ہم روسی سوویت انقلاب کے سوویں سال میں جی رہے ہیں۔

0
  • 26
    Shares

پارلیمنٹ [ڈوما] میں جمہوریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔ دارالحکومت [پیٹروگراڈ] میں اس سے پہلے باغیوں کے دھرنوں اور شورش کو طاقت کے ذریعئیے دبادیا جاچکاہے۔ لیکن صورتحال کچھ ایسی ہوئی کہ ابھی کچھ دن ہوئے کہ بادشاہ [زار نکولس۔۲] تخت سے محروم کردیا گیا ہے۔ عارضی حکومت نے انصرام سنبھالا لیکن جب گرینڈ ڈیوک مائیکل کی جانب اقتدار منتقل نہ ہوسکا توعارضی حکومت ہی کو ملک کی ڈی-فیکٹو حکمرانی قبول کرنا پڑی۔ یوں تو حکومت کے عہدیداروں نے “بادشاہ” ہی سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا لیکن چونکہ اب حکمران خاندان سین پر نہیں رہا تھا اس لئیے ان وفاداروں کی حکومتی طاقت کا سرچشمہ ماند ہوچکا تھا۔

عارضی حکومت کو مزید آٹھ ماہ تک اقتدار میں رہنا تھا اور 1918 میں نئی منتخب پارلیمنٹ کا اجلاس ہونا طے پایا تھا۔

مصنف

عارضی حکومت کو ورثے میں ایک انتہائی مشکل صورتحال ملی تھی۔ یوں تو پارلیمنٹ [ڈوما] ہمیشہ ہی سے بحث و مباحثے کا فورم رہی تھی لیکن یہ کبھی بھی ایک ایسا موثر پلیٹ فارم نہ بن سکی جس میں عوام کے مفاد کی پالیسیاں بنائی جاتیں یا جہاں سے اس کے ارکان ان پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کرتے۔

دوسری جانب، روڈزیانکو جیسے مضبوط شخص نے، رنجشوں کی بنا پر استعفیٰ دے دیا۔ اور پرنس لواو نے اقتدار سنبھالا مگر اس کا ٹکراوٰ کیرنسکی سے ہوگیا اور یوں لواف کے ہٹنے کے بعد کیرنسکی نے جولائی 1917 میں عارضی حکومت سنبھالی۔

بادشاہ کے پرانے مہرے ڈوما میں رفتہ رفتہ بے بس ہونے لگے۔ گو کچھ قابل لوگ بھی عارضی حکومت میں موجود تھے لیکن وہ بھی پارلیمنٹ کی بے وقعتی کو سنبھال نہ سکے۔

اسی دوران، ولادیمیر لینن ملک میں واپس آچکے تھے اور اپنا “اپریل تھیسس” پبلش کرچکے تھے۔

ملک میں ظلم اور بد انتظامی کا یہ حال تھا کہ نمینسکیا سکوائر پر 50 مظاہرین کو ایک وقت میں شہید کردیا گیا تھا۔ اور پھر یوں ہوا کہ فوجیوں نے عوام پر گولیاں برسانے سے انکار بھی کردیا۔ جولائی ہی کے مہینے میں سوویتس کے مظاہرے پر بولشویکس کا غلبہ سامنے آیا جب وہاں بولشویکس کا نعرہ، “دس دولت مند وزیر مردہ باد” گونجنے لگا۔

چند دنوں میں ہی ٹراٹسکی بھی بالشویکس کے ساتھ شامل ہوگیا۔ “ایام جولائی” کے نام سے ایک انقلاب اسی ماہ میں برپا ہوا تھا جس میں مسلح سپاہی، عوام اور مزدور ماسکو اور پیٹروگراڈ کی سڑکوں میں بپھر گئے تھے۔ لیکن یہ انقلاب بالشویکس کی عدم تیاری کی بنا پر ناکام رہا۔ لینن کو فن لینڈ فرار ہونا پڑا اور ٹراٹسکی گرفتار ہوگیا۔ لینن نے اپنی کتاب، “ریاست اور انقلاب” انہی دنوں لکھی تھی۔

پارلیمنٹ کا کام محض بحث و مباحثہ اور لڑائی جھگڑا رہ گیا تھا۔ یہ فورم اور تمام حکومت، قوم کے فوری مسائل حل کرنے سے مکمل معذور تھی جن میں ملک کا سرحدوں پر جاری ایک عظیم جنگ میں ملوث ہونا، عوام، کسانوں اور مزدوروں کی زبوں حالی اور بولشوکس اور مینشویکس کی جانب سےمسلسل عوامی مصائب پر بڑھتا ہوامتحرک سیاسی دباوٰ۔

تاریخ نویس اس بات پر متفق نہیں کہ اکتوبر کے روسی انقلاب کا سہرا دراصل کس کے سر بندھتا ہے، لینن کے یا ٹراٹسکی کے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ لینن کی متحرک دوربین قیادت نے انتہائی اہم فیصلے، انبتہائی درست وقت پر کئیے۔ جس پارلیمنٹ [ڈوما] کو ابھی چند ماہ مزید پوری قوم کو ابتری میں مبتلا رکھنا تھا، لینن نے اکتوبر میں واپس ملک میں آکر فوج اور عوام کی مدد سے اس پورے نفسا نفسی کے نظام کی بساط لپیٹ دی۔ اور یوں پرانے غلیظ نظام کے تمام جوابی حملوں اور سازشوں کے باوجود روس دنیا کی عظیم عوامی فلاحی، اقتصادی اور فوجی طاقت بن کے ابھرا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: