تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
دیگردیگرسماجیسیاسیکالم

عمران خان: احمقانہ یقین کی ایک اور لازوال داستان ۔۔۔۔۔۔۔۔ خبیب کیانی

by Editor2 26/07/2018
written by Editor2 26/07/2018
156

آج عمران خان کی جیت کو دیکھ کر دل بہت شاد ہوا۔ میں نے اس شخص کو اس دن سمجھنا شروع کیا جب اسے ایک فرد کے بجائے ایک کہانی کے طور پر فالوکرنا شروع کیا اور میرا آپ سب کو بھی یہی مشورہ ہے کہ عمران خان کو کہانی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ اسے بہتر سمجھ پائیں گے۔ اس کہانی میں موجود عمران خان نامی کردار کی سب سے پر کشش اور شاندار خوبی احمقانہ حد تک اپنے خوابوں کی تکمیل کا یقین ہے۔

اچھے برے ہر دور میں مستقل مزاجی سے آس پاس کے لوگوں کی منفی باتوں کو خاطر میں لائے بغیر خان اپنی کامیابی کا ایک احمقانہ یقین اپنے دل میں پالتا رہا۔ ایسے دور بھی آئے جب خا ن کے بہترین چاہنے والے بھی خان کو کہتے نظر آئے کہ شاید آگے صرف اندھیرا ہے لیکن خان ہمیشہ چند قدم اور چلنے کا کہہ کر چلتا رہا اور آج اپنے اسی احمقانہ یقین کی وجہ سے خان اور وزارت عظمی کے درمیان شاید چند گھنٹے ہی رہ گئے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی کہانی ہے ، عزم و ہمت کی، خود پر یقین کی، اور طوفانوں میں بھی سر اٹھا کر چلنے کی کہانی ۔ مجھے آج کے حالات دیکھ کر پنجا ب یونیورسٹی میں کیا گیا اپنا ایک سیلف ڈویلپمنٹ کا سیشن یاد آ گیا جس میں احمقانہ یقین کے معجزے اوران سے جنم لینے والی کہانیاں ہمارا موضوع رہی تھیں۔

 کچھ بڑا کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے افراد اپنے اندر کے بے وقوف کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں کیونکہ اندر کا یہی بے وقوف اور کچھ کر دکھانے کی لگن ہمیں نت آئیڈیاز پر نہ صرف غور کرنے پہ مجبور کرتی ہے بلکہ بظاہر بے وقوفا نہ اور غیر معروف آئیڈیاز کو کامیابی سے عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار احمقانہ اعتماد بھی فراہم کرتی ہے۔

تو آپ میں سے کون بتا سکتا ہے کہ کامیابی کے لیے کن کن چیزوں کا ہونا ضروری ہے؟ پنجاب یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ میں سیلف ڈویلپمنٹ سیشن کے دوران جب میں نے یہ سوال کیا توہال میں موجود طلباء و طالبات اور اساتذہ نے محنت، قسمت، پیسے، وقت اور دعائوں جیسے اسباب کو کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا۔ میں نے تمام جوابات کو سننے کے بعد خاموشی کا ایک چھو ٹا سا وقفہ لیا تو تمام نگاہیں میری طرف سوالیہ انداز میں مرکوز ہو گئیں کہ کیا ہمارے جوابات درست تھے؟ اس سے پہلے کہ خاموشی کا یہ وقفہ طوالت کے باعث اپنا اثر کھو دیتا، میں نے حاضرین کو یہ بتایا کہ جی جوابات سب درست ہیں بس کامیابی کی اس ترکیب میں تھوڑا بے وقوفی کا نمک ڈال لیں تو اس کا پھیکا پن جاتا رہے گا۔ مطلب! سر آپ کہہ رہے ہیں کہ کامیابی کے اسباب میں سے ایک بے وقوفی بھی ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میری بات کے فوراً بعد ایک طالبہ نے اپنی حیرانی کا اظہا ر کیا۔ یہ حیرانی صرف اس طالبہ کے سوال میں ہی نہیں تھی بلکہ ہال میں موجود تمام لوگ میری طرف سے پھینکی گئی اس ذہنی گگلی پہ مجھے گھور رہے تھے، کچھ کے چہروں پر حیرانی کے تاثرات بھی واضح تھے کہ یہ صاحب شروع کی چند باتوں سے تو بہت معقول لگے تھے لیکن کوئی معقول شخص یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کچھ بے وقوف بھی ہوں۔ قبل اس کے کہ لوگ اس بے وقوفا نہ جملے کی تاب نہ لاتے ہوئے ہال سے باہر جانا شروع کر دیتے مجھے ایک اور سوال کے ذریعے بات کو آگے بڑھانا پڑا۔ اچھا یہ بتائیں کہ آپ کے خیال میں اب تک کی ایجادات میں سے سب سے زبردست ایجاد کیا ہے؟ موبائل! ہال کے کونے سے آواز بلند ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے: میں قاضی حسین احمد کو دوست سمجھتا تھا: عمران خان کی یادیں

 

زبردست! میں نے جواب دینے والے طالب علم کو شاباش دیتے ہوئے پورے ہال سے کہا آئیں کچھ دیر کے لیے ذہنی طور پہ اس دور میں چلتے ہیں جب پہلی بار مارکونی نے وائر لیس پیغام رسانی یالمبے فاصلے تک ہوا کی لہروں پہ آواز کو سفر کروانے کا خواب دیکھا تھا۔ فرض کریں کہ آپ اس دور کے ایک انسان ہیں اور مارکونی بابو آپ کے دوست ہیں۔ اور وہ اچانک سے ایک دن آکر آپ سے یہ کہتے ہیں کہ دوستو! میں ایک ایسی چیز ایجاد کرنے جا رہا ہوں جس کی مدد سے ہم آواز کو کوسوں دورتک بنا کسی تار کے سفر کروانے کے قابل ہو جائیں گے تو اس دعوے پر آپ کا ایماندارانہ رد عمل کیا ہو گا؟ سر! ظاہر ہے اس کو پاگل یا بے وقوف ہی کہیں گے ہم۔ ایک طالب علم کے اس بے ساختہ جملے کے ساتھ ہی ہا ل میں موجود کافی لوگوں کے چہروں کے تاثرات سے لگا کہ انہیںبے وقوفی اور کامیابی کے درمیان تعلق کی کچھ کچھ سمجھ آگئی ہے۔ کنفیوژن کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مجھے یہ بتانا پڑا کہ مارکونی اپنا یہ آئیڈیا لے کر واقعی سب سے پہلے اپنے دوستوں کے پاس گیا تھا اور اس کے دوستوں نے اس کا آئیڈیا سن کر اس کے سامنے تو اس کی بڑی تعریف کی لیکن کچھ ہی دیر بعد سائیڈ پر جا کر سب متفقہ طور پر فیصلہ کر کے مارکونی کو ذہنی چیک اپ کے لیے لے گئے۔ اتنے زبردست آئیڈیا پر اپنے جگری دوستوں کی طرف سے اس سلوک کے بعد بھی مارکونی نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر ۱۹۰۱ میں اس نے لمبے فاصلے پر ہوا کی لہروں پر آواز کو سفر کروا نے میں کامیابی حاصل کی۔ جو اپنے آئیڈیا کی وجہ سے اپنے دوستوں میںبے وقوف اور پاگل لیبل کیا گیا اسے دنیا آج بھی جدید وائر لیس کمیو نیکیشن کا بانی مانتی ہے۔

حالیہ سالوں میں امریکی صدارتی الیکشن بھی ایسی ہی ایک مثال ہیں جہا ں پوری دنیا کی طرف سے احمق اور بے وقوف کے طور پر لیبل کیے گئے فرد نے کامیابی حاصل کر کے ہر کسی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔۲۰۱۶ کے وسط میں ساری دنیا اس بات پر نظریں جما ئی بیٹھی تھی کہ امریکہ کا اگلا صدر کون ہو گا۔ڈیموکریٹس نے سابقہ صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری کلنٹن کو میدا ن میں اتارا جبکہ ریپبلیکنزکی طرف سے مشہور بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کیا گیا۔ دنیا بھر کے سیاسی پنڈت ہلیری کو زیادہ موزوں امیدوار کے طور پر دیکھ رہے تھے کیونکہ وہ ماضی میں امریکی خاتون اول ،سینیٹر اور سیکرٹری خارجہ جیسے اہم مناصب سے انتہائی خوش اسلوبی سے عہدہ بر آ ہو چکی تھیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کی نامزدگی پر نہ صرف امریکہ میں لوگ ہنسے بلکہ پوری دنیا میں اس کا مذاق اڑایا گیا۔ تجزیہ کار وں کی بڑ ی تعداد یہ سمجھتی تھی کہ اگر ٹرمپ کے پاس تجارتی اثر و رسوخ نہ ہوتا تو ریپبلیکنز اتنے احمق شخص کو نامزد کرنے کی غلطی کبھی نہ کرتے۔ میڈیا میں تواتر کے ساتھ ٹرمپ کو احمق،مغرور، پاگل اور سنکی لیبل کیا گیا۔ ہر روز نت نئے انداز میں کارٹون بنا کر ٹرمپ کی شخصیت کو مسخ کیا گیا۔

بھائی دنیا میں کچھ بھی کر لو ایک بس کسی کے احمقانہ یقین کو کبھی چیلنج نہ کرنا۔ یہ یقین ہی ہر انہونی کو ہونی کرتا ہے اور عقل ، دلیل اور منطق کو با آسانی ہرانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے زندگی کو دلچسپ بناتا ہے۔

اس ساری صورتحال میں تقریبا سارے سب بڑے میڈیا ہائوسز کے تجزیہ کار متفق تھے کہ ٹرمپ ہارے گا۔ چند گنے چنے لوگ ہی اگر مگر لگا کر ٹرمپ کی حمایت کر رہے تھے۔ اس ساری صورتحال کے با وجود ایک فر د ایسا تھا جسے سو فیصد یقین تھا کہ ٹرمپ ہی جیتے گا۔ یہ فرد ٹرمپ خود تھا۔ اتنے برے حالات کے باوجود اس احمقانہ اعتماد نے ٹرمپ کا مذاق اڑانے والوں کو اور ہوا دی۔ بات پوری دنیا میں پھیلی اور ٹرمپ کی مذاحیہ ویڈیوز دیکھ دیکھ کر لوگوں نے ٹرمپ کے صدر بننے کے خواب کا مذاق اڑایا۔ ظاہر ہے یہ سارا قصہ پاکستان بھی پہنچا اور ٹرمپ ٹرولنگ میں ہم پاکستانیوں نے بھی خوب حصہ ڈالا۔ ہمارے ایک عزیز دوست سمیع نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ٹرمپ جیت گیا تو میں ٹنڈ کروا لوں گا۔سمیع کا خیال تھا ٹرمپ کا امریکی صدارتی الیکشن بس ایک رسمی کاروائی ہے ہلیری کا جیتنا کنفرم ہے۔ کیونکہ سمیع صاحب نے یہ دعوی فیس بک پر کیا تھا اس لیے دوست یاروں کا ایک پورا ٹولہ اس سارے معاملے کو فالو کرنے لگا۔ سچ بتائوں تو میرا اپنا بھی کچھ ایسا ہی خیال تھا لیکن دل کہتا تھا کہ ایک احمق شخص کو کبھی انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہئے۔

خیر الیکشنز ہوئے اور ٹرمپ نے ہلیری کو بڑے مارجن سے پچھاڑ دیا۔ ظاہرہے ٹرمپ کی جیت کے اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ ٹرولرز کی شامت آگئی۔ کسی کو چہرہ چھپانا پڑا تو کسی کو ٹنڈ کروانی پڑی۔ جی جی! یہ ٹنڈ والے صاحب سمیع ہی تھے ۔ اپنے کہے پر پورا اترنے پر جہاںدوستوں نے سمیع کو شاباش دی وہاں ہم نے شاباش کے ساتھ ساتھ سمیع کو یہ مفت مشورہ بھی دیا کہ بھائی دنیا میں کچھ بھی کر لو ایک بس کسی کے احمقانہ یقین کو کبھی چیلنج نہ کرنا۔ یہ یقین ہی ہر انہونی کو ہونی کرتا ہے اور عقل ، دلیل اور منطق کو با آسانی ہرانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے زندگی کو دلچسپ بناتا ہے۔

اگر ہم ہر وقت عقل کی ٹوپی پہنیں رکھیں تو دنیا کی کہانی سے انہونیاں ختم ہو جائیں گی اور ایک ایسی دنیا جہاں ہر کام روٹین کا کام ہو اور کوئی انہونی نہ ہو یقیناً ایک بہت بورنگ جگہ ہو گی۔ تو دوستو آپ سب بھی ہمیشہ یاد رکھیں کہ کچھ بڑا کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے افراد اپنے اندر کے بے وقوف کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں کیونکہ اندر کا یہی بے وقوف اور کچھ کر دکھانے کی لگن ہمیں نت آئیڈیاز پر نہ صرف غور کرنے پہ مجبور کرتی ہے بلکہ بظاہر بے وقوفا نہ اور غیر معروف آئیڈیاز کو کامیابی سے عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار احمقانہ اعتماد بھی فراہم کرتی ہے۔ سیشن کے آخری جملے کے فوراً بعد ایک طالب علم نے کہا کہ سر آج تک عقل فیشن میں تھی، آج پتا چلا کچھ کر کے دکھانا ہے تو بے وقوفی بھی ضروری ہے۔ مجھے یہ سن کراطمینان ہوا کہ بات پہنچ چکی ہے۔ ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ جی جی ۔۔ آپ سے ہی کہہ رہا ہوں۔ کچھ دیر کے لیے عقل کی ٹوپی اتار کر کچھ بونگیاں نہ مار لی جائیں؟

Facebook Comments Box
featuredIKIKI Prime MinisterImran KhanPTIامریکہامریکی صدربل کلنٹنداستانسیلف ڈویلپمنٹصدر بشعمران خانلازوال داستاننیا پاکستانہلری کلنٹنیقین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ادبی تنقید اور تنقیدی دبستان ۔۔۔۔۔۔ شہباز بیابانی
next post
ڈپریشن سے خودکشی تک —- ڈاکٹر فرحان کامرانی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

30/10/2025

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.