تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسائنسسماجیکالم

ڈی این اے، سائنس، قانون اور پاکستان: علی احمد

by دانش ڈیسک 24/01/2018
written by دانش ڈیسک 24/01/2018
82

یہ پاکستان نہیں امریکا کی بات ہے۔ ایک خاتون کے ساتھ دو لوگوں نے زیادتی کی۔ انکوائری کے دوران پولیس نے بہت سے مشتبہ لوگوں کے ڈی این اے سیمپل لئے اور لیب رپورٹ کے مطابق ایک انیس سالہ نوجوان کا ڈی این اے میچ کر گیا۔ اسے پچیس سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ تقریبا پانچ سال کی قید کے بعد پتا چلا کہ ڈی این اے میچنگ کے طریقہ کار میں غلطی تھی تو اسے آزاد کر دیا گیا۔ یہ پہلا یا آخری کیس نہیں تھا جس میں غلط شخص کو سزا سنا دی گئی بلکہ امریکا جیسے ملک میں بھی ایسے کیسز خاصی تعداد میں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کی سائنس میں کوئی مسئلہ ہے بلکہ آپریٹرز عام طور پر رزلٹس بناتے ہوئے غلطیاں کرتے ہیں۔

اب آپ کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ فنگر پرنٹس کی طرح سوائے “یکساں جڑواں” (identical twins) کے ہر شخص کا ڈی این اے مختلف ہوتا ہے۔ یہ آپ کے بالوں، ناخن، سکن، کسی بھی جسمانی مواد وغیرہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ آپ سے زبردستی، دھوکہ دہی یا انجانے میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان جیسے ملک جہاں جھوٹی گواہی،جھوٹی ایف آئی آر، تفتیشی اداروں کی رشوت ستانی، ذاتی و سیاسی استعمال اور جعلی میڈیکل رپورٹس، میڈیکل بورڈز معمول کی بات ہیں، وہاں ڈی این اے کے ساتھ بھی کیا نہیں ہو سکتا؟ امریکا جیسے ملک میں کم از کم یہ یقینی ہوتا ہے کہ sanctity of evidence will be ensured شواہد کی حفاظت اور اس میں کوئی دو نمبری نا ہونا کم از کم وہاں یقینی ہوتا ہے۔

انصاف محض مظلوم کے ساتھ نہیں بلکہ ملزم کے ساتھ بھی ہونا ضروری ہے ورنہ ملزم بھی مظلوم ہی بن جاتا ہے، ایک ایسا مظلوم جس کے ساتھ کوئی ہمدردی بھی نہیں کرتا بلکہ ہر کوئی نفرت ہی کرتا ہے

اس پس منظر کو ذہن میں رکھیں اور فرض کریں کہ کسی کیس میں بہت زیادہ عوامی دباؤ آ جاتا ہے پولیس پر اور وزیروں پر۔ وہ کسی بھی شخص کو پکڑتے ہیں، اس کا ڈی این اے سیمپل لیتے ہیں اور تمام کیسز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ لیں جی جرم ثابت ہو گیا۔ بلے بلے ہو گئی۔ کیس ختم اور اصل مجرم دندناتے پھر رہے ہیں اب بھی۔ جس غریب کی گردن میں پھندہ فٹ ہو گیا، اسے پھانسی دے دی۔ کہانی ختم پیسہ ہضم۔

اگلا کیس فرض کریں۔ ایک مرد اور ایک عورت نے باہمی رضامندی سے بدکاری کی اور بعد ازاں خاتون نے اس پر زیادتی کا الزام لگا دیا۔ محض ڈی این اے پر انحصار کی صورت میں تو وہ شخص مجرم ثابت ہو گیا فورا۔

مزید اگلا کیس فرض کریں۔ خاتون کے ساتھ کسی نے زیادتی کی۔ خاتون اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔ انہوں نے جو حلیہ بتایا تھا وہ آپ سے تھوڑا بہت میچ کرتا تھا۔ آپ وہاں سے اپنے کسی کام کے سلسلے میں محض گزر رہے تھے تو پولیس نے آپ کو پکڑ لیا۔ جو ڈی این اے سیمپل پہلے لیا گیا تھا، اس کی جگہ آپ کا سیمپل ڈال کر “مجرم” پکڑ لیا جی پولیس نے۔ صاحب بہادر کی ترقی ہو گئی اور آپ کو پھانسی۔ خاتون بھی مطمئن ہو گئیں اور کیس بند۔

اس لئے ڈیبیٹ ڈی این اے ٹیسٹ کے قابل قبول ہونے یا نا ہونے کی نہیں ہے۔ دراصل ڈیبیٹ ان حقائق کی ہے جو ہمارے معاشرے میں آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں ایک غیر ملکی کو پاکستان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ محض پیسے خرچ کر کے مل سکتا ہو، وہاں کیا نہیں ہو سکتا!

یہ بنیادی وجہ اور پس منظر ہے ہماری کورٹس کے ڈی این اے کو پرائمری شواہد میں شمار نا کرنے کی اور سیکنڈری شواہد میں قابل قبول سمجھنے کی۔ انصاف محض مظلوم کے ساتھ نہیں بلکہ ملزم کے ساتھ بھی ہونا ضروری ہے ورنہ ملزم بھی مظلوم ہی بن جاتا ہے، ایک ایسا مظلوم جس کے ساتھ کوئی ہمدردی بھی نہیں کرتا بلکہ ہر کوئی نفرت ہی کرتا ہے، اسے وکیل تک نہیں مل پاتا۔ ملزم اور مجرم میں فرق رکھنا بہت ضروری ہے تا کہ ہم ہمیشہ اصل مجرم تک پہنچ سکیں نا کہ قربانی کے بکرے کی بلی چڑھا کر مطمئن ہو جائیں۔

اس لئے ڈی این اے ٹیسٹ کے سلسلے میں سیمپلنگ، ٹیسٹنگ، کلیکشن، تفتیش اور استغاثہ کا الگ الگ اور آزاد ہونا، غیر سیاسی ہونا، پروفیشنل ہونا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ یہ چیزیں یقینی بنا لیں تو ہماری کورٹس موجودہ قوانین کے تحت ہی ڈی این اے کو زیادہ وزن دینے لگ جائیں گی۔

کسی کیس میں بہت زیادہ عوامی دباؤ آ جاتا ہے پولیس پر اور وزیروں پر۔ وہ کسی بھی شخص کو پکڑتے ہیں، اس کا ڈی این اے سیمپل لیتے ہیں اور تمام کیسز میں تبدیل کر دیتے ہیں

اس بیان کئے گئے طریقہ کار کے سوا آپ چاہے اسلامی نظریاتی کونسل کو موردالزام ٹھہرا کے”فیشن” پورا کرتے رہیں یا اسلام کو یا قانون کو، کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

پس تحریر:
عام طور پر پائی جانے والی غلط فہمی کے برخلاف اس وقت پاکستان میں آئینی، قانونی اور ہمیشہ سے مزہبی پوزیشن یہ رہی ہے کہ چار گواہ صرف زنا کے جرم کے لئے چاہیے ہوتے ہیں۔ ریپ کے سلسلے میں ایسی کوئی شرط نا کبھی تھی نا ہے۔ بلکہ اسے ویسے ہی ثابت کیا جا سکتا ہے جیسے کسی اور جرم کو اور ڈی این اے اس میں بطور ایویڈنس کے قابل قبول ہے۔ یہ یقینی بنانا جج کا فرض ہوتا ہے کہ باقی حالات بھی ملزم کے مجرم ہونے کی دلالت کرتے ہیں۔

Facebook Comments Box
DNALawڈی این اےسائنسقانون
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اب جو خط آنے لگا ہے — شاید کہ خط آنے لگا ہے : مدثر ظفر
next post
جنرل الیکشن ۔ خدشات اور خطرات: محمد خان قلندر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.