تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

اولڈ ہومز میں اپنی رجسٹریشن کروا لیجیے —- شہنیلہ آصف

by دانش ڈیسک 02/08/2019
written by دانش ڈیسک 02/08/2019
97

وہ زمانے بھی تھے جب بچے ہی نہیں بزرگ بھی سانجھے ہوتے تھے۔ بزرگوں کا دم رحمت و برکت کا وسیلہ مانا جاتا تھا۔ جس گھر میں بزرگ ماں باپ سلامت ہوتے اہل محلہ ان کی دعائیں لینے خصوصاً ان کے در پر حاضری دیتے تھے۔

یہ ارشاد باری تعالی تو گویا دلوں پر نقش تھا۔
ترجمہ: “اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو اور اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، اور ان کے سامنے ادب سے بات کرو۔ ”

لیکن پھر زمانے کے تیور بدلتے گئے۔ دنیا بنیادی اور دین ثانوی حیثیت اختیار کر گیا۔ اب تو گاہے خود سے بھی پوچھتے ہیں کہ کوئی خدا رکھتے تھے؟

وہ بزرگ جو گھر کی چھپر چھایا تھے وہ باعث زحمت و اذیت کیوں ہو گئے؟
شاید ہم بدل گئے یا ہمارے بزرگ بدل گئے یا یہ زمانہ ہی بدل گیا۔ میڈیا کے کندھوں پر سوار نئے زمانے نے نیا ورلڈ آرڈر متعارف کروایا جس کی رُو سے ‘شخصی آزادی’ اجتماعی ذمہ داری سے اہم ٹھہری۔ ‘ہم نہیں میں’ کا نعرہ لگایا گیا۔ خاندان کا تصور صرف میاں بیوی اور بچوں تک محدود ہو گیا۔ مشترکہ خاندانی نظام دیکھتے ہی دیکھتے ہاؤس آف کارڈز کی طرح ڈھنے لگا۔ نیو ورلڈ آرڈر کے سامنے کچھ لوگوں نے ایسے ماتھا ٹیکا کہ اپنے سوا ساری دنیا بھلا بیٹھے۔ دیگر رشتے تو ایک طرف سگے والدین بھی بوجھ لگنے لگے۔

میری ایک شناسا خاتون بیوگی کے بعد حالات کی ستم ظریفی کا کچھ ایسا شکار ہوئیں کہ اچھے وقتوں میں بنایا اپنا گھر بچوں کی ضد کے ہاتھوں بیچنے پر مجبور ہو گئیں۔ بیٹوں نے ماں کو اس حد تک مجبور کر دیا کہ انہیں جیتے جی اپنا حصہ بھی انہیں دینا پڑا۔ باپ کی وراثت تو سب نے ہنسی خوشی سنبھال لی لیکن جب بات آئی باپ کی بیوہ (سگی ماں) کو سنبھالنے کی تو سب کو اپنی اپنی مجبوریاں یاد آ گئیں۔ شاید نئے دور کے تقاضے یہی ہیں۔

جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا یے، سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری

بیٹیاں سسرال کے ہاتھوں مجبور ٹھہریں تو بیٹے اپنی بیویوں کے ہاتھوں۔ بوڑھی بیمار ماں کی دوا دارو کا خرچہ اٹھانا، خدمت کرنا، اپنی آزادی و خود مختاری پر سمجھوتہ کرنا سب کچھ مشکل تھا۔ بیوی ضروری تھی، ماں اضافی تھی۔ لہذا اس کے ساتھ فالتو سامان جیسا سلوک ہی کیا گیا۔
آج وہ بیمار بوڑھی خاتون دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ زمانے کی ریت بھی یہی ہے کہ جب سگی اولاد آنکھیں پھیر لے تو دوسرے رشتہ دار بھی کنی کترانے لگتے ہیں۔

اولاد کی خود غرضی کی یہ کوئی پہلی یا آخری مثال نہیں ہے۔ دائیں بائیں جھانکیں تو ہمیں بہت سے ایسے لاچار بزرگ ملیں گے جنہیں ان کی اولادوں نے یا تو بالکل نظر انداز کر رکھا ہے یا انہیں ان غیر بیان شدہ شرائط کے ساتھ اپنے ہاں رکھا ہوا ہے کہ وہ گھر کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔ اپنے کمرے تک محدود رہیں گے، ان کے بچوں کے معاملات میں نہیں بولیں گے۔ اپنی کوئی رائے نہیں رکھیں گے۔ بس دو وقت کی روٹی کھائیں اور خاموشی سے موت کی چاپ سنیں گے۔

ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

یہ صورتحال تکلیف دہ ہے۔ کیونکہ ہم تو بزرگوں کا اور رشتوں کا احترام کرنے والے لوگ تھے۔ ہماری اخلاقی اقدار میں یہ سیندھ آخر کیوں لگی؟ اس کے لیے موردِ الزام میڈیا کو ٹھہرایا جائے یا اولاد کو یا کچھ قصور والدین کا بھی ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔

اگر چند دہائیاں پیچھے ہم اپنے والدین کا ان کے اپنے والدین کے ساتھ برتاؤ کو ذہن میں لائیں تو ان کے آپس کے تعلقات میں احترام کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ بزرگ خاندان کا نیوکلیس ہوتے تھے۔ تمام اہم فیصلوں میں ان کی رائے مقدم بلکہ حتمی سمجھی جاتی تھی۔ افراد خانہ باہمی رواداری اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے تھے۔ بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی یا بد زبانی اسفل ترین حرکت سمجھی جاتی تھی، جس کی ہر کوئی کھل کر مذمت کرتا۔ اگر کہیں والدین صریحاً زیادتی بھی کرتے تو اولاد سوائے اندر ہی اندر کڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ آپ اسے صبر کہیں یا منافقت لیکن اولاد والدین کے سامنے سر جھکا کر ہی رکھتی تھی بصورت دیگر اسے سماجی ملامت کا سامنا کرنا پڑتا۔

تاہم پچھلی دو ڈھائی دہائیوں میں میڈیائی یلغار کے زیر اثر پرورش پانے والی نسل اپنی سوچ اورفکر میں اپنے والدین سے بہت آگے نکل گئی۔ میڈیا نے انہیں بتایا کہ سب کہہ دو، چاہے سامنے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔ کھل کے جی لو کہ زندگی ایک بار ملتی ہے۔ بچے سیلف سینٹرڈ ہو گئے۔ بدتمیزی کی حدوں کو چھوتی صاف گوئی طرۂ امتیاز ٹھہری۔ جبکہ والدین اسی مغالطے میں رہ گئے کہ ان کی اولاد انہی کی طرح فرمانبردار رہیں گے۔ جبکہ اولاد والدین کو جھٹ کٹہرے میں کھڑا کرنے پر آمادہ رہتی ہے۔

آج کا سچ یہی ہے کہ حالات بدل چکے ہیں۔ جنریشن گیپ بڑھ چکا ہے۔ وقت کے پلوں کے نیچے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تمام صورتحال کا حل کیا نکالا جائے؟ وقت کی سوئیاں پیچھے نہیں دھکیلی جا سکتیں۔
ہم سب کو بشمول ریاست، اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
وہ اولاد جو اپنے اہل و عیال کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنے ماں باپ کے حقوق تقریبا بھلا بیٹھی ہے، اسے یہ بھولا سبق کیسے یاد کروایا جائے؟
وہ ماں باپ جو اولاد کی تربیت کے چکر میں ان کی زندگیوں کے مالک بن بیٹھتے ہیں انہیں ان کی حدود کیسے سمجھائی جائیں؟
وہ ماں باپ جن سے ان کی اپنی اولاد نظریں بدل چکی ہے، ان کے دکھوں کا درماں کون بنے؟

ایک سادہ سا یہ اصول اگر اپنا لیا جائے کہ جیسے ہم اپنے بچوں میں اپنا بچپن ڈھونڈتے ہیں، بچے ہم میں اپنی آنے والی جوانی دیکھتے ہیں، اسی طرح ہم اپنے والدین میں اپنا بڑھاپا ڈھونڈیں اور کچھ دیر ان کی زندگی جی کر دیکھیں۔ خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر سوچیں کہ کیا چیز باعث رنج ہے اور کیا باعث راحت۔ سوچ کا یہ سفر ہمیں بتا دے گا کہ ہم صحیح راستے پر ہیں یا غلط۔ کیونکہ انسان کا ضمیر بہترین راہنما ہوتا ہے۔

ضروری ہے کہ منبر و محراب اور قلم کی حرمت کے پاسبان اصحابِ فکر و دانش اس جانب متوجہ ہوں اور لوگوں کو متوجہ کریں۔ لوگوں کو بتائیں کہ سمارٹ فون سے باہر بھی ایک دنیا ہے جو اصلی دنیا ہے، وہاں اپنے سچے رشتوں کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکیھیں۔

لیکن پھر بھی اگر حرماں نصیب اولاد یہ سبق سیکھنے میں ناکام رہے تو والدین ابھی سے کچھ انویسٹمنٹ اولڈ ہومز پر ضرور کر ے۔ کسی اولڈ ہوم میں رجسٹریشن کروالیں کہ زندگی کے آخری چند سال دربدری کی اذیت سہنے سے بچ سکیں۔ آخری وقت وہاں گذرے جہاں اپنے جیسے حالات سے مجبور یا اپنوں سے ٹھکرائے ہوئے بوڑھے ایک دوسرے کا درد بانٹ سکیں، آنسو پونچھ سکیں۔

ہاں مگر یہ ضرور سوچئے کہ ہم یورپ امریکہ سے لینے والی ہر چیز خوشی خوشی لیتے ہیں، کیا اپنے وقت پہ اس چیز پہ بھی خوش ہوسکیں گے۔ کیا ہماری روح اس تبدیلی کے ساتھ سکھی رہ پائے گی؟

یہ بھی پڑھیں:  گھر ٹوٹنے کا سبب: عورت کی تعلیم یا مرد کی انا —– فارینہ الماس
Facebook Comments Box
featuredold age homeold parentsold peopleاولڈ ایج ہوماولڈ ہومپرانی اقدارپرانی نسلشہنیلہ آصفضعیف والدیننئی نسل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
عمران خان پہ اعتراضات کی حقیقت —– سردار جمیل خان
next post
سید جمال الدین افغانی : اک بھولا ہوا تاریخی کردار —- پروفیسر غلام شبیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.