تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہبلاگزعلم و ادب

ایزد عزیز : حیرت کا ہم راز — خاکہ نگار : یاسر رضا آصف

by دانش ڈیسک 20/01/2024
written by دانش ڈیسک 20/01/2024
478

دھند کی سفید چادر نے سامنے کا منظر ڈھانپ رکھا تھا۔ ڈرائیور محتاط دکھائی دے رہا تھا اور گاڑی کہنیوں کے بل رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے موبائل پر وقت دیکھا اور گاڑی کی سست رفتاری پر کفِ افسوس ملنے لگا۔ پاک پتن سے ساہیوال کا سفر کسی ایک برِّ اعظم سے دوسرے برِّ اعظم کے سفر میں تبدیل ہو گیا۔ گاڑی کی حد درجہ سست رفتاری کے باوجود بھی میں مقررہ وقت سے پہلے ہی ڈی۔ پی۔ ایس پہنچ گیا۔

میرا وجود برف ہو رہا تھا۔ یخ بستگی نے رگ و پے کو جکڑ لیا تھا۔ کمرہ گرم تھا سو کچھ دیر بعد ہاتھ پاؤں سیدھے ہوئے تو دماغ بھی چلنے لگا۔ میں نے کمرے میں نظر دوڑائی۔ حسرت بلال موبائل میں منہمک تھا اور محترم واصف سجاد، سیّد غضنفر عباس مرحوم کا شعری مجموعہ دیکھنے میں مصروف تھے۔ انھوں نے مراقبے سے سر اٹھایا، میری طرف دیکھا اور مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا۔ میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ واصف سجاد نے مسودہ لپیٹا اور ایزد عزیز کے ادبی سرمایے پر گفتگو کرنے لگے۔ انھوں نے بتایا کہ جب ہم نے ایزد عزیز کے لواحقین کی موجودگی میں کمرہ کھولا تو وہاں سے تین کتابیں ملیں۔ جو یقیناً مرحوم کے زیرِ مطالعہ تھیں۔ ان میں یاسر بھائی آپ کا شعری مجموعہ “جو گرہیں کھول دی جائیں” بھی شامل تھا۔ میرے چہرے پر مسکان پھیل گئی اور اطمینان نے میرے دل میں گھر کر لیا۔ مجھے مرحوم سے کی گئی ملاقات یاد آگئی۔

اپریل دو ہزار انیس کا دن تھا۔ سورج دس بجے کے قریب ہی پوری آب و تاب سے آسمان پر روشن تھا لیکن دھوپ میں تمازت نہ ہونے کے برابر تھی۔ میں جناح لائبریری کے باہر سید تحسین گیلانی کا انتظار کرتے ہوئے رواں دواں ٹریفک کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور وہ موٹر سائیکل پر آپہنچا۔ میں نے بیٹھتے ہی پوچھا کہ بھائی جانا کدھر ہے؟ “آج آپ کو ایک ادبی شخصیت سے ملوانا ہے۔” تحسین گیلانی نے موٹر سائیکل دوڑاتے ہو بتایا۔ میری تحسین گیلانی سے یہ دوسری ملاقات تھی۔ وہ انہماک کے تحت میرے شعری مجموعے کی تقریب کروانے والے تھے۔ بعد میں انھوں میری تنقیدی کتاب “کاشف سجاد کی شاعری” بھی اپنے اشاعتی ادارہ سے طبع کی۔ جس میں اتنا وقت لگا کہ مجھے قیامت کا دن یاد آنے لگا۔ خیر ہم تھوڑی دیر بعد ایک چائے والے ہوٹل پر پہنچ گئے۔

دراز قد شخص جس نے تازہ شیو بنایا ہوا تھا اور چہرے مہرے سے کافی سنجیدہ لگ رہا تھا۔ ہمیں خوش آمدید کہا۔ ان کی شخصیت بارعب تھی اور جاذبیت لیے تھی۔ یہ میری محترم ایزد عزیز سے پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ مصافحہ کرتے سمے مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے ہاتھ کی گرفت خاصی مضبوط ہے اور صحت بھی قابلِ رشک حد تک اچھی ہے۔ ہم دونوں ان کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہو گئے۔ ہوٹل زیادہ کشادہ نہیں تھا اور دھویں کے باعث سیاہی نے دیواروں اور چھت پر طرح طرح کے نقش و نگار بنا رکھے تھے۔ وہ خود ایک خستہ سی چارپائی پر بیٹھ گئے اور ہمیں کرسیوں پر بیٹھ جانے دیا۔ انھوں نے ہمارے لیے کرسی چھوڑ دی حالاں کہ کئی لوگ تو کرسی کے لیے دنیا چھوڑنے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

تحسین گیلانی نے ایزد عزیز کا تعارف کروایا۔ ان کی طبع شدہ کتابوں کے متعلق بتایا اور ادبی سفر پر روشنی ڈالی۔ اس تمام تعارف کے دوران ایزد عزیز سگریٹ پیتے رہے اور ہوں ہاں کرتے رہے۔ مجھے واضح دکھائی دے رہا تھا کہ انھیں اپنی تعریف سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہے۔ میں نے ایسے بہت سے ادیب دیکھے ہیں کہ آپ ان کا تعارف کرواتے ہوئے ذرا سا چوکے اور انھوں نے فوراً اصلاح فرما دی۔ پھر تعارف، جس کے پسِ پردہ تعریف ہی ہوتی ہے اس کے دوران گردن اکڑائے ایک شان سے مسکراتے رہتے ہیں۔ یہاں معاملہ خاصہ مختلف تھا۔ ایسی بے نیازی کسی صوفی کے ہاں ہو سکتی ہے یا پھر ایسے شخص کے ہاں جو ماضی سے بے نیاز ہو چکا ہو اور لمحہِ موجود میں زندہ ہو۔ ایزد عزیز کا یہ رویہ مجھے متاثر کیے بنا نہ رہ سکا۔

میں نے جب مجید امجد کا نام سنا تو سوالات کی رگ پھڑک اٹھی۔ میں نے ایک ہی سانس میں مجید امجد کے متعلق کتنے ہی سوال کر ڈالے۔ انھوں نے ٹانگ پر ٹانگ رکھی، سگریٹ کا لمبا کش کھینچا اور ہاتھ کو لہراتے ہوئے یادوں کے کینوس پر تصویر کاری کرنے لگے۔ مجھے گفتگو سے ان کے ادبی قد کاٹھ کا اندازہ ہوا تو میں نے کچھ سنانے کی فرمائش کر دی۔ وہ سنانے کے لیے سوچ ہی رہے تھی کہ لڑکا چائے لے کر آ گیا۔ چائے اور سگریٹ کا رشتہ شاعری اور ادب سے کتنا گہرا ہے میں آج تک نہیں جان سکا مگر ان کا آپسی ملاپ خیال کو پرواز ضرور عطا کر جاتا ہے۔ انھوں نے کچھ اشعار اور ایک پنجابی نظم سنائی اور مسحور کر دیا۔ اشعار میں الفاظ کی نشست و برخاست اور نظم میں خیال آرائی کمال تھی۔

میں نے اپنا شعری مجموعہ ایزد عزیز کی خدمت میں پیش کیا اور تقریب میں آنے کی دعوت بھی دی۔ انھوں نے بھرپور مسکان سے میرا شکریہ ادا کیا اور آنے کا وعدہ کر لیا اور وہ آئے بھی۔ وہ فوراً ہی کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے۔ میں چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے انھیں دیکھ رہا تھا۔ ان کا انہماک بتا رہا تھا کہ انھیں ادب سے محبت ہے۔ ہم ادیب لوگ اکثر یہ فقرہ استعمال میں لاتے ہیں کہ فلاں نے ادب کی بڑی خدمت کی ہے لیکن ادب کے لیے اپنا آپ وقف کر دینے والے معدودے چند ہی دیکھے ہیں۔ ہم جیسے صرف ادب کی سیڑھی پر چڑھ کر نمایاں ہونے کے چکر میں ہوتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں دیکھ سکیں۔ ایزد عزیز نے سر اٹھایا اور جملہ بولا جو میرے لیے سرمایے سے کم نہیں۔ “نوجوان آپ ایک اچھے شاعر ہو۔” یہ کہتے ہوئے ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی اور وہ سر بھی ہلا رہے تھے۔ جیسے مجھے یقین دلا رہے ہوں کہ یہ سچ ہے۔

ہم نے اجازت چاہی۔ وہ اٹھ کر کھڑے ہوئے۔ مجھ سے گلے ملتے ہوئے انھوں نے خدا حافظ کے الفاظ ادا کیے۔ واپسی پر میں نے تحسین گیلانی سے ایزد عزیز کی رہائش گاہ کے متعلق پوچھا اور چند نجی زندگی کے بارے بھی سوالات کیے۔ جوابات کے ذریعے مجھ پر “کلے رکھ دا وین” کی وجہ تسمیہ کھلی اور میں چپ ہو گیا۔ ایک اور بات جس نے مجھے حیران کیا کہ ایزد عزیز نے پوری گفتگو کے دوران کہیں بھی کسی شاعر کی ہتک نہیں کی تھی۔ شاعر ہو اور کسی ہم عصر سے ٹسل بازی نہ ہو، غیبت نہ کرے، ایسا ہونا نا ممکن سا لگتا ہے لیکن ایسا ہوا تھا۔ تحسین گیلانی نے مجھے ڈی پی ایس چھوڑا اور میں ایزد عزیز کی مسحور کن شخصیت کے بارے سوچتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔

محترم واصف سجاد شاید مجھ سے کچھ پوچھ کر جواب کے منتظر تھے اور میرے چہرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔ میں جسمانی طور پر ان کے پہلو میں بیٹھا تھا مگر ذہنی طور پر ایزد عزیز کی گفتگو سن رہا تھا۔ وہ مجید امجد کے کلام کی تدوین کے حوالہ سے مطمئن نہیں تھے۔ مجھے دور سے واصف سجاد کی آواز سنائی دی۔ پھر ان کا مدھم چہرہ واضح ہونے لگا۔ آخر کار میں واپس آ ہی گیا۔ وہ مجھے آرٹس کونسل میں سترہ تاریخ کو ہونے والی تقریب کے متعلق بتا رہے تھے اور میں ایزد عزیز کو دھویں کے مرغولے بناتے دیکھ رہا تھا۔ ذہن ایک مرتبہ پھر ماضی کی ایک اور یاد کو میرے سامنے تصویر کرنے لگا۔

ساہیوال آرٹس کونسل میں مشاعرہ تھا اور میں کالج سے سیدھا آرٹس کونسل پہنچ گیا تھا۔ پروگرام پوری آب و تاب سے جاری تھا۔ میں ایک خالی نشست دیکھ کر بیٹھ گیا۔ میرے بائیں جانب محترم ایزد عزیز بیٹھے تھے۔ تقریب کے دوران وقفے وقفے سے اور اختتام کے بعد بھی ہماری بات چیت جاری رہی۔ اب کی بار بھی ساری باتیں علمی و ادبی نوعیت کی تھیں۔ کہیں کوئی شکوہ کوئی شکایت شامل نہیں تھی۔

میں نے ایک شاعر کے رویّے کے متعلق شکوہ کیا تو مجھے سمجھانے کے انداز میں بڑوں سا کردار نبھاتے ہوئے بولے “اگر تو آپ نے یہ بات کسی سے سنی ہے تو سنی سنائی بات پر کان نہیں دھرتے اور اگر آپ نے اس کے منھ سے سنی ہے تو درگزر کر دیں۔” میں نے کہا کہ مجھ تک یہ بات کسی کے ذریعے پہنچی ہے۔ انھوں نے فوراً کہا “پھر تو بھول جاؤ اور راستے سے مت بھٹکو۔” وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ان کی وہ بات آج تک نہیں بھولا بلکہ اکثر میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے اور میں اب ہر چبھتی بات درگزر کر دیتا ہوں۔

ان سے مزید بھی ملنا ملانا ہوتا مگر کرونا کی وبا نے سبھی لوگوں کو احتیاط کے دائروں میں قید کر دیا۔ میں بھی اپنے شہر تک محدود ہو گیا۔ میں نے خود کو موبائل، کتاب اور اپنی ذات میں گم کر لیا۔ وبا کی شدت میں کمی ہوئی تو ساہیوال پھر سے آنے جانے لگا۔ نعمان راؤ سے ملاقات ہوئی اور ایزد عزیز کا ذکر بھی ہوا مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ پھر اچانک ان کی وفات کی اندوہناک خبر ملی۔ دل پسج گیا۔ مجھے ان کا بیٹھنے کا انداز، گفتگو کا جادو اور لہک لہک کر شعر پڑھنا سب کچھ یاد آنے لگا۔

سوچتا ہوں کہ اب ان سے ملاقات “عالمِ ارواح کے مال روڈ پر” ہی ہو سکتی ہے۔ میرے ذہن کے تہہ خانے میں ایک سوال ان سے پہلی ملاقات کے سمے سے کلبلا رہا ہے۔ اب میں کب تک جگنو کو تہہ خانے کے اندھیرے میں قید رکھ سکوں گا۔ ان کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے پوچھوں گا ضرور، “عشق اور تنہائی کا آپس میں کیا رشتہ ہے۔ جس دل میں بھی عشق نے ڈیرہ ڈالا اسے تنہا کر کے رکھ دیا۔” اب میں اس تجسس کا شکار ہوں کہ وہ اس کا جواب کیا دیں گے۔ چوں کہ ان کی پوری زندگی جواب ہی جواب تھی۔ ہم خیال کے در پر دستِ سوال دراز کرنے والے لوگ کیا جانیں کہ ادب سے عشق کیا ہوتا ہے۔

Facebook Comments Box
Ezd AzizMajeed Amjadایزد عزیزمجید امجد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
آرٹ کے اثرات اور جدید مادی دنیا —- اقدس ہاشمی 
next post
مابعد تصور – رچرڈ کئیرنی —- ترجمہ: ناصرفاروق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.