تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

فیض: انقلابِ چین سے انقلابِ ایران تک ——- فتح محمد ملک

by شاہد اعوان 28/07/2018
written by شاہد اعوان 28/07/2018
150

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اشتراکی دُنیا میں ترمیم پسندی اور بنیادی پرستی کے درمیان کشمکش زوروں پر تھی۔ فیض صاحب رُوس سے وطن واپسی پر راولپنڈی تشریف لائے تھے اور پاک چین دوستی کی انجمن کے سربراہ ڈاکٹر ایوب مرزا کے دولت کدے پر اپنے پرستاروں اور مداحوں میں گھرے بیٹھے تھے۔ ایسے میں قدرتی طور پر سوویٹ یونین اور چین میں اشتراکی نظریہ و عمل کی باہم متصادم تفسیر و تعبیر کا سوال اُٹھایا گیا- حاضرین میں سے چند ایک افراد یہ جاننے کو بیتاب تھے کہ فیض صاحب چین اور روس میں سے کس کو حق بجانب سمجھتے ہیں؟ اس پر فیض صاحب نے انتہائی بیزاری کے ساتھ کہا تھا: ’ہٹاؤ بھئی! یہ بھی شیعہ سُنّی ہو گئے‘-یوں یہ سوال تاریخ کے ڈسٹ بِن کی نذر ہو کر رہ گیا اور شعر و شاعری کا دور شروع ہو گیا۔ اِس پر مجھے فیض کے مجموعہء کلام ’’دستِ تہِ سنگ‘‘ میں تین منظومات پر مشتمل اُن کا ’’سفرنامہء چین‘‘ بے ساختہ یاد آیا- فیض صاحب نے یہ سفر وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے دورِ اقتدار میں اختیار کیا تھا۔ وہ جولائی ۱۹۵۶ء میں پاکستان کے مدیرانِ جرائد کے ایک وفدکے قائدکی حیثیت میں چین گئے تھے۔ وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کراُن کی حیرت اور مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ چین کے وہ عوام جو افیون کے نشے میں مست رہا کرتے تھے اب بندگانِ عمل مست کا انقلابی کردار ادا کرنے میں منہمک ہیں۔

چند افراد یہ جاننے کو بیتاب تھے کہ فیض صاحب چین اور روس میں سے کس کو حق بجانب سمجھتے ہیں؟ اس پر فیض صاحب نے انتہائی بیزاری کے ساتھ کہا تھا: ’ہٹاؤ بھئی! یہ بھی شیعہ سُنّی ہو گئے‘-

فیض کایہ سفرنامہء چین ’پیکنگ‘ اور ’سِنکیانگ‘ کے ذیلی عنوانات سے دو نظموں اور ایک غزل پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں تخلیقات ماؤزے تنگ کی قیادت میں اشتراکی فکر و عمل کی سرسبزی و شادابی سے پھوٹی ہیں۔ نظم ’’پیکنگ‘‘ میں فیض صاحب رجائیت کی لَے پر نغمہ زن ہیں:

یوں گماں ہوتا ہے بازو ہیں مرے ساٹھ کروڑ
اور آفاق کی حد تک مرے تن کی حد ہے
دل مرا کوہ و دمن دشت و چمن کی حد ہے

میرے کِیسے میں ہے راتوں کا سیہ فام جلال
میرے ہاتھوں میں ہے صبحوں کی عنانِ گلگوں
میری آغوش میں پلتی ہے خدائی ساری
میرے مقدور میں ہے معجزہء کن فیکوں

’’سِنکیانگ‘‘ پہنچے تو اِس یقینِ محکم کی دولتِ نایاب پائی کہ:

اب کوئی طبل بجے گا، نہ کوئی شاہسوار
صبحدم موت کی وادی کو روانہ ہوگا!
اب کوئی جنگ نہ ہوگی نہ کبھی رات گئے
خون کی آگ کو اشکوں سے بجھانا ہوگا

کوئی دل دھڑکے گا شب بھر نہ کسی آنگن میں
وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا
سہم، خونخوار درندے کی طرح آئے گا

اب کوئی جنگ نہ ہو گی مے و ساغر لاؤ
خوں لٹانا نہ کبھی اشک بہانا ہوگا
ساقیا! رقص کوئی رقصِ صبا کی صورت
مطربا! کوئی غزل رنگِ حنا کی صورت

اِس پر مطرب نے جو نشاطیہ غزل عطا کی اُس کا مطلع اور مقطع پیشِ خدمت ہے:

بساطِ رقص پہ صد شرق و غرب سے سرِشام
دمک رہا ہے تری دوستی کا ماہِ تمام
ملے کچھ ایسے، جُدا یوں ہُوے کہ فیض اب کے
جو دل پہ نقش بنے گا وہ گُل ہے داغ نہیں

مگر افسوس، صد افسوس فقط چند برس کے بعد فیض صاحب کی یہ رجائیت دھندلانے لگی اور بالآخر نوبت یہاں آ پہنچی کہ اُجالا پہلے داغ داغ ہوا اور پھر تاریکی میں بدل کر رہ گیا- یوں فیض صاحب کو اشتراکی دنیا میں بنیاد پرستی اور ترمیم پسندی کے مباحث مسلمانوں میں شیعہ سُنّی کی سی فرقہ آرائی نظر آنے لگی- مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لینن انعام سے سرفراز ہونے کی بدولت سوویٹ یو نین میں بار بار آنے جانے اور وہاں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کے مشاہدات اور تجربات نے اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا- روسی دانشور لُدمیلا وسیلیئوانے اپنی کتاب ’’پرورشِ لوح و قلم: فیض،حیات و تخلیقات‘‘ میں اِس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ:

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لینن انعام سے سرفراز ہونے کی بدولت سوویٹ یو نین میں بار بار آنے جانے اور وہاں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کے مشاہدات اور تجربات نے اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا-

’’فیض نے دوسرے ترقی پسند مصنفین کے برعکس ’’سوویت موضوع‘‘ پر بہت کم شعر لکھے– ان کے ہم عصر ترقی پسند شعراء اور ادیبوں کو دیکھا جائے تو ان میں کوئی ایسا شاید ہی ملے گا جس کی تخلیقات میں ماسکو، سٹالن، لینن، سُرخ میدان جیسے عنوانات پر نظم یا افسانہ نہ ہو- سوویت یونین سے اپنی آشنائی کے طویل برسوں کے دوران فیض نے غالباً دو ہی اردو نظمیں لکھی ہیں جو صریحاً سوویت ملک سے وابستہ ہیں- ان میں سے ایک ہے ’’اکتوبر انقلابِ روس کی سالگرہ‘‘- دراصل یہ ایک فرمائشی نظم ہے جواکتوبر انقلاب کی پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر لکھی گئی- ….. صرف عنوان سے اِس نظم کا تعلق رُوس سے ہے- نہ جانے کس وجہ سے یہ نظم فیض کی شاعری کے کسی مجموعے میں درج نہیں کی گئی-‘‘ 1

اپنے استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے لُدمیلا ایک بار پھر فیض کی اسی فرمائشی نظم کا ذکر کرتی ہیں:

’’۱۹۷۰ء میں سوویت یونین میں لینن کی صد سالہ سال گرہ کے موقعے پرمنجملہ دوسری کتابوں کے، لینن پر اُردو شعراء کی نظموں کی کتاب تیار کی جا رہی تھی- فیض سے لینن پر نظم لکھنے کی فرمائش ہوئی- فیض لینن کی شخصیت اور ان کی تعلیمات سے عقیدت رکھتے تھے لیکن (علامہ اقبال کے برعکس!) وہ لینن کو غالباً اپنی شاعری کے کردار کی حیثیت سے کسی بھی طرح قبول نہیں کر سکے ہوں گے! وہ اپنی شاعرانہ صلاحیت پر زور نہیں ڈال پائے- چونکہ سوویت اعلیٰ عہدہ داروں کی رائے میں لینن پر اردو نظموں کی کتاب ایک واحد لینن امن انعام یافتہ اردو شاعر کی نظم کے بغیر چھاپنا ممکن نہ تھا ’نوائے لینن‘ میں وہی، اکتوبر انقلاب پر فیض کی نظم درج کر دی گئی- ‘‘ 2

اشتراکی انسان دوستی کی منزل سے اسلامی انسان دوستی کی منزل تک کا یہ سفر ہنوز فیض شناسوں کی توجہ کا منتظر ہے- ہمارے مارکسی اور سیکولردانشوروں نے تو اس نظم کا اصل عنوان ہی بدل کر رکھ دیا ہے- وہ اس عہدآفریں نظم کو ہمیشہ اُس کے اصل عنوان وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّک کی بجائے ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں- خود فیض نے ایران کے اسلامی انقلاب کو اِس نظم کا سرچشمہء فیضان قرار دیا تھا-

یہاں مجھے ایک مرتبہ پھر فیض کے اِس بیزار کن تاثر نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے:

’’ہٹاؤ بھئی! یہ بھی شیعہ سُنّی ہو گئے‘‘- مسلمانوں کی تاریخ میں فرقہ وارانہ جنگ و جدل کی ابتدا جس زوال کا نقطہء آغاز ثابت ہوئی تھی وہی زوال اب اشتراکی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا- ایسے میں فیض احمد فیض کواسلام کے عروج و زوال کا خیال رہ رہ کے یاد آنے لگا- اب کمیونسٹ مینی فیسٹوکی بجائے لوحِ ازل پر لکھی ہوئی تحریریںفیض کا سرچشمہء فیضان بن گئیں اور وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّک کی سی نظمیں وجود میں آنے لگیں جن کے عنوان قرآن مقدس سے مستعار ہیں اور جن کے مطالب قرآن حکیم کی تعلیمات کے ترجمان ہیں-اب انھیں خلقِ خدا کے ہمہ مقتدر ہو جانے کا وہ وعدہ رہ رہ کر یاد آنے لگتا ہے جو لوحِ ازل میں لکھا ہے:

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طر ح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے ،حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ،ناظر بھی
گونجے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!

اشتراکی انسان دوستی کی منزل سے اسلامی انسان دوستی کی منزل تک کا یہ سفر ہنوز فیض شناسوں کی توجہ کا منتظر ہے- ہمارے مارکسی اور سیکولردانشوروں نے تو اس نظم کا اصل عنوان ہی بدل کر رکھ دیا ہے- وہ اس عہدآفریں نظم کو ہمیشہ اُس کے اصل عنوان وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّک کی بجائے ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں- خود فیض نے ایران کے اسلامی انقلاب کو اِس نظم کا سرچشمہء فیضان قرار دیا تھا- آغا ناصر نے فیض صاحب پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: ’’فیض صاحب سے ایک شاعر صحافی مرحوم حسن رضا نے انٹرویو کرتے ہوئے دریافت کیا تھا کہ ایرانی انقلاب کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟ فیض صاحب نے جواب دیا تھا- ’’یہ اپنی قسم کا بڑا انقلاب ہے- انقلابِ فرانس کے بعد اس قسم کا انقلاب دنیا میں نہیں آیا- روس، چین، ویت نام وغیرہ کے انقلابوں میں طرفین کی فوجوں کے درمیان جنگ تھی- ایران میں براہِ راست عوام کی فوج اور حکومتی اداروں سے لڑائی ہوئی ہے- یہاں پر عوام نے فوج کو ہرایا ہے-‘‘ 3

روس اور چین میں اشتراکی انقلاب پر ایران میں اسلامی انقلاب کی برتری کا یہ اعتراف مجھے ایک مرتبہ پھر درج بالا نظم کے درج ذیل مصرعے دُہرانے، بار بار دُہرانے اور دُہراتے چلے جانے کا جذب و جنوں عطا کرتا ہے:

گونجے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!

انسانی تاریخ میں انا الحق کا نعرہ سب سے پہلے منصور حلّاج نے بلند کیا تھا- منصور حلّاج ایک جولاہے کا بیٹا تھا- بغداد کے غریب ترین اور انتہائی مفلوک الحال باشندوں کے محلے میں رہتا تھا- سلاطین و ملوک نے خود کوظلِ الہ (خداکا سایہ) قراردے کر خلقِ خدا پر اپنی خدائی قائم کر رکھی تھی- ایسے میں ایک غریب جولاہے کے بیٹے کا خود کو انا الحق کہنا گویا سلاطین و ملوک پر عام آدمی کی خدائی کا بلند بانگ اعلان تھا- فیض کی تفہیم و تعبیر کے مطابق لوحِ ازل پر لکھے ہوئے اللہ کے پیغام کی رُو سے عوامی انقلاب ہی منشائے خداوندی ہے۴!


حواشی

1- پرورشِ لوح و قلم، فیض: حیات اور تخلیقات، لُدمیلا وسیلئیوا، ترجمہ: اُسامہ فاروقی، آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس، ۲۰۰۷ء، صفحہ ۲۴۸ –

2-  ایضا، صفحہ ۲۴۹۳-

3۔ ہم جیتے جی مصروف رہے، آغا ناصر، لاہور، ۲۰۰۸ء، صفحہ ۱۰۱۴-

4۔ میں جب بھی فیض کی یہ نظم پڑھتا ہوں یا سُنتا ہوں تو مجھے قرآنِ حکیم کی سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ بے ساختہ یاد آتی ہیں- جناب غلام احمد پرویز نے اپنی تفسیر ’’مفہوم القرآن ‘‘ میں سورۃ الرحمن ( لاہور، جولائی ۱۹۶۱ء)کی آیات ۱۰،۱۱ اور ۱۲ کا مفہوم یوں بیان کیا ہے:

’’اس میزانِ عدل کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ انسانی پرورش کے لیے جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے….. یعنی زمینی پیداوار، مثلاً لذیذ پھل، خوشوں کے پردوں میں لپٹی ہوئی کھجوریں، بالوں کے اندر اناج، رنگا رنگ کے خوشبودار پھول….. انہیں ہم نے ہر فرد کے لیے الگ الگ نہیں رکھا- اسے تمام مخلوق کے فائدے کے لیے مشترکہ طور پر دیا ہے – اس کی تقسیم کے لیے قرآن کی میزان دے دی گئی تاکہ ہر فرد کو اس کی ضروریات کے مطابق رزق ملتا رہے- (اگر مشترکہ سامانِ زیست کی تقسیم اور صرف کے لیے خدا کی طرف سے مستقل اصول و قوانین نہ دیئے جاتے اور اسے لوگوں کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا کہ وہ جس طرح چاہیں اسے صرف میں لائیں تو طاقتوار انسان سب کچھ سمیٹ کر بیٹھ جاتے اور کمزور انسانوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ملتا….. جیسا کہ ان قوانین کو نظر انداز کر دینے سے دنیا میں ہو رہا ہے)-‘‘ (صفحہ ۱۲۵۷)  آیت ۵۵ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی کا یہ فرمان پیش کرتے ہیں:

’’یاد رکھو! ان کی حال کی زندگی اور مستقبل کی زندگی (یہاں اور وہاں کی زندگی) میں کوئی بُعد اور فاصلہ نہیں ہوگا- دونوں کے ثمرات ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں گے- (زندگی ایک جوئے رواں ہے، جو یہاں سے وہاں تک مسلسل جاتی ہے- اس لیے اس کے حال اور مستقبل میں کچھ فرق نہیں ہو سکتا- نشوونما یافتہ ذات، یہاں بھی سکون و اطمینان سے رہتی ہے اور اس کی یہی کیفیت وہاں ہوگی- اس قسم کے افراد کی اجتماعی زندگی یہاں بھی آسائشوں اور فراوانیوں کی ہوگی، اور وہاں بھی- یہاں کی جنت کے گوشے مسلسل وہاں کی جنت سے جا ملتے ہیں)- ان حقائق کی روشنی میں تم غور کرو اور بتاؤ کہ تم خدا کے قانون مکافات کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کی تکذیب کرو گے!‘‘ (صفحہ ۱۲۶۲)

سورۃ الواقعہ کی پہلی چھ آیاتِ کریمہ کا مفہوم درج ذیل الفاظ میں دیا گیا ہے:

’’جب وہ واقع ہونے والا انقلاب، جس کے وقوع پذیر ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں، ظہور میں آئے گا- تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنہیں آج پست اور کمزور سمجھا جاتا ہے، وہ بلند اور قوی ہو جائیں گے اور جو آج اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں، وہ پست ہو جائیں گے- یعنی اُس وقت، نیچے کے طبقے کے لوگ (عوام، جنہیں مستبد قوتوں نے اپنے پاؤں تلے روند رکھا ہے) حرکت میں آ کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اوپر کے طبقہ کے، بڑے بڑے لوگ، یوں منتشر اور پریشان ہو جائیں گے جیسے تیز آندھی میں گردو غبار اڑ رہا ہو-‘‘ (صفحہ۱۲۶۵)

Facebook Comments Box
Faiz Ahmad Faizانقلابانقلاب ایرانانقلاب چینپاک چین دوستیخامانائیخامہ نائیسوویت یونینسینکیانگفیضفیض احمد فیضفیض اور اسلامفیض: انقلابِ چین سے انقلابِ ایران تک ------- فتح محمد ملکلیننمائوزے تنگوزیراعظم حسین شہید سہروردی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
شاہد اعوان

previous post
دیر میں جماعت اسلامی کی شکست کے اسباب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضیاء الرحمان
next post
الیکشن 2018 آر ٹی ایس کی ناکامی اور دھاندلی ۔۔۔۔۔۔۔۔ رقیہ اکبر

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.