تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

یوں گزاریے زندگی : ثناء غوری

by دانش ڈیسک 04/10/2017
written by دانش ڈیسک 04/10/2017
130

اکثر ڈرائیونگ کرتے ہوئے میر ے ارد گرد کی زندگی مجھے اپنے طرف کھینچتی ہے۔ دن بھر کی مسافت سے تھکے ہارے جسم جیسے خود کو گھسیٹتے ہوئے گھر کی جانب لے جارہے ہوں۔ اکثر بائک چلانے والے اتنے بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کی سوچ کے تانے بانے یہ خوف ناک ٹریفک کیا جانے۔ کبھی بریک لگانے میں دیر کردی کبھی موڑ اُجلت میں کاٹ لیا۔ میری گاڑی کے ساتھ بھی حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ پہلے پہل مجھے غصہ آجایا کرتا تھا کہ میری گاڑی کو نقصان پہنچا۔ لیکن رفتہ رفتہ میں نے جب لوگوں کے رویوں پر غور کرنا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ تھکے ہارے جسم اتنے ناتواں ہو چکے ہیں کہ انھیں اپنا ہوش نہیں غصہ کرکے انھیں مزید پریشان کرنا فضول ہی ہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہمارے چاروں طرف موجود ہیں جن پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی جسم فقط چلتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ زندگی ہے کہ کہیں گم ہوگئی ہے۔

سانس لیتا جیتا جاگتا انسان تو موجود ہو لیکن دل کی حیات ختم ہوگئی ہو۔ یہ اس لیے کہ ہماری زندگی بھی کولہو کے بیل کی مانند گزر رہی ہے، جو آنکھوں پر پٹی باندھے بس گھومے جارہا ہے۔ ہم میں اور اُس کولہو کے بیل میں فرق اتنا ہے کہ بیل کی آنکھوں پر پٹی اس کے مالک نے باندھی ہے تاکہ وہ اس بات سے بے خبر رہے کہ وہ ایک ہی مدار میں چکر لگارہا ہے وہ بے چارہ جانور تو یہ سمجھ رہا کہ میں نے دن بھر نہ جانے کہاں سے کہاں تک کا سفر طے کرلیا اور دن کے اختتام پر جب آنکھوں سے پٹی ہٹائی جاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو اُسی جگہ پاتا ہے جہاں وہ صبح موجود تھا۔ اور ہم۔۔۔۔۔ ہماری آنکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی بلکہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے یہ نیک کام انجام دیا ہے۔ ہم خود اسی کیفیت میں رہنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں کہ جانتے ہوئے بھی انجان رہیں۔ یہ جو دن بھر کی تگ دو ہے آخر اس کا کوئی نتیجہ ہے بھی یا نہیں۔ کب تک اور آخر کب تک یہ سفر یوں ہی چلتا رہے گا۔ روزی روٹی کمانے کی غرض سے سارا دن انسان بھاگتا رہتا ہے۔ دو وقت کی روٹی مل جائے بس یہی غنیمت ہے۔ قناعت پسندی، عاجزی انکساری اچھے لفظ ہیں، لیکن دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو ایسا تو نہیں کہ ان لفظوں کی آڑ میں آپ نے اپنے اندر کاہلی سستی کو جنم دے دیا ہے، آپ خود ہی اپنی زندگی کو منجمد کرنے کا باعث بنے ہوئے ہیں؟ زندگی دل میں پیدا ہونے والی ایک بے تابی کا نام ہے فقط سانسوں کا چلتا ہوا کارواں زندگی نہیں ہے۔

سانسیں تو ایک جانور بھی لیتا ہے لیکن آپ تو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر اُتارے گئے ہیں۔ آپ کی بے تابی آپ کی زندگی کی علامت ہے اور یہ بے تابی کس لیے ہونی چاہیے؟ یہ بے تابی اپنی اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی زندگی مزید بہتر بنانے کے لیے ہو تو پھر دیکھیے جینے کا مزہ کیسے آتا ہے۔ کوئی چیز حرفِ آخر نہیں ہے، نشیب ہے تب ہی تو فراز کا تصور ہے، موت ہے تو ہی تو زندگی کی اہمیت ہے، دکھ ہے تب ہی تو خوشی کا احساس ہے، محبت ہے تب ہی تو نفرت کے تصور نے جنم لیا ہے۔

اب بھی کچھ نہیں بگڑا، اب بھی وقت ہے۔ زندگی کو نئے رنگ ڈھنگ کے ساتھ مزید بہتر بنانے کے لیے جستجو کیجیے اپنے اندر بے تابی پیدا کیجیے۔

آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
اقبال

اپنی قوت کو آپ ہی تسخیر کریں گے۔ ہر انسان اہم ہے او ر مختلف ہے، ہر شخص کو میرے خدا نے خاص صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو کیسے تلاش کرتے ہیں اور کیسے نکھارتے ہیں۔

آپ دن میں کتنی ہی دفعہ اپنے آس پاس کے ماحول کو کوستے ہیں اپنے ملک سے نفرت، سسٹم سے نفرت، آپ کے دل میں بیٹھ چکی ہے، لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ شخصی تربیت سے ہی اجتماعی اصلاح کے فارمولے پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تو آپ اس شخصی تربیت سے خود کو آزاد خیال کرتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کی فکر آپ کو کھائے جاتی ہے۔ آپ اس معاشرے کی نفسانفسی اور خودغرضی کا ماتم کرتے ہیں۔ لمحہ بھر کے لیے سوچیے آپ خود اپنے آپ سے کتنا مخلص ہیں۔ قوتِ ارادی کا کتنا فقدان ہے آپ میں، آپ جو ہیں، اس میں بہتری لانے کی امنگ آپ کو پریشان کیوں نہیں کرتی اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کام یاب زندگی بسر کررہے ہیں تو اس کام یابی سے آپ کے ارد گرد کے لوگوں کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟

اپنے اندر پُرجوش زندگی زندگی گزارنے کی بے تابی تو پیدا کیجیے، کام یابی کے دروازے خود بہ خود کھلتے چلے جائیں گے۔ لیکن یہاں ہر چیز محنت مانگتی ہے، پختہ ارادہ چاہتی ہے۔ یہ کام دنوں میں نہیں ہوسکتا، ہوسکتا ہے کئی ماہ لگ جائیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کئی سال بیت جائیں لیکن میرا رب سب دیکھ رہا ہے وہ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔

اہم بات! کام یاب انسان بننے کے لیے یہ مت دیکھیے کہ وہ شخص جو کام یاب ہے اس نے وہ کام یابی کیسے حاصل کی بلکہ یہ دیکھیے کہ آپ ایسا کیا کر سکتے ہیں جو آپ کی ذات کو مطمئن بھی کرے اور آپ اس میں بہتر سے بہتر ہوتے ہوئے اپنے آپ کو منوا سکیں۔
خود کو سوچ کی اس دلدل سے نکالیے کے اب آپ کچھ نہیں کرسکتے، کیوں کہ آپ کے پاس وسائل نہیں، وقت نہیں، آپ زندگی کے جھمیلوں میں اتنے الجھ چکے ہیں کہ اب یہ سب باتیں بے معنی ہیں۔ چلیں آپ یہ بھی کرکے دیکھ لیجیے۔ یقین مانیے وہی حال ہوگا جس کا تذکرہ اس مضمون کے ابتدائیے میں کیا گیا۔ اپنی صلاحیتوں پر قناعت کرلینا یا اپنی بری عادتوں کی غلامی کرلینا ہی دراصل موت ہے۔ زندگی گزاریے لیکن ایک کام یاب انسان کی زندگی جس کے اندر کی روشنی اُس کے چہرے سے اُس کی باتوں سے اُس کی آواز سے اُس کے عمل سے کام یابی کی نوید سنائے۔

اللہ تعالی آپ کو سکون عطا فرمائے، آمین۔

Facebook Comments Box
featuredurdu afasanaurdu mazmoonاشرف المخلوقاتثناء غوری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مسخاکے – محمد خان قلندر
next post
ازدواجیات کی تشکیل جدید – کچھ مزید مباحث

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.