تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
شعور کی انارکی: یہ سب ہوا کیسے؟ —...
شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری
شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول
ابریشم از سلمان باسط — ڈاکٹر بی بی...
محمد حفیظ خان کی فکشن نگاری —  ڈاکٹر...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریننئے لکھاری

مرنا کہاں ہے آساں: عائشہ تنویر

by دانش ڈیسک 28/09/2017
written by دانش ڈیسک 28/09/2017
165

انتقال یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، ویسے ہی بہت مشکل کام ہے لیکن اگر یہ منتقلی ایک دنیا سے دوسری دنیا یعنی عالم بالا کی طرف ہو تو یہ کام مشکل ترین بن جاتا ہے ۔ مرنے والا تو رخصت ہو کر فرشتوں کو حساب کتاب دینے لگ جاتا ہے لیکن اس کے رشتہ داروں میں ایک مقابلہ شروع ہوجاتا ہے کہ کون زیادہ غم “زدہ” ہے۔

پھر ہر طرف سے اس طرح کے جملے سنائی دیتے ہیں۔” مجھے تو چچا جان سگی بیٹیوں سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ زندگی نے وفا نہ کی ورنہ انہوں نے تو وعدہ کیا تھا کہ اس بار میری شادی کی سالگرہ پر مجھے سونے کی انگوٹھی دیں گے ‫۔” کہنے کا مقصد یہ نکلا کہ جانے والا تو چلا گیا اب اس کے وارثان کا فرض ہے کہ یہ قرض اتاریں۔ بے چارے لواحقین بھی اس ہی دنیا کے باسی ہوتے سو اس حالت غم میں بھی یہ سوچنے سے باز نہ آتے کہ ابا جان کو ایسا وعدہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ایسی کون سی بڑی جائیداد چھوڑ دی ہے۔ اس میں سے تو ہم بہن بھائیوں کے حصے میں کچھ نہیں آنا۔ ساری زندگی ابا جی نے بس اپنے بہن بھائیوں کو ہی پوچھا ہمارا نہ سوچا‫۔ دینا تو خیر ہم نے بھی کسی کو نہیں لیکن خاندان والوں کو باتیں بنانے کا تو موقع مل گیا ناں۔

“ِخیر ہم نے اب کون سا ان سے ملنا ہے”
آخر اس سوچ پر سر جھٹکا جاتا۔ کون تعزیت کرنے آیا کون نہیں آیا، کس نے سپارہ پڑھا اور کون گٹھلیاں سامنے رکھ کر باتیں کرتا رہا، ہر ایک کی نظر اپنے علاوہ سب پر ہوتی۔ فرنیچر ہٹا کر چاندنیاں بچھاتے خاتون خانہ کے سلیقے پر بھی تبصرے چلتے رہتے۔

“افف بیڈ کے نیچے کتنی مٹی ہے، بس سامنے سامنے صفائی ہے بھابھی کی۔”
خاتون خانہ جنہوں نے کبھی سسرال کو منہ بھی نہ لگایا ہو، صدمے سے نڈھال نند کے بچوں کو پردوں سے ہاتھ صاف کرتے دیکھتیں تو دل منہ کو آ جاتا، یہ بات بہرحال راز ہی رہ جاتی کہ زیادہ صدمہ کس بات سے ہوا‫۔

یوں گھروں میں رسم کے تحت کھانے کے لئے چولہا تو نہ جلایا جاتا لیکن چائے بنانے اور پینے پلانے پر بھی مہا بھارت ہو جاتی۔ گھر والوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ محلے داروں کے لئے بھی یہ مل بیٹھنے کا بہت اچھا موقع ہوتا ہے۔ پڑوسی خواتین کچھ یوں تبصرے کر رہی ہوتی ہیں۔
“یہ جمیلہ کو تو دیکھو، مرگ والے گھر آتے ہوئے بھی تیاری میں کمی نہ کی۔”
“صفیہ کی بھابھی کے ڈرامے دیکھو، ساری زندگی نند کو منہ نہ لگایا اور اب کیسے ساتھ جڑی تسلیاں دے رہی ہے”۔
“ارے اس کی بڑی بہو کو تو آج بھی اپنے میکے والوں کی ناز برداری سے فرصت نہیں۔ انہی میں گھسی ہوئی ہے”
“سیمی کی ساس کے نخرے توبہ، یہ بھی لحاظ نہیں کہ بے چاری کا باپ مرا ہے۔”
سیمی بھی بخوبی جانتی کہ پورا خاندان موجود ہے، مظلوم بہو کا ٹائٹل حاصل کرنے کا اس سے نادر موقع کبھی نہیں ملنا سو جی، جی کرتے ساس کے آگے پیچھے پھرتی، حتیٰ کہ شادئ مرگ سے ساس مرنے والی ہو جاتیں‫، یعنی ایک تیر سے دو شکار۔

پچھلے دنوں ہمارا ایک مرگ میں جانا ہوا، قرآن خوانی ختم ہوئی تو زیر بحث موضوع تھا “کھانا”۔ آخر یہ موقع مفت کی دعوت کی طرح ہی تو ہوتا ہے۔ شادی بیاہ میں تو پھر کچھ دینا دلانا پڑتا ہے‫۔
ایک خاتون کہنے لگیں “چالیسویں کی بریانی سے زیادہ اچھی تو کسی ریسٹورنٹ کی بریانی بھی نہیں ہوتی”۔
“یہ تو ہے، چنے سوئم کے اور بریانی تو بس چالیسویں کی ہی چلتی ہے۔” کسی نے تائیدی بیان جاری کیا‫۔
“لیکن یہاں تو کھانے کے کوئی آثار ہی نظر نہیں آ رہے؟”
دھیرے سے استفسار کیا گیا۔
اتنے میں ایک لڑکا گزرتا دکھائی دیا تو کسی دلیر خاتون نے لپک کر اسے پکڑا
“میاں، تم فیضان ہو نا! صفیہ آپا کی بہو کے بھائی”
انداز میں سوال سے زیادہ یقین تھا کہ اپنی کھڑکی سے پورے محلے کی نگرانی ان کی ہی تو ذمہ داری تھی۔
” جی” اثبات میں جواب ملتے ہی وہ شروع ہو گئیں‫۔
“تو کچھ کھانے وانے کا بندوبست بھی کیا یا نہیں ؟ بھئی، ہمارے ہاں تو یہی ریت ہے کہ اگر بہن کی سسرال میں میت ہو جائے تو کھانا میکے والے دیتے ہیں۔تم بھی کھانے کا انتظام کر لو، ایسا نہ ہو کہ سسرال میں بہن کی ناک کٹ جائے ۔”
انہوں نے نصیحت کی
” اور میری مانو تو بریانی ہی کرنا سب شوق سے کھاتے ہیں ”
ایک اور خاتون نے ناک بچاؤ مہم میں حصہ ڈالا۔
“نہیں، قورمہ ٹھیک رہے گا، چاول کھانے سے میری داڑھ میں درد ہو جاتا ہے ‫”
پہلی والی نے فوراً منع کیا۔
“میں تو کہتی ہوں کہ بریانی ہو یا قورمہ ہونا مٹن کا چاہیے۔ برڈ فلو کا خطرہ ہے نا، تو کیا فائدہ ایسے کھانے کا جو کوئی خوشی سے کھا بھی نہ سکے ” ایک اور آنٹی نے لقمہ دیا۔ اس سے پہلے کہ آنٹیاں اسے سالن، چاول دونوں پیش کرنے پر راضی کرتیں وہ بے چارہ بمشکل اپنی جان بچا کر بھاگا ‫۔

اب چونکہ کھانے کا انتظام کرنے کی طرف مناسب توجہ دلائی جا چکی تھی سو سب خواتین مل کر افسوس سے اس موضوع پر بات کرنے لگیں کہ کیسی نا مناسب روایات ہمارے ہاں رائج ہیں‫‫۔
کوئی کہے کہ یہ ہندوؤں سے آئی ہیں، تو کوئی شریعت کے حوالے دے دے کر انہیں بدعت ثابت کرے کچھ یہ منطق بھی بتا دیتے کہ یہ روایات اس سبب ہیں کہ فوتگی والے گھر پر معاشی بار نہ پڑے لیکن ایک بات پر سب متفق تھے کہ اچھی ہے یا بری، رسم پوری کرنا تو فرض عین ہے ‫‫۔
کھانا لگا تو کسی نے اٹھ کر آواز لگائی
” اے منی جاؤ، بھائیوں کو بلا کر لاؤ۔ میں نے سوچا باقی بچوں کو بھی بلوا لوں، کہاں گھر میں کھانے کا انتظام کرتے پھریں گے۔ ”
انہوں نے مڑ کر وضاحت کی۔ تھوڑی دیر میں ان کی بٹالین موجود تھی‫۔چن چن کر سب کی پلیٹ میں بوٹیاں ڈالیں اور پھر چمچ کم پا کر بولیں
“لو بھئی چمچ بھی پورے نہیں رکھے، انسان تعداد دیکھ کر برتنوں کا انتظام کرے تو یہ مسئلہ نہ ہو ‫۔”
سب لوگ چونکہ کھانے میں مصروف تھے سو کہیں سے جواب نہیں آیا اور کھانے کے بعد لوگ کچھ یوں تبصرے کرتے رخصت ہوئے۔
“ویسے تو بریانی اچھی تھی لیکن چاول کچھ نرم پڑ گئے تھے”
“مسالا بہت تھا، بچے کہاں اتنی مرچ کھا سکتے ہیں، میرے بچے تو بھوکے رہ گئے”
“ختم کے پھل بھی بہت کم تھے، ہمیں تو ملے ہی نہیں”
ہم حیرت سے منہ کھولے سب کو دیکھتے رہ گئے کہ کیا وقت آگیا ہے، مرنا بھی آسان نہیں ہے۔ انتقال بھی پرشکوہ، پر طعام و پر اہتمام ہونا چاہیے۔

Facebook Comments Box
featuredچالیسواںسوئممرگمرنا نہیں آسانموتموت کی رسوماتمیتمیت کا گھر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
برانڈز کا مقابلہ کیسے کریں؟ فواد رضا
next post
مرزا صاحباں : محمد خان قلندر

Related Posts

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

شعور کی انارکی —- شہزاد حنیف سجاول

11/07/2026

فکنگ بِچ —– افسانہ

27/03/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • غزل گائیکی اور آج کا پاکستان —- اقدس علی ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.