تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

جنرل الیکشن ۔ خدشات اور خطرات: محمد خان قلندر

by Editor2 24/01/2018
written by Editor2 24/01/2018
89

پاکستان میں الیکشن کی تاریخ اتنی ہولناک ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے ایک وحشت اور خوف کی فضا طاری ہو جاتی ہے۔پہلی قانون ساز اسمبلی پچاس کی دہائی میں مسلسل بلی چوہے کا کھیل کھیلتے کھیلتے جب 1956 میں آئین بنانے میں آخر کار کامیاب ہو ہی گئی تو جنرل سکندر میرزا نے اسمبلی پر جھرلو پھیر دیا۔ عدالت عالیہ نے نظریہ ضرورت عطا کر دیا اور جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لا نافذ کر دیا۔ اگلے الیکشن 1962 میں بنیادی جمہوریت کے نظم سے صدارتی نظام کے مطابق ہوئے، ایوب خان صدر اور فیلڈ مارشل تو بن گئے لیکن مشرقی پاکستان میں شورش اور بد امنی پھیل گئی، جس کے اثرات مغربی پاکستان میں بھی نمودار ہوئے، وہاں مجیب الرحمن اور یہاں ذوالفقار علی بھٹو ایوب مخالف تحریک کے لیڈر بنے اور ملک میں دوسرا مارشل لا لگ گیا۔

اگلے جنرل الیکشن 1970 میں دوبارہ آئین ساز اسمبلی کے لئے منعقد ہوئے، اس الیکشن نے ملک کی چولیں ہلا دیں اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔ مغربی پاکستان میں جو اب پاکستان تھا 1973 میں آئین بنا اور اس کے تحت 1977 میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔ اس جنرل الیکشن سے ایک اور جرنیل ضیاالحق برآمد ہوا۔ اور تیسرا مارشل لا لگ گیا۔

نواز شریف نے آصف زرداری کو جیل میں اور بینظیر کو بیرون ملک بھجوانے کے بعد، کھیوے کی سُنجی گلیوں میں میرزا جٹ بن کے پھرنے، کی کوشش کی تو جنرل پرویز مشرف نے خود اسے بمع ڈنڈا ڈولی سعودیہ بھیج دیا

اگلا جنرل الیکشن 1985 میں غیر جماعتی بنیاد پے ہوا، اسمبلی سے ایک مسلم لیگ بنائ گئی، جس کے بطن سے نُون لیگ پیدا کرائی گئی، حسب روایت آئین کی بحالی کے چوتھے ہی سال جنرل ضیا راہی عدم ہوئے تو 1988-92 -97 میں یکے بعد دیگرے جنرل الیکشن ہوئے، جن میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی مین متحارب رہیں، ان جنرل الیکشنز کا ںتیجہ بھی دہشت ناک نکلا۔

نواز شریف نے آصف زرداری کو جیل میں اور بینظیر کو بیرون ملک بھجوانے کے بعد، کھیوے کی سُنجی گلیوں میں میرزا جٹ بن کے پھرنے، کی کوشش کی تو جنرل پرویز مشرف نے خود اسے بمع ڈنڈا ڈولی سعودیہ بھیج دیا، ملک میں ان تین جنرل الیکشن کی کوکھ سے چوتھے مارشل لا نے جنم لے لیا، چوتھا جنرل صدر پاکستان بن گیا اگلا جنرل الیکشن ہوا 2002 میں ، یہ بھی عجوبہ روزگار تھا۔ نُون لیگ کو ق لیگ کی قبا پہنائی گئی۔ پیپلز پارٹی میں پیٹریاٹ کی چوتھی پی جمع کی گئی اور مولوی مجتمع کر کے ایم ایم اے بنا دی گئی، ملک میں دہشت گرد گروہ منظم ہوئے۔ تحریک طالبان پاکستان وجود میں آئی۔ لال مسجد آپریشن دارالحکومت کے مرکز میں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی کوریج میںسٹیج کیا گیا۔ عدالت عالیہ جس نے جرنیل صاحب کو سند قبولیت کے ساتھ پہلے تین سال من مانی کرنے کی اجازت تک عطا کی تھی اس کے چیف کو معزول کر کے ، وکلا اور سول سوسائیٹی کو شورش پے متحرک کرنا اور این آر او اگلے جنرل الیکشن کی ہنگامہ خیز تیاری تھی۔

بدقسمتی سے ہر برسر اقتدار حکمران ہر آنے والے الیکشن میں اقتدار کے چھن جانے کے خوف میں مبتلا ہو کر ملک میں انتشار اور بدامنی کو اپنے اقتدار کے دوام کی ضمانت سمجھتا ہے۔ لاشعور میں کسی بڑے حادثے کے وقوع پذیر ہونے کی تمنا ہوتی ہے کہ شائد الیکشن ٹل جائیں، اسی پس منظر میں اُس الیکشن سے پہلے بینظیر کی شہادت ہوئی۔ لیکن 2008 کا الیکشن ہوا۔ جنرل مشرف رخصت ہوئے اور پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئے آصف زرداری صدر بن گئے۔

حالات کے سنگین مد و جذر کے ساتھ ، ان کے صدر ہوتے 2013 کے جنرل الیکشن ہوئے، پیپلز پارٹی سینٹ اور سندھ تک محدود ہو گئی، جنرل مشرف کے دور میں سیاسی منظر نامے پے ابھرنے والے عمران خان مقبول لیڈر بن کے ابھرے ان کے حصے میں کے پی کی حکومت آ گئی۔ نواز شریف تیسری دفعہ وزیراعظم بنے اور پنجاب میں پانچویں دفعہ نُون لیگ کی حکومت بنی،یہ الیکشن 77 کے الیکشن کے مقابل متنازعہ ٹھہرے۔ جلسے جلوس، طویل ترین دھرنا ہوا، بے یقینی کے فضا قائم رہی کہ حکومت اب گئی کہ تب گئی لیکن نواز شریف اس شور شرابے باوجود اس کرائسس سے تو بچ نکلے لیکن ان کے پاؤںاکھڑے رہے، ویسے بھی ان کا مزاج اپوزیشن لیڈری کے لئے زیادہ موزوں ہے، اور اب ان کو یہ موقعہ پنامہ کیس میں نااہل ہونے اور وزارت عظمی سے معزولی کے بعد ہاتھ آ گیا ہے۔ اپنے موجودہ دور میں برسر اقتدار ہوتے بھی انہوں نے فوج، عدلیہ اور عمران خان سے محاذ آرائی پیدا کئے رکھی، اب تو وہ لڑائیاں لڑنے کے لئے حکومتی ذمہ داری سے بھی آزاد ہیں۔

وہ عدلیہ کو جو کہتے پھریں، فوج کو لتاڑیں، مجیب بننے کا کہیں، جو بھی کریں تو نااہل ہونے کی سزا تو مل چکی، دوبارہ کیسے نااہل کئے جائیں، اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن یہ بے مہار، بےخوف آزادی ہی خطرے کا سبب ہے کہ وہ ملک کو کسی بڑے حادثے سے دوچار کر سکتے ہیں

اگلا الیکشن لڑنے کی تیاری میں سب سے بہترین ماحول ان کو میسر ہے، اگرچہ وہ خود الیکشن لڑنے سے نااہل ہیں لیکن وہ اس امر کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، نُون لیگ کے صدر ہونے کے باوجود الیکشن کے قوانین اور ضابطے ان پر لاگو نہیں ہوتے، وہ عدلیہ کو جو کہتے پھریں، فوج کو لتاڑیں، مجیب بننے کا کہیں، جو بھی کریں تو نااہل ہونے کی سزا تو مل چکی، دوبارہ کیسے نااہل کئے جائیں، اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن یہ بے مہار، بےخوف آزادی ہی خطرے کا سبب ہے کہ وہ ملک کو کسی بڑے حادثے سے دوچار کر سکتے ہیں۔ جب دوسری طرف فوج ملکی حالات کی وجہ سے بہت محتاط ہے اور یہ بھی کہ پچھلے تین اور خاص طور پر مشرف کے مارشل لا کے بعد اس کا دل بھی مارشل لا لگانے، لگتا ہے بھر گیا ہے، پچھلے نو سال میں بارہا دعوت بھی تھی اور حالات کے متقاضی ہونے کے باوجود براہ راست مداخلت سے گریز کیا گیا ہے، عدالت عالیہ بھی عدلیہ بحالی تحریک کے بعد اپنی سابقہ حکمران نوازی کی روایت دوبارہ زندہ نہیں کرنا چاہتی، موجودہ سیاسی اور سیاست دانوں کے مقدمات میں الجھائے جانے اور اس پے عوامی رد عمل سے مزید معاملات میں الجھنے سے گریزاں ہے۔

اپوزیشن میں شامل جماعتوں میں اتحاد عمل ممکن ہی نہیں، ساری جماعتیں اپنے محدود مفاد کی اسیر ہیں ، تحریک انصاف شروع سے کسی حادثے یا معجزے کے انتظار میں ہے، یہ بھی ظاہر ہے کہ اب وہ ان الیکٹیبلز پر انحصار کرے گی جن کو نُون لیگ یا پیپلز پارٹی میں پنجاب اور سندھ میں رسائی نہیں ملے گی، ممکنہ طور پر، اس صورت حال میں، موجودہ الیکشن کمشن، اور انتظامیہ کے ہوتے نواز شریف کا پلڑہ بھاری رہے گا، یہی سب سے بڑی خطرے کی گھنٹی ہے، جنرل الیکشن تک ماحول کی کشیدگی، امن عامہ، ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے اور اتنے خطرات میں الیکشن ہونے کے بعد ، کوئی بھی اپنی ہار ماننے کو تیار نہیں ہو گا، تو کیا یہ بہتر نہیں کہ سیاستدان بزرگ ہونے کا ثبوت دیں اور باہم بیٹھ کر رولز آف گیم طے کر لیں، نواز شریف سڑسٹھ سال کے ہیں کیا وہ نوابزادہ نصراللہ خان جیسے بزرگ اور بردبار ہو سکتے ہیں!!

Facebook Comments Box
آزاد عدلیہآپریشناپوزیشن لیڈراقتدار اعلیٰالیکشنپاک فوجتحریک طالبان پاکستانجنرل الیکشنجنرل ضیاء الحقطالبانعدلیہلال مسجدمارشل لامیاں محمد نواز شریفنواز شریف
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
ڈی این اے، سائنس، قانون اور پاکستان: علی احمد
next post
مکر کے وظیفے : سلمیٰ جیلانی کی ایک نظم

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.