تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگردیگرسماجیعلم و ادبکالم

اب جو خط آنے لگا ہے — شاید کہ خط آنے لگا ہے : مدثر ظفر

by دانش ڈیسک 24/01/2018
written by دانش ڈیسک 24/01/2018
131

دو دہائیاں قبل ذرائع رسل و رسائل کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا تھا۔ ڈاک کا مروجہ نظام اپنے تمام تر تابناک ماضی کے ساتھ اس جدت کی چکا چوند میں مانند پڑ رہا تھا۔ ٹیلی فون خط سے آدھی ملاقات کا رتبہ تقریباً چھین چکا تھا۔ لیکن وطن عزیز کی دیہی آبادی عزیز و اقارب سے رابطہ کے لیے تاحال مکتوبات کی محتاج تھی۔ ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول میں ہی ڈاک کا انتطام و انصرام ہوا کرتا تھا۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب پوسٹ ماسٹر کے فرائض بھی سر انجام دیتے تھے۔ چھٹی سے چند ساعتیں قبل ماسٹر صاحب کا اشارہ پا کر کوئی بچہ بسرعت اسکول کے سامنے درخت پر لگے سرخ رنگ کے لیٹر بکس میں دن بھر کے جمع خطوط نکال لاتا۔ ماسٹر صاحب ہیڈ ماسٹر سے اچانک پوسٹ ماسٹر بن جاتے۔ لیٹر بکس سے درآمدہ ڈاک پر ضروری کاروائی کرتے، اور ہم چند چنیدہ بچے مل کر خطوط پر مہریں ثبت کرتے۔ ڈاک کا بنڈل بنا کر اس بنڈل کو سوتی دھاگہ سے لپیٹ کر اس پر موم کی قسم کے ایک مادے گو آگ پر تاپ کر نرم کرکے سیل لگا دیتے (جانے اس مادے کو کیا کہتے ہیں؟)۔ ھیڈ ماسٹر صاحب نے سمجھا رکھا تھا کہ سیل لگنے کے بعد یہ بنڈل اب سرکار کی ملکیت و امانت ہے اور اس سے چھیڑ چھاڑ قابل مواخذہ ہوگی۔

ڈاک کو ترتیب دینے کے بعد اگلا مرحلہ ڈیڑھ بجے والی ریل گاڑی کا انتظار کرنا ہوتا تھا۔ کیونکہ اس میں ایک ضعیف العمر ڈاکیا شہر سے ڈاک لے کر آتا تھا۔ ماسڑ صاحب سے زیادہ اس ڈاکیے کا انتظار ہمیں ہوا کرتا تھا۔ اس کے انتظار کا کارن یہ تھا کہ ہماری چھٹی اس کے پہنچنے سے مشروط تھی۔ اس کی لائی ہوئی ڈاک بھی بچے ہی گاؤں میں تقسیم کیا کرتے۔ ڈبے سے ڈاک نکالنا، خطوط پر مہریں لگانا اور پھر آئی ہوئی ڈاک کو گاؤں میں تقسیم کرنا ہمارا اچھا خاصہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ وہ تو خدا کا شکر ہے کہ فرنگیوں کی باقیات بھاپ انجن والی لوپ لائن ریل گاڑیاں ان دنوں وقت پر آیا کرتیں تھیں اور شاذ ہی کبھی تاخیر کا شکار ہوئی ہوں۔ لیکن ہمیں اس نحیف و نزار ڈاکیے کا خدشہ رہتا تھا۔ وہ اتنا کمزور تھا کہ بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہوتا تھا۔ دھول سے اٹے راستے پر چلنے کے سبب وہ اپنی دھوتی اڑس لیا کرتا تھا۔ اور ہم حیرت سے اس کی کمزور ٹانگیں دیکھا کرتے تھے جو پتلی اور سوکھی لکڑی کی مانند تھیں۔ اسے دیکھ کر یہی دھڑکا لگا رہتا کہ اگر یہ کہیں راستے میں ہی اللہ کو پیارا ہوگیا تو اس دن ہماری اسکول سے چھٹی نہ ہو پائے گی۔

خط بانٹنے کے دوران کبھی کبھار ہم سے کوئی خط پڑھوا بھی لیتا۔ اسکول کے راستے میں جاوید بھائی کا گھر پڑتا تھا۔ مہینہ میں دو ایک خطوط ان کے آ ہی جایا کرتے تھے۔ خود فوج میں تھے۔ شادی کو چھ ماہ ہو چکے تھے۔ غالبا پنجاب میں کسی چھاؤنی میں تعینات تھے۔ گھر میں کوئی پڑھا لکھا نہیں تھا۔ ہمیں جاوید بھائی کی بیوی کی تاکید تھی “خط آئے تو میرے علاوہ کسی کو نہیں دینا”۔ انہوں نے دن گن رکھتے ہوتے تھے اور بخوبی اندازہ ہو جاتا کہ آجکل میں خط آنے والا ہے۔ ان دنوں فوجیوں کے لیے مستعمل لفافے عام لفافوں سے رنگ اور پیمائش میں مختلف ہوا کرتے تھے اور خطوط کے ڈھیر میں نمایاں نظر آتے تھے۔ اسکول کی چھٹٰی کے وقت وہ دروازے میں موجود رہتیں۔ جب خط آتا تو میں ہی انہیں پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ خط سنتے ہوئے لجالت سے ان کا چہرہ سرخ ہو جاتا، گویا خط کی تحریر نہیں چہرہ افروزی ہے کہ ایک رنگ آتا ہے ایک جاتا ہے۔ خط کا متن میرے ننھے دماغ کے لیے سمجھنا مشکل ہوتا تھا میں بس پڑھ دیا کرتا تھا۔ اب سوچتا ہوں تو ان کا لجانا سمجھ میں آتا ہے اور ان بیتے دنوں کی حلاوت کو یاد کرکے محظوظ ہوتا ہوں۔

والدہ کی خیریت اور اہلیہ کے احوال کے علاوہ ان کی باتیں عجیب ہوتی تھیں۔ کبھی کسی گانے کے بول، کبھی اشعار اور کبھی ہجر و وصال کی نا سمجھ میں آنے والی عجیب و غریب باتیں۔ خط پڑھ چکتا تو وہ مجھ سے خط لے کر فرط جذبات سے اسے سینے سے لگاتیں۔ ایک دو بار چوم کر سلیقے سے تہہ کر کے اوڑھنی کے پلو سے باندھ لیتیں۔ ان کا خط بھائی عبد الواحد کے خط کی طرح نہیں ہوتا تھا کہ جس میں محض رسمی پرسش احوال کے بعد ” یہاں شہر میں کام مندا ہے، ہاتھ تنگ ہے “۔ اخراجات پھیل رہے ہیں اور آمدن سکڑ رہی ہے کے وہی پرانے قصے۔ ہر بار کی طرح ایک ہی بات کہ پیسے بھجوانے میں تاخیر ہو جائے گی۔ جیسے ہی ہاتھ کشادہ ہوا فورا منی آرڈر روانہ کروں گا۔ اس خط کو سن کر بابا صدیق کی آنکھیں مزید سکڑ جاتیں اور چہرے کی جھریاں واضح ہو جاتیں۔ میرے ہاتھ سے خط لے کر تکیے کے نیچے رکھتے۔ منہ ہی منہ کچھ بڑبڑاتے اور چار پائی پر لیٹ کر خالی نگاہوں سے آسمان تکنے لگتے۔ پرائمری کے بعد مڈل اسکول میں پہنچے تو خطوط سے متعلق ہمارا یہ شغل انجام کو پہنچا۔

خلق خدا نے اپنی بقاء کے لیے مل جل کر رہنا سیکھا، تلاش معاش نے لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھائے تو رابطے کے ذارئع بھی وقت کے ساتھ جدت اختیار کرتے چلے گئے۔ پہلا خط کس نے کس کو لکھا، تاریخ کیا کہتی ہے، اس بارے میں حتمی طور پر تو شاید کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے ایک ایسے خط کا تذکرہ تاریخ میں ضرور ملتا ہے جو اس دور میں بھیجا گیا جب زبان بھی ایجاد نہ ہوئی تھی۔ اس میں اپنے ارد گرد موجود چیزوں کو بطور استعارہ استعمال کیا گیا تھا۔ وہ اشاراتی خط تھا جو ایک ترکستانی لڑکی نے اپنے محبوب کو بھیجا۔ اس نے تھیلے میں چند اشیاء ڈال دیں۔ ہر چیز اس لڑکی کے جذبات کا استعارہ تھی۔ روٹی کا خشک ٹکڑا علامت تھا کہ تمہارے ہجر نے میری بھوک پیاس ختم کر دی ہے۔ گھاس کا تنکا محبوب کے ہجر میں سوکھ کر کانٹا ہو جانے سے تعبیر تھا۔ پھول کی سرخ پتیاں محبت کی شدت کی غماز تھیں۔ جلا ہوا کوئلہ اشارہ تھا کہ میرا دل تمھاری یاد میں سلگتا ہے۔ کوئی میٹھی چیز جس کا مطلب ہے کہ تم جو میرے محبوب ہو بہت شیریں ہو۔ پتھر کا ٹکڑا، مطلب تم سنگدل ہوتے جا رہے ہو۔ کسی پرندے کا پر، عندیہ تھا اس بات کا کہ اگر میرے پر ہوتے تو میں اڑ کر تھمارے پاس پہنچ جاتی۔

خط میخی کا نمونہ

قدیم خطوط میں خط میخی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مبینہ طور پر یہ طرز تحریر حضرت اہراہیم کے دور سے منسوب ہے اور بابل‘ نینوا‘ عراق‘ ایران اور ایشیا وغیرہ میں یہ خط رائج تھا۔ اس خط میں میخوں اور تیروں کا استعمال ہوتا تھا اور یہی اس کی وجہ تسمیہ بھی تھی۔

مکتوب نگاری ضرورت تو تھی ہی لیکن مرزا غالب نے مکتوب نگاری کو اردو ںثر میں نیا اسلوب بخشا کہ جس دور میں قافیہ پیمائی و انشاء پردازی ہی ادیب کا خاصہ سمجھی جاتی تھی انہوں نے نثر کو سادہ، رواں، سلیس، برجستہ رنگین و سنگین قالب میں ڈھال کر اردو ادب میں ایسی گت کاری کی جو آج بھی عہد قدیم و جدید کے ادیبوں کے درمیان ان کے قد کو ممتاز کرتی ہے۔ بقولِ اکرم شیخ، ” غالب نے دہلی کی زبان کو تحریری جامہ پہنایا اور اس میں اپنی ظرافت اور موثر بیان سے وہ گلکاریاں کیں کہ اردو معلّیٰ خاص و عام کو پسند آئی اور اردو نثر کے لئے ایک طرز تحریر قائم ہوگیا۔ جس کی پیروی دوسروں کے لئے لازم تھی “۔
ایسا نہیں کہ مرزا غالب کے علاوہ کسی نے مکتوب نگاری میں طبع آزمائی نہ کی ہو۔ غالب نے نامہ و پیام کا سلسلہ شروع کیا تو معاصرین میں بھی توجہ پیدا ہوئی۔
داغ دہلوی، پطرس بخاری، اقبال، مرزا رجب علی بیگ، اکبر الہ آبادی، سرسید احمد خان کے نام قابل ذکر ہیں۔ مگر مرزا نے جو رنگ اختیار کیا وہ ان ہی کا کمال کہلایا۔

دور حاضر میں ایسا کوئی سلسلہ نطر نہیں آتا تھا۔ تاوقتیکہ ایک خاتون نے معاصر ویب سایٹ پہ “مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط” کے عنوان سے تحریر لکھ کر اردو نثر میں مکتوب نگاری کو ایک نیا رخ دیا۔ یہ تحریر اپنی نوعیت کی شاید پہلی تحریر تھی جسے ایک ہی دن میں ایک لاکھ لوگوں نے پڑھا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔ عصر حاضر کے معرف و غیر معروف قلم کار کسی مرنے والے کی جانب سے عالم بالا میں پہنچنے کے بعد اس کی جانب سے خیالات، احساسات و مشاہدات کا اظہار خط لکھ کر کرتے ہیں۔ اردو نثر میں منفرد طرز کا یہ ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ جس کی حوصلہ افزائی ہونا ضروری ہے۔

Facebook Comments Box
featuredخطخط نگاریخطوط
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
زینب کے قاتل کو پہلا پتھر کون مارے: فواد رضا
next post
ڈی این اے، سائنس، قانون اور پاکستان: علی احمد

Related Posts

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.