عمران خان پہ اعتراضات کی حقیقت —– سردار جمیل خان

0

کرپشن مقدمات میں نااہل سزا یافتہ مسترد شدہ مجرموں انکے حامیوں، وکیلوں اور حمایتیوں کے منتخب وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف چار بڑے اعتراضات ہیں:

01: عمران خان نے یوٹرن لیتے ہوئے آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے قرض لیا ، اسکے باوجود نہ معیشت سنبھل رہی ہے اور نہ ہی مہنگائی کنٹرول ہو رہی ہے۔۔۔
02: احتساب جانبدارانہ اور انتقامی ہے۔۔
03: عمران خان نے کرپٹ عناصر کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے۔۔۔
04: عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی آشیرواد سے اقتدار میں آنے والے سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔۔۔۔

بادی النظر میں سیاسی و مذہبی مخالفین کے اعتراضات اور تنقید میں کافی وزن ہے۔۔۔

* پہلے دونو ں اعتراضات اپنی جگہ درست اور با وزن ہیں مگر عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ نواز اور زرداری کی حکومتوں نے قومی اثاثے گروی رکھ کر مجموعی طور پر54 ارب ڈالرز کا قرض لیا، کرپشن اور نا اہلی کی ایسی ہوشربا داستانیں رقم کیں کہ جب عمران خان نے اقتدار سنبھالا توکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 21 ارب ڈالرز اور گردشی قرضے 2 ارب ڈالرز تھے جبکہ پی آئی اے، میٹرو، ریلوے، سٹیل مل سمیت تمام قومی ادارے کھربوں کے مقروض تھے۔۔

بلاشبہ عمران کی دلی خواہش تھی کے قرض لینے کے بجائے معیشت کو ٹیکس ریٹرن، لوٹی ہوئی دولت کی فوری واپسی اور بیرون ملک پاکستانیوں کے تعاون و ترسیلات سے سنبھالا دیا جائے گا مگر عمران کی یہ امید بوجوہ پوری نہ ہو سکی جس کے باعث دوست ممالک سے تعاون لیا گیا نیز کوئی اثاثہ گروی رکھے بغیر آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالرز کا پیکیج لیا جو پیکیج تقریبا چار سال میں 39 قسطوں میں وصول ہو گا۔۔

دوست ممالک سے حاصل کردہ بلا سود قرضے میں سے آدھا قرض Reserve پڑا ہوا ہے جسے حکومت استعمال میں نہ لانے کی پابند ہے اسکے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 21 ارب ڈالرز سے 13 ارب ڈالرز تک آ گیا ہے، حکومت نے اس دوران ساڑھے آٹھ ارب ڈالرز سے زائد قرض کی قسط ادا کی ہے، اداروں کا خسارہ بتدریج کم ہو رہا ہے جبکہ بہتر منیجمنٹ سے بجلی کے بحران پر قابو پا لیا گیا ہے۔۔

مہنگائی کی بڑھوتی، قوت خرید میں کمی اور غربت میں اضافے کی وجہ ڈائریکٹ کے بجائے ان ڈائریکٹ ٹیکسز ہیں، حقیت یہ کہ عام آدمی ماضی کی لوٹ مار، ٹیکس چوری، حرام خوری اور بیڈ گورننس کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔

تاجر برادری کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانے کی حکومتی کوششوں کا جواب کروڑوں روپے کا بھتہ اور سیاسی جماعتوں کو چندہ دینے والے تاجروں نے بائیکاٹ کی شکل میں دیا۔۔

*نیب میں تقریباً تمام آفیسرز مشرف، زرداری اور نواز دور میں بھرتی ہوئے ہیں، چئیرمین نیب کا تقرر بھی وزیراعظم عباسی اور خورشید شاہ نے کیا ہے، نیب آزاد خود مختار ادارہ ہے جو جب جہاں اور جسکو چاہے تفتیش کے لے بلا سکتا ہے۔۔۔۔
یقیناً وزراء کو احتساب، نیب کی کاروائیوں اور عدالتی فیصلوں پر بیان بازی سے اجتناب کرنا چاہئیے لیکن جہاں تک جانبدارانہ احتساب کا رونا دھونا ہے تو احتساب کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ جب تک تمام مجرموں کو بیک وقت سزا نہیں ہو جاتی تب تک نواز شریف اور زرداری سمیت دیگر مجرموں کو نشان حیدر دے کر 44 توپوں کی سلامی دی جائے۔۔

آزاد نیب کی وجہ سے ہی جہانگیر ترین، علیم خان، بابر اعوان اور علیمہ خان حکومتی سیٹ اپ کا حصہ نہیں ہیں، بعض کو وزارتوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، آئندہ بھی نیب اگر کسی حکومتی وزیر یا پی ٹی آئی رہنما پر ہاتھ ڈالتی ہے تو عمران خان خیر مقدم کریں گے۔۔
*مخالفین بلخصوص مولوی صاحبان بار بار ایک ہی بات دوہرا رہے ہیں کہ عمران خان نے اپنے ارد گرد کرپٹ لوگ اکٹھے کر رکھے ہیں۔۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہی لوگ ضیاء، بے نظیر، مشرف، نواز، زرداری کے دور میں نہیں تھے؟ کیا مولوی حضرات ہر حکومتی دیگ کے متولًی نہیں رہے؟ انہی کرپٹ حضرات کے ہم نوالہ ہم پیالہ ہم مشرب و ہم دستر خوان نہیں رہے؟

ان میں سے کچھ الیکٹیبلز اگر عمران کے ساتھ آ گئیے تو مولاناؤں کے جمبو سائز پیٹوں میں مروڑ کیوں اٹھنے لگے؟ کیا عمران خان نے 1997، 2002 اور 2013 میں دیانتدار لوگ متعارف نہیں کروائے تھے؟ تو ریسپانس کیا ملا؟ اور کیا جماعت اسلامی طویل عرصہ سے دیانتدار لوگ پیش نہیں کرتی نہیں آ رہی؟؟ حاصل وصول کیا ہے؟

عمران کو قومی انتخابی کپ جیتنے کے لیے مجبوراً متعلقہ فیلڈ کے گھاگ کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا پڑا اور اگر پی ٹی آئی ورکرز کا دباؤ برقرار رہا تو بتدریج پارٹی میں اچھے دیانتدار لوگ اوپر آتے جائیں گے۔۔۔

****پانچ نشستوں پر انتخاب جیتنے کا ریکارڈ قائم کر کے وزیراعظم منتخب ہونے والے عمران خان کو وہ ریجیکٹڈ اور ڈیفیکٹڈ مخلوق بھی سلیکٹڈ کہہ رہی ہے جن میں سے ایک پارٹی کے گرو نے ایوب خان کو ڈیڈی کہا، محترمہ فاطمہ صاحبہ کے خلاف جنرل ایوب کی مہم چلائی، ڈکٹیٹر کی حکومت کے وزیر خارجہ رہے اور سکندر مرزا کو قائد اعظم رح سے بڑا لیڈر قرار دیا، محترمہ بھی جرنیلوں سے ساز باز کر کے دوبار اقتدار میں آئی تھیں۔۔۔

دلوں کے وزیراعظم کی سیاسی پرورش میں فوجی بوٹ، فوجی ڈالڈا، فوجی گملے، فوجی کارن فلیکس، فوجی فرٹیلائزر، فوجی سیمنٹ اور فوجی پیراشوٹ کا بھرپور استعمال کیا گیا جبکہ نا اہل کو قوم پر تین بار مسلط کرنے میں فوجی راکٹ لانچر کا مرکزی کردار رہا۔۔۔

حیرت ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کو قومی مفاد میں ایک پلیٹ فارم پر متحد دیکھ کر وہ ”صالحین“ بھی تلملا رہے ہیں جو ضیاء کیبنٹ کا حصہ رہے، مشرف کو ایل ایف او دیا اور طویل عرصہ تک فوج کی بی ٹیم کا اعزاز پایا۔۔۔

ساری تحریر کا ما حاصل یہ ہے کہ عمران خان کافی حد تک ملک کو تنہائی سے نکالنے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بہترین اور مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھ چکے ہیں اور اقتدار کی مدت پوری ہونے تک اگر عمران خان کرپشن کی روک تھام، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی، ٹیکس نیٹ ورک میں دیانتدارانہ وسعت، کفایت شعاری، گڈ گورننس اور دانشمندانہ خارجہ پالیسی کی زریعہ

*پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں
*کرکٹ بحال کرتے ہیں بھلے کلبھوشن کارڈ کے زریعے انڈین ٹیم کو پاکستان لاتے ہیں۔۔
*انڈیا کو کشمیر اور پانی کے مسئلے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔۔
*افغانستان میں امن عمل کی بحالی، طالبان کی سیاسی عمل میں شمولیت اور فلسطینیوں کو ریلیف دلواتے ہیں
*پانچ سال میں دوست ممالک کا قرض ایڈجسٹ کرتے ہیں، آئی ایم ایف کا تیس سے چالیس ارب ڈالرز واپس کرتے ہیں اور پانچ سال میں IMF سے پانچ ارب ڈالرز سے زائد قرض نہیں لیتے۔۔
*پاکستان کو یورپی تجارتی منڈیوں تک رسائی دلواتے ہیں، سی پیک/ گوادر پورٹ مکمل کرتے ہیں اور عرب ممالک سے اعلان کردہ سرمایہ کاری پاکستان لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عمران خان صرف پاکستان کے ہی نہیں ساری مسلم دنیا کے کلیدی رہنما کی حثیت سے ابھریں گے۔۔

یہ بھی پڑھیں:  ‎عمران خان: وہ فرشتہ ہے نہ ساحر —— اظہار الحق

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: