تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالممذہبی

بجوابِ آں جوہر افشانی —- منیر احمد خلیلی

by دانش ڈیسک 10/08/2018
written by دانش ڈیسک 10/08/2018
92

’دانش ڈاٹ پی کے‘ ویب سائٹ میرے لیے اجنبی نہیں ہے۔ اِس کے آغاز کے ساتھ ہی میری تحریریں اِس پر شائع ہونے لگی تھیں۔ علمی، فکری، صحافتی اور ادبی حلقوں سے کافی عرصے سے کٹا ہوا ہوں اس لیے مجھے اپنی محرومی کا افسوس ہے کہ جناب محمد دین جوہر جیسے دانشور کی نگارشات پڑھنے کااس سے قبل موقع نہ ملا۔ دانش نے بڑی دھوم دھام سے ان کا ایک فکر انگیز مقالہ بعنوان ’مذہبی جماعتیں، سیاسی عمل اور اقتدار‘ ابھی تازہ تازہ شائع کیاہے۔ موصوف کا پیرایہ ٔ ِ اظہار ’آئے اور چھا گئے‘ کا سا ہے۔ موصوف نے دانش کے پانی پت میں پہلا حملہ پے در پے سوالات اٹھا کر کیا ہے۔ موصوف کے لہجے میں جتنی متانت ہے اسلوب میں اتنا ہی ثقیل اور اگر برا نہ منائیں تو تحریر سے ’ارسخ العلمی‘ یا ہمہ دانی کا تاثر بھی پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے۔ میری آنکھوں میں سفید موتیا اُترا ہوا ہے۔ اس تکلیف میں کتب کی ورق گردانی اور گہری تحقیق ممکن نہیں۔ لیکن تکلیف کے باوجود جی چاہا کہ اُن کی طویل تحریر کا نکتہ بہ نکتہ جواب نہ بھی دے سکوں تو کم از کم دو تین اہم نکات پر گفتگو کر کے یہ ’رسید‘ دے دوں کہ ’مذہبی‘ نے انہیں پڑھ لیا ہے۔

ان کی تحریر کے آغاز میں اُن کا جو بھاری بھرکم تعارف درج ہے اُس کی روشنی میں یہ حُسنِ ظن رکھا جا سکتا تھا کہ ریاست و سیاست اور جمہوریت، انتخاب جیسے موضوعات پر وہ زیادہ نہیں تو مولانا مودودی ؒ کے خیالات سے اچھی طرح واقف ہوں گے اور انہوں نے علامہ اقبالؒ کے سیاسی نظریات کا بھی گہرائی سے مطالعہ کر رکھا ہو گا۔ لیکن تحریر پڑھ کر یہ حُسنِ ظن رفع ہو گیا۔ اُن کی تحریرمیں سیکولر فکری چمن اور ذہنی فضا کی مہک ہے۔ محمد دین جوہر صاحب کے مضمون کی سرخی ہی سے سوال نکالیں تو پہلا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا مذہبی جماعتیں اقتدار کے لیے سیاسی عمل میں کود سکتی ہیں یا نہیں؟ اُن کا رُجحان واضح طور مذہبی جماعتوں کے سیاسی عمل کی نفی کا ہے۔ اُنہیں مذہبی سیاسی عمل کے پیچھے بہت دور شاید کوئی اور نظیر نہیں ملی چنانچہ اُنہوں نے جو مقدمہ قائم کیا وہ یہ ہے کہ بر صغیر کی مذہبی جماعتوں کا سیاسی عمل وہابی تحریک کی رِیس یا نقالی ہے۔ بات کو سمجھنے کے لیے ہم بھی کچھ سوال اٹھا کر اُن کے جواب تلاش کرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق واسطہ ہے یا نہیں؟ قطع نظر اِس تلخ حقیقت سے کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات میں عمران خان کن پوشیدہ قوتوں کی مدد سے جیتے اور اقتدار کی منزل تک پہنچے، بحیثیت PM-in-waiting انہوں نے جو تقریر کی اُس میں مدینہ کی ریاست کی طرز پر نظام چلانے کا عہد کیا۔ آکسفورڈ کا جدید تعلیم سے آراستہ ایک ایسا شخص جس کی جوانی کا بڑا حصہ مغربی لائف سٹائل کے ساتھ گزرا۔ جس نے پہلی دو شادیاں الٹرا ماڈرن خواتین سے کیں، جس کے جوان بیٹے برطانوی شہریت کے ساتھ، برطانوی کلچر کے مطابق برطانیہ ہی میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کی پارٹی کے بہت سے لیڈر مذہبیت کی شناخت سے الرجک ہیں، جس کے جلسوں کی رونق زیادہ تر ماڈرن نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتے تھے، جس کے دھرنوں کی ساری رونق موسیقی سے تھی، وہ جب حکومت میں آ کر مدینہ کی ریاست کے طرز پر چلانے کا عہد کرتا ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ مدینہ کی ریاست کوئی افسانوی چیز نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق میں ثبت ایک ٹھوس، دائمی اور قابلِ تقلید حقیقت ہے۔ یہ حقیقت ہر مسلمان فرد، سماجی تنطیم اور سیاسی جماعت کو متأثر و متحرک کرتی ہے۔ اور دوسرا سوال جو عمران خان کے مدینہ کی ریاست کو اپنی حکمرانی کے لیے نظیر بنانے کے عہد یا عزم سے پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ کیا یہ عہد یا عزم مذہبی سیاست اور اقتدار سے جڑی ہوئی سچائی نہیں ہے؟ کیا اس سے یہ حقیقت واضح نہیں ہوتی کہ آکسفورڈ کی جدید تعلیم سے آراستہ سیاست دان بھی اقتدار تک پہنچنے یا اس کے استحکام کے لیے مذہبی سیاست کر رہا ہے؟ اگر عمران خان جیسا ماڈرن انسان مدینہ کی ریاست کو اپنی حکمرانی کی بنیاد بنا سکتا ہے توکیا مذہبی جماعتیں اِس عہد اور عزم کے ساتھ سیاست نہیں کر سکتیں کہ وہ بھی مدینہ کی ریاست کی طرح کا نظام قائم کریں گی؟

جوہر صاحب نے مذہبی سیاسی عمل کی بحث کو بطورِ خاص وہّابیت پر مرکوز کرکے سیاست کی اُن متعدد فکری اور عملی لہروں کو سہواً یاعمداً نظرانداز کیا جو طویل مدت گزرنے کے باوجود ہماری دینی سیاسی افکار پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

اب ہم فاضل مقالہ نگارکی اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ مذہبی جماعتوں کا سیاسی عمل وہابیت کے زیرِ اثرہے۔

شیخ محمد بن عبدالوہّاب ؒ کی تحریک کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو وہ سیاسی سے زیادہ ایک اصلاحی تحریک تھی جس کے پیشِ نظر عقائد اور اخلاق کی اصلاح اور معاشرے میں پھیلی ہوئی بدعات اور مذہب کے نام پرجاری جاہلی رسومات کا تدارک تھا۔ انہوں نے اِن مقاصد کے لیے آلِ سعود سے تعاون حاصل کیا۔ آلِ شیخ اور آلِ سعود کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت ریاست کے مذہبی امور آلِ شیخ کے زیر نگرانی رہنے تھے اور سیاسی نظام سارے کا سارا آلِ سعود کے ہاتھوں میں رہناتھا۔ شاہ ولی اللہ ؒ ایک مجدّد تھے۔ ہندوستان میں اُن کی دینی فکر دو شاخوں میں بٹ گئی تھی۔ سیّد احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کے افکار اور محمد بن عبدالوہّابؒ کے افکار میں گہری مماثلت تھی۔ دوسری شاخ کا ظہور مولانا قاسم نانوتوی ؒ کی قیادت میں مدرسۂ دیوبند کی صورت میں ہوا۔ اِس پر شاہ ولی اللہؒ کے متصوفانہ تصورات کی گہری چھاپ رہی۔ میں نے سیرت سیّد الابرار ﷺ کے نام سے سیرت نبوی پر اپنی کتاب میں بعض مقامات پر اسلام کے اِس مزاج کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے کہ یہ ’کبھی تم کبھی ہم، کہیں تم کہیں ہم اور کچھ تم اور کچھ ہم‘ کے اصول پر باطل سے کوئی مصالحت کر ہی نہیں سکتا۔ محمد بن عبدالوہّاب نے اپنی تحریک کے لیے آلِ سعود کی پشت پناہی حاصل کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملات مذہب میں اپنی اور معاملاتِ سیاست میں آل سعود کی اتھارٹی مان کر گویا ایک مصلحت آمیز سمجھوتہ کیا تھا۔ ہم اِس بحث میں نہیں پڑتے کہ مدینہ کی ریاست کی طرز پر نظام چلانے کا دعویدار ہمارا نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کب اور کہاں کس کس سے کن کن مصلحتوں کے تحت مصالحت پر مجبور ہوا اور عرصۂ ِ حکومت میں مجبور ہو گا۔ محمد بن عبدالوہّاب ؒ کے سامنے بھی نمونہ تو مدینہ کی ریاست ہی کا تھا اور وہ قُرآن و سنت و سیرت کے معاملے میں مخلص بھی تھے۔ کیا عمران خان کا یہ اعلان بھی وہّابیت کے زیرِ اثر ہے کہ وہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست کا نقش اجاگر کریں گیَ عمران خان کا آئیڈیل تو ملائشیا کا مہاتر محمد ہے جو نیم لبرل اور نیم سیکولر سیاست دان ہے۔ عمران خان پر کسی قدر دوسرا اثر ترکی کے صدر طیب اردگان کاہو سکتا ہے لیکن طیب اردگان نے کبھی محمد بن عبدالوہّاب کو اپنا آئیڈیل نہیں بتایا۔ اُن پرشیخ بدیع الزّمان نورسی ؒ کا رنگ نمایاںہے جو نقشبندی صوفی سلسلے سے وابستہ تھے۔ اس وقت عمران خان کے قلب و ذہن پر اثر انداز ہونے والی سب سے بڑی قوّت اُن کی تیسری منکوحہ ہیں جن کی وہّابیت سے دور تک کی کوئی نسبت نہیں ہے۔ وہ توہم پرست خاتون ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین(حصہ اول)

 

جوہر صاحب نے مذہبی سیاسی عمل کی بحث کو بطورِ خاص وہّابیت پر مرکوز کرکے سیاست کی اُن متعدد فکری اور عملی لہروں کو سہواً یاعمداً نظرانداز کیا جو طویل مدت گزرنے کے باوجود ہماری دینی سیاسی افکار پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اِمام ابن تیمیہ ؒ کے سیاسی نظریات سے چشم پوشی کی۔ مُسلم اُمت کے سیاسی فکر پر ابن خلدون کے بعد سب سے گہرے اثرات مرتب کرنے والے ابو الحسن الماوری کو بھی انہوں نے لائق اعتنا نہیں سمجھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ پر بھی اُن کی نگاہ نہیں ٹِکی جنہوں نے مغلیہ سلطنت کے ضعف اور مرہٹوں کی بڑھتی ہوئی قوت کے ہند و پاک کی دینی، اخلاقی، سیاسی اور سماجی زندگی کے لیے امڈتے ہوئے خطرات کو بھانپ کرمرہٹوں کی یلغار روکنے کے لیے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دی تھی۔ سیّد احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہید ؒ کی تحریکِ جہاد کے مغز میں بھی اُن کو سیاست نہیں ملی۔ انہوں نے اُس فتویٰ ِ جہادکو بھی فراموش کیا جو ہندوستان پر برطانوی قابضوں کے خلاف علامہ فضل حق خیرآبادی ؒ نے دلی کی جامع مسجد میں کھڑے ہو کر جاری کیا تھا اور اس وقت کے کئی نامور مسلمان رہنمائوں نے اُس کی تائید کی تھی۔ اُس کی پاداش میں اس بطلِ حُریّت کو کالاپانی (سیلولرجیل) میں ٹھونسا گیا تھا اور پھر وہیں انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ انہیں شاید یاد نہیں آیا کہ تحریکِ خلافت تک برّ صغیر پاک و ہند میں اٹھنے والی ہر بڑی تحریک کی قیادت عُلماء کے ہاتھ ہی میں رہی۔ اس وقت پاکستان کی مذہبی جماعتوں میں سے صرف اہلِ حدیث گروہ ہے جس پر وہّابی تحریک کا اثر ہو۔ جمعیت عُلمائے اسلام کی مادر تنظیم جمعیت علمائِے ہندکے قیام سے لے کر اب تک محمد بن عبدالوہّاب ؒ کے بجائے آل انڈیا کانگریس کا اثر رہا ہے۔

جوہر صاحب اِن دینی جماعتوں کو بالکل اُجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں جنہیں دِین کی کوئی سمجھ ہے اور نہ دنیا کی کوئی خبر۔

مذہبی سیاست کا دوسرا دور بیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے اواخرتحریکِ خلافت کے انجام کے بعدشروع ہوا۔ اپنی مسلم قومیت کی شناختی بازیافت اور اِس قوم کے لیے مذہب ہی کی بنیاد پر ایک نئے وطن کا تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم جناب محمد دین جوہر کے اقبالؒ کے بارے کیا خیالات ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف پاکستانی قوم ہی نہیں، عرب و عجم میں ترکی ا ور ایران سے لے کروسطِ ایشیا اور ادھر شمالی افریقہ کے ممالک تک مسلمان انہیں بیسویں صدی کا نابغہ اور مسلم اُمت کا حقیقی ترجمان مانتے ہیں۔ اقبالؒ کی نظر میں مسلم مِلت یا مسلمان قوم کا جوہر ترکیب کیا تھا اور تشکیلِ قوم و ملت میں مذہب کی کیا حیثیت ہے، اِسے جاننے کے لیے بانگِ درا میں اُن کی ’مذہب‘ کے عنوان سے تین شعروں پر مشتمل نظم دیکھ لیجیے:

اپنی مِلّت  پر  قیاس  اقوامِ  مغرب  سے   نہ   کر
خاص  ہے   ترکیب   میں  قومِ  رسولِ  ہاشمیؐ
اُن  کی  جمعیّت  کا  ہے  ملک  و  نسب  پر  انحصار
قوّتِ  مذہب  سے  مستحکم  ہے  جمعیّت   تری
دامن  دِیں  کا  ہاتھ  سے  چھُوٹا  تو  جمعیّت  کہاں
اور   جمعیّت  ہوئی  رخصت  تو  ملّت  بھی  گئی

اِس کے ساتھ ہی اقبالؒ نے ’جدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘ کے الفاظ میں دِین اور سیاست کے باہمی تعلق کو بھی بیان کر دیا ہے۔ دانش کے مقالہ نگار نے جو بعض دلچسپ مفروضے قائم کیے وہ بھی خوب ہیں۔ میرا حسنِ ظن ہے کہ وہ ایک نیک اور پارسا انسان ہیں۔ تصویر میں اُن کا جو حلیہ دِکھ رہا ہے اُس سے غمازی ہوتی ہے کہ وہ تصوف کے رنگ میں رنگی ہوئی با صفا ہستی ہیں۔ لیکن اُن کے خیالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کسی سیکولر دماغی فیکٹری کا تیار کردہ فکری مال ہے۔ ان کے اِن الفاظ سے کہ مذہبی سیاست کے اِجرا کا اصل محرّک معاشرے کی بے دِینی ہے،حقارت اور ذم ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔ مسلمان معاشرے میں اگر تیزی سے بے دینی پھیل رہی ہو، اخلاقی قدریں تباہ ہو رہی ہوں، شرم و حیا کی روح مٹ رہی ہو، خاندانی نظام رو بہ تنزل ہو تو کیا یہ صرف مذہبی جماعتوں کے لیے تشویش کی بات ہے؟ اِس صورتِ حال پرجناب محمد دین جوہر سمیت ہر صاحبِ احساس اور مہذب و معقول شخص مضطرب اور بے چین نہیں ہو گا؟ اگرمذہبی جماعتیں معاشرے کو بے دینی سے بچانا چاہتی ہیں تو اُن کی تحسین کی جانی چاہیے یا انہیں طنزو طعن او رملامت اور مخالفت کا نشانہ بنانا چاہیے؟ اُن کا ایک اور فرمان یہ ہے مذہبی جماعتیں تقویٰ کو جبر سے نافذ کرنا چاہتی ہیں۔ اُن کے اس خیال کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے الدّین النصیحۃ، دعوت و اصلاح، تذکیر وتبلیغ، اِنذارو تبشیر، تزکیہ و تطہیراور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسی قُرآن و حدیث کی اصطلاحیں کبھی پڑھی سنی ہی نہیں اور سیرتِ نبوی ؐ کی کوئی کتاب کھول کر کبھی کھول کر دیکھی ہی نہیں۔ وہ اِن دینی جماعتوں کو بالکل اُجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں جنہیں دِین کی کوئی سمجھ ہے اور نہ دنیا کی کوئی خبر۔ صحیح ُ الفکر قدیم و جدید مسلم سماجی ماہرین اور مذہبی سکالر اِس امر پر متفق ہیں کہ ایک مسلم ریاست کے حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شہریوں کی جان و مال، عزت و آبرو، معاشی مواقع، عقلی اور جسمانی قوتوں، عقائد و اخلاق اور ریاست کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت، اقلیّتوں کے حقوق کی ضمانت اور عدل و انصاف کی فراہمی اوّلین ذمہ داری ہے۔ مغرب کی جدید جمہوری ریاستوں نے جن باتوں کو انسانی حقوق کا نام دیا ہے ان کی حفاظت مدینہ کی ریاست کے آئینی نقشے پر قائم ہر حکمران پر لازم ہے۔ اُن کے دستوروں میں بھی کم و بیش یہی حکومتی ذمہ داریاں ہیں۔

۔۔۔ان کے اِن الفاظ سے کہ مذہبی سیاست کے اِجرا کا اصل محرّک معاشرے کی بے دِینی ہے،حقارت اور ذم ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔ مسلمان معاشرے میں اگر تیزی سے بے دینی پھیل رہی ہو، اخلاقی قدریں تباہ ہو رہی ہوں، شرم و حیا کی روح مٹ رہی ہو، خاندانی نظام رو بہ تنزل ہو تو کیا یہ صرف مذہبی جماعتوں کے لیے تشویش کی بات ہے؟

محترم محمد دِین جوہر کے اندر اگر کوئی تعصّب گھر نہ کیے ہوئے ہو تو وہ اِس حقیقت کوتسلیم کریں گے کہ افغانستان میں مُلا عمر کی طالبان حکومت کی بدھ مجسموں کو توڑنے اور اسامہ بن لادن اور اُن کی تنظیم القاعدہ پر کڑی نظر اور مضبوط کنٹرول نہ رکھنے جیسی کچھ بہت بڑی غلطیوں سے قطعِ نظر، اُس حکومت نے اوپر درج ریاستی فرائض کو کماحقہٗ انجام دیا تھا۔ پے در پے جنگوں سے تار تار ملک، جس میں وار لارڈز کی وحشیانہ من مانیاں اپنے اپنے علاقے میں قانون کا درجہ اختیار کر گئی تھیں، طالبان حکومت نے انہیں قانون کا پابند اور ریاست کے تابع کر لیا تھا۔ ہیروئن کی فیکٹریاں تباہ کر دی تھیں اور پوپی کی فصل اگانے پر سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ ملک کے 95%حصے میں مکمل امن و امان قائم کر دیا تھا۔ امن و امان کے پہلو سے افغانستان امریکہ اور یورپی ممالک پر سبقت لے گیا تھا۔

تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کی صورت میں جو دہشت گرد وحشی بلاوجود میں آئی تھی اس کی اٹھان اور فروغ کے اسباب کا حکومتی سطح پر، حقوقِ انسان کی تنظیموں، سماجی تحقیقی اداروں اور NGOs کی طرف سے آج دن تک کوئی غیرمتعصبانہ، دیانت دارانہ اور بے لاگ تجزیہ کیا ہی نہیں گیا۔ وہ غیر ریاستی عناصر ہماری بحث کا موضوع نہیں ہیں۔ ملک کی مذہبی جماعتوں کے منشور اور پروگرام پر نظر ڈالیں۔ اُن میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کے بجائے بندوق کی نوک پر اقتدار پر قبضہ کرنا اور جبر سے تقویٰ پھیلانا چاہتی ہو۔ پاکستان کے قیام کے بعد جتنے انتخابات ہوئے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ مذہبی جماعتوں نے ان میں اسی بنا پر حصہ لیا کہ جمہوری عمل اُن کی ترجیح ہے۔ انتخابی ہار جیت جمہوریت کا حصہ ہے۔

ملک کی مذہبی جماعتوں کے منشور اور پروگرام پر نظر ڈالیں۔ اُن میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جو ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کے بجائے بندوق کی نوک پر اقتدار پر قبضہ کرنا اور جبر سے تقویٰ پھیلانا چاہتی ہو۔

قیاس ہے کہ عمران خان ہی دانش کے مقالہ نگارکے پسندیدہ لیڈر ہیں۔ خان صاحب کو سیاست میں اُترے دو عشروں سے بھی زیادہ مدت بیت گئی۔ انہیں پے در پے ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ آخر اُنہیں اُن بالادست قوتوں کا سہارا لینا پڑا جن محسنوں کو وہ خود امپائر کہتے تھے۔ کوئی خلائی مخلوق کہتا ہے اور کوئی ’محکمہ زراعت‘ کا نام دیتا ہے۔ اُن کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں نے انہیں اکھاڑے میں اتارنے سے پہلے جو جتن کیے انہیں دیکھ کر حیرت سے زیادہ غیرت آتی ہے۔ بلوچستان میں کیسے ایک حکومت ختم کی گئی اور سینیٹ کے انتخابی شفافیت کے تالاب کو گندے جوہڑ میں بدلا گیا، کیسے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوا۔ الیکشن سے پہلے اس پارٹی کو توڑنے کے لیے نادیدہ قوتوں نے الیکٹ ایبلز اور دیگر لالچی اوربزدل لوگوں کو کیسے تحریکِ انصاف میں شامل کیا۔ الیکشن سے پہلے نواز شریف کو کس طرح عدالتی فیصلوں کی رسیوں سے باندھا اور پھر کس طرح پکڑ کر جیل میں ٹھونس کرعمران خان کے لیے میدان صاف کیا گیا۔ کارپوریٹ سیکٹر کے پابند میڈیا کے بڑا حصہ کو کیسے عمران خان کی پروجیکشن پر لگایا گیا۔ جو صحافی اور کالم نگار اس پابندی کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئے ان کی زبان اور قلم پر بندش کی ایسی پر اسرار گرہیں لگائی گئیں جو بدترین آمروں کو بھی نہ سوجھی تھیں۔ اس کے باوجود بھی الیکشن میں ہولناک دھاندلی کی ضرورت پیش آئی۔ اتنی کوشش کر کے بھی جب وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے اسمبلی میں مطلوبہ گنتی پوری نہ ہوئی تو جس طریقے سے آزاد ارکان کو ہانکا لگا کر حمایت پر آمادہ کیا گیا اس نے اس منصب کو وقار بخشنے کے بجائے بے اعتبار بنا دیا۔ یہ تفصیل میں نے اس لیے درج کر دی کہ حضرت محمد دین جوہر پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائے کہ مذہبی جماعتیں ہزیمت کیوں اٹھاتی ہیں۔

جناب محمد دین جوہرکی تحریر کے لہجے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان کے منصۂ ِ ظہور پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے دنیا فکر کی ظلمتوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ان کی جوہر افشانی ہی نے دانش و بینش کی بتیاں روشن کیں، ان کے خامہ کی جنبش سے فراست نے انگڑائی لی، ان کے قلم کی ضرب سے حکمت کے چشمے جاری ہوئے ہیں۔ نیز یہ کہ مذہبی جماعتیں تو عقل کی اندھی اور تدبّرسے یکسر خالی ہیں۔ موصوف کے زعم دانش کے بارے میں اگر میرا یہ گمان غلط ہے تو وہ مجھے معاف فرما دیں۔

Facebook Comments Box
featuredJamat e IslamiJIJUIFMMAآل سعودجماعت اسلامیجمعیت علما اسلامسراج الحقسیاستشاہ ولی اللہشیخ عبدالوھابمجلس عملمحمد دین جوہرمذھبی جماعتیںمذھبی سیاستمولانا فضل الرحمانوھابیوھابی ازم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نئی حکومت: امیدیں اور خدشات —– ارشد محمود ملک
next post
پڑوسی ——- مہوش طالب کا افسانہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.