غیر شعوری کوشش ہے۔ ہم جانتے ہیں قومیں اپنے ظواہر کے ساتھ نہیں اپنے کردار کے ساتھ پہچانی جاتی ہیں۔ مظاہر کی تبدیلی سے کردار کی جو تبدیلی ہم ملا حظہ کر رہے ہیں اور ابھی ہم نے ملا حظہ کرنی ہے اس سے تو صرف جیلیں ہی بھریں گی۔ ہم عالمی تاجروں کو ان میں سرمایہ کاری کرنے کے سازگار ماحول مہیا کرنے جا رہے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جنسی ہراسانی: مذہب کا اخلاقی و قانونی زاویہ نظر — عمار خان ناصر

 

عمرانی علوم، سائنسی علوم کی طرح سنجیدہ اعداد و شمار کے حامل نہیں ہوتے۔ اندازے اور تخمینے سے کام چلانے کی ہماری عادت اکثر کوئی خطرناک یا خلافِ توقع نتائج پیدا نہیں کرتی۔ جب سے مشینی صنعت کو فروغ حاصل ہوا ہے کئی عمرانی علوم سائنسی تحلیل اور تشکیل کی زد میں آ گئے ہیں۔ جس طرح سائنسی علوم سے تمدنی بہتری واقع ہوئی ہے، عمرانی علوم بھی ممکن ہے ذہنی بہتری کی خدمت میں کامیاب ہوئے ہوں۔ ہمیں یاد ہے کہ کئی سائنسی عقائد بعد کی تحقیقات سے برعکس واقع ہوئے ہیں۔ عمرانی علوم کے بارے میں تبدیل شدہ روش کا مستقبل کیا ہو گا؟ اس سوال کا جواب آنے والی صدیوں میں ہی ممکن ہو سکے گا؟ آج اس سوال کا جواب ڈھونڈنا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ اس سوال کی عمر تھوڑی، اس سے ظاہر ہونے والی صورت حالات کی ضخامت بڑی ہے۔ خود تجربی سائنس بھی تمام مستقبلوں کے لیے حل شدہ عمومی اتفاق رائے حاصل کر چکا مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے یہاں سائنسی تنقید کی ابتداء صنعتی رواج سے زیادہ پرانی نہیں ہے۔ ادبیات میں بھی نئے رجحان نے بہت تحریک پیدا کی۔ میرے نزدیک ادبیات کے لوگ سب سے زیادہ خوش قسمت لوگ واقع ہوئے ہیں۔ صوفیوں اور عارفوں کی طرح اُن کے مخالف بھی عامی رہے ہیں۔ خامی کو مخاطب کرنا آسان، بدلنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ، آزردگان اور تسخیر شدگان کی قبیل کے ضخیم کارنامے مجھے متوجہ کیے بغیر واقع ہوئے لیکن شرح سازوں اور حاشیہ پردازوں کے یہاں جب فنی مہارتوں اور ذہنی عقدوں کی گِرہ کشائی کی تفصیلات نظر پڑتی رہی ہیں تو دِل چاہتا رہا ہے اپنی عینک کا نمبر اوّل فرصت میں تبدیل کرانا چاہیے۔

Facebook Comments Box
featuredتوھمجنسیجنسیاتجنسیتسیکسصنفصنفی کششصنفی نابرابری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
غالب اور صوفیانہ افکار —– عثمان خادم کمبوہ
next post
نئی حکومت: امیدیں اور خدشات —– ارشد محمود ملک

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.