زمین پر دو طرح کے انسان بستے ہیں۔ ایک وہ جو آرٹ کو سمجھتے ہیں یا بذاتِ خود آرٹسٹ ہوتے ہیں دوسرے وہ جو آرٹ کی کسی بھی قسم کا ادراک نہیں رکھتے۔ اول الذکر انسان بلاشبہ اس دنیا کو جمود و سکوت کی عمیق گہرائیوں سے نکال کر، سنوارنے اور اس میں علوم و فنون کے نت نۓ جہاں آباد کرنے کا محرک بنتے ہیں۔ موخر الذکر انسان مختلف پیشے اختیار کرتے ہوئے اسے مادی سطحوں پر استوار کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔ آرٹ کو سمجھنا اہم اس لیے ہے کہ یہ آپ کے اندر اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تشکیل پذیری کا باعث بنتے ہوئے اول اول آپ کو بیک وقت شادمانی و پریشانی عطا کرتا ہے۔ کیونکہ اس سمندر میں غوطہ زن ہونے والا اس کی غیر مختتم گہرائی کو مزید سے مزید دریافت کرنے کی جستجو میں پریشاں رہتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ آرٹ اسے سرشار بھی کیے رکھتا ہے جو کہ آرٹ کا فی الواقع بنیادی وظیفہ ہے۔
آرٹ سے دور رہنے کا مطلب ہے اس کائنات میں موجود مابعد الطبیعیاتی مظاہر اور خالق مطلق کے پیدا کردہ عجائبات اور ان میں پنہاں اعلیٰ و ارفع صفات و کیفیات سے محروم رہنا۔ چنانچہ آرٹ سے ہٹ کر دیگر کار ہائے دنیا جو مادیت کے اصولوں پر مبنی ہیں انسان میں کس کس طرح کی تبدیلیاں مرتب کر رہے وہ ہمارے سامنے ہیں۔ انسان کا بنیادی وصف دردمندی ہونا چاہیے جو کہ دن بہ دن مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ بطور فنکار مجھے آرٹ سے دوری کے علاوہ اسکی اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ کیونکہ مذکورہ سطور میں اس امر کا ذکر ہو چکا ہے کہ آرٹ سے دوری خالق سے دوری ہے۔ میں یہاں پر مذہبی حوالے نہیں دینا چاہتا نہ ہی یہ آرٹ کی حمایت میں مذہبی دلائل و براہین پر مشتمل کوئی تحقیقی مضمون ہے۔ یہ محض انسانی منطق کو سامنے رکھتے ہوئے آرٹ اور اس کے انسانی زندگی پر اثرات کے حوالے سے ایک تحریر ہے۔
آرٹ انسان کے جذبات کو ایک ناقابلِ بیان لطافت سے ہمکنار کرتے ہوئے اسکی روح کو کثافت سے پاک کرتا ہے۔ انسان ہمہ وقت خود کو خالق کے ہمراہ اور اسکی حضوری میں محسوس کرتا ہے۔
آج کا انسان سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ساری توانیاں دولت حاصل کرنے کیلیے صرف کرے۔ پھر اگر وہ اس مقصد میں کامیاب ہو جائے تو وہ بڑے سے بڑے فنکار یا سازندے کو خرید کر اپنے سامنے بٹھا کر جتنی دیر جاہے اس کے فن سے “محظوظ” ہو سکتا ہے۔ تو صاحب یقین جانیے ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ سوچ جتنی فرسودہ اور بیمار ہے اس کے حقیقی اثرات آج ہم سماج میں دیکھ سکتے ہیں۔ آرٹ کا تو مطلب ہی یہی ہے کہ آپ کی شخصیت کو بدل دے، آپ کو ترحم و دردمندی، عجز و انکسار، فقر و قناعت، معرفت حق و معرفت ذات سے روشناس کرے۔ اگر آرٹ یہ سب کیفیات مرتب نہیں کر رہا تو اسکا مطلب ہے کہ مسئلہ ہمارے اندر ہے۔ ہم اس کے درست اہلکار ثابت نہیں ہو رہے۔ ہمارے تصورات میں کوئی خلل ہے آرٹ کو لے کر۔ جن کا فی الفور درست کیا جانا ناگزیر ہے ورنہ انسانیت دن بہ دن تنزلی کی جانب ہی بڑھے گی۔
آرٹ سے بڑھ کر اس کائنات میں ایسی کونسی چیز ہے جو انسان کو حقیقی مسرت سے ہمکنار کرسکتی ہے۔ اگر بے پناہ دولت حاصل کر کے بھی آرٹ سے ہی لطف اندوز ہونا ہے۔ تو اسکا مطلب ہے کہ اصل معاملہ کچھ اور ہے۔ اگر وہ ساری توانائیاں علم و فضل، ریاضت و مجاہدہ، نیابت و قناعت پہ صرف کی جائیں جو محال ہے کہ کوئی نتائج مرتب نہ ہوں؟ یہاں میرے ذہن میں اقبال کا ایک شعر آرہا ہے جو ان کی نظم “وادئ لولاب” کا ہے۔
ہیں ساز پہ موقوف نوا ہائے جگر سوز
ڈھیلے ہوں اگر تار تو بیکار ہے مضراب
تو جناب اگر تار ڈھیلے ہیں تو چاہے جتنی عمدہ دھات کی مضراب بنی ہوئی ہو اور جیسے تیسے چلائی جائے لیکن وہ مدھر آواز برآمد نہیں کر سکے گی کیونکہ مسئلہ تاروں میں ہے۔ تاروں کا ڈھیلا پن ہی ہمیں عمدہ انسانی اوصاف سے دور رکھتا ہے اور ہم تمام عمر ماہی بے آب کی مانند تڑپتے رہتے ہیں اور گمراہ رہتے ہیں۔ آرٹ کی جملہ اصناف اپنے اندر غیر فانی کیفیات رکھتی ہیں چاہے وہ مصوری ہو، خطاطی ہو، موسیقی ہو، شاعری ہو یا کچھ اور۔ میرے استاد مکرم خطاط اعظم قبلہ خالد جاوید یوسفی فرماتے ہیں کہ “میں خط (لکھائی) دیکھ کر کسی کی بھی شخصیت کے متعلق جان جایا کرتا ہوں”۔ اگر ایک استاد محض لکھائی سے طلباء کی طبیعت و میلان جان لیتا ہے تو سوچیے آرٹ کی دیگر اصناف اپنے اندر کتنی وسعت رکھتی ہونگی اور ان کے حاملین و عاملین کتنے نوازے ہوۓ لوگ ہونگے خداوند متعال کے۔
آرٹ انسان کے جذبات کو ایک ناقابلِ بیان لطافت سے ہمکنار کرتے ہوئے اسکی روح کو کثافت سے پاک کرتا ہے۔ انسان ہمہ وقت خود کو خالق کے ہمراہ اور اسکی حضوری میں محسوس کرتا ہے۔ تخلیق کے جذبے سے سرشار وہ اس کائنات کے حاضر و پوشیدہ مظاہر کو اپنی دانشورانہ آنکھ سے دیکھتا اور اپنی فنکارانہ روح میں جذب کرتا ہے۔ آرٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ریاضت اور توجہ کا متقاضی ہے۔ اسے شارٹ کٹ سے نہیں پایا جا سکتا۔ اولاً آپکی روح مائل بہ فن ہو دوم آپ اس کے لیے خود کو وقف کریں اور اسے اتنی توجہ سے نوازیں جس کا وہ حقدار و متقاضی ہے۔ پھر دیکھیے آرٹ آپکو کیسے کیسے حیرت انگیز اور دل آویز تجربات سے نوازتا ہے، کیسی کیسی دنیاؤں کی سیر کرواتا ہے اور آپکی آنکھ قدرت کے عجائبات و مناظر کو کیسے محفوظ کر کے روح کو مسرور کرتی ہے۔
برصغیر کے اعظیم فنکار، طبلہ نواز استاد احمد جان تھرکوا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بارہ برس کی عمر میں طبلہ پہ توجہ دینا شروع کر دی تھی۔ ان کے دادا جان نے جب ان کی انگلیوں کو طبلے پہ تھرکتے دیکھا تو کہنے لگے کہ “بھیا! احمد جان تو تم ہو مگر میں آج سے تم کو تھرکوا کہوں گا”۔ وہ دن ہے اور آج کا دن دنیائے فن انہیں استاد احمد جان تھرکوا کے نام سے جانتی ہے۔ تمام بر صغیر میں اس پائے کا کوئی طبلہ نواز نہیں تھا جو ان جیسی انگلیوں کی چھاپ، کنار کا باج اور بائیں کی گھن گرج کا حامل ہوتا۔
بہرحال مطمع نظر یہی ہے کہ فن اپنے درست اہلکار کو کبھی سرنگوں نہیں کرتا بلکہ اسے اوج کمال عطا کرتا ہے اور ساتھ ہی فقر و عجز سے بھی نوازتا ہے۔ دور جدید چونکہ محض فیشن اور ٹرینڈ کا دور ہے جس میں جو چیز وائرل ہو گئی بس پھر وہی ہر جانب دکھائی دیتی ہے جس میں زیادہ کردار بہرحال موسیقی کا ہی ہے۔ یہ چلن بہت عامیانہ اور لایعنی ہے جس کا کوئی حاصل حصول نہیں سوائے مادی ترقی کے۔ آج انسان محض اشیاء کی تعداد سے پہچانا جاتا ہے اور دن بہ دن خود کو آرٹ سے دور کرتے ہوۓ مشینوں سے قریب تر کر رہا ہے۔ مادی ترقی کے بارے میں مزید کیا کہیے اقبال جو کہہ گۓ
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
